Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

غدار کون (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 448 - Naveed Masood Hashmi - ghadar kon

غدار کون؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 448)

ڈسکہ سے5کلومیٹر آگے بستی نظام الدینؒ (منڈیکی گورائیہ) میں گاڑی جیسے ہی داخل ہو تو۔۔۔ سڑک کنارے پر واقع خوبصورت مرکز ’’النور‘‘ کی پرشکوہ عمارت ہر گزرنے والے کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔۔۔ حسین ترین مسجد، جاذب النظر قرآن ہال اور مسجد سے متصل مدرسے کے طلباء اور اساتذہ کرام کیلئے رہائشی کمرے۔۔۔ مرکز النور کے گردا گرد لہلہاتا ہوا خوبصورت پارک۔۔۔11کنال پرپھیلے ہوئے اس مرکز النور کا افتتاح 9نومبر2001ء میں ہواتھا۔۔۔ اس مرکز کے ’’خادم اعلیٰ‘‘ متولی اور علاقہ کی معروف سماجی شخصیت چوہدری ارشد کے بقول اس مرکز کا افتتاح ولی کامل امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر نے فرمایا تھا۔۔۔ اور تب سے لیکر آج تک اس مرکز سے قرآن و سنت اور دعوت جہاد کے پیغام کو عام کیا جا رہا ہے۔۔۔

جمعۃ المبارک30 مئی کو یہ خاکسار الرحمت ٹرسٹ کے سینئر صوبائی ذمہ دار بھائی ابو ھریرہ کی معیت میں مرکز النور میں داخل ہوا تو۔۔۔ پاؤں پر آنے والی موچ کی درد خود بخود ہی کافور ہوگئی۔۔۔ مسجد کا ہال مجاہدین اور علاقہ کے مخلص مسلمانوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔۔۔ ایک تو جمعۃ المبارک کا مقدس دن اور سونے پر سہاگہ یہ کہ دورہ آیات جہاد کی اختتامی تقریب اور دعا۔۔۔

یعنی نورٌ علیٰ نور۔۔۔اس اہم موقع پر مجھ ناچیز عاجز کا خطاب میرے لئے نہایت سعادت کی بات تھی۔۔۔ گوکہ میں نے ہر چند بچنے کی پوری کوشش کی۔۔۔ مگر بھائی ابو ھریرہ کی پرخلوص دعوت۔۔۔ اور’’رابطے‘‘ کی طاقت نے مجھے’’ بچنے‘‘ سے بچائے رکھا۔۔۔

اس خاکسار نے اللہ پاک کے فضل و کرم سے اس موقع پر جو گفتگو کی اس کا لب لباب یہ تھا کہ۔۔۔ اللہ رب العزت ہمارے امیر محترم حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کو جزائے خیر عطاء فرمائے کہ انہوں نے پاکستان بھر میں خصوصیت کے ساتھ ’’آیات جہاد‘‘ کے ترجمے، تشریح اور تفسیر کو عوام الناس تک پہنچانے کیلئے آیات جہاد کے ’’دورات‘‘ کا اہتمام فرمایا۔۔۔ وہ لوگ کہ جو فتنہ انکار جہاد سے متاثر ہیں۔۔۔ اگر وہ جہاد مقدس کی اہمیت و فرضیت کوسمجھنا چاہیں تو اس سے اہم مواقع انہیں میسر آہی نہیں سکتے۔۔۔

پاکستان میں گزشتہ 15سالوں سے حکومتی سطح کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی۔۔۔ ’’جہاد مقدس‘‘ کو الزامات اور بہتان تراشیوں کے بوجھ تلے دبانے کی بے پناہ کوششیں کی گئیں۔۔۔ پاکستان کے مسلمانوں میں جہاد اور مجاہدین کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کیلئے پروپیگنڈا مہم کی پوری پوری فیکٹریاں اور کارخانے متحرک رہے۔۔۔ لیکن اس سب کے باوجود پاکستان کا ہر سچا مسلمان آج بھی اگر جہاد مقدس کی عبادت پر اس کی اس اصل روح کے مطابق عمل کرنا اپنے لئے باعث نجات سمجھتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہی ’’دورات آیات جہاد‘‘ ہیں کہ جن کی وجہ سے مسلمان فتنہ انکار جہاد والوں کے دام فریب میں آنے سے محفوظ رہے۔۔۔

دنیا جانتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ملعون سے لے کر ’’جاوید غامدی‘‘ تک۔۔۔ انکار جہاد کے ہر فتنہ گر کی سرپرستی انگریز یعنی فرنگی سامراج نے کی۔۔۔ آج بھی جہاد مقدس کی عبادت اور مجاہدین کے خلاف جتنی فتنہ گری ہو رہی ہے۔۔۔ اس کی سرپرستی امریکہ، برطانیہ یا بھارت کے حکمران کرتے ہیں۔۔۔ لیکن اللہ کریم کا پاکستانی قوم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اللہ پاک نے حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازھر جیسے ’’جہاد دوست‘‘ کو نہ صرف یہ کہ انڈیا کی جیل سے رہائی عطاء فرمائی۔۔۔ بلکہ دفاع جہاد کے مشن کیلئے انہیں قبول بھی فرما لیا۔۔۔ امریکہ، اسرائیل ، برطانیہ اور بھارت کے حکمران ان کی خفیہ ایجنسیاں، ان کے ڈالرز اور کرنسیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔۔۔ دجالی میڈیا بھی ناکام و نامراد ہو گیا۔۔۔ الحمدللہ جہاد و قتال والی عبادت آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔۔۔اور ان شاء اللہ تاقیامت زندہ رہے گی۔۔۔ بعض لوگ کہ جو کبھی کشمیر کے جہاد میں شامل تھے۔۔۔ آج کل پاکستان کی گلیوں، بازاروں، چوکوں اور چوراہوں پر جلوس نکالتے ہیں، مظاہرے کر رہے ہیں۔۔۔ اور وہ اپنے ان جلوسوں اور مظاہروں کو بھی ’’جہاد‘‘ ہی قرار دے رہے ہیں۔۔۔ میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ عملی جہادی محاذوں سے رخ پھیر ہی چکے ہیں تو ان کی مرضی۔۔۔ لیکن مظاہروں اور جلوسوں کو ’’جہاد‘‘ قرار دے کر پاکستان کے مسلمانوں کو دھوکا تو مت دیں۔۔۔ اگر کوئی عملی جہاد چھوڑ کر جلوس نکالنا چاہتاہے۔۔۔ مظاہرے کرنا چاہتا ہے تو اس کی مرضی۔۔۔ اس کا اسے حق حاصل ہے۔۔۔ لیکن جہاد جیسے مقدس فریضے کی غلط تشریح کرنے کا حق نہ کسی کو حاصل ہے اور نہ ہی یہ حق کسی کو دیا جا سکتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہود ونصاریٰ مسلمانوں سے جہاد کی روح ختم کرنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ لیکن الحمدللہ وارثین جہاد ابھی زندہ ہیں اور وہ کسی شخص، گروہ یا حکومت کو جہاد و قتال کا غلط ترجمہ یا تشریح کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم دس سال پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ۔۔۔ امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان کے مسلمانوں پر حملے کروانے والا پرویزمشرف غدار ہے۔۔۔ مگر تب کوئی ہماری بات پر کان دھرنے کیلئے تیار ہی نہ تھا۔۔۔ آج وقت اور حالات نے ثابت کر دیا کہ ہم فقیروں کی دس سال قبل کہی ہوئی بات سچی تھی۔۔۔ کل تک جو پرویز مشرف کو سیلوٹ کیا کرتے تھے۔۔۔جنہوں نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر حلف اٹھایا تھا۔۔۔ اب وہی چیخ چیخ کر دنیا کو بتا رہے ہیں کہ پرویز مشرف سنگین غداری کا مرتکب ہوا ہے۔۔۔

حسین حقانی ہو یا پرویزمشرف۔۔۔ ان کا تعلق نہ تو جیش محمدﷺ سے تھا۔۔۔ اور نہ ہی کسی مدرسے یا مسجد سے تھا۔۔۔ لیکن دونوں پاکستانی عدالتوں کو غداری کے مقدمے میں مطلوب ہیں۔۔۔ حسین حقانی تو بھاگ کر اپنے آقا امریکہ کی گود میں پہنچ گیا۔۔۔ جبکہ پرویزمشرف بھاگنے کی تیاریاں مکمل کر چکا ہے۔۔۔

دینی مدارس اور مجاہدین نے ہمیشہ اسلام اورپاکستان کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔۔۔ چھیاسٹھ سالوں میں کوئی ایک بھی ایساعالم دین، مجاہد اور خالص مذہبی شخص ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا کہ جس پرکبھی غداری کا الزام لگا ہو یا مقدمہ چلا ہو۔۔۔

ملک چھوڑ کر بھاگیں تو سیکولرز اور لبرل۔۔۔ قومی خزانے میں لوٹ مار کرنیوالے بھی لبرل اور سیکولرز۔۔۔ اللہ کے احکامات کا مذاق اڑانے والے بھی لبرل اور سیکولرز۔۔۔ پاکستان سے غداری کرنے والے بھی لبرل اور سیکولرز۔۔۔ شرم آنی چاہئے ان بدبختوں کو کہ یہود ونصاریٰ کے ساتھ مل کر جہاد مقدس، مجاہدین، دینی مدارس اور مذہب سے محبت کرنے والوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔۔۔

پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔۔۔ سیکولر لادینیت سے جان چھڑانے کیلئے پاکستان قائم ہوا تھا اور ان شاء اللہ پرامن طریقے پر پاکستان میں نفاذ اسلام کو یقینی بنایا جائے گا۔۔۔

آج انڈیا کے ہندو تو اپنے ہندو ازم کے ساتھ اتنے مخلص ہیں کہ انہوں نے ایک دہشت گرد اور قاتل نریندر مودی کو ووٹ دے کر وزیراعظم بنا دیا۔۔۔ اور پھر اس کے وزیراعظم بننے کے صرف دو دنوں بعد ہی یہ مطالبہ کیا کہ۔۔۔ انڈیا میں اذان فجر پر پابندی عائد کر دی جائے، اذان فجر پر پابندی کا مطالبہ کوئی اچانک یا حادثاتی نہیں ہے، بلکہ اس مطالبے کے پیچھے ایک بہت بڑے فساد کی بو آرہی ہے۔۔۔لگ یوں رہا ہے کہ نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد اس قسم کے مطالبے کر کے انتہا پسند ہندو۔۔۔ مسلمانوں پر حملوں کی راہ ہموار کریں گے۔۔۔

افسوس تو یہ ہے کہ انڈیا کے ہندو اپنے بتوں اور جھوٹے خداؤں کو راضی کرنے کیلئے پاکستان کو مٹانے اور مسلمانوں کے قتل عام کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔۔۔ اور ہم اپنے ملک اور مسلمانوں کے دفاع کی طرف سے غافل ہوتے جا رہے ہیں، ہمیں نریندر مودی کی دہشت وحشت کا مقابلہ کرنے کیلئے جہادی محاذوں کا شہسوار بننا پڑے گا۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor