Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’زکوٰۃ ‘‘لازمی دیں مگر الرحمت کو (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 453 - Naveed Masood Hashmi - Zakat lazmi dein magar Al-rahmat ko

’’زکوٰۃ ‘‘لازمی دیں مگر الرحمت کو

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 453)

زکوٰۃ دینے والے تو زکوٰۃ دے ہی رہے ہیں۔۔۔ لیکن زکوٰۃ وصول کرنے والے ادارے، اور این جی اوز وغیرہ بھی دھڑا دھڑ میدان میں نکل آئے ہیں۔۔۔ اخبارات میں زکوٰۃ کی وصولی کے مہنگے ترین اشتہارات شائع کروائے جارہے ہیں۔۔۔پاکستان کے ہر شہر میں مختلف این جی اوز اور ٹرسٹ لوگوں کومتوجہ کرنے کیلئے۔۔۔ زکوٰۃ کے حصول کی خاطر لاکھوں کروڑوں روپے کی تشہیری مہم چلا رہے ہیں۔۔۔ کوئی ہسپتال تعمیر کر چکا ہے اور کوئی کرناچاہتا ہے، کوئی اجتماعی شادیاں کروانے کا دعویدار ہے تو کوئی فری ڈسپنسریز بنانا چاہتا ہے، کسی کا دعویٰ ہے کہ اس کی این جی او،اس کی فاؤنڈیشن مختلف شہروں میں ایمبولینس سروس شروع کرے گی تو کوئی قدرتی آفات کے متاثرین کی بحالی کیلئے زکوٰۃ لینے کا دعویدار ہے۔۔۔

میں زکوٰۃ کے حصول کیلئے رمضان المبارک میںسر دھڑ کی بازی لگانے والی کسی این جی او، کسی ادارے یا کسی فاؤنڈیشن کے ذمہ داران کی نیتوں پر شک نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔ نہ اس کا مجھے کوئی حق ہے۔۔۔لیکن میں یہ سوال ضرور اٹھانا چاہتا ہوں کہ۔۔۔ پاکستان میں ہر سال صاحب خیر حضرات کروڑوں، اربوں روپے کی زکوٰۃ نکالتے ہیں۔۔۔۔ جس میں سے غالب حصہ مختلف این جی اوز اور فاؤنڈیشنز کو بھی جاتا ہے۔۔۔ مگر اس کے باوجود پاکستان کی غریب عوام کی زندگیوں میں بہتری پیدا کیوں نہیں ہورہی؟ زکوٰۃ ادا کرنا تو عباداتِ خداوندی میں سے ایک محکم عبادت ہے۔۔۔ زکوٰۃ ادا کرنا اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم ترین رکن ہے۔۔۔’’ زکوٰۃ‘‘ کی فضیلت اور اہمیت پروردگار کے ہاں کیسی ہے۔۔۔ اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں صرف وہ مقامات جہاں نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا حکم ہے اسّی (80)سے زائد ہیں۔۔۔۔جبکہ وہ مقامات جہاں متفرق طور پر زکوٰۃ کا حکم ہے اس کے علاوہ ہیں۔۔۔یہ مشہور حدیث مبارک تو ہر مسلمان کو زبانی یاد ہو گی کہ جس میں نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے(۱) لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ کا اقرار(۲) نماز قائم کرنا(۳) زکوٰۃ ادا کرنا(۴) رمضان کے روزے رکھنا(۵) بیت اللہ کا حج کرنا۔ نماز اور زکوٰۃ کاباہمی اسقدر گہرا تعلق اور مضبوط واسطہ ہے کہ جو شخص نماز ادا کرتا ہو مگر زکوٰۃ نہ دیتا ہوتو اس کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتے جو زکوٰۃ ادا نہ کرے۔۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے (قرآن کریم میں) زکوٰۃ کو نماز کے ساتھ جمع کیا ہے۔۔۔ پس ان دونوں میں فرق نہ کرو‘‘(کنز العمال)

سب سے پہلے تو میرے سمیت وہ تمام مسلمان اگر صاحب استطاعت ہونے کے باوجود زکوٰۃ ادا نہیں کر رہے تو۔۔۔ ہم سب کو توبہ کرنی چاہئے اور ہر سال شرعی حکم کے مطابق زکوٰۃ کی ادائیگی کا معمول بنا لینا چاہئے۔۔۔ لیکن زکوٰۃ کی ادائیگی۔۔۔ کسی این جی او، ادارے یا فاؤنڈیشن کی تشہیری مہم سے متاثر ہو کر نہیں کرنی چاہئے۔۔۔ بلکہ زکوٰۃ کی وصولی کی تشہیری مہم پر لاکھوں کروڑوں روپے برباد کرنے والوں سے پہلے تو سوال ضرور کرنا چاہئے کہ تم مانگ تو زکوٰۃ رہے ہو۔۔۔ لیکن زکوٰۃ حاصل کرنے سے قبل ہی صرف تشہیری مہم پر تم نے جو لاکھوں روپے اڑائے یہ تمہارے پاس کہاں سے آئے ہیں؟

بدقسمتی سے جیسے گداگری ایک مکمل پیشہ بن چکا ہے۔۔۔ ایسے ہی زکوٰۃ کے حصول کو بھی بعض افراد نے باقاعدہ پیشے کا روپ دے دیا ہے۔۔۔ ایسے بہروپیوں کی ہر قیمت پر حوصلہ شکنی کرنا نہایت ضروری بلکہ لازمی ہے۔۔۔ وہ’’سیکولر‘‘ اور’’لبرل‘‘ لادین عناصر کہ جو جدوجہد تو’’مذہب‘‘ کو ریاست سے نکالنے کی کرتے ہیں، لیکن مذہب اسلام کی بتائی ہوئی عظیم عبادت زکوٰۃ کی وصولی کیلئے خم ٹھونک کر میدان میںاتر آتے ہیں۔۔۔

ایسے دوغلے سیکولرز اور لبرل عناصر کے پھیلائے ہوئے جال سے بھی بچنے کی سخت ضرورت ہے۔۔۔ اور پھر وہ عناصر کہ جو سیاسی فرقہ واریت اور انتشار پھیلاتے ہیں یا پھر مذہبی فرقہ واریت کو۔۔۔ پروان چڑھاتے ہیں۔۔۔’’زکوٰۃ‘‘ کی وصولی کو وہ بھی اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔۔۔ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا بھی زکوٰۃ ادا کرنے والوں کی لازمی ذمہ داری ہے۔۔۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کرنے والے مسلمان ذرا غور کریں کہ۔۔۔ کہیں وہ کسی کی فوٹوسیشن، یا مہنگی ترین تشہیری مہم سے متاثرہو کر اپنی زکوٰۃ تو ادا نہیں کر رہے؟ جو لوگ زکوٰۃ کی وصولی کے ادارے، فاؤنڈیشن یا این جی او بنا کر مسلمانوں سے زکوٰۃ حاصل کرنے کیلئے مختلف حیلے بہانے یا حربے استعمال کرتے ہیں۔۔۔ زکوٰۃ جیسی عظیم عبادت کو کرنے والے صاحب خیر حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اداروں، فاؤنڈیشنز اور این جی اوز کے عہدیداروں کے کردار و گفتار پر بھی نظر رکھیں۔۔۔

زکوٰۃ کوئی شغل میلہ نہیں بلکہ مقدس عبادت ہے۔۔۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم خود خالق کائنات نے دیا ہے۔۔۔ اور اس کے تمام اصول و ضوابط اور شرائط و قوانین بھی مذہب اسلام نے بتا رکھے ہیں۔۔۔ زکوٰۃ کی شرعی حیثیت اور شرعی احکامات جاننے کیلئے علماء کرام اور مفتیان عظام کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔۔۔

پاکستان وہ ملک ہے کہ جو مال داروں سے اٹا پڑا ہے۔۔۔ اگر یہ سب مالدار۔۔۔ ہر سال اپنی زکوٰۃ نکالنے والے بن جائیں تو یقین کر لیں کہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی غربت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔۔۔۔پاکستان میں نفاذ اسلام اس لئے بھی ضروری ہے کہ ۔۔۔ کہ اس کی برکت سے پھر اپنا مال کوئی ریاست میں چھپا نہیں سکتا۔۔۔ جب اسلام عملاً نافذ ہوگا تو صاحب استطاعت لوگ جوق درجوق اپنی مرضی سے زکوٰۃ ادا کریں گے۔۔۔

آج تو ٹیکس ادا کرو، ٹیکس ادا کرو کی رٹ لگی ہوئی ہے۔۔۔ عوام پر ٹیکسوں کے پہاڑ گرانے کے باوجود معمولات سدھرنے میں ہی نہیں آرہے ۔۔۔ لیکن جب وزیراعظم سے لے کر، وفاقی وزیروں اور مشیروں تک، سپیکرز قومی و صوبائی اسمبلیوں سے لے کر۔۔۔ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوںتک۔۔۔بڑے بڑے تجزیہ نگاروں، کالم نگاروں، دانشوروں اور اینکرز سے لے کر۔۔۔ عام رپورٹروںتک۔۔۔۔ ملک کے صدر سے لے کر سیاست دانوں تک۔۔۔ چیف آف آرمی سٹاف سے لے کر تمام جرنیلوں اور کرنیلوں تک۔۔۔ جس جس پر زکوٰۃ فرض ہے۔۔ وہ اپنی زکوٰۃٰ کو بروقت ادا کرنے والے بن جائیں تو خوش حالی پاکستان کا مقدر بن جائے گی۔۔۔

الرحمت ٹرسٹ جید علماء کرام کی نگرانی میں۔۔۔ پاکستانی قوم کے لٹے پٹے افراد کے علاوہ غریبوں، مسکینوں،یتیموںاوربیوگان کے ساتھ ساتھ۔۔۔ مساجد اور مدارس کی تعمیر کے علاوہ دین اسلام کی سربلندی کیلئے۔۔۔ بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔۔۔ الرحمت ٹرسٹ کے وہ قیمتی شعبے کہ جن پر ایک منظم انداز میں تسلسل کے ساتھ کام جاری ہے۔۔۔ درج ذیل ہیں۔۔۔

(۱) تعمیر مساجد(۲) تزکیہ نفس(۳) شہداء وغازیان کے گھروں کی کفالت(۴) اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطرگرفتار ہو کر ہندوستان اور پاکستان کی جیلوں میں قید اسیران کی ہرممکن خدمت(۵)احیاء سنت(۶) بنیادی تعلیمی نصاب(۶) تبلیغ دین(۷) اسلامی میڈیا(۸) دینی مدارس۔۔۔

ان شعبوں کے علاوہ پاکستانی عوام پر آنے والی قدرتی آفات مثلا8اکتوبر کو بالاکوٹ اور کشمیر میں آنے والا تباہ کن زلزلہ ہو، سندھ میں سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہ کاریاں ہوں یا پھر شمالی وزیرستان میں نقل مکانی کرکے آنے والے7لاکھ پاکستانی ہوں۔۔۔ الرحمت ٹرسٹ کے جانباز ہر نازک موقع پر اپنے جان و مال کے ساتھ متاثرین کی خدمت پر مامور رہے۔۔۔ اور اب تک مہاجرین شمالی وزیرستان کی خدمت پر ڈٹے ہوئے ہیں۔۔۔

شمالی وزیرستان کے پہاڑوں اور شہروں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں کے ذریعے ٹنوں وزنی بم پھینک کر’’امن‘‘ کی جو فصل بوئی جارہی ہے۔۔۔اس پر میاں نواز شریف کی حکومت یقیناً مبارک باد کی مستحق ہے۔۔۔ پاکستان کے سیکولر دانش فروش، فرقہ پرست عناصر۔۔۔ جس طرح سے شمالی وزیرستان آپریشن پرخوشیوں کے شادیانے بجارہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ اس خوفناک آپریشن کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی ہمیشہ کیلئے دم توڑ جائے گی۔۔۔

ممکن ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کا یہ نسخہ انہوں نے ’’حکیم جارج ڈبلیو بش‘‘ سے حاصل کیا ہو۔۔۔ لیکن میرا ان سے صرف اتنا کہنا ہے کہ جارج ڈبلیو بش یا اس کا جانشین’’کالا اوبامہ‘‘ اگر کامیاب’’حکیم‘‘ ہوتا تو افغانستان میں اس کا یہ نسخہ کامیاب ضرور ہو جاتا ۔۔۔ امریکہ اور سیکولر قوتوں کے دباؤ پر کئے جانے والے شمالی وزیرستان آپریشن کیوجہ سے 7لاکھ سے زائد قبائلی مسلمان بے گھر ہو چکے ہیں۔۔۔

الرحمت ٹرسٹ کے نوجوان اس موقع پر بھی اپنے قبائلی بھائیوں اور بہنوں کی خدمت اورمدد کیلئے بنوں میں کیمپ لگائے بیٹھے ہیں۔۔۔یہ نہایت خوش آئند بات ہے ۔۔۔ یعنی الرحمت ٹرسٹ کیوجہ سے تو الحمدللہ اس ملک اور قوم پر کبھی برائی نہیں آئی۔۔۔ لیکن جہاد اور دین دشمنوں کیو جہ سے اس ملک اور قوم پر جب کوئی مصیبت ٹوٹی تو الرحمت ٹرسٹ کے جوان متاثرین کی ہر ممکن مدد کیلئے سینہ سپر ہو گئے۔۔۔ پاکستان کے اہل خیر حضرات کو چاہئے کہ وہ الرحمت ٹرسٹ جیسے پاکستانی اداروں کے ساتھ دل کھول کر تعاون کیا کریں۔۔۔ اپنی زکوٰۃ، صدقات اور عطیات الرحمت ٹرسٹ تک پہنچائیں، تاکہ آپ کی دی ہوئی زکوٰۃ و صدقات بروقت اور صیح جگہ پر استعمال ہو سکے۔۔۔

خوشی کا مقام یہ ہے کہ الرحمت ٹرسٹ نے زکوٰۃ، صدقات جمع کرنے کیلئے کبھی قومی اخبارات یا نجی ٹی وی چینلز پر کبھی مہنگے ترین اشتہارات نہیں دیئے۔۔۔ اور نہ ہی کبھی کروڑوں روپے کی تشہیری مہم لانچ کرکے زکوٰۃ جمع کرنے کی کوشش کی۔۔۔یہ پاکستانی قوم پر اللہ کا انعام نہیں تو اورکیا ہے؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor