Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مرحبا! رمضان المبارک مرحبا! (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 452 - Naveed Masood Hashmi - marhaba ramzan ul mubarak marhaba

مرحبا! رمضان المبارک مرحبا!

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 452)

یہ مبارک حدیث پڑھیئے اور غور فرمائیے کہ ہم آج کہاں پر کھڑے ہیں؟ آقا مولیٰﷺ ارشاد فرماتے ہیں... کہ ’’لوگو تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آرہا ہے... پس تم اس کیلئے تیاری کرو... اور اپنی نیتوں کو صحیح  کرو اور اس کا احترام اور تعظیم کرو... اس لئے کہ  اس کا احترام اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت عظیم احترام والی چیزوں میں ہے... لہٰذا تم اس کی بے حرمتی مت کرو... اس لئے کہ اس مہینے میں نیکیوں اور برائیوں دونوں کی (جزا و سزا) میں اضافہ کر دیا ہے۔‘‘

کیا ہم بحیثیت ایک مسلمان قوم ’’رمضان المبارک‘‘ کو وہی احترام دے رہے ہیں کہ جس کا وہ مستحق ہے...؟

کاش ایسا ہوتا... اور اگر ہم رمضان کا صحیح احترام کر رہے ہوتے تو کیا آج ہم اس طرح سے ذلیل و رسوا ہو رہے ہوتے؟

سچی بات تو یہ ہے کہ ہم وہ بدنصیب قوم ہیں کہ جو قوم ’’رمضان المبارک‘‘ کی بدنامی کا سبب بن رہی ہے... یقین نہ آئے تو پاکستان کے کسی شہر  کی کسی مارکیٹ کی کسی دکان  یا ریڑھی پر جا کر میرے اس لکھے ہوئے کا عملاً مشاہدہ بھی کیا جاسکتا ہے... گاہک دوکان یا ریڑھی میں خریداری کے لئے گیا۔

گاہک نے فروٹ یا کسی بھی دوسری چیز کی قیمت پوچھی... دکاندار نے گاہک کی مطلوبہ چیز کی قیمت بڑھا چڑھا کر بتائی... اب گاہک فٹ سے بولے گا... کہ کیا رمضان کی برکت سے یہ چیز اتنی مہنگی  ہوگئی ہے؟

یہ جملہ احترام رمضان کے تقاضوں کے مطابق ہے یا پھر ’’رمضان المبارک ‘‘ کے مقدس مہینے کو بدنام کرنے کی سازش؟

رمضان المبارک تو وہ مقدس مہینہ ہے کہ ... جس میں مومنین کا رزق کشادہ کر دیا جاتا ہے ... زکوٰۃ کے علاوہ نفلی صدقات بھی زیادہ سے زیادہ ... دینے کے احکامات... دئیے جاتے ہیں ...دوسروں... بالخصوص غریبوں کو روزہ افطار کروانے کی ترغیب دی جاتی ہے... اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے زیادہ سے زیادہ فضائل بتائے جاتے ہیں... حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ... ’’محسن عالمﷺ کی سخاوت کا دریا ویسے تو سارا سال ہی رواں دواں رہتا تھا۔

لیکن رمضان المبارک کے مہینے میں آپﷺ کی سخاوت ایسی ہوتی تھی... جیسے جھونکیں مارتی ہوئی ہوائیں چلتی ہیں۔‘‘ ... اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ رمضان المبارک... غریبوں کے ساتھ ہمدردی کا مہینہ ہے... رمضان المبارک حقوق العباد کے دھیان رکھنے کا مہینہ ہے... رمضان المبارک  اللہ کے راستے میں جان و مال قربان کر دینے کا مہینہ ہے... مہنگائی اور رمضان المبارک کا آپس میں بھلا کیا تعلق ہوسکتا ہے؟

قرآن پاک میں رمضان المبارک کی عظمت و فضیلت کے تین اسباب بیان کئے گئے ہیں۔

-1نزول قرآن یعنی اس مہینے قرآن پاک نازل ہوا۔

-2لیلۃ القدر یعنی اسی مہینے میں رات ایسی مبارک ہے کہ وہ خیرمیں ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی زیادہ بہتر ہے۔

-3فرضیت صوم‘ یعنی اسی مہینے کے روزے مسلمانوں پر فرض کئے گئے ہیں۔

روزے کی تعریف: شریعت میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے‘ پینے اور جماع  وغیرہ سے باز رہنے کا نام روزہ ہے۔

روزہ کا مقصد: روزہ کا مقصد انسان کے نفس کی اصلاح ہے قرآن کریم میں روزہ کے تین مقاصد بیان کئے گئے ہیں۔-1تاکہ تم پرہیز گار ہو جائو-2تاکہ تم شکر ادا کرو۔-3تاکہ وہ (روزہ دار) نیک راستہ پر لگ جائیں۔

روزے کے فائدے

٭ روزے دار کی نفسانی خواہشات کمزور اور سست ہو جاتی ہیں۔

٭ روزہ دار کو عبادت میں لطف آتا ہے اور طبیعت لگتی ہے۔

٭ روزہ کی وجہ سے روحانی طاقت اور قوت بڑھ جاتی ہے۔

٭ روزہ دار فرشتوں سے مشابہت اختیار کرتا ہے۔

٭ روزے کی حالت میں گناہوں سے بے رغبتی ہونے لگتی ہے۔

٭ روزے کی حالت میں مسکینوں پر رحم آتا ہے اور محبت پیدا ہوتی ہے۔

٭ جسمانی بیماریوں خصوصاً معدے کے امراض اور بلغمی بیماریوں کے لئے روزہ بے حد مفید ہے۔

عبادت‘ رحمت اور پاکیزگی کا مہینہ

٭ رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن کریم کا نزول ہوا۔

٭ رمضان المبارک میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اس میں نفل ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر فرضوں کے برابر ملتا ہے۔

٭ رمضان المبارک کی چاند رات ہی سے سرکش جنوں اور شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔

٭ رمضان المبارک کی ہر رات کو اللہ تعالیٰ کا منادی پکارتا ہے۔ ’’اے نیکی کے طلب گار ادھر! آ اے برائی کے شیدائی رک جا!۔‘‘

٭ رمضان المبارک میں صاحب ایمان کا رزق بڑھایا جاتا ہے۔

٭ رمضان المبارک کی ہر رات دوزخ کے مسحق بہت سے افراد دوزخ سے آزاد کئے جاتے ہیں۔

جسم کی زکوٰۃ

ایک حدیث میں ہے کہ ’’ہر چیز کی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے‘‘ (ابن ماجہ) فرمان نبویﷺ  ہے کہ : ’’اگر لوگوں کو روزہ (رمضان) کے ثواب کی حقیقت معلوم ہو جائے تو یہ تمنا کرنے لگیں کہ سارا سال رمضان ہی ہے۔‘‘

عبادت کا دروازہ

ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ ’’ساری عبادتوں کا دروازہ روزہ ہے۔‘‘ روزہ کی وجہ سے قلب منور ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ہر عبادت کی رغبت پیدا ہوتی ہے مگر یہ تب ہے کہ روزہ بھی روزہ ہو۔

زبان کا روزہ

یہ ہے کہ اس کو جھوٹ بولنے سے بچایا جائے۔ کان کا روزہ یہ ہے کہ ناجائز باتوں کے سننے سے بچائے۔ آنکھ کا روزہ یہ ہے کہ ناجائز اور خلاف شرع اور بے ہودہ باتوں کے دیکھنے سے بچائے۔

نفس کا روزہ

یہ ہے کہ اس کو حرص اور فضول نفساتی خواہشات سے بچائے۔

رمضان کا وظیفہ

رمضان المبارک میں یہ کلمات جس قدر ہو سکے کثرت کے ساتھ پڑھنے چاہئیں۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدَ رَّسُوْلُ اللّٰہِ

اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ رِضَاکَ وَالْجَنَّۃَ

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ  مِنْ سَخَطِکَ وَ النَّارِ

شب قدر کی دعا

شب قدر جو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوتی ہے اس میں اس دعا کا خوب ذوق و شوق اور محبت و یقین کے ساتھ اہتمام کرنا چاہئے۔

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ

(ترجمہ) اے اللہ! آپ معاف فرمانے والے ہیں معافی کو پسند فرماتے ہیں پس مجھے معاف فرما دیجئے۔

اگر آپ اس دعا میں فَاعْفُ عَنِّیْ کے بجائے فَاعْفُ عَنَّا

پڑھیں گے تو آپ کی دعا میں سب مسلمان شامل ہو جائیں گے۔

افطار کے وقت

روزہ دار کو اللہ تعالیٰ ہر دن ایک ایسا وقت عطا فرماتا ہے جس میں دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں اور یہ وقت افطار کا ہے۔ اللہ کے دربار میں اس وقت کی کیفیت خصوصی مقبولیت رکھتی ہے۔ عین اس لمحے جب روزہ افطار کیا جاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئی دعائیں منقول ہیں۔

آخری رات اور دعاء

رمضان المبارک کی آخری رات میں دعائیں بہت زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ دوزخ سے اتنے آدمیوں کو نجات عطا فرماتا ہے جتنا کہ پورے رمضان میں عطا فرماتا ہے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ اختتام رمضان پر تمام شہروں میں ایک مراسلہ روانہ فرماتے جس میں لوگوں کو استغفار اور صدقہ فطر کی تاکید کی جاتی کیونکہ صدقہ فطر روزہ دار سے سرزد ہونے والی کوتاہیوں کا ازالہ کرتا ہے اور استغفار، روزہ میں واقع ہونے والی کمیوں کے ازالہ کا سبب ہے اور ساتھ یہ تلقین کرتے، لوگو تم بھی اپنے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کی طرح اپنے رب کے حضور ان کلمات سے معافی مانگو

رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ( الاعراف۳۲)

(ترجمہ ): اے ہمارے رب ہم نے اپنی ذاتوں پر ظلم کیا اور اب اگر آپ معاف و رحم نہیں فرمائیں گے تو ہم گھاٹے والے ہیں۔

اور جس طرح حضرت نوح علیہ السلام نے دعا کی تم بھی اس طرح مانگو

 وَاِلَّا تَغْفِرْلِیْ وَ تَرْحَمْنِیْ اَکُنْ مِّنَ الْخَاسِرِیْنَ ( ھود۷۴)

(ترجمہ): اگر مجھے معاف نہ فرماتے اور مجھ پر رحم نہ فرماتے تو میں خاسر ہوں۔

اسی طرح مانگو جیسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مانگا۔

وَالَّذِیْ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ( الشعراء ۲۸)

(ترجمہ): میں اس سے امید رکھتا ہوں وہ روز قیامت میرے گناہ معاف فرما دے گا

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے کلمات سے دعا کرو

رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفَسِیْ فَاغْفِرْلِیْ (القصص۶۱)

( ترجمہ): اے میرے رب میں نے اپنی ذات پر ظلم کیا تو مجھے معاف فرما دے۔

اور حضرت یونس علیہ السلام کی طرح دعا کرو۔

لَااِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ( الانبیاء ۷۸)

( ترجمہ )  تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تیری ذات پاک ہے میں ظلم کرنے والوں میں سے ہوں۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor