Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

متعفن انقلاب؟ (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 458 - Naveed Masood Hashmi - Mutaffan Inqelab

متعفن انقلاب؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 458)

نہ آزادی نہ انقلاب۔۔۔ اگست میں بھی’’مارچ‘‘ کے مزے لوٹنے والوں کو جب اس مثال کا سامنا کرنا پڑا کہ’’لوٹ کے بدھو گھر کو آئے‘‘ تو پھر انہیں لگ پتہ جائے گا۔۔۔ گزشتہ روز انڈیا کے اسیران پر مہربان مولانا الیاس قاسمی کا فون آیا۔۔۔ انہوں نے انقلابی اور آزادی مارچ کے دھرنے والوں کی تعداد پوچھی تو میں نے انقلابی دھرنے والوں کی تعداد چالیس، پچاس لاکھ بتائی۔۔۔

مولانا قاسمی کہ جو پاکستان بھر میں جلسہ، جلسہ کرنے کے عادی ہو چکے ہیں مارے حیرت کے بولے کہ چالیس، پچاس لاکھ۔۔۔ یہ تو بہت بڑی تعداد ہے۔۔۔ میں نے کہا کہ فکر مندی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ’’شیخ الاسلام‘‘ جب سے کینیڈا سے آئے ہیں۔۔۔ انہوں نے گنتی میں بھی انقلابی تبدیلیاں کی ہیں۔۔۔ یعنی کینیڈین شیخ کے پاس دس بندے ہوں تو وہ انہیں سو کے برابر سمجھتے ہیں۔۔۔ 100ہوںتوایک ہزار سمجھتے ہیں۔۔۔ اور اگر ان کے سامنے ایک ہزار افراد ہوں تو وہ ان کے نزدیک ایک لاکھ کے برابر ہو جاتے ہیں۔۔۔

انقلاب مارچ میں شرکت کرنے والوں کی اصل تعداد تو چالیس، پچاس ہزار کے لگ بھگ ہے۔۔۔مگر کینیڈین شیخ کی انقلابی گنتی کے مطابق ان کی تعداد چالیس، پچاس لاکھ کے لگ بھگ ہی لکھی، پڑھی اور سمجھی جائے۔۔۔ قاسمی صاحب نے یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ ’’خدا کرے کہ نہ سمجھا کرے کوئی‘‘

’’القلم‘‘کے قارئین اور قاریات چونکہ صاف ستھرے اور پاکیزہ اذہان وقلوب کے مالک ہیں۔۔۔ اس لئے میری اکثر کوشش ہوتی ہے کہ انہیں ناپاک اور شیطان صفت شخصیات سے دور ہی رکھا جائے۔۔۔ مگر’’آزادی‘‘ اور’’انقلاب‘‘ جیسے عظیم الفاظ کی بے حرمتی اور بے عزتی ہوتے دیکھ کر آج ایک دفعہ پھر اپنے قلم کو تلوار میں ڈھالنا پڑ رہا ہے۔۔۔

شریف برادران کی حکومت سے نہ مجھے کل ہمدردی تھی۔۔۔ اور نہ ہی آج ذرا برابر بھی ہمدردی یا دلچسپی ہے۔۔۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والی حکومت کو چندہزار جنونیوں کے سامنے سرنڈر کر کے ملک کو انارکی اور طوائف الملوکی کے حوالے کر دیا جائے۔۔۔’’شیخ الاسلام‘‘ کی اشتعال انگیز تقریروں اور چرب زبانی کے سبب ملک میں نہ صرف یہ کہ فرقہ پرستی بلکہ جنونیت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔۔۔ اور دلچسپ بات ہے کہ’’دجالی میڈیا‘‘ ان فتنہ وفساد برپا کر دینے والی تقریروں کو نہ صرف یہ کہ لائیو نشر کر رہا ہے۔۔۔ بلکہ ملک میں فورسز سے ٹکراؤ کو بھی ہوا دینے میں پیش پیش ہے۔۔۔ کینیڈا سے آئے ہوئے’’شخیل الاسلام‘‘ کی زندگی ویسے تو الزامات اور تضادات کا مجموعہ ہے۔۔۔ اور ان پر لگنے والے الزامات سے متعدد رسالے، اخبارات اور جرائد بھرے پڑے ہیں۔۔۔ لیکن میں آج کے کالم میں ان پر نہ تو کوئی اخباری الزام عائدکروں گا اور نہ ہی کتابی الزام دھراؤں گا۔۔۔ ہاں البتہ میرا اس اسٹبلیشمنٹ سے سوال ہے کہ جس کا مہرہ بن کر یہ ’’صاحب‘‘ انقلاب لانے کا ڈرامہ رچائے ہوئے ہیں۔۔

اور وہ سوال یہ ہے کہ۔۔۔ اگر جہادی قائدین یا علماء حق امریکہ اور اسرائیل کی دہشت گردی کے خلاف جہاد وقتال کی بات کریں۔۔۔ تو انہیں پاکستان میں ’’کالعدم‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے، اگر جہادی قائدین یا مجاہدین کشمیر کے مسلمانوں کی حمایت میں بھارت کے خلاف بات کریں تو ان پر دہشت گردی کے پرچے کاٹ دیئے جاتے ہیں۔۔۔ میں کتنے ہی ایسے نوجوانوں کو جانتا ہوں کہ جو کشمیر کے جہاد میں شریک رہے۔۔۔

اورواپس گھروں میں آکر وہ پر امن طور پر۔۔۔ کشمیری مسلمانوں کی مدد کی ، سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔۔۔ صرف اس جرم کی بناء پر پنجاب پولیس نے نہ صرف یہ کہ ان کے خلاف پرچے کاٹے۔۔۔ بلکہ ان میں سے بعض بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کر کے۔۔۔ کئی کئی سالوںتک جیلوں میںبھی ڈالے رکھا۔۔۔

میں یہ بات پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں۔۔۔ کہ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے نامور جہادی قائد اور ممتاز عالم دین مولانا محمد مسعود ازھرصاحب کی جماعت’’الرحمت ٹرسٹ‘‘ سے وابستہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور ہزارہ جات میں موجود لاکھوں کارکنان نہ صرف یہ کہ انتہائی پرامن بلکہ اپنے پیارے وطن پاکستان سے بے پناہ محبت کرنے والے بھی ہیں۔۔۔ حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازھر نے ہمیشہ اپنے کارکنوں اور چاہنے والوں کو مذہب اسلام پر مر مٹنے اور پاکستان سے محبت کادرس دیا ہے۔۔۔ پاکستان کی خاطر جتنی’’قربانی‘‘ مولانا محمد مسعود ازھر نے دی۔۔۔ زندہ قائدین یا سیاست دانوں یا حکمرانوں میں قربانی کے حوالے سے ان کا کوئی ثانی نہیں۔۔۔

مگر اس کے باوجود ان کی جماعت کے پرامن کارکنوں کو بے بنیاد مقدمے قائم کر کے جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔۔۔

خود’’مولانا‘‘ کو روپوشی میں جانا پڑتا ہے۔۔۔ بالکل اسی طرح علماء حق سے وابستہ دیگر مذہبی تنظیموں کو ناروا پابندیوں۔۔۔ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔۔ مگر کینیڈا سے آئے ہوئے مغرب کے اس’’پروردہ‘‘ میں ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ وہ ایک منتخب وزیراعظم کو اپنے چند ہزار مریدوں اور مریدنیوں کے ساتھ نہ صرف یہ کہ اقتدار چھوڑنے کی دھمکیاں دیتا ہے، بلکہ انہیں گرفتار کر لینے کے احکامات بھی صادر کرتاہے۔۔۔ جو کھلے عام اپنے مریدوں اور کارکنوں کو14کارکنوں کے بدلے میں14پولیس والوں کے قتل کے فتوے جاری کرتا ہے۔۔۔ گردنیں اڑائیں گے، انقلاب لائیں گے۔۔۔ کے انتہائی متشددانہ نعرے جس کی تقریروں کے درمیان لگتے ہیں۔۔۔ جو اپنے کارکنوں سے کہتا ہے کہ جو انقلاب لائے بغیر واپس آجائے اسے قتل کر دو۔۔۔ مگر بعد میں حسب عادت مکر جاتا ہے۔۔۔

جس کے ہزاروں کارکن اپنی لاٹھیوں میں لمبے لمبے کیل لگا کر پنجاب کی سڑکوں پر پولیس والوں پر حملے کرتے ہیں۔۔۔ اور آئی جی پنجاب کے مطابق جب سے’’شخیل الاسلام‘‘ کینیڈا سے آئے ہیں۔۔۔ ان کے کارکنوں اور مریدوں کے حملوں میں230کے لگ بھگ پنجاب پولیس کے جوان زخمی ہو چکے ہیں۔۔۔ دہشتگردی اور تخریب کاری کی کھلی دعوت دینے والا شخص اگر اس کے باوجود۔۔۔ ماؤل ٹاؤن سے نکل کر اسلام آباد کے خیابان سہروردی روڈ پر مجمع لگا لیتا ہے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ ’’ شخیل الاسلام‘‘ کو دراصل مغربی قوتوں کے ساتھ ساتھ اسٹبلیشمنٹ کی بھی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔۔۔

ایک طرف آزادی مارچ، دوسری طرف انقلاب مارچ۔۔۔ گانوں اور ترانوں پر ناچنا رقص کرنا۔۔۔ تالیاں پیٹنا، بڑوں، چھوٹوں، بوڑھوں، جوانوں، مردوں اور عورتوں کا میوزک کی تھاپ پر رقص کرنا، جھومنا، یہ کونسی آزادی اور کس قسم کا انقلاب ہے؟ اس آزادی اور انقلاب مارچ کی وجہ سے اسلام آباد کے رہائشیوں کو جس عذاب کا سامنا ہے وہ آخر میں اس خبر سے عیاں ہے۔۔۔ خبر کے مطابق آزادی اور انقلاب مارچ کی وجہ سے آبپارہ مارکیٹ، شاہراہ سہروردی، شاہراہ کشمیر اور ان کے ارد گرد مارچ کے ہزاروں شرکاء کے’’فضلے‘‘ سے بدبودار تعفن پھیل چکا ہے۔۔۔ پورے علاقے میں کچرا پھیل گیا ہے۔۔۔ گلاب و چنبیلی کے باغ، رہائشی سیکٹروں کی گلیوں، سڑکوں کو بھی مارچ کے شرکاء رفع حاجت کے لئے استعمال کر رہے ہیں، جس سے علاقے میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor