Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سو جوتے سو پیاز ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 463 - Naveed Masood Hashmi - 100 jootay 100 piyaz

سو جوتے سو پیاز

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 463)

سچ تو سچ ہوتا ہے۔۔۔ جسے بہرحال ایک نہ ایک دن آشکارہ ہونا ہی ہوتا ہے۔۔۔ الرحمت والے اس بات پر اللہ کا شکر ادا کریں کہ اللہ پاک نے انہیں حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر جیسے ولی کامل اور میدان عمل کے مجاہد کی سرپرستی اور امارت نصیب فرمائی۔۔۔ بدقسمت تھے’’وہ‘‘ کہ جو ’’جہادی‘‘ صفوںمیں تو شامل رہے۔۔۔ مگر پھر ’’فسادی‘‘ بن کر ذلت اور رسوائیوں کا طوق اپنے گلے میں پہن لیا، میں قربان جاؤں اپنے پروردگار کے۔۔۔ رب تعالیٰ کسی فسادی کو حقیقی جہادیوں کی صفوں میں نہ زیادہ دیر رہنے دیتا ہے۔۔۔ اور نہ ہی انہیں مجاہدین حق کے قریب پھٹکنے دیتا ہے۔۔۔

مولانا محمد مسعود ازہر وہ نامور عالم دین اور عظیم جہادی راہنما ہیں کہ جو روز اول سے ہی پاکستان کے اندر فورسز سے جنگ کرنے یا پاکستان میں جہاد کے نام پر عسکری کارروائیاں کرنے کے شدید مخالف رہے ہیں اور انہوں نے اپنی انڈیا میں گرفتاری سے پہلے اور رہائی کے بعد بھی ہمیشہ اپنے کارکنوں کو اسلام اور پاکستان سے محبت لیکن افغانستان اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں عملی جہاد کا درس دیا۔۔۔ اور اب تک دیتے چلے آرہے ہیں۔۔۔ رسوائے زمانہ پرویز مشرف کے9سالہ تاریک دور اور مسٹر ٹن پرسنٹ آصف علی زرداری کے 5سالہ سیاہ دور میں۔۔۔ امریکہ اور بھارت کو خوش کرنے کیلئے۔۔۔ پاکستان میں بسنے والے مجاہدین اور جہاد سے محبت کرنے والوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے۔۔۔ سینکڑوں مذہبی نوجوانوں کولاپتہ کر دیا گیا ، ہزاروں نوجوان گرفتار کر لئے گئے۔۔۔ درجنوں نوجوان شہید کر دیئے گئے، مجاہدین کو چندہ دینے والوں پر بھی مظالم ڈھائے گئے۔۔۔ حتیٰ کہ خود مولانا محمد مسعود ازہر کو کبھی بہاولپور اور کبھی میانوالی جیل میں نظر بند بھی رکھا گیا۔۔۔

 امریکہ کے دباؤ پر مجاہدین پر ڈھائے جانے والے حکومتی مظالم کے ردعمل میں جہاد سے محبت رکھنے والے حکمرانوں کے خلاف عملی جہاد کی اجازت مانگنے پر مجبور ہوئے۔۔۔ مگر اللہ پاک نے مولانا محمد مسعود ازہر کو جس روحانی بصیرت سے نوازا تھا۔۔۔ یہ اسی کا کرشمہ تھا کہ۔۔۔’ ’امیر المجاہدین‘‘ رو رو کر پروردگار کی نصرت کو تو پکارتے رہے مگر انہوں نے جوانوں کو افغانستان اور کشمیر کے محاذوں پر ہی مصروف رکھا۔۔۔ جہادی صفوں میں کچھ ایسے بھی بے صبرے شامل تھے کہ جنہوں نے امیر کی اطاعت سے منہ موڑا۔۔۔ اور پھر اندرون پاکستان چند بے گناہ غیر مسلم پاکستانیوں کی زندگیوں سے کھیل کو خود جیلوں کی کال کوٹھڑیوں تک جا پہنچے، جہاد کی ضرورت و اہمیت کیا ہے؟ جہاد کب اورکہاں پرفرض عین ہوتا ہے؟ جہاد اصل میں کہا کس عبادت کو جاتا ہے؟ ایک مجاہد کی کیاشان ہونی چاہئے؟

یہ سارے تفصیل طلب موضوعات ہیں۔۔۔ لیکن یہ بات ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہر مجاہد کو اس وقت تک اپنی جماعت اور امیر کے ساتھ لازماً جڑارہنا چاہئے کہ جب تک اس کی جماعت یا امیر اسے کسی غیر شرعی کام کا حکم نہ دے۔۔۔ یا وہ انہیں غیر شرعی حرکتوں میں ملوث نہ پائے، لیکن یہاں پر تو معاملہ ہی دوسرا تھا یعنی کہ چند بے صبرے فورسز کے غلط عمل کے ردعمل میں ان سے انتقام لینے کو ہی اصلی جہاد سمجھ کر آمادہ فساد تھے، اور ایسے ’’بے صبروں‘‘ کی پشت پر بعض’’نقاب پوشوں‘‘ کے ہاتھ بھی تھے۔۔۔

میرا دل چاہتاہے کہ میں آج کے کالم میں ان نقاب پوش’’استادوں‘‘ اور’’حضرت جی‘‘ کے سارے پول کھول کر رکھ دوں مگر پھر وہی بات کہ احتیاط لازم۔۔۔ بقول حضرت مولانا محمد مسعود ازہر ’’جہادی بہاروں کو جو الو نظریں لگانا چاہتے تھے آج وہ اُلو اپنی دم منہ میں ڈالے آنسو بہانے پر مجبور ہیں۔۔۔ کچھ عرصہ قبل جن کا دعویٰ تھا کہ دنیا بھر میں ہونے والا جہاد۔۔۔ ان کی انگلی کے اشارہ سے ہوتا ہے۔۔۔ جہاد تو آج بھی اپنی پوری آب و تاب سے ہو رہاہے۔۔۔

مگر وہ’’نقاب پوش‘‘ دنیا بھر کے جہادی افق پر چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے۔۔۔ سبحان تیری قدرت۔۔۔ جہاد کو فساد پرستوں، زرپرستوں اور عہدہ پرستوں کے چنگل سے بچانا فقط تیرا ہی کام ہے۔۔۔ اے خدا! تیرا شکریہ کہ تو نے ہر دور میں جہاد اور مجاہدین کی اپنی قدرت کاملہ سے حفاظت فرمائی۔۔۔ پھر3جولائی 2007ء کا سورج طلوع ہوا تھا۔۔۔ رسوائے زمانہ پرویز مشرف نے اسلام آباد کے قلب میںواقع لال مسجد پر چڑھائی کر دی ۔۔۔3جولائی سے لیکر دس جولائی2007ء تک۔۔۔ لال مسجد میں تاریخ کے خوفناک ترین مظالم ڈھائے گئے۔۔۔ الحمدللہ والدین کی دعاؤں اور حضرت امیر محترم کی سرپرستی کی برکت سے یہ خاکسار تب سے لیکر آج تک۔۔۔ پرویز مشرف اور اس کی کابینہ کے افراد کو عدالتی طور پر سزا دلوانے کیلئے شہداء لال مسجد کے ورثا کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔۔۔

پرویز مشرف پر ایف آئی آر کٹ چکی ہے۔۔۔ جبکہ باقی21مجرموں کے خلاف ایف آئی آر کٹوانے کیلئے تھانہ آبپارہ میں درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔۔۔ مگر لال مسجد کے واقعہ کو بنیاد بنا کر کچھ لوگ۔۔۔ ایک دفعہ پھر فساد پر آمادہ ہو گئے۔۔۔ انہوں نے لال مسجد کا انتقام تو کیا لینا تھا۔۔۔ الٹا وہ متعددبے گناہ مسلمانوں کوذبح کر کے وحشیوں کی طرح بھنگڑے ڈالتے رہے۔۔۔ انہوں نے بھی’’نقاب پوشوں‘‘ کی جھولی میں بیٹھ کر۔۔۔ جیش محمدﷺ اور امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف انٹرنیٹ پروپیگنڈا کرنے کی انتہا کر دی وہ خود کو اصلی مجاہد اور جیش پرایجنسیوں کی پھبتی کستے رہے۔۔۔2007ء سے لیکر 2014ء تک انہوں نے کونسے جہادی کارنامے سرانجام دیئے؟ اس کی تفصیل تو ابھی تک امت مسلمہ کے سامنے نہیں آسکی۔۔۔ البتہ پچھلے دنوں ان کا یہ بیان منظر عام پر ضرور آگیا کہ ’’ اب وہ اپنی جہادی کارروائیاں صرف افغانستان تک محدود رکھیں گے۔۔۔ پاکستان میں صرف دعوت و تبلیغ کا کام کریں گے‘‘ توبہ توبہ، توبہ۔۔۔ پاکستان میں دعوت و تبلیغ کے کام کے ان ٹھیکیداروں سے کوئی پوچھے کہ جہادی کارروائیاں صرف افغانستان تک ہی کیوں؟ پاکستان میں کیوں نہیں؟

کیا اپنے اس بیان میں انہوں نے یہ بات تسلیم نہیں کر لی کہ جہاد پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان میںہو رہا ہے؟ستمبر2007ء سے  لیکر2014ء تک انہوں نے پاکستان میں جومارا ماری کی وہ جہادنہیں بلکہ فساد تھا۔۔۔

 ان کے نزدیک تو صرف کشمیر اور افغانستان میں جہاد کی بات کرنے والے تو ایجنسیوں کے لوگ ہوتے ہیں۔۔۔ اور اب وہ بھی پاکستان میں صرف دعوت و تبلیغ اور اصلاح کا کام کرنا چاہتے ہیں۔۔۔

قارئین محترم! اب میں یہاں پر سو جوتے اور سو پیاز کھانے کی مثال دے کر انہیں مزید شرمندہ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ لیکن میں الرحمت  کے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کارکنوں سے یہ گزارش ضرور کروںگا کہ۔۔۔ وہ اپنے امیر محترم کی صحت اور درازی عمر کی دعا ضرور مانگیں۔۔۔ اور چھوٹی موٹی باتیں دیکھ کر پریشان مت ہوا کریں۔۔۔ ان شاء اللہ جس جماعت کے امیر حضرت الشیخ مولانا محمد مسعود ازہر جیسے ہوں۔۔۔ وہ جماعت بہرحال کامیابیوں اور کامرانیوں کی منزل طے کرتی رہے گی۔۔۔ ان شاء اللہ

کاش کہ’’یار لوگ‘‘ 2007ء میں ہی امیر محترم کی بات پر یقین کرلیتے کہ قتال والا جہاد پاکستان نہیں بلکہ افغانستان اور کشمیر میں ہو رہا ہے۔۔۔ تو مجھے یقین ہے کہ آج وہ سو جوتے اور سو پیاز کھانے سے ضرور بچ جاتے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor