Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مرحبا بالشھادۃ (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 455 - Naveed Masood Hashmi - Marhaba Bil Shahadah

مرحبا بالشھادۃ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 455)

’’غزہ‘‘ کے مسلمان بچوں ‘ عورتوں ‘ بوڑھوں اور جوانوں کا قاتل کیا صرف تنہا اسرائیل ہے یاپھر امریکہ سمیت دیگر عالمی غنڈے بھی اس قتل عام میں برابر کے شریک ہیں؟ زمینی حالات کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی دہشت گردی کو امریکہ کے صدر اوبامہ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے … سوال یہ ہے کہ غزہ میں سینکڑوں مسلمان بچوں  اور عورتوں کو قتل کروانے والا امریکہ کیا کبھی پاکستان یا امت مسلمہ کا خیر خواہ ہوسکتاہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر پاکستان کے جو سیاست دان ‘ حکمران اور اسٹیبلشمنٹ … امریکہ سے وفاداری نبھانے کی خاطر پاکستان کو امریکی جنگ کا حصہ بنائے ہوئے ہیں … ان کے اس غلامانہ طرز عمل کی وجہ سے  ملک میں بڑھتے ہوئے خطرات کی ذمہ داری کیس پر عائد ہوتی ہے؟

کچھ انگلش زدہ لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ موجودہ دور بڑا جدید دور ہے … یہ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کا دور ہے … اس جدید دور میں ساری دنیا کی دیکھتی آنکھوں کے سامنے اسرائیلی بدمعاش غزہ کے معصوم بچوں ‘ بچیوں اور عوام کا جس طرح سے قتل عام کر رہے ہیں … امریکہ ‘ اقوام متحدہ اور عرب لیگ سمیت ساری دنیا اسرائیلی درندگی کے ان خوفنا ک مناظر کو اپنی آنکھوں  سے دیکھنے کے باوجود چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہے۔

کیا یہ اس بات کا علامت نہیں ہے کہ یہ جدید دور دراصل پتھر کے زمانے سے بھی بدتر ہے … یہ وہ دور ہے کہ جب ’’درندے‘‘ انسانوں کا بہروپ بدل کر حکومتوں میں آگئے ہیں … یہ وہ دور ہے کہ جب وحشی جانوروں سے بھی بدتر لوگ انسانیت کے نام پر ہی ’’انسانیت‘‘ کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں … کیا غزہ میں بے گناہ مسلمانوں کی بہنے والی خو ن کی ندیاں یہ بات ثابت کرنے کیلئے کافی نہیں تھیں … کہ انسانیت کے دشمن عالمی قیادت کے دعویدار بن بیٹھے ہیں … یہ ہے امریکہ کہ جسے افغانستان کے گلی کوچوں میں غربت کے مارے ہوئے افغان تو دہشت گرد نظر آتے ہیں … مگر غزہ میں بچوں اورخواتین کا قتل عام کرنے والے یہودی امن پسند لگتے ہیں۔

یہ ہے وہ امریکہ کہ جسے پاکستان  کے مدارس کی چٹائیوں پر بیٹھ کر قرآن و حدیث کے علوم حاصل کرنے والے غریب طلباء تو دہشت گرد لگتے ہیں مگر بے گناہ انسانوں کو فضائوں سے بازو برسا کر مارنے والے یہودی معصوم اور بے گناہ نظر آتے ہیں … یعنی ہر روز  غزہ کے مسلمانوں کو تھوک کے حساب سے قتل عام کیا جارہا ہے کبھی اسی مسلمان ‘ کبھی 97 مسلمان اور کبھی 137 فلسطینی مسلمان یومیہ کی بنیاد پر مارے جارہے ہیں … مگر امریکی صدر اوبامہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی … پاکستان کے حکمرانوں سمیت دنیا بھر کے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے چہروںپر شرمندگی کے آثار تک پیدا نہیں ہو رہے۔

امریکہ نے اپنا سارا اسلحہ ‘ اپنے سارے ڈرونز لگ یوں رہا ہے کہ جیسے صرف اور صرف مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کیلئے ہی بنا رکھا ہے …  میں اقتدار کی بھوک میں پاگل ہو جانے والے سیاست دانوں اور اقتدار کے نشے میں بدمست ہو جانے والے حکمرانوں سے نہیں بلکہ پاکستان کے عوام سے مخاطب ہوں … کیا اب بھی آنکھیں کھولنے کا وقت نہیں آیا؟ کیا اب بھی پاکستان کے عوام کو گمراہ کرنے والے … امریکی پٹاری کے دانش فروشوں ‘ قلم فروشوں اور تجزیہ نگاروں سے جان چھڑانے کا وقت نہیں آیا؟

میرے بھائی کا لہو بہانے والا ظالم میرا ہمدرد اور خیر خواہ کیسے ہوسکتا ہے؟ عراق سے لے کر مصر اور لیبیا ‘ شام اور افغانستان تک امریکی ظلم و وحشت کی مثالیں بکھری پڑی ہے ‘ واشنگٹن اور نیویارک دنیا بھر کے انسانوں کے لئے خوف اور خطرے کی علامت بن چکے ہیں … امریکہ نہ کبھی پاکستان کا دوست ہوسکتاہے ‘ نہ سعودی عرب یا کسی بھی دوسرے ملک کا … ’’غزہ‘‘ میں مسلمان بستے ہیں … غزہ میں انسان بستے ہیں … غزہ میں اہل ایمان بستے ہیں … غزہ میں حماس والے رہتے ہیں … غزہ والوں پر بھی ماہ رمضان آیا ہے۔

خون میں ڈوبا ہوا ’’رمضان‘‘ … لاشوں سے اٹا ہوا ’’رمضان‘‘ … اللہ کا رمضان دیکھ رہا ہے کہ فلسطینی مائوں کی گود میں … ان کے شیر خوار بچے دم توڑ رہے ہیں … رمضان المبارک دیکھ رہا ہے کہ غزہ کی بہنیں اپنے بھائیوںکی خون آلود لاشوں سے لپٹی ہوئی کسی سلطان صلاح الدین ایوبی کی راہ تک رہی ہیں۔

’’رمضان المبارک‘‘ فلسطینی بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں دیکھ کر رو رہا ہے … مسلمانو! ذرا سوچہ تو سہی … اگر صحابہ کرامؓ کے دور میں بے گناہ مسلمانوں کو یہودی اس طرح  ظلم و ستم کا نشانہ بناتے … تو تب صحابہ کرامؓ کا ردعمل کیا ہوتا …؟ اگر صلاح الدین ایوبی کے دو میں یہ سب کچھ ہو رہا ہوتا تو تب ان کا ردعمل کیا ہوتا؟ مسلمانو! ہم تو وہ امت ہیں کہ جس ’’امت‘‘ کے ہادی برحق نبی مکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں … فلسطین کے مسلمان ہمارے وجود کا حصہ ہیں ‘ فلسطین کے بچے ‘ بوڑھے اور مائیں ہمارے وجود کا حصہ ہیں … اسرائیل کے غلیظ یہودی ہمارے وجود پر بار بار حملے کررہے ہیں … غزہ میں دم توڑتے ہوئے بچے ‘ بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں ‘ سڑکوںپر بکھرے ہوئے عورتوں اور مردوں کے لاشے … بموں سے تباہ حال غزہ کے سکول ‘ کالج ‘ مسجدیں اور ہسپتال … ’’غزہ‘‘ کی روتی ہوی مائیں ‘ بھائیوں کی لاشوں پر تڑپتی ہوئی بہنیں ‘ امت مسلمہ کو پکار رہی ہیں … عالمی ضمیر مرچکا … مسلمان حکمرانوں نے اپنی غیرت و حمیت کو امریکہ کے پاس گروی رکھ  ڈالا … نہ عرب لیگ ‘ نہ او آئی سی … تم پاکستان کا حال ہی دیکھ لو … جو سیاسی جماعتیں ‘ سول سوسائٹی اور میڈیا ’’ملالہ‘‘ کے نام پر متحد تھے … وہ عمران خان ‘ اسفند یار ولی‘ الطاف حسین ‘ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف غزہ میں شہید ہونے والی سینکڑوں مسلمان بچیوںکے حق کیلئے مل بیٹھنا تو درکنار مضبوط آواز اٹھانے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔

سچی بات تو یہ ہے کہ امریکہ اور یہودیوں کو ناراض کرکے … اقتدار کی غلا م گردشوں تک پہنچنا بھی بڑے جان جوکھوں کی بات ہے … یہ سیاست دان جانتے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف لاکھوں کے جلوس نکالنے سے امریکہ ناراض ہو جائے گا … اور امریکہ کی ناراضگی کا مطلب ہے اقتدار سے دوری … جو یہ کسی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتے … مجھے غزہ کے مظلوم   مسلمانوں کو خراج تحسین بھی پیش کرنا ہے … ’’اہل غزہ‘‘ واقعی اہل عزیمت نکلے … انہوں نے جرات و بہادری اور عزیمت کی ایسی ایسی لازوال مثالیں قائم کیں کہ تاقیامت ہر سچا مسلمان جس پر انہیں سلام پیش کرتا رہے گا۔

مجھے غزہ کی اس سترہ برس کی بیٹی کو بھی سلام عقیدت پیش کرنا ہے کہ جس کا نام ’’وھبتہ‘‘ ہے … اور یہ غزہ  کے ایک کالج کی طالبہ ہے … یہودی درندوں نے جب اس کے کالج پر بم برسائے … تو اس عظیم طالبہ نے اس لمحے اپنا آخری پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

’’مرحبا بالشہادۃ (شہادت کو خوش آمدید)

غزہ کی اس سترہ سالہ شہید بیٹی کو ہر غیرت مند مسلمان کا سلام پہنچے … پاکستان کے مسلمانو! ’’غزہ‘‘ کے مظلوم مسلمانوں کی مدد اور نصرت کیلئے کچھ تو کرو … کچھ تو کرو ‘ کچھ تو سوچو۔اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor