Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شرم تم کو مگر نہیں آتی! (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 450 - Naveed Masood Hashmi - sharam tum ko magar nahi aati

شرم تم کو مگر نہیں آتی!

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 450)

اے اللہ پاکستانی قوم کی مصنوعی دانشوروں سے حفاظت فرما…ہر کالم نگار،تجزیہ نگار اور دانشور کو اسلام کی بالادستی،اعلائے کلمۃ اللہ اور پاکستان کی حفاظت کے لئے…اپنی صلاحیتیں وقف کرنے کی توفیق عطا فرما (آمین)

جیو نیوز پر 15دن کے لئے…اس کا جرم ثابت ہونے پر پابندی کیا لگی…کہ اس گروپ سے وابستہ بعض کالم نگاروں نے ملک چھوڑنے کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ…پاکستان اور انڈیا کے مابین جنگ کی دعائیں مانگنا شروع کر دیں۔

مجھے حیرت ہوتی ہے ایسے دانشوروں پر جن کو ذرا سی مصیبت بھی چھو جائے تو فوراً پاکستان سے بوریا بستر باندھنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں…پاکستان چھوڑنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں…اس لحاظ سے میرے نزدیک مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کا کردار اب تک سب سے مضبوط اور بہتر رہا ہے…کراچی میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی،مفتی نظام الدین شامزئی،مفتی محمد جمیل خان، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار،مولانا عبد الغفور ندیم رحمہم اللہ ،صرف کراچی ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے علماء کرام اور کارکنان کو سینکڑوں کی تعداد میں شہید کیا گیا…مگر آج تک کسی مذہبی جماعت کے قائد یا کارکن نے پاکستان چھوڑنے کی دھمکی نہیں دی…

اہل سنت اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا کر بھی اسلام اور پاکستان سے محبت کے نعرے بلند کرتے ہیں… چھیاسٹھ برس ہو گئے پاکستان کو قائم ہوئے…ان چھیاسٹھ برسوں میں جو حکومت آئی…اس نے مغرب کی خوشنودی کی خاطر سیکولر ازم کے ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کی کوششیں کیں…سیکولر ازم کے راستے میں آنے والے مدارس،مساجد،علماء کرام اور مذہبی جماعتوں کو کچلنے کے لئے ہر ممکن کوششیں کیں…مگر اس کے باوجود مذہبی قائدین ،علماء کرام اور اہل مدارس نے مثبت انداز میں سیکولر ایجنڈے کو تو مسترد کیا…مگر حکومتی مظالم کے باوجود ملک چھوڑنے کی نہ دھمکیاں دیں…اور نہ ہی پاکستان سے بھاگنا گوارا کیا بلکہ جب ملک پر برا وقت آیا مذہبی جماعتیں اور اس کے کارکن ملک کی حفاظت کے لئے اگلے محاذوں پر سینہ سپر ہو گئے…رسوائے زمانہ پرویز مشرف کے دور میں بعض مذہبی اور جہادی جماعتوں کے کارکنوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے…مساجد اور مدارس پر چھاپے مارے گئے…جھوٹے الزامات لگا کر صرف امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سینکڑوں مذہبی کارکنوں کو گرفتار کر کے بدترین اذیتیں دی گئیں…مگر اس کے باوجود پاکستان بھر میں کوئی ایک بھی ایسا عالم دین،جہادی یا مذہبی کارکن یا لیڈر چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا…کہ جس نے پاکستان چھوڑ کر لندن،امریکہ،فرانس یا انڈیا میں جا بسنے کی بات کی ہو…لیکن سیاست اور میڈیا کے مخصوص لوگ …جب بات بات پر ملک چھوڑ جانے کی دھمکیاں دیتے ہیں…اپنا پیسہ باہر کے بینکوں میں رکھوانے کے اعلانات کرتے ہیں،اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اگر حکومتی سزا کی زد میں آ جائیں…تو پاک بھارت جنگ چھڑ جانے کی دعائیں کرتے ہیں…

لا حول ولا قوۃ الا باللہ…یعنی اگر جیو چینل پر 15دن کی پابندی لگ گئی تو …ان کی خواہش ہے کہ کاش کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو جائے تاکہ اس پابندی کی سزا پوری قوم بھگتے…ملک چھوڑنے کی دھمکیاں دینے والے ان ’’نابالغوں‘‘ کو کوئی بتائے کہ پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ’’کاواں دے آکھیاں کدے ڈھول نیں وجدے‘‘ یعنی کووں کے کہنے سے کبھی ڈھول نہیں بجا کرتے…وہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر ذرا یہ بھی تو سوچیں کہ جس ملک کو وہ چھوڑ جانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں…اس ملک نے انہیں کیا عطا کیا…اور انہوں نے جواباً اس ملک کو کیا دیا؟گریبان میں منہ ڈال کر’’ذرا سوچیے‘‘ کہ نہ تو امریکہ سے فنڈ ملیں گے،نہ برطانیہ اور بھارت سے بلکہ شاید پہلی مرتبہ انہیں اپنے متعلق بھی مفت میں ہی سوچنا پڑے گا…گو کہ مہنگائی کے اس دور میں اپنے بارے میں بھی ’’مفت‘‘ سوچنا ہے بڑا مشکل…لیکن سوچنا پھر بھی پڑے گا…

پاک بھارت جنگ چھڑنے کی دعائیں مانگنے والوں کا اس پاک سرزمین پر سب سے بڑا احسان یہی ہے کہ وہ یہاں پیدا ہو گئے…اگر وہ انڈیا،امریکہ یا لندن میں پیدا ہوتے تو یقیناً یہ سرزمین ان کی پیدائش کی برکات سے محروم ہو جاتی…پیدا ہونے کے علاوہ اگر انہوں نے اس ملک کے لئے کوئی کارنامہ سر انجام دیا ہو…تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے مایوسی کے شاہکار کالموں میں اس کا بھی تذکرہ ضرور کریں…باقی اپنے گریبانوں میں جھانک کر اگر انہوں نے ذرا سا بھی سوچنے کی زحمت گوارا کر لی…تو ان کا ضمیر ہی انہیں ملامت کرے گا کہ جس ملک نے تمہیں’’ذرے‘‘ سے آفتاب بننے کا موقع فراہم کیا…جس ملک نے تمہاری دانشوری،تجزیہ نگاری،اور کالم نگاری کو تسلیم کیا…جس ملک نے تمہیں عزت دی…رفعت،شان و شوکت اور شہرت دی… جس ملک کے وزیر اعلی،گورنر،وفاقی وزیر،بڑے سیاسیت دان حتی کہ وزیر اعظم سے ملنا بھی تمہارے لئے کوئی مسئلہ نہیں رہا…

جس ملک نے تمہیں شہرت کے ساتھ ساتھ ایک مکمل شناخت دی…اس ملک کو چھوڑ جانے کی دھمکی دیتے ہوئے…تمہیں شرم بھی نہیں آتی تو کیوں؟تم اگر اپنے آپ کو علم کا سمندر سمجھتے ہو،تقوی کا پہاڑ سمجھتے ہو…تمہیں اگر اپنی اینکری اور کالم نگاری پر بہت ناز ہے تو یہ سب ’’پاکستان‘‘ہی کی برکت سے ہے اگر تم پاکستان کی بجائے بھارت میں پیدا ہوتے…تو کیا ایسی شہرت اور اتنی دولت تم وہاں حاصل کر سکتے تھے؟

اگر تم اتنے ہی بڑے حق گو ہو تو پوچھو ذرا اپنے گروپ کے مالکان سے کہ انہوں نے 2006ء میں حقوق نسواں بل کہ جو حدود اللہ کے ساتھ متصادم تھا…اس کے حق میں کمپین چلانے کے کس سے اور کتنے ڈالر لیے تھے؟اگر تمہیں سچائی سے اتنا ہی پیار ہے تو سوال کرو اپنے گروپ کے مالکان سے کہ انہوں نے پاکستان میں فحاشی اور عریانی پھیلانے کے کتنے ڈالر وصول کیے تھے؟

اگر تمہارے سزا یافتہ چینل پر حدود اللہ کو پامال کیا جا سکتا ہے…نظریہ پاکستان کو جھٹلایا جا سکتا ہے… 1947ء کے لاکھوں شہیدوں کے مقبول ترین نعرے’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘ سے بغاوت کی جا سکتی ہے…مغربی اور بھارتی کلچر کو مسلط کیا جا سکتا ہے…امن کی آشا کے نام پر لاکھوں شہداء کشمیر کی قربانیوں کا مذاق اڑایا جا سکتا ہے…تو کیا تمہاری ذمہ داری نہیں بنتی تھی کہ تم اپنے گروپ کے مالکان کو ان بد اعمالیوں سے منع کرتے…اپنے مالکان کے سامنے تو تمہاری گھگھی بندھ جاتی ہے…اپنے چینل میں قوم کو گمراہ کرنے والی خرمستیوں کو تم روکنے کی جرات نہیں رکھتے…اور اگر حکومت یا قوم ان کے خلاف متحرک ہو جائے تو تم ملک چھوڑنے کی دھمکیاں اور پاک بھارت جنگ چھڑنے کی دعائیں مانگتے ہو…خدا کے لئے رحم کرو، اس ملک پر رحم کرو…اس قوم پر رحم کرو۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor