Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

غلامانہ آزادی؟ (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 457 - Naveed Masood Hashmi - Ghulamana Aazadi

غلامانہ آزادی؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 457)

14اگست1947ء کو توہندوستان کے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان کو آزاد کروایا تھا۔۔۔ لیکن بعد میں آنے والے مال و دولت کے حریص حکمرانوں اور سیاست دانوں نے پاکستان کو ایک دفعہ پھر غیروں کی غلامی میں دے دیا۔۔۔ 14اگست1947ئ؁ کو تحریک آزادی کا سب سے مقبول نعرہ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ ‘‘ تھا۔۔۔ لیکن بعد میں آنے والوں نے اسلامی مقدس نظام کے نفاذ سے محروم رکھا۔۔۔

14اگست1947ئ؁ کو ماؤں نے اپنے بیٹے، بہنوں نے اپنے بھائی، بیویوں نے اپنے شوہر، بوڑھے باپوں نے اپنے لخت جگر۔۔۔ اس لئے قربان کئے تھے کہ ہم پاکستان کو حاصل کر کے وہاں اسلامی نظام نافذ کریں گے۔۔۔ جب پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہو گا تو پھر اس سر زمین پرکوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔۔۔ بیٹیوں کی عصمتیں،ماؤں کی عزتیں محفوظ ہوں گی، اسلامی نظام کے نفاذ کی برکت سے پاکستانی معاشرے میں حیاء اور غیرت کا دور دورہ ہو گا، یہاں کوئی سرمایہ دار ہوگا نہ جاگیردار، کوئی وڈیرا ہو گا نہ ڈان۔۔۔ بلکہ نفاذِ اسلام کی برکت سے امیر ہو یا غریب، سرمایہ دار ہو یا رئیس، حکمران ہو یا سیاست دان، صحافی ہو یا وکیل، یہاں سب برابر ہوں گے۔۔۔

سب ایک دوسرے کی عزت کرنے والے ہوں گے۔۔۔ ایک دوسرے پر شفقت کرنے والے بن جائیں گے۔۔۔14اگست1947ء کے لاکھوں شہدائِ پاکستان نے اپنی جانوں پر کھیل کر اس وطن کو اس لئے بنایا تھا کہ پاکستان میں مسلمان سکون اور اطمینان کی زندگی جی سکیں، یہاں کسی ہندو کو جرأت نہ ہوگی کہ وہ مسلمانوں کی مساجد کو مندروں میں تبدیل کر سکے، یہاں سکھوں یا انگریزوں کو یہ جرأت نہ ہو گی کہ وہ مسلمانوں کی مساجد کو۔۔۔ گردواروں یا گرجا گھروں میں تبدیل کر سکیں۔۔۔

یہاں قتل و غارت گری ہوگی، دہشت گردی ہوگی اور نہ ہی سیاسی اور فرقہ وارانہ انتشار ہوگا۔۔۔ 14اگست 1947ئ؁ میں پاکستان بنانے کی خاطر اپنی جان و مال کی قربانیاں پیش کرنے والے لاکھوں مسلمانوں نے پاکستان اس لئے حاصل کیا تھا کہ یہاں کی عدالتوں میں انصاف ہوگا۔۔۔ تھانوں اور کچہریوں میں مظلوموں کی داد رسی ہوگی، کوئی شخص کسی یتیم یا بیوہ کا حق کھا نہ سکے گا۔۔۔ اور اگر کسی ظالم نے کسی یتیم اور بیوہ کا حق ڈکارنے کی کوشش کی تو قانون کا آہنی ہاتھ اسی وقت حرکت میں آکر اسے قرار واقعی سزا دے گا۔۔۔

14اگست1947ئ؁ کو پاکستان حاصل کرتے ہوئے۔۔۔ پاکستان کی خاطر جانیں قربان کرنے والے نہ لبرل تھے، نہ سیکولر تھے، نہ سندھی تھے ، نہ پنجابی تھے، نہ بلوچی تھے اور نہ پٹھان۔۔۔14اگست1947ئ؁ کوپاکستان کی خاطر جن لاکھوں شہیدوں نے شہادتوں کے جام پیئے تھے ان میں سے نہ کوئی بریلوی تھا، نہ دیوبندی تھا، نہ اہلحدیث تھا اور نہ ہی رافضی، بلکہ پاکستان کی بنیادوں کو جن لاکھوں مسلمانوں نے اپنے مقدس لہو سے مضبوط کیا تھا۔۔۔ وہ سب کے سب مسلمان تھے۔۔۔ خالص پکے اور سچے مسلمان۔۔۔

14اگست1947ئ؁ سے لے کر14 اگست 2014ئ؁ تک، ان67برسوں میں بنانے والوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت تو بنا لیا۔۔۔ مگر ساتھ ہی پاکستانی قوم سے، آزادی کی روح چھین کر اس عظیم قوم کو امریکہ کی غلامی میں دے ڈالا۔۔۔

چھیاسٹھ برس قبل14اگست1947ئ؁ کو پاکستان حاصل کرنے والے ، پاکستان بنانے والے صرف مسلمان تھے، فقط’’مسلمان‘‘۔۔۔ لیکن چھیاسٹھ برس بعد 14اگست2014ئ؁ کو اگر پاکستان کے حالات پر کوئی نظر دوڑائے۔۔۔ تو یہاں کوئی پنجابی ہے، کوئی بریلوی ہے، کوئی سندھی ہے، کوئی بلوچی ہے، کوئی سنی ہے، کوئی رافضی ہے اور کوئی پٹھان۔۔۔

ہر طرف گروہی اور فرقہ وارانہ آگ بھڑک رہی ہے۔۔۔ قومیت اور صوبائیت کے سانپ پھن اٹھائے ہوئے پوری قوم کو ڈسنے پر آمادہ نظر آرہے ہیں،پاکستان سے مذہب اسلام کو باہر نکالنے کیلئے۔۔۔ پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ بنانے کیلئے، یہاں کے سیاست دانوں، حکمرانوں، دانش فروشوں اور اسٹبلیشمنٹ نے ایسی ایسی سازشیں کیں۔۔۔کہ جنہیں اگر کوئی سن لے تو سر پکڑ کر بیٹھنے پر مجبور ہو جائے۔۔۔

ایک خوفناک سازش کے تحت پاکستان کو چھیاسٹھ برسوں سے نفاذ اسلام کی دولت سے محروم رکھا جارہا ہے۔۔۔ یہاں کے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے محض ڈالروں کی خاطر۔۔۔ پاکستانی قوم کے اجتماعی ضمیر کو فروخت کرنے سے بھی دریغ نہ کیا، محض امریکی سپورٹ حاصل کرکے اپنے اقتدار کو بچانے کی خاطر پاکستانی قوم کے نظریات اور عقائد کے خلاف یہود و نصاریٰ کے ایجنڈے کو نہ صرف یہ کہ قبول کیا۔۔۔ بلکہ اس ایجنڈے کو مسلمانوں پر ریاست کے ڈنڈے کے زور پر نافذ کرنے کی کوششیں بھی کیں۔۔۔ پاکستان بنایا تھا مسلمانوں نے اور بنایا اس لئے تھا کہ یہاں اسلامی نظام نافذ ہوگا۔۔۔ لیکن چھیاسٹھ برس گزر چکے ابھی تک پاکستان کی سرزمین نفاذ اسلام کی خوشبو سے محروم ہے، میرے نزدیک جب تک پاکستان میں اسلامی نظام مکمل طور پر نافذ کر دیا نہیں جاتا۔۔۔ اس وقت تک ہمیں یوم آزادی منانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔۔۔

پاکستان حقیقی معنوں میں اس وقت آزاد سمجھا جائے گا کہ جب یہاں کی پارلیمنٹ اور سینٹ، یہاں کا ایوان صدر، ایوان وزیراعظم اور سپریم کورٹ، یہاں کی سرکای ایجنسیاں اور سرکاری ادارے۔۔۔عملاً نفاذ اسلام کا مزہ چکھ نہیں لیتے۔۔۔14اگست1947ئ؁ کے لاکھوں شہیدوں نے ہندوؤں اور انگریزوں کے خون آلود پنجوں سے پاکستان اس لئے چھین کر حاصل نہیں کیا تھا۔۔۔ کہ بعد میں آنے والے لادین عناصر اس پاکستان کو سیکولر بنانے کی کوششیں کریں، جو شخص، گروہ یا جماعت، پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتی ہے۔۔۔ میرے نزدیک وہ 14اگست کے لاکھوں شہیدوں کے خون سے غداری کی مرتکب ہے۔۔۔ اور شہیدوں کے خون سے غداری کرنے والوں کو نہ یہ ملک قبول کرے گا اور نہ ہی پاکستانی قوم انہیں معاف کرے گی۔۔۔

14اگست1947ئ؁ کو مسلمان ماؤں نے اپنے بچے اس لئے قربان نہیں کئے تھے کہ دجالی میڈیا اپنے دجل اور فریب سے پاکستانی قوم میں فحاشی اور عریانی کو فروغ دے کر انہیں مادر پدر آزادی کے راستوں پر چلانے کی کوشش کرے،14اگست1947ئ؁ کو مسلمان بہنوں نے اپنے بھائی اس لئے شہید نہیں کروائے تھے کہ کوئی پرویز مشرف، کوئی زرداری یا کوئی نواز شریف پاکستان میں بسنے والے19کروڑ توحید پرستوں کو انچاس کروڑ خداؤں کی پوجا کرنے والے ہندو بنیئے کے سامنے جھکنے پر مجبور کر ے، پاکستان کی سالمیت، سلامتی، مضبوطی اور ترقی کا راز’’نفاذ اسلام‘‘ میں مضمر ہے۔۔۔ یہ آزادی مارچ یا گردنیں اڑانے والا انقلاب۔۔۔ نہ توپاکستان کوحقیقی طور پر آزاد کروا سکتے ہیں اور نہ ہی پاکستانی قوم کے دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں۔۔۔ ان حکمرانوں کی حالت دیکھئے کہ ایک طرف67واں یوم آزادی منانے کا ڈھونگ رچائے ہوئے ہیں۔۔۔ اور دوسری طرف14اگست والے دن، سڑکیں بند، چوک بند، روڈ بند، مارکیٹیں بند، پٹرول پمپ بند، پولیس اور رینجرز گنیں تانے الرٹ۔۔۔ اگر آزادی اس کا نام ہے تو پھر’’غلامی‘‘ کس بلا کو کہتے ہیں؟۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor