Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حکمرانوں اور عوام کا پاکستان؟ (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 451 - Naveed Masood Hashmi - hukmaraon aur awam ka pakistan

حکمرانوں اور عوام کا پاکستان؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 451)

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’سرکار کے پیسے سے بڑی بڑی گاڑیاں خریدی جارہی ہیں…ورکرز فنڈز اور ای اوبی آئی میں پڑے اربوں کھربوں روپے سے نئے نئے شہر بسائے جارہے ہیں’ عوام کے پیسوں سے حکام بالا عالمی کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہتے ہیں… جب کہ عوام کو سستا آٹا تک دستیاب نہیں۔ لوگوں میں اربوں روپے بغیر کسی مقصد کے بانٹے جارہے ہیں… مگر غریبوں کو سستی اشیاء بھی میسر نہیں’ حکمران عوام کے پیسوں پر عیاشیاں کر رہے ہیں قوم کو سستی روٹی بھی میسر نہیں۔‘‘

یہ وہ چشم کشا حقائق ہیں کہ جن سے صرفِ نظر کرنا ممکن ہی نہیں… اگر پاکستان کے جمہوری حکمرانوں کے اخراجات اور رہن ‘ سہن کو دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جس کی سرزمین کے آدھے حصے پر ’’ڈالر’’ پیدا ہوتے ہیں جب کہ بقیہ آدھی سرزمین پائونڈ اگلتی رہتی ہے… لیکن اگر یہاں کے عوام کی حالت زار دیکھی جائے تو … اس ملک میں ساٹھ فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

ساٹھ فیصد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے ملک کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ہیں… اور میاں نواز شریف کے گھر یعنی وزیراعظم ہائوس کا 21لاکھ 35ہزار روپے یومیہ خرچہ ہے… اگر وزیراعظم نواز شریف کسی بیرونی سفر پر جائیں تو ان کے بیرونی سفر کا ایک دن 43لاکھ روپے میں پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑتا ہے… پاکستانی قوم مہنگائی اور غربت کے درمیان پس رہی ہے… اور حکمران مہنگی ترین گاڑیاں خریدنے میں مصروف ہیں۔

پاکستان کے عوام بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے بلبلا رہے ہیں اور حکمران اپنے اللوں،تللوں پر قومی خزانہ لٹا رہے ہیں… کوئی ان ’’جمہوری‘‘ حکمرانوں سے پوچھ سکتا ہے… کہ پاکستانی قوم کا دو سو ارب ڈالر لوٹ کر بیرون ممالک کے بنکوں میں رکھنے والے لٹیرے کون ہیں؟ ان قومی لٹیروں کا حدود اربعہ کیا ہے؟ اور قومی خزانہ لوٹنے والے ان لٹیروں کے خلاف ابھی تک نواز حکومت نے کیا ایکشن کئے ہیں؟

جس ملک کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو… اس ملک کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے رہن سہن کو بھی سادگی کے ڈھب پر لانے کی کوشش کریں… لیکن ’’سادگی‘‘ کس چڑیا کا نام ہے… اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھا ہوا کوئی شخص جانتا ہی نہیں… کیا ’’جمہوریت‘‘ اسی لوٹ مار اور اندھی چالوں کا نام ہے؟

افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہوں، سیاست دان ہوں یا دانشور ان میں اکثریت یورپ سے سخت مرعوب ہے… ان کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ وہی فیشن کریں کہ جیسا فیشن لندن اور امریکہ کے گورے کرتے ہیں’ یہ ٹائی ویسی ہی لگائیں’ یہ پینٹ ویسی ہی پہنیں کہ جیسی لندن اور امریکہ کے گورے پہنتے ہیں… یورپ سے مرعوب زدہ یہ لوگ… حکومت ساٹھ فیصد سے زائد غربت والے ملک پر کرتے ہیں لیکن اپنے اندازو اطوار یورپ والا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں… کاش کہ یہ حکمران اس بات کو سمجھیں کہ وہ ایک نظریاتی مملکت کے حکمران ہیں کہ جس کی بنیاد نظریہ اسلام پر رکھی گئی تھی… اور مسلمان حکمرانوں کے لئے سب سے سنہرا دور خلفاء راشدین کا رہا ہے۔

اگر ہمارے حکمران خلفاء راشدین کے سنہرے دور سے ہدایت اور رہنمائی حاصل کرکے… پاکستان پر حکمرانی کرتے تو یہ ملک ترقی کی منازل کو چھو چکا ہوتا… اگر ہمارے حکمران خلافت راشدہ کے انداز حکمرانی سے سبق سیکھتے تو آج پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم ملک بن چکا ہوتا… افسوس تو یہ ہے ایک نظریاتی اسلامی مملکت کے حکمران… عالمی استعماری قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔

عالمی صہیونی طاقتیں جس طرح سے چاہیں ‘ جہاں چاہیں ان کا استعمال کرکے پھر ٹشو پیپر کی طرح انہیں کوڑے دان میں پھینک دیتی ہیں… کیا یہ کوئی معمولی بات ہے کہ ملک کی سپریم کورٹ کے عزت مآب جج یہ ریمارکس دے رہے ہیں کہ ہمارے حکمران عوام کے پیسے پر عیاشیاں کر رہے ہیں… اور قوم کو سستی روٹی بھی میسر نہیں۔

کیا اس بات کا خلفاء راشدین کے سنہرے دور میں تصور بھی کیا جاسکتا تھا؟ اگر کوئی خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر ‘ خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق’ خلیفہ ثالث حضرت عثمانی غنی اور خلیفہ چہارم حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم کے ادوار حکومت کا گہرائی سے مطالعہ کرے تو اسے خلافت راشدہ کے اس سنہری دور میں کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ملے گی کہ جب عوام بھوک سے مرتے ہوں… اور ان کے حکمران اعلیٰ اور مرغن کھانے کھاتے ہوں۔

خلیفہ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق تو یہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر ’’دریائے فرات کے کنارے کتا بھی پیاسا مر گیا تو قیامت کے دن اس کی پوچھ عمر سے ہوگی‘‘ یہ تھا خلفاء راشدین کا عظیم کردار کہ انہیں… اپنے ملک میں بسنے والے جانوروں کی بھی فکر ہوتی تھی کہ کہیں کوئی جانور بھی پیاس یا بھوک سے نہ مر جائے… اور آج پاکستان پر ایسے حکمران مسلط ہیں کہ جن کے دور میں انسان بھوک کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔

جن کے دور حکومت میں مائیں اپنے معصوم بچوں سمیت خودکشیوں پر مجبور ہیں’ یہ ایسے حکمران ہیں کہ جن کے آنگن میں ہیلی کاپٹر کھڑے ہیں… جن کے محلات کے گرد مسلح لشکروں کے پہرے ہیں’ جن کی اولادیں بھی… درجنوں مسلح بارڈی گارڈوں کے جھرمٹ میں گھومتی ہیں… مگر پاکستان کے عوام کہیں بھوک سے مر رہے ہیں’ کہیں گندے پانی کی وجہ سے مر رہے ہیں’ کہیں بیماریوں کی وجہ سے مر رہے ہیں اور کہیں دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جارہے ہیں۔

حکمرانوں کی بلا جانے کہ ملک میں آٹا مہنگا ہے یا سستا؟ دالیں مہنگی ہیں یا سستی؟ آٹا ہو’ دالیں ہوں’ گھی ہو’ مصالحہ جات ہوں’ سبزیاں ہوں یا گوشت ہو… اس کے مہنگے اور سستے سے غرض ہونی چاہیے عوام کو… بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو یا گیس کی… یہ درد سر بھی عوام کا ہے… حکمران تو ہمیشہ سے پاکستان کے عوام کے سروں پر عیاشیاں کرتے رہے اور اب بھی کر رہے ہیں… پاکستانی قوم کو ’’جمہوریت’’ کا لولی پاپ دے کر بہلانے والے … مغرب کی اس جمہوریت کے زور پر ہی پاکستانی قوم کو غلام بنائے ہوئے ہیں… ہم نے جب تک مغرب کی اس بدبودار جمہوریت سے جان چھڑا کر اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کی طرف عملی طور پر پیش قدمی نہ کی تب تک ہم بحیثیت قوم اسی طرح ذلیل و خوار ہوتے رہیںگے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor