Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نفسیاتی مریض؟ (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 459 - Naveed Masood Hashmi - nafsiyati mareez

نفسیاتی مریض؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 459)

پاکستان ہمارا پیارا ملک ہے۔۔۔ اس ملک کی سلامتی اور امن ہمیں اپنی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہے ہمارے امیر حضرت مولانا محمد مسعود ازہرصاحب نے ہمیشہ ہمیں ملکی قوانین کے احترام کا سبق دیا ہے۔۔۔انہوں نے پولیس یا انتظامیہ کی طرف سے کی جانے والی زیادتیوںپر بھی صبر اور برداشت کا درس دیا ہے۔۔۔

ہمارے کسی ساتھی نے کبھی ریڈ سگنل کی خلاف ورزی بھی نہیں کی۔۔۔ ہمارے ساتھیوں نے نہ تو کبھی قوم پرستی کے نعرے لگائے، نہ فرقہ واریت کو ہو ادی۔۔۔ نہ قوم پرستی کے بدبودار نعروں کو فروغ دیا۔۔۔ ہم نے نہ تو کبھی پاکستان کی سڑکوں کو بند کیا، نہ دھرنے دیئے۔۔۔ اور نہ ہی جلوس اور مظاہرے کئے۔۔۔ لیکن اس کے باوجود پولیس اور خفیہ ایجنسیوں والے۔۔۔ ہمارے بے گناہ ساتھیوں کو گرفتار کرنے، ان پر جھوٹے مقدمے بنانے اورانہیں لاپتہ کرنے تک نہیں شرماتے تو کیوں؟

میں نے ’’الرحمت ٹرسٹ‘‘ کے اس مجاہد کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا تو۔۔۔ وہاں غصہ اور بے بسی کی ملی جلی کیفیت نظر آئی۔۔۔ سوالات تو اس کے سارے ٹھیک تھے۔۔۔ مگر میرے پاس اس ’’مجاہد‘‘ کے کسی سوال کا جواب نہ تھا۔۔۔ اس نے میری خاموشی کو محسوس کیا تو وہ پھر بڑے درد مندانہ انداز میں بولا کہ پاکستان کی سلامتی کی خاطر۔۔۔ ’’جیش‘‘ کے سینکڑوں مجاہدین نے وادی لولاب سے لے کر سرینگر۔۔۔ اور سرینگر سے لے کر لکھنو تک سینکڑوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔۔۔ کشمیر کی آزادی کیلئے جیش محمدﷺ کا سنہرا کردارہمیشہ سورج کی طرح چمکتا رہے گا۔۔۔ پاکستانی قوم پرجب بھی کوئی آفت یا مشکل آئی وہ زلزلے کی شکل میں ہو، سیلاب کی صورت میں ہو۔۔۔ یا فاٹا سے نقل مکانی کر کے آنے والے لاکھوں مہاجرین کی شکل میں۔۔۔ الرحمت ٹرسٹ نے اپنے امیر محترم کے حکم پر۔۔۔ مظلوم پاکستانیوں کی مدد کیلئے اپنے دنوں کا چین اور راتوں کی نیند کو قربان کرنے میں سیکنڈ بھر دیر نہ لگائی۔۔۔ لیکن پھر بھی حکمرانوں اور ان کے خفیہ اداروں کی ہم سے ناراضگی کی وجہ سمجھ نہیں آتی؟ اس ’’مجاہد‘‘ کے تمام سوالات اپنی جگہ پر درست تھے۔۔۔

اور پاکستان کے مقتدر حلقوں، حکمرانوں اور خفیہ اداوں کے سربراہان سے میرا بھی یہ سوال ہے کہ جب آئین اور قانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کو بھی جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر جیلوںمیں ڈالنے کی کوششیں کی جائیں گی۔۔۔ جب امن کا پرچا کرنے والوں کو۔۔۔ دین اورجہاد کی دعوت دینے والوں کو گھروںسے اٹھا کر سرے سے ہی لاپتہ کر دیا جائے گا تو کیا ان مظالم کیوجہ سے ملکی امن اور سلامتی خطرات سے دوچار نہیں ہوجائے گی؟ سکھر سے تعلق رکھنے والے نوجوان عالم دین مولانا عطاء اللہ کا کیا قصور تھا کہ جس کی بناء پر ایک خفیہ ادارے کے مقامی افسر نے گزشتہ گیارہ مہینوں سے انہیں غائب کر رکھا ہے؟

مولانا عطاء اللہ کی بوڑھی والدہ۔۔۔ بیوی اورمعصوم بچے گزشتہ گیارہ مہینوں سے جن عذابناک صورت حال سے دوچار ہیں۔۔۔ اس کا کسی کو ادراک بھی ہے یا نہیں؟ سکھرسے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین نے مجھے فون پر بتایا کہ ایک خفیہ ایجنسی کے مقامی افسر نے مولانا عطاء اللہ کو اپنے سامنے۔۔۔ پیش ہونے کا حکم صادر فرمایا۔۔۔ مولانا عطاء اللہ اور اس افسر کے درمیان فون پرکچھ تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔۔۔ اور اس کے بعد مولانا عطاء اللہ کو لاپتہ کر دیاگیا۔۔۔

صرف میں ہی نہیں۔۔۔ بلکہ سکھر اور سندھ بھر کے علماء کرام اور مذہبی کارکن جانتے ہیں کہ ’’عطاء اللہ‘‘ ایک محب وطن اور اسلام پسند شہری ہیں۔۔۔ اسلام اورپاکستان سے محبت ان کے انگ انگ میں سمائی ہوئی ہے۔۔۔ جہاد مقدس کے اس مجنوں نوجوان کو لاپتہ کرنے والے شاید نہیںجانتے کہ ان کے اس مکروہ عمل کی وجہ سے صرف سندھ ہی بلکہ پاکستان بھر میں بسنے والے الرحمت ٹرسٹ کے لاکھوں کارکنوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔۔۔

حیرت کی بات ہے کہ ایک افسرنے ذرا سی منہ ماری پر مولانا عطاء اللہ جیسے جیتے جاگتے نوجوان عالم دین کو سرے سے ہی غائب کر ڈالا۔۔۔ نہ کوئی مقدمہ نہ پرچہ، نہ تھانہ، نہ کچہری۔۔۔ بلکہ خفیہ ادارے کے اہلکار آئے اور عطاء اللہ کو اٹھا کر لے گئے۔۔۔ اور11مہینوں سے معصوم بچے، اپنے بابا کا چہرہ دیکھنے کو ترس گئے۔۔۔ بوڑھی ماں اپنے کڑیل بیٹے کے فراق میں آنسو بہا رہی ہے۔۔۔ قانون کے نام پر’’لاقانونیت‘‘ کا مظاہرہ کر کے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے پاکستانیوں کے اعتماد کو جس طرح سے ٹھیس پہنچائی جارہی ہے۔۔۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔۔۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر مولانا عطاء اللہ پر کوئی الزام ثابت ہے توانہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔۔۔ اور اگرانہیں کسی فرعون صفت افسر نے اپنی فرعونی حس کو تسکین پہنچانے کیلئے غائب کر رکھا ہے۔۔۔ تو اسے چاہئے کہ بس اب بہت ہو چکا۔۔۔مولانا عطاء اللہ کو ہر قیمت پر رہا کر دے۔۔۔ ورنہ وہ یاد رکھے کہ مظلوم ماں اور معصوم بچوں کی بدعائیں تو بڑے بڑے فرعونوں کو لے ڈوبتی ہیں۔۔۔ وہ تو پھر کسی باغ کی مولی ہی نہیں ہے۔۔۔

اس ملک میں الٹی گنگا بہتی ہے۔۔۔ کپتان اور’’شخیل الاسلام‘‘ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراہ دستورپر ہزاروںلڑکیوں اور لڑکوںکو اکٹھا کر کے جس طرح سے نائٹ کلبوں والا ماحول برپا کر رکھا ہے۔۔۔ موسیقی کی دھنوں اور میوزک کی تھاپ پر مخلوط ناچ کر کے جس طرح سے اللہ کے عذاب کو دعوت دی جارہی ہے۔۔۔ اس نے پاکستان کے جید اور اکابر علماء کرام کو بھی تڑپا کر رکھ دیا ہے۔۔۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی، شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی ولی کامل مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا حافظ فضل الرحیم اوردیگرعلماء نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ’’علمائ،سیاسی امور، حکمرانوں اور سیاست دانوں کے تنازعات سے ہمیشہ لاتعلق وغیر جانبدار رہتے ہیں۔۔۔ لیکن دھرنوں، انقلاب و آزادی کے خوشنما نعروں کی آڑ میں بے حیائی کو رواج دینے، خواتین سے بدتہذیبی کرنے کی شرعاً اور اخلاقاً کوئی گنجائش نہیں۔۔۔ سرعام مخلوط ناچ گانوں کے ذریعے بے حیائی پھیلانا اللہ کے غیض وغضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔۔۔ حیا سوز مناظر سے قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔۔۔ کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کی جانے والی ریاست کا دنیا کے سامنے حیاباختہ چہرہ پیش کرنے والے خدا خوفی سے کام لیں۔۔۔

انہوں نے کہا کہ دھرنوں کی آڑ میں رقص و موسیقی اور بے حیائی کے فروغ کی کوششیں قابل مذمت ہیں‘‘۔۔۔ اسلام آباد کے دھرنوں میں جس طرح کے مجرا پروگرام سجے ہوئے ہیں کیمرے کی آنکھ اسے پوری دنیا کو دکھا رہی ہے۔۔۔ شاہراہ دستور کے دھرنوںمیں حیاء باختہ اور لچر مجروں کی وجہ سے’’پاکستان‘‘ دنیا بھر میں بدنام ہو چکا ہے۔۔۔ انقلاب اور آزادی دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کاجھٹکا لگ چکا ہے۔۔۔ بادہ دن ہونے کو ہیں۔۔۔ کاروبار حکومت مکمل ٹھپ نظر آرہا ہے۔۔۔ مگر حکومت ہو یا خفیہ ادارے کسی کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ وہ شاہراہ دستور پر آئے ہوئے بے حیائی کے اس سیلاب کو روکے؟

بلکہ خفیہ اداروں، پولیس اوررینجرز کے جوان دھرنوں کے ان شرکاء کی حفاظت جی جان سے کر رہے ہیں۔۔۔اپنی شادی کے شوق میں مبتلا62سالہ کپتان اپنی آنے والی بیگم کیلئے کسی نئے پاکستان کی تلاش میں زبان پر جوآتا ہے کہے جارہا ہے:’’ آئی جی میں تیرا گلا دبا دوں گا‘‘۔۔۔ ’’نواز شریف استعفی دو۔۔۔ ورنہ میں اپنے ٹائیگرز اور چیتوںکے ساتھ وزیراعظم ہاؤس میں گھس جاؤں گا‘‘۔۔۔ ’’میرے اندر وزیراعظم بننے کی ساری صلاحیتیں موجود ہیں‘‘۔۔۔اگروزارت عظمیٰ اس طرح کے دعوؤں،دھمکیوں اورناچ گانوں سے ملتی تو پھر مینٹل ہسپتال میں پڑاہوا۔۔۔ ہر ذہنی مریض پاکستان کا وزیراعظم بن چکا ہوتا۔۔۔ اور رہ گیا کینیڈا سے آیا ہوا’’شخیل الاسلام‘‘۔۔۔ توایران اوریورپی یونین ان کے ذریعے پاکستان پر ’’لبرل اسلام‘‘ مسلط کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔۔۔ لیکن ایران اور یورپی یونین شاید یہ نہیں جانتے کہ نفسیاتی مریضوں کے لئے پاکستان میں باقاعدہ پاگل خانے موجود ہیں۔۔۔ نہ توپاکستان میں لبرل اسلام آسکتا ہے۔۔۔ نہ ہی کوئی پاکستان کوسیکولر بنا سکتا ہے۔۔۔حکومت پہلے ہی نفسیاتی مریضوں کی ہے، انہوں نے بھی عمران اورشخیل کے مقابلے میں جلسے اور ریلیاں شروع کرکے اسی طرح ناچ گانے کا بازار گرم کردیا ہے، یہ سب لوگ قوم کی بیٹیوں کو سربازار نچا کر کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟… یہ الٹی گنگا ہمارے ملک میں ہی بہتی ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے بھی ناچ گانا اور اقتداربچانے کے لیے بھی ڈانس اور شورشرابا… کیا ہم نفسیاتی مریضوں میں پھنس گئے ہیں؟

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor