Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

دجال (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 462 - Naveed Masood Hashmi - Dajjaal

دجال

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 462)

کس پہ تنقید کروں اور کس کی تعریف لکھوں؟ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے … کیا حکمران ‘ کیا اپوزیشن ‘ کیا سیاست دان ‘ کیا شاعر‘ ادیب ‘ دانشور ‘ صحافی اور تجزیہ نگار ‘ کیا دھرنے والے ‘ کیا دھرنے کے مخالفین … اور کیا عوام؟ ہم سب بحیثیت قوم اللہ اور اس کے رسولﷺ کے مقدس فرامین سے عملاً منہ موڑ چکے ہیں … یہی وجہ ہے کہ دن بدن ذلت و پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتے چلے جارہے ہیں … موضوعات تو بہت سے ہیں ’’کینڈین شیخ‘‘ نے اپنے کارکنوں کو دھرنے کی طرف بڑھنے والے سپاہیوں کی ٹانگیں توڑنے کے آرڈر بھی جاری کر دیئے ہیں … جبکہ تحریک انصا ف والوں نے تو ایف ایٹ کچہری سے اپنے گرفتار کارکنوں کو زبردستی پولیس وین سے نکالنے کی کوششیں بھی کی ہیں۔

ٹی وی چینلز پر جس طرح سے دھرنے والوں کے حق اور مخالفت میں پچھلے ایک ماہ سے تجزیئے اور تبصرے نشر کیے جارہے ہیں … انہیں سن کر ابکائیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں … آج دل چاہتا ہے کہ ان سارے موضوعات سے جان چھڑاکر اللہ کے نبی ﷺ نے دجال کے فتنے اور قیامت کی جو نشانیاں بیان فرمائی ہیں ان کا کچھ ذکر کیا جائے ‘ آج کے کالم میں … میں ایک ایسی حدیث مبارک درج کر رہا ہوں … جس حدیث مبارک کے بارے میں محدثین کر ام نے لکھا ہے کہ یہ حدیث ہر مسلمان اپنے بچوں کو یاد کروائے بلکہ لکھوا بھی ڈالے تاکہ انہیں عمر بھر یاد رہے ‘ ابن ماجہ میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے خطبہ کا کم و بیش حصہ دجال کا واقعہ بیان کرنے ‘ اس سے ڈرانے میں ہی صرف کیا … جس میں یہ بھی فرمایا کہ دنیا کی ابتداء سے لے کر انتہاء تک اس سے بڑا کوئی فتنہ نہیں … تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام اپنی اپنی امتوں کو اس سے آگاہ کرتے رہتے ہیں … میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو … وہ یقینا تمہیں میں آئے گا ‘ اگر میری موجودگی میں آگیا تب تو میں اس سے نبٹ لوں گا اور اگر بعد میں آیا تو ہر شخص کو اپنا آپ اس سے بچانا پڑے گا۔

دجال شام و عراق کے درمیان نکلے گا ‘ دائیں بائیں گھومے گا … لوگو! اے اللہ کے بندو! دیکھو ‘ دیکھو تم ثابت قدم رہنا … سنو میں تمہیں اس کی ایسی صفت سناتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں سنائی۔

دجال دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں …  پس تم یاد رکھنا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں پھر وہ اس سے بھی بڑھ جائے گا اور کہے گا کہ میں خدا ہوں ‘ پس تم یاد رکھنا کہ خدا کو اِن آنکھوں سے کوئی نہیں دیکھ سکتا … ہاں مرنے کے بعد دیدارِ باری تعالیٰ ہوسکتا ہے … اور سنو وہ ’’کانا‘‘ ہو گا ‘ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان پیشانی پر کافر لکھا ہوگا  جسے پڑھا ‘ لکھا ‘ ان پڑھ غرض ہر ایمان دار آسانی سے پڑھ لے گا …اس کے ساتھ آگ ہوگی‘ اور باغ ہوگا … اس کی آگ دراصل جنت ہے … اور اس کا باغ دراصل جہنم ہے … سنو!تم میں سے جسے وہ آگ میں ڈالے ‘ وہ اللہ تعالیٰ سے فریاد رسی چاہے … اور سورہ کیف کی ابتدائی آیات پڑھے ‘ اس کی وہ آگ اس پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی ‘ جیسے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام پر نمرود کی آگ ٹھنڈی ہوگئی تھی … اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ وہ ایک اعرابی سے کہے گا اگر میں تیرے ماں باپ کوزندہ کردوں تو پھر تو مجھے رب مان لے گا ؟ وہ اقرار کرے گا … اتنے میں دو شیطان اس کی ماں ‘ باپ کی شکل میں نمودار ہوں گے … اور اسے کہیں  گے کہ بیٹا یہی تیرا رب ہے ‘ تو وہ اسے مان لے گا‘ اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ وہ ایک شخص پر مسلط کر دیا جائے گا ‘ اسے آرے سے چروا کر دو ٹکڑے کروا دے گا ‘ پھر لوگوں سے کہے گا کہ میرے اس بندے کو دیکھنا ‘ اب میں اسے زندہ کر دوں گا ‘ لیکن وہ بندہ زندہ ہونے کے بعد بھی یہی کہے گا کہ اے دجال تو جھوٹا ہے … چنانچہ دجال اسے اٹھائے بٹھائے گا اور پھر یہ خبیث اس سے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دے گا کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے اور تو خدا کا دشمن دجال ہے ‘ خدا کی قسم! اب تو مجھے پہلے سے بھی بہت زیادہ یقین ہوگیا‘ دوسری روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا :یہ مومن میری امت میں سے زیادہ بلند درجہ امتی ہوگا‘ حضور ﷺ فرما تے ہیں :دجال کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ وہ آسمان کو پانی برسانے کا حکم دے گا اور آسمان سے بارش ہوگی وہ زمین کو پیداوار اگانے کا حکم دے گا اور زمین سے پیداوار ہوگی ۔ اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس جائے گا اور وہ اسے نہ مانیں گے … اسی وقت ان کی تمام چیزیں برباد ہو جائیں گی … دوسرے قبیلے کے پاس جائے گا … جو اسے خدا مان لے گا … اسی وقت اس کے حکم پر آسمان سے بارش ہوگی اور زمین ‘ پھل اور کھیتی اگائے گی … ان کے جانور پہلے سے زیادہ موٹے تازے اور دودھ والے ہو جائیں گے۔

دجال سوائے مکہ اور مدینہ کے تمام زمین (ممالک ) کا دورہ کرے گا ‘ جب مدینہ کا رخ کرے گا تو یہاں ہر ہر راہ پر فرشتوں کو کھلی تلواریں لیے ہوئے پائے گا۔پھر مدینہ میں تین  بھونچال آئیں گے ‘ اس وجہ سے جتنے منافق مرد اور عورتیں ہوں گی وہ سب مدینہ سے نکل کر دجال کے لشکر میں شامل ہو جائیں گے ‘ اور مدینہ ان گندے لوگوں کو اس طرح اپنے میں سے دورپھینک دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو الگ کر دیتی ہے اس دن کا نام یوم الخلاص ہوگا۔

حضرت ام شریکؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!اس دن عرب کہاں ہوں گے؟ فرمایا: اولاً تو ہوں گئے ہی بہت کم اور اکثر یت ان کی بیت المقدس میں ہوگی۔ ان کا امام ایک صالح شخص ہوگا جو آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھا رہا ہوگا …جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے ‘ یہ امام پچھلے پیروں پیچھے ہٹے گا … تاکہ آپ علیہ السلام آگے بڑھ کر امامت کرائیں لیکن آپ علیہ السلام اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے کہ آگ بڑھو اور نماز پڑھائو ‘ امامت تمہارے لئے کہی گئی ہے پس ان کا امام ہی نماز پڑھائے گا۔ نماز سے فارغ ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ دروازہ کھول دو … پس دروازہ کھول دیا جائے گا ‘ ادھر دجال ستر ہزار یہودیوں کا لشکر لیے ہوئے موجود ہوگا ‘ جس کے سر پر تاج اور جن کی تلواروں پر سونا ہوگا‘ دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسے گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے اور ایک دم پیٹھ پھیر کر بھاگنا شروع کر دے گا… آپ علیہ السلام فرمائیں گے :خدا نے مقرر کر دیا ہے تو میرے ہاتھ سے ایک ضرب کھائے گا ‘ تو اسے ٹال نہیں سکتا۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسے باب لُد کے پاس پکڑلیں گے … اور وہیں اسے قتل کر دیں گے … اب یہودی بدحواس ہوکر بھاگیں گے … لیکن انہیں کہیں سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی ‘ ہر پتھر ‘ ہر درخت ‘ ہر دیوار اور ہر جانور بولتا ہوگا کہ … اے مسلمان! یہاں یہودی ہے آکر اسے مار ڈال … ہاں ببول کا درخت یہودیوں کا درخت ہے یہ نہیں بولے گا ‘ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ پھر عیسی ابن مریم علیہ السلام ‘ میری امت میں حاکم ہوں گے ‘ عادل ہوں گے ‘ امام ہوں گے ‘ باانصاف ہوں گے … صلیب کو توڑیں گے ‘ خنزیر کو قتل کریں گے ‘ جزیے کو ختم کریں گے ‘ حسد اور بغض بالکل جاتا رہے گا ‘ ہر زہریلے جانور کا زہر ہٹا دیا جائے گا ‘ بچے اپنی انگلی سانپ کے منہ میں ڈالیں گے ‘ لیکن وہ انہیں کوئی ضرر نہ پہنچائے گا ‘ شیروں سے لڑکے لڑیں گے … نقصان کچھ نہ ہوگا ‘ بھیڑیئے بکریوں کے ریوڑ میں اس طرح پھریںگے جیسے رکھوالا کتا ہو ‘ تمام زمین اسلام اور اصلاح سے اس طرح بھر جائے گی جیسے کوئی برتن پانی سے لباب بھرا ہوتا ہے … سب کا کلمہ ایک ہو جائے گا … اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ ہوگی ‘ لڑائی اور جنگ بالکل موقوف ہو جائے گی ‘ زمین مثل سفید چاندی کے منور ہو جائے گی ‘ ایک جماعت کو انگور کا ایک خوشہ پیٹ بھرنے کیلئے کافی ہوگا ‘ دجال کے ظہور سے تین سال قبل قحط سالی ہوگی  ‘پہلے بارش کا تیسرا حصہ بحکم خدا روک لیا جائے گا ‘ اور زمین کی پیداوار کا بھی تیسرا حصہ کم ہو جائے گا اور یہی حکم زمین کو ہوگا کہ اپنی پیداوار دوتہائی کم کر دے ‘ تیسرے سال آسمان سے بارش کا ایک قطرہ نہ برسے گا ‘ تمام جانور اس قحط سے ہلاک ہو جائیں گے ‘ مگر جسے خدا چاہے ‘ امام ابن ماجہؒ فرماتے ہیں میرے استاد نے اپنے استاد سے سنا وہ فرماتے تھے یہ حدیث اس قابل ہے کہ بچوں کے استاد اسے بچوں کو بھی سکھا دیں ‘ بلکہ لکھوا دیں تاکہ انہیں یاد رہے ۔(تفسیر ابن کثیر ج 1 )

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor