Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

یہودیوں کا شکار کیجئے! (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 454 - Naveed Masood Hashmi - Yahoodion ka shikar kijiye

یہودیوں کا شکار کیجئے!

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 454)

’’صہیونیوں کا صفایا کر دو...اس کے فوجیوں اور فوجی مراکز کو جلا کر خاکستر کر دو... لال بیگوں کے گھر یعنی اسرائیل کو تباہ کر دو‘‘... یہ الفاظ اس جنگی ترانے کے ہیں کہ جو فلسطینی مجاہدین کی تنظیم ’’حماس‘‘ کی القسام بریگیڈ کی طرف سے عبرانی زبان میں جاری کیا گیا ہے... ’’غزہ‘‘ گزشتہ سات دنوں سے اسرائیلی فوج کے دہشت گردوں کے ہاتھوں فلسطینی مسلمانوں کی قتل گاہ میں تبدیل ہوچکا ہے۔

اسرائیلی جنگی طیاروں کے بعد اسرائیلی بحریہ نے بھی غزہ پر بمباری شروع کر دی ہے... پچھلے 6 دنوں میں 170سے زائدبے گناہ فلسطینی شہید جبکہ بارہ سو کے لگ بھگ شدید زخمی کئے جاچکے ہیں... گو کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے جانباز اسرائیلی فوج کے سامنے بھرپور مزاحمت کر رہے ہیں... اور گزشتہ روز بھی القسام بریگیڈ نے غزہ پر اسرائیلی کمانڈوز کا زمینی حملہ نہ صرف یہ کہ مکمل طور پر ناکام بنایا... بلکہ اسرائیلی نیوی کے کمانڈوز کو سمندر کے راستے غزہ میں داخل ہی نہیں ہونے دیا... اور سخت مزاحمت کرکے یہودی فورسز کو ذلت آمیز انداز میں بھاگنے پر مجبور کر دیا... اسرائیل کے یہودی‘ فلسطینیوں پر خوفناک بمباری کرکے جس طرح سے سویلین آبادی کو شہید کر رہے ہیں... اگر اس سلسلے کو جلد نہ روکا گیا تو... وہاں شہداء کی تعداد ہزاروں میں پہنچ جائے گی... ’’لال بیگوں‘‘ کا ملک اسرائیل تو نہتے اور بے گناہ فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے... لیکن درندہ صفت یہودیوں کو اس ظلم عظیم سے روکنے والا دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے۔

50سے زائد مسلمان مملکتوں کے حکمران تو جیسے بھنگ پی کر ’’شرم‘‘ کے دریا میں ڈوب چکے ہیں... اسی لئے تو اسرائیلی وحشیانہ مظالم کے سامنے ان میں سے کوئی ایک بھی کھڑا ہونے کو تیار نہیں ہے... ویسے بھی مردہ ضمیروں سے شکوے کرنا بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہوا کرتا ہے... نہ اسرائیل نیا ہے اور نہ ہی فلسطینی مسلمانوں پر اس کے بہیمانہ مظالم کوئی نئی بات ہے... بلکہ ارض مقدس فلسطین 66برسوں سے اسرائیل کی ننگی جارحیت کی چشم دید گواہ ہے... روتی ہوئی مائوں کے سامنے ان کے معصوم بچوں کو ذبح کر دینا‘ بہنوں کی دیکھتی آنکھوں کے سامنے ان کے جوان بھائیوں کو خاک و خون میں تڑپا ڈالنا‘ بیویوں کے سامنے ان کے شوہروں کو تہہ تیغ کر ڈالنا ‘یہ مکار یہودیوں کا پرانا شیوہ ہے... صرف سات دنوں میں پونے دو سو کے لگ بھگ فلسطینی مسلمانوں کو ان یہودی بدمعاشوں نے شہید کر ڈالا کہ جن یہودیوں کو خوش کرنے کے لئے ... ہمارے بعض دانش فروش‘ بعض قلم فروش اور بعض این جی اوز والے دن رات محنت کرنے میں مصروف رہتے ہیں... جن یہودیوں کے روشن خیالی کے مخصوص ایجنڈے کو یہاں پروان چڑھانے کے لئے ... رسوائے زمانہ پرویز مشرف نے ریاستی طاقت کو استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں برتا تھا... پاکستان میں گھسے ہوئے اسرائیل کے وہ حامی مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں کہ جنہیں امریکیوں اور یہودیوں کے خوفناک مظالم کے ردعمل میں جہادی پرچم تھامنے والے مجاہدین تو دہشت گرد نظر آتے ہیں... مگر امریکہ اور اسرائیل کی غلامی کرنا وہ اپنے لئے راہ نجات سمجھتے ہیں... امریکہ اور اسرائیل کو راضی کرنے کے لئے اپنے قلم‘ ضمیر اور خمیر بیچنے والے گمراہ ٹولے سے کوئی کہے کہ تم ان دشمنان اسلام کے سامنے جس قدر مرضی جھک جائو... یہاں تک کہ ان کے سامنے سجدہ ریز بھی ہو جائو یہ تب بھی تم سے راضی نہیں ہوں گے کیونکہ قرآن مقدس میں ارشاد خداوندی ہے کہ ’’اور ہرگز تم سے راضی نہ ہوں گے... یہودی اور نصاریٰ جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرنے لگو‘‘... مسلمانوں میں شامل رہ کر یہود و نصاریٰ کی غلامی کرنے والا... سیکولر گروہ نہ صرف  پاکستان بلکہ امت مسلمہ کا بھی غدار ہے۔

کیونکہ اسی گمراہ گروہ کی وجہ سے مسلمان کمزور اور یہود و نصاریٰ طاقت پکڑتے ہیں... جب سپرپاور امریکہ‘ اقوام متحدہ،او آئی سی ‘ عرب لیگ اور 50اسلامی ملکوں کے غلام حکمرانوں کی دیکھتی آنکھوں کے سامنے ’’غزہ‘‘ میں بسنے والے مسلمان بچوں ‘ بوڑھوں اور عورتوں کو ... گولیوں اور بموں سے چھلنی کیا جارہا ہو... لیکن یہ سارے مل کر بھی غزہ کے مظلوم انسانوں کو یہودی مظالم سے بچا نہ پائیں... تو پھر مجھے یہ لکھتے ہوئے کوئی ڈر اور خوف نہیں ہے.. کہ اس دنیا کی قیادت مردہ ضمیروں اور عقل و دانش کے اعتبار سے انتہائی متعصب قسم کے ’’بونوں‘‘ کے ہتھے چڑھ چکی ہے... نفرت و تکبر سے بھرے ہوئے ان ’’بونوں‘‘ سے جان چھڑانے کے لئے مسلمان نوجوانوں کے سامنے ’’جہاد‘‘ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

’’جہاد‘‘ جیسی مقدس عبادت کا نام سن کر کانپنے والا گروہ ِمنافقاں... ذرا امت مسلمہ کو سمجھائے تو سہی کہ آخر اسرائیل کی دہشت گردی سے فلسطین کے معصوم بچوں‘ عورتوں اور بوڑھوں کو بچانے کے لئے ’’جہاد‘‘ کے علاوہ اور کون سا راستہ باقی بچتا ہے؟ قرآن پاک میں اللہ رب العزت کرۂ ارض پر بسنے والے ہر کلمہ گو مسلمان سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اور تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم اللہ کے راستے میں قتال کیوں نہیں کرتے ان کمزور اور ناتواں مردوں‘ عورتوں اور بچوں کی خاطر جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی میں سے نکال جہاں کے رہنے والے بڑے ظالم ہیں... اور تو اپنے ہاں سے ہمارے لئے کوئی چارہ گر بنا دے... اور ہمارے لئے کوئی مددگار مقرر فرما۔‘‘ (سورہ النساء آیت نمبر75)

منافقین کا وہ گروہ کہ جو امریکہ کی ہاں میں ہاں ملا کر... جہاد مقدس کی عبادت کو دہشت گردی سے تعبیر کرتا ہے‘ امریکہ اور اسرائیل کے دبائو پر قرآن مقدس میں موجود پانچ سو بیاسی آیات جہاد کا انکار کرتا ہے... جہاد کو دہشت گردی اور مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتا... وہ قرآن پاک کے اس واضح حکم کو کس زاوئیے سے دیکھتا ہے؟

سیکولر دانش فروشوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا جواب ضرور عنایت کریں...امت مسلمہ کو اب یہ کھلے دل سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ عرب کے ہوں یا عجم کے مسلمان مملکتوں کے حکمرانوں میں امریکہ کے سامنے دم مارنے کی بھی جرات نہیں ہے... وہ امارت اسلامیہ افغانستان کے حکمران ملا محمد عمر ہی تھے کہ جنہوں نے ایک غریب الدیار عرب مہمان شیخ اسامہ بن لادن شہید ... کی حفاظت کے لئے سپرپاور امریکہ سے ٹکر لینے کی جرات کی تھی... امیرالمومنین ملا محمد عمر نے حکومت کی قربانی تو دے ڈالی... لیکن شیخ اسامہ شہید کو امریکہ کے حوالے نہ کرکے یہ بات ثابت کردی کہ ... سیکولر پرویز مشرف سے مذہب پسند ملا محمد عمر کروڑ درجے بہتر ہے کہ جو انسانوں کو فروخت کرکے ڈالر کمانے پر یقین نہیں رکھتا۔

پوری سیکولر‘ یہودی‘ عیسائی اور ہندو دنیا گھوم جائو...تمہیں انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانے والا ملا عمر جیسا کوئی دوسرا چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا... جہاد اور مجاہدین کے دشمن کافر ہوں یا منافق... ان میں کئی باتیں مشترک ہیں... مثلاً یہ دونوں جھوٹ بولنے اور جھوٹے الزامات لگانے کے ماہر ہوتے ہیں... امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت لاکھوں مسلمانوں کو مارنے کے باوجود ان کے ہیرو اور مظالم کا نشانہ بننے والے مسلمان ان کے نزدیک دہشت گرد ہوتے ہیں۔ کافر اور منافق‘ جہاد و قتال والی عبادت سے مستقل خوفزدہ رہتے ہیں، مسلمانوں کی عبادات میں مداخلت کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں‘ دیکھ لیجئے... اگر کوئی جہادی تنظیم چند امریکیوں یا اسرائیلیوں کو مار دیتی تو دنیا بھر کا میڈیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لٹھ اُٹھا لیتا... پاکستانی میڈیا تو جہاد اور مجاہدین کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں یہود و نصاری کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا۔

لیکن غزہ کے 170مسلمان اسرائیلی یہودیوں نے مار ڈالے... غزہ کے 1200کے لگ بھگ مسلمان شدید زخموں سے چور چور ہیں لیکن عالمی میڈیا کو جیسے سانپ سونگھ چکا ہے کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا کہ اسرائیلی یہودی بے گناہ مسلمانوں کو مارنے کی تربیت کہاں سے لیتے ہیں؟

ان یہودیوں کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کون سکھاتا ہے؟ کیا اس نصاب تعلیم کو تبدیل نہیں کر دینا چاہیے کہ جس نصاب تعلیم کو پڑھ کر اسرائیل کے یہودی دہشت گرد اور انتہا پسند بن رہے ہیں؟ بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے کی وجہ سے کیا امریکہ سمیت دیگر یورپی ممالک کو اسرائیل کا بائیکاٹ نہیں کر دینا چاہیے؟ لیکن ایسا کرے گا کوئی نہیں... یہاں برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر... خون بھی مسلمانوں کا بہہ رہا ہے اور دہشت گرد بھی مسلمانوں کو ہی قرار دیا جارہا ہے۔

لاشیں بھی مسلمانوں کی گرتی ہیں اور انتہا پسند بھی مسلمانوں کو قرار دیا جارہا ہے… پس اے مسلمانو! ... یہ وقت آنسو بہانے کا نہیں ہے اپنی بے چارگی کے ماتم کرنے کا نہیں ہے بلکہ یہ وقت ہے منظم ہو کر جہاد و قتال والی عبادت پہ عمل پیرا ہونے کا... اسرائیل کے یہودیوں کو فاتح بیت المقدس حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ کے سچے پیروکارں کا  انتظار ہے‘ آئیے جہاد کی طرف اور ... شکار کیجئے اسرائیلی یہودیوں کا!

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor