صہیونی فوج کی دہشت گردی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 601 - Mudassir Jamal Taunsavi -Deeni Sehooni foj ki dehshat gardi

صہیونی فوج کی دہشت گردی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 601)

اس وقت مشرقی وسطی میں جو تبدیلی کی نئی نئی لہریں چل رہی ہیں اور ادھر سے بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کے دورے کے بعد جو نئی پالیسیاں اور نقشے وجود میں لائے جانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، اس میں یہ بات سب سے اہم ہے کہ اسرائیل کے مفادات کو مکمل تحفظ دینے اور پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اب آخری قدم اٹھائے جائیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ فلسطین میں اسرائیل کے مقابل کوئی بھی مزاحمتی قوت نہیں ہونی چاہئے۔

کیا ایسا ہو پائے گا؟ کیا اسرائیل کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا؟ کیا یہودیوں اور ہندووں کی مشترکہ سازشیں اس راہ میں کامیاب ہو پائیں گی؟ اس کا مشاہدہ تو آنے والے وقت میں ہو ہی جائے گا۔ مگر فی الحال صورت کچھ یوں ہے کہ اگرچہ اسرائیلی مظالم عروج پر ہیں مگر مزاحمتی قوت نے ابھی دم نہیں توڑا۔ مزاحمتی قوت کن حالات میں اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ؟ اس کا اندازہ لگانے کے لیے صہیونی فوج کے مظالم کے بارے میں اس رپورٹ کو دیکھاجائے جو فلسطینی ذرائع ابلاغ نے جاری کی ہے۔

’’فلسطین میں قابض صہیونی فوج کی جاری ریاستی دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں فلسطینی شہریوں کے ہونے والے جانی و مالی نقصان، فلسطینیوں کی جوابی فدائی کارروائیوں اور تحریک انتفاضہ کے تحت ہونے والی کارروائیوں کی ششماہی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں 51 فلسطینی، اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2017ء کی پہلی ششماہی میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی اپنی نقطہ عروج پر رہی۔ دوسری جانب فلسطینی شہریوں کی جانب سے تحریک انتفاضہ کو آگے بڑھانے کے لیے بھرپور فدائی کارروائیاں کرکے صہیونی دشمن کو یہ پیغام دیا کہ اکتوبر 2015ء کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ فلسطینی شہری تحریک کو ثمر آور بنانے کے لیے پوری قوت سے مزاحمت کررہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2015ء کے بعد سے فلسطین میں جاری تحریک انتفاضہ کے دوران اب تک 327 فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ ان میں رواں سال کے 51 فلسطینی بھی شامل ہیں۔ رواں سال شہید ہونے والے فلسطینیوں میں چھ بچے اور چار خواتین شامل ہیں۔

انتفاضہ القدس پر نظر رکھنے والی ویب سائیٹ کے مطابق رواں سال کے دوران پہلے چھ ماہ میں فلسطینی شہریوں نے اسرائیلی فوج پر 161 حملے کیے۔ ان میں سنگ باری کے80 واقعات، چاقو سے حملوں کے 25، گاڑیوں تلے کچلے جانے کے 9، فائرنگ کے 29اور دستی بموں کے 39 واقعات کا اندراج کیا گیا۔سال دو ہزار سترہ کے دوران گاڑیوں تلے کچلے جانے کی نمایاں کارروائی فدائی حملہ آور شہید فادی القنبر نے بیت المقدس میں جبل المکبر میں کی۔ اس کارروائی میں چار صہیونی ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے۔گاڑیوں تلے کچھلے جانے کے دیگر واقعات میں فدائی حملہ آور مالک احمد حامد نے ایک صہیونی فوجی کو ہلاک اور ایک کو زخمی کیا۔57 سالہ  جمیل التمیمی نے بیت المقدس میں چاقو کے وار کرکے ایک صہیونی فوجی کو ہلاک اور دو کو زخمی کرتیہوئے خود بھی جام شہادت نوش کیا۔

رواں سال کی پہلی ششماہی میں فدائی حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 11 صہیونی واصل جہنم ہوئے اور 208 کو زخمی کیا گیا۔فلسطینی شہریوں کی جانب سے اسرائیلی فوج پر 363 پٹرول بم پھینکے گئے جب کہ مقبوضہ فلسطین میں مجموعی طور پر 2094 مقامات پر اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران اسرائیلی فوج کی دہشت گردی میں مجموعی طور پر 51 فلسطینی شہید ہوئے۔ شہداء میں چھ بچے اور چار خواتین شامل ہں۔شہداء میں مقبوضہ مغربی کنارے کے 26 شہری اور غزہ کے 16 فلسطینی شامل ہیں۔ چھ فلسطینی بیت المقدس دو اندرون فلسطین  اور ایک کا تعلق اردن سے ہے۔ اکتوبر 2015ء کے بعد سے اب تک صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں 327 فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔

شہداء میں الخلیل شہر 82 شہداء کے ساتھ سر فہرست ہے۔ اس کے بعد بیت المقدس میں 65، رام اللہ سے 31، جنین سے 25م نابلس سے 22، بیت لحم سے 20، طولکرم میں 7، سلفیت میں چھ، قلقیلیہ میں چار، طوباس میں ایک اور غزہ کی پٹی میں 39 فلسطینی شہید کیے گئے۔شہداء میں 89 بچے شامل ہیں جن کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔ کل شہداء کا یہ تعداد 29 فی صد ہے۔ ان میں ایک شیر خوار رمضان محمد ثوابطہ بھی شامل ہیں۔مجموعی طور پر  انتفاضہ القدس میں اب تک 31 خواتین شہید ہوچکی ہیں۔ ان میں13 کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ 9 شہداء کے جسد خاکی صہیونی فوج کے قبضے میں ہیں۔

سنہ 2015ء میں فلسطین میں شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے دوران اب تک بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو وحشیانہ کریک ڈاؤن کے دوران پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی کے وران اب تک 2 ہزار 168  فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔رواں سال مارچ میں 383 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔ جو کہ ایک ماہ میں گرفتار ہونے والے فلسطینیوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ صہیونی فوج کے ہاتھوں گرفتار کیے گئے شہریوں میں 35 خواتین اور 234 بچے بھی شامل ہیں۔غرب اردن سے 1750، بیت المقدس سے 346 ، غزہ کی پٹی سے 18 اور اندرون فلسطین سے 54 فلسطینی حراست میں لیے گئے۔رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران صہیونی فوج نے450 فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی سزائیں سنائیں۔ ان میں فلسطینی پارلیمنٹ کے ارکان بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق فلسطین میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں یہودی آباد کاری کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے جتنے مکانات کی منظوری رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں دی ہے، انتی پچھلے 25 سال میں نہیں دی گئی۔رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت کی طرف سے رواں سال کے پہلی ششماہی میں 11 ہزار 245 مکانات کی منظوری دی۔ 3 ہزار 66 گھروں کی تعمیر کا آغاز کیا گیا جب کہ 3 ہزار 651 مکانات کی نئی اسکیموں کی منظوری دی گئی۔اس وقت فلسطین میں یہودی آباد کاری کا  مجموعی بجٹ 7 ارب 37 کروڑ شیکل تک جا پہنچا ہے جوکہ پچھلے بجٹ کی نسبت 70 کروڑ شیکل زیادہ ہے۔‘‘

بعض رپورٹوں کے مطابق اس آباد کاری کا بڑامقصد فلسطین میں مسلم آبادی کو کم سے کم کرنا ہے اور افسوس ناک یہ کہ بعض مسلم ممالک اس مقصد کے لیے اسرائیل کی راہ ہموار کرنے میں لگے ہیں ۔ ممکن ہے کہ ان اقدامات کی وجہ سے عارضی طور پر فلسطین کی مزاحمتی قوت دم توڑ دے مگر یہ بات کوئی نہ بھولے کہ فلسطینی سرزمین مسلمانوں کی ہے اور اس کے ساتھ مسلمانوں کی وابستگی کو کوئی بھی ختم نہیں کر سکتا۔

٭…٭…٭