Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

پپویارتنگ نہ کر؟ (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 460 - Naveed Masood Hashmi - Pappu yaar tang na ker

پپویارتنگ نہ کر؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 460)

میں دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں ایک دوست کے پاس بیٹھا ہوا ہوں۔۔۔ یہاں سے کچھ دور ریڈ زون میں شاہراہ دستور پر پچھلے دو ہفتوں سے جو واقعات ہو رہے ہیں وہ ہم دوستوں میں زیر بحث ہیں۔۔۔

دو نفسیاتی مریضوں نے اپنے چند ہزار ورکروں کے ذریعے پاکستان کے سب سے خوبصورت اور حساس علاقے میں جو فساد برپا کر رکھا ہے۔۔۔ اس نے صرف19کروڑ پاکستانیوں کو ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔۔۔ لوگ ایک دوسرے سے حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ کیا ہماری پولیس، رینجرز اور دیگر سکیورٹی ادارے واقعی اتنے نااہل ہیں کہ جو پارلیمنٹ ہاؤس، وزیراعظم ہاؤس، پی ٹی وی اور دیگر سرکاری عمارتوں کو چند سو بلوائیوں سے بھی نہیں بچا سکتے؟

یہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت پاکستان ہے کہ۔۔۔ جس کے سب سے مقتدرادارے سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے سامنے۔۔۔ کنٹینرز پر کھڑے ہو کر۔۔۔ اپنے پیروکار بلوائیوں سے مخاطب ہوکر دو نفسیاتی مریض دھاڑتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ۔۔۔’’وزیر اعظم ہاؤس میں گھس جاؤ۔۔۔ پارلیمنٹ پر قبضہ کر لو۔۔۔ پولیس اور رینجرز کے جوانو! خبردار حکومت کی بات مت ماننا ورنہ ہم اقتدار میں آکر۔۔۔ تم سے انتقام لیں گے‘‘، بلوائی ہاتھوں میں کیل لگے ڈنڈے اٹھائے، پلاس اور کٹر اور غلیلوں سے مسلح ہو کر کبھی پولیس پر حملہ آور ہوتے ہیں، کبھی سرکاری عمارتوں پر حملے کرتے ہیں، کبھی صحافیوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔۔۔ اور کبھی وزیراعظم ہاؤس میںگھسنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ مگر پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے مکمل خاموش تماشائی بنے۔۔۔ یہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔۔۔پاکستان کی وہ پولیس کہ عوام الناس جس کے نام سے ہی کانپ اٹھتے ہیں۔۔۔ جس پولیس کے ظلم و ستم کے چرچوں سے صرف کتابیں ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ہر روز اخبارات بھی بھری رہتی ہیں۔۔۔

جو پولیس اتنی باکمال ہے کہ اگر چاہے تو مار مار کر بندر سے بھی کہلوا ڈالے کہ ہاں میں ہرن ہوں۔۔۔ جس پولیس کے مراکز یعنی تھانے جرائم کی نرسریاں بن چکی ہوں۔۔۔ وہ پولیس شاہراہ دستور پر دندناتے ہوئے فسادیوں کے سامنے نہ صرف یہ کہ بے بس بلکہ نہایت رحم دل بھی ہو چکی ہے۔۔۔

اسلام آباد میں فساد جب عروج پر تھا تو آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ اور پھر ایس ایس پی آپریشن محمدعلی بھی چھٹیوں پر چلے گئے۔۔۔ ایک ایس پی نے ایس ایس پی آپریشن کا چارج لینے سے بھی انکار کر دیا۔۔۔ ایک لیڈی ڈی ایس پی خدیجہ نسیم نے ڈیوٹی ادا کرنے سے نہ صرف یہ کہ معذرت کر لی بلکہ مستعفی ہو کر۔۔۔ دھرنے کے فسادیوں کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا۔۔۔

بالآخر ایس ایس پی ٹریفک عصمت اللہ جو ایس ایس پی آپریشن بنایا گیا۔۔۔ وہ چارج لینے کے بعد جیسے ہی۔۔۔ دھرنوںکے مقام پر پہنچے تو۔۔۔’’شخیل کینیڈا‘‘ کے انقلابیوں نے انہیں شاہراہ دستور پر لٹا کر ان کی وہ دھلائی کی۔۔۔ کہ موصوف زخموں سے چور چور ہو کر ہسپتال جا پہنچے۔۔۔مگر مجال ہے کہ شخیل کے فسادی بلوائیوں کے ہاتھوں اپنے ایس ایس پی کو کسی پولیس والے نے بچانے کی کوئی ہلکی سی کوشش بھی کی ہو؟

واہ کیا کہنے پولیس کی نرم مزاجی کے ایسی رحمدل پولیس تو نہ پہلے کبھی کسی نے دیکھی۔۔ اور نہ شاید بعد میں ہی کوئی دیکھ سکے۔۔۔ یہ تو ہو گئی پولیس کی نرم مزاجی کی چند جھلکیاں۔۔۔

اب آتے ہیں پاک فوج کی بردباری اور تحمل مزاجی کی طرف، پیر کے دن گیارہ بجے کے لگ بھگ ۔۔۔ سو کینیڈا کے شخیل اور کپتان کے تین سو کے لگ بھگ فسادی پی ٹی وی کی عمارت کا گیٹ توڑ کر دفتر میں جا گھسے۔۔۔ جہاں انہوں نے جی بھر کر توڑ پھوڑ کی۔۔۔

6قیمتی کیمرے توڑنے کے بعد۔۔۔ متعدد کیمرے بھی چرالئے۔۔۔۔ پی ٹی وی کی کینٹین والے سے 45ہزار روپے بھی چرا لئے، جبکہ ایک خاتون اینکر کو ڈنڈے مارنے کے بعد اس کے پرس کا بھی صفایا کر ڈالا۔۔۔ فسادیوں نے کمال مہارت سے پی ٹی وی کی نشریات کو بھی جام کر ڈالا۔۔۔

اسلام آباد کے سب سے حساس علاقے کی ایک سرکاری بلڈنگ میں دن دیہاڑے اس وارادت کو ہوتے دیکھ کر پولیس نے تو روکنے کی ہمت ہی نہ کی۔۔۔ البتہ پاک فوج کے جوانوں نے موقع پر پہنچ کر۔۔۔ بلوائیوں کو بڑی محبت اور شفقت سے سمجھا بجھا کر۔۔۔ پی ٹی وی کی بلڈنگ سے باہر نکلنے پرراضی کر لیا۔۔۔ فورسز کے اس محبت بھرے انداز کو دیکھ کر۔۔۔ ان پر صدقے واری جاؤں کہنے کودل کرتا ہے۔۔۔ بعض ناقدین اورحاسدین کی رائے میں جوانوں کو چاہئے تھا کہ وہ بلوائیوں سے سختی سے پیش آتے۔۔۔ اور انہیں موقع سے گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرتے۔۔۔ تاکہ آئندہ کسی بدمعاش کو یہ جرأت نہ ہوتی کہ۔۔۔ وہ سرکاری دفاتر پر قبضہ کر سکے۔۔۔

لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ناقدین کی ان باتوں کو سیریس نہیں لینا چاہئے۔۔۔ کیونکہ انقلاب اورتبدیلی کے لئے اسی طرح کا فساد ضروری ہوتا ہے جس طرح کا فساد شاہراہ دستور پر نظر آرہا ہے۔۔۔

یادش بخیر۔۔۔ جولائی2007ء میں جامعہ حفصہؓ اور لال مسجد میں انسانی تاریخ کے جو بدترین مظالم ڈھائے گئے۔۔۔ وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔۔۔ حالانکہ اس وقت مولانامقصود شہید،علامہ غازی شہید اور جامعہ حفصہؓ کی پاکباز طالبات نے۔۔۔ نہ تو پارلیمنٹ ہاؤس پرقبضہ کیا تھا، نہ پی ٹی وی کی عمارت پر قبضہ کیا تھا، نہ ان کی وجہ سے ملکی معیشت کو نو سو ارب روپے کا نقصان ہوا تھا اور نہ ہی۔۔۔ وہ پاکستان کی جگ ہنسائی کا سبب بنے تھے، لیکن اس کے باوجود۔۔۔انہیں بموں اور گولیوں سے بھون ڈالا گیا، حتیٰ کہ فاسفورس بم مار کر انہیں زندہ جلانے سے بھی دریغ نہ کیا گیا۔۔۔

2007ء میں سختی اور شدت کا یہ عالم اور یکم ستمبر2014ء میں رحمدلی اور شفقت کی یہ انتہا؟ کہ سرکاری عمارت پر قابض دہشت گردوں کو محبت سے سمجھایا جارہا ہے:

’’پپو یار تنگ نہ کر‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor