Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اے قافلے والو! اٹھو (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 449 - Naveed Masood Hashmi - aye qafle walo utho

اے قافلے والو! اٹھو

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 449)

نہ جمہوریت اور نہ آمریت۔۔۔ اسلام صرف اسلام اور فقط اسلام۔۔۔ پاکستانی قوم کے مسائل کا حل عملاً نفاذِ اسلام میں ہی پوشیدہ ہے۔۔۔ پاکستان اگر آج ’’مسائلستان‘‘ بنا ہوا ہے تو اس کی بنیادی وجہ جمہوریت اور آمریت ہی تو ہے۔۔۔ آخر سیکولر دانش فروشوں، سیاست دانوں اور حکمرانوں کی ٹانگیں نفاذ اسلام کی بات سن کر کانپنا کیوں شروع ہو جاتی ہیں؟ خلفائے راشدینؓ کے سنہرے دور کی عمدہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔۔۔ ایک نظریاتی اسلامی مملکت کے حکمران آخر خلفائے راشدینؓ کے نقش قدم پر چلنے کیلئے آمادہ کیوں نہیں ہیں؟ پاکستان میں لوٹ مار، چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، قتل و قتال حد سے بڑھ چکا ہے۔۔۔

پاکستان میں ہر طرف لاقانونیت کا دور دورہ نظر آرہا ہے۔۔۔ ظالم کے ظلم کا نشانہ بننے والا مظلوم اگر تحفظ کی بھیک مانگنے تھانے چلا جائے تو تھانے کی پولیس اس مظلوم کی جیب کاٹنے کیلئے تیار ہوتی ہے۔۔۔اگر وہی مظلوم عدالت میں چلا جائے۔۔۔ تو وہاں اس مظلوم کو نوچ کھانے والے منہ کھولے بیٹھے ہوتے ہیں۔۔۔ غرضیکہ ہر طرف رشوت، چور بازاری۔۔۔

ظالم نے اگر ظلم ڈھانا ہے تو رشوت اسے بھی ادا کرنا پڑیگی۔۔۔ مظلوم نے اگر انصاف لینا ہے۔۔۔ رشوت اسے بھی دینا پڑیگی۔۔۔ مولوی صاحب نے اگر مسجد یا مدرسے کا نقشہ پاس کروانا ہے تو رشوت اسے بھی دینا پڑیگی۔۔۔

مسجد یا مدرسے میں بجلی یا گیس کا میٹر لگوانا ہے۔۔۔ تو واپڈا ملازمین کی جیب گرم کرنا لازمی ہو گا۔۔۔بے گناہ پاکستانیوں کو اٹھا کر غائب کرنا اور پھر ان کے ورثاء سے لمبی لمبی رقمیں لے کر۔۔۔ ان کے پیاروں کو رہا کر دینا۔۔۔ یہ بعض اہلکاروں کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ قومی خزانے سے دو سو ارب ڈالر لوٹ مار کر کے سوئس بینکوں میں رکھوا دیئے گئے۔۔۔سوال یہ ہے کہ پاکستان سے دو سو ارب ڈالر لوٹ کر باہر کے بینکوں میں منتقل کرنے والے کون لوگ ہیں؟ کیاان لٹیروں کا تعلق مدرسوں، مسجدوں سے ہے۔۔۔ یا پھر وہ سیکولر اور لبرل لٹیرے ہیں؟ جواب بڑا واضح! پاکستان سے دو سو ارب ڈالر لوٹ کر سوئس بینکوں میں جمع کروانے والوں میں کوئی ایک بھی مولوی یا جہادی شامل نہیں ہے۔۔۔ بلکہ وہ سب کے سب سیکولر اور لبرل لٹیرے ہیں۔۔۔ اور تو اور پاکستان وہ ملک ہے کہ جہاں آئے روز بھوک، پیاس اور غربت سے مجبور ہوکر مائیں اپنے بچوں سمیت خود کشیاں کر رہی ہیں۔۔۔ پاکستان وہ ملک ہے کہ جس کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔۔۔ مگر اس پاکستان کے جمہوری وزیراعظم نواز شریف کے گھر یعنی وزیراعظم ہاؤس کا یومیہ خرچہ21لاکھ35ہزار روپے ہے۔۔۔ جمہوری وزیراعظم اگر کسی بیرونی سفر کے دورے پر جائیں۔۔۔ تو 43لاکھ روپے یومیہ خرچہ وہاں کا ہے۔۔۔

پاکستانی قوم غربت اور مہنگائی کے درمیان پس رہی ہے اور جمہوری حکمران اپنے لئے بلٹ پروف گاڑیاں منگوارہے ہیں۔۔۔ عوام بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کیوجہ سے بلبلا رہے ہیں اور حکمران اپنے اللے تللوں پر قومی خزانہ لٹا رہے ہیں۔۔۔کوئی پوچھ سکتا ہے ان حکمرانوں سے کہ آخر پاکستانی قوم کا دوسوارب ڈالر لوٹنے والے لٹیرے کون ہیں؟ انہیں ابھی تک انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ باہر پڑے ہوئے اس بے تحاشہ پیسے کو واپس ملک میں کیوں نہیں لایا جا سکا؟ یہ سارے شاخسانے ’’میڈم‘‘ جمہوریت کے ہیں۔۔۔

اگر یہ موٹی جمہوریت یا کالی آمریت کے سائے پاکستان پر نہ پڑتے تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔۔۔ چھیاسٹھ سال ہو گئے پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے۔۔۔ مگر ان 66سالوںمیں پاکستان کے اقتدار پر قابض حکمرانوں نے جان بوجھ کر پاکستانی قوم کو اسلامی نظام کے نفاذ سے محروم رکھا، یہاں اگر مسجدیں اور مدرسے بنانے کی آزادی تھی۔۔۔ نماز، روزوں اور دیگر دینی اجتماعات کی آزادی تھی۔۔۔ تو اس کو نفاذ اسلام قراردیکر۔۔۔ گورے فرنگیوں کے نظام کو یہاں کے اداروں میں عملاً نافذ کیا گیا۔۔۔ نماز پڑھنا روزہ رکھنا، حج کرنا یقینا بہت بڑے اعمال ہیں۔۔۔ لیکن انہیں نفاذ اسلام تو نہیں کہا جائے گا؟ اسلامی نظام اگر عملاً پاکستان میں نافذ ہو جاتا تو اس ملک اور قوم کی کایا ہی پلٹ جاتی۔۔۔ پاکستان تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہا ہوتا۔۔۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آج پاکستانی قوم جس طرح سے سیاسی اور مذہبی تفرقوں میں بٹی ہوئی ہے، جس طرح سے لسانی اور گروہی نفرتوں کاشکار بن چکی ہے، شاید یہ بھی نہ ہوتا۔۔۔

بلکہ نفاذاسلام کی برکت سے ہم سب متحد ہو کر ایک’’قوم‘‘ بن چکے ہوتے۔۔۔ فرنگیوں کا نظام ہو، یہودیوں کا نظام ہو، ہندوؤں کا نظام ہو، سیکولر ازم ہو سوشلزم ہو یا کیپٹل ازم۔۔۔ ان سب ازموں اور بدبودارنظاموں کی اسلامی نظام کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہے؟

بلکہ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب، جب جس مسلمان حکمران نے بھی زمین کے کسی حصے پر عملی طور پر اسلامی نظام کو نافذ کیا تو۔۔۔ نفاذ اسلام کی برکت سے زمین کا وہ حصہ اور اس پر رہنے والے۔۔۔ انسان کرہ ارض پر بسنے والے لوگوں کیلئے کامیابی کی مثال بن گئے۔۔۔

ہمارے سیاست دان ہوں،حکمران ہوں، دانش ور ہوں یا کالم نگار، یہ سارے یورپ کی رنگینیوں سے مرعوب ہیں۔۔۔ یورپ کے ڈالروں، پاؤنڈز اور یورو کو دیکھ کر ان کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، ان حکمرانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ٹائی ویسی باندھیں کہ جیسے لندن والے باندھتے ہیں۔۔۔ پینٹ ویسے پہنیں کہ جیسے لندن والے پہنتے ہیں۔۔۔

سگار کا کش لے کر فضاء میں دھواں ویسے ہی چھوڑیں جیسے لندن یا امریکہ کی’’پب‘‘ میں بیٹھا ہوا گورا چھوڑتا ہے۔۔۔ یورپ کی نقالی میں یہ اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے اسلامی تہذیب و تمدن اور اسلامی احکامات تک کوپس پشت ڈالنے سے دریغ نہیں کیا، پاکستان کے حکمران ہوں یا سیاست دان، یہ پاکستان کو ترقی دِلانا چاہتے ہیں مگر یورپ کے طریقوں کو اختیار کر کے۔۔۔ امریکہ اور لندن کے حکمرانوں کے سامنے وہ یوں سہم کر بیٹھتے ہیں کہ جیسے بلی کو دیکھ کو چوہا سہم جاتا ہے۔۔۔

حالانکہ پاکستان نظریۂ اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا۔۔۔ یہاں کے حکمرانوں کو چاہئے تھا کہ وہ خلفائے راشدینؓ کے اسوہ حسنہ کو اپنا کر قوم کی صحیح راہنمائی کرتے۔۔۔

وہ دیکھتے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروقؓ ساڑھے 22لاکھ مربع میل کے حکمران تھے۔۔۔ سید دوعالم ﷺ کے سچے وفادار اورعاشق صحابیؓ تھے۔۔۔ ایک دفعہ منبر رسولﷺ پر خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔۔۔ کہ ایک غریب دیہاتی کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ:

اے عمرؓ! ہم آپ کا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے کہ جب تک آپؓیہ نہ بتائیں کہ جو آپؓ نے اپنے جسم پر کرتہ پہن رکھا ہے۔۔ یہ کہاں سے آیا؟ مال غنیمت میں آنے والا کپڑا جو آپؓ کے حصے میں آیا تھا وہ تو کم تھا۔۔۔ حضرت سیدنا عمر فاروقؓ غصے میں نہیں آئے۔۔۔ اور نہ ہی اپنی حکمرانی کا حق جتلا کر اس دیہاتی کو خاموش کروانے کی کوشش کی۔۔۔ بلکہ آپؓ نے اجتماع میں بیٹھے ہوئے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اس کا جواب میرا بیٹا دے گا۔۔۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور فرمایا’’ میرے بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ کم تھا۔۔۔ اس سے ان کا پورا لباس نہیں بن سکتا تھا۔۔۔ اس لئے میں نے اپنے حصے کا کپڑا بھی اپنی والد کو دے دیا۔۔۔ جس سے ان کا پورا لباس بن گیا، وہی دیہاتی پھرکھڑا ہوا۔۔ اور بولا:اے امیر المؤمنینؓ! آپ تقریر کیجئے ہم آپ کی تقریر سنیں گے بھی اور آپؓ کے ہر حکم کی بجا آوری بھی کریں گے۔۔۔

یہی سیدنا عمر فاروقؓ تھے کہ جنہوں نے ارشاد فرمایا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن اس کی پوچھ عمرؓ سے ہوگی۔۔۔

حضرت سیدنا عمر فاروقؓ جب خلیفہ بنے تو راتوں کو اٹھ اٹھ کر مدینہ کی گلیوں میں پہرا دیا کرتے تھے۔۔۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ رعایا کو کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔۔۔ عوام آرام سے سوتے مگر سیدنا عمر فاروقؓ اپنی نیند کو عوام کے سکھ پر قربان کر دیتے، ایک رات معمول کے گشت پر تھے کہ ایک قافلے کو دیکھا۔۔۔

جس نے شہر سے باہر پڑاؤ ڈالا ہوا تھا۔۔۔ آپؓ نے سوچا کہ قافلے والے تھکے ہارے ہوئے ہوں گے۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ چور ان کے سامان کا صفایا کردیں۔۔۔ یہ سوچ کر آپؓ قافلے کی طرف چل پڑے۔۔۔ راستے میں عمر بن عبدالرحمنؓ سے ملاقات ہوگئی۔۔۔انہوں نے حیرانگی سے پوچھا کہ حضرت آپؓ اس وقت کہاں جارہے ہیں؟

حضرت عمرؓ نے فرمایا قافلے والے تو سو گئے ہیں۔۔۔ مجھے ڈر ہے کہ کوئی چور ان کے سامان کو نہ چرالے۔۔۔ چنانچہ دونوں عظیم المرتبت صحابیؓ ساری رات قافلے کی نگہبانی کرتے رہے، اور فجر کی اذان کا وقت ہو گیا آپؓنے بلند آواز سے فرمایا ’’ اے قافلے والو اٹھو۔۔۔ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔۔۔ جب وہ لوگ بیدار ہوئے تو حضرت عمرؓ اپنے ساتھی کو لے کر واپس تشرف لے گئے‘‘

ذرا پاکستان کے جمہوری حکمران کی حالت بھی ملاحظہ فرمائیے۔۔۔ سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’سرکار کے پیسے سے بڑی بڑی گاڑیاں خریدی جارہی ہیں۔۔۔ ورکرزفنڈز اور ای او بی آئی میں پڑے اربوں،کھربوں روپے سے نئے شہر بسائے جارہے ہیں، عوام کے پیسوں سے حکام بالا عالمی کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں، فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہتے ہیں۔۔ جبکہ عوام کا یہ حال ہے ان کو سستا آٹا بھی میسر نہیں۔۔۔

لوگوں میں بغیر کسی مقصد کے اربوں روپے بانٹے جارہے ہیں۔۔۔ مگر غریبوں کو سستی اشیاء نہیں ملتیں۔۔۔ حکمران عوام کے پیسوں سے عیاشیاں کر رہے ہیں۔۔۔ مگر قوم کو سستی روٹی بھی میسر نہیں‘‘

سپریم کورٹ کے یہ ریمارکس چشم کشا ہیں۔۔۔ اور اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ مغربی جمہوریت ہو یا آمریت۔۔۔ یہ دونوںتباہی و بربادی کے سوا کچھ بھی نہیں جبکہ ہماری کامیابی کا راز صرف اور صرف نفاذ اسلام میںہی مضمر ہے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor