Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’محمد‘‘ نام کی عظمت (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 464 - Naveed Masood Hashmi - Muhammad Naam ki Azmat

’’محمد‘‘ نام کی عظمت

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 464)

بی بی سی سمیت عالمی ذرائع اِبلاغ میں نشر ہونے والی یہ خبر میرے سمیت ہر مسلمان نے نہایت دلچسپی سے سنی … ’’محمد‘‘نام انگلینڈ ویلز کے بعد اب ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں بھی سب سے مقبول نام بن چکا ہے۔

یادش بخیر چند سال قبل دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ملک امریکہ کے محکمہ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ جن افراد کے نام میں ’’محمد‘‘آئے گا … ان کو ویزہ کارروائی میںخصوصی تفتیش کا سامنا کرنا پڑے گا… اور پھر بہت سے ایسے واقعات میڈیا میں رپورٹ بھی ہوئے … جن کے مطابق … جن کے نام میں لفظ ’’محمد‘‘ آتا تھا، ان کو امریکہ میں انتہائی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا … امریکہ کے حکمران تو ’’محمد‘‘نام والے مسلمانوں کو تنگ کرکے یہ سمجھے تھے کہ شاید … مسلمان … امریکہ سے ڈر کر آئندہ اپنے ناموں کے ساتھ لفظ ’’محمد‘‘ کا اضافہ نہیں کریں گے… مگر ہوا اس کے برعکس … اس تازہ خبر نے ایک دفعہ پھر یہ بات ثابت کر دی … کہ مسلمان خواہ کسی رنگ ‘ نسل ‘ قوم ‘ زبان یا علاقے سے وابستہ کیوں نہ ہو … اس کیلئے سب سے بڑی نسبت ‘ اعلیٰ و ارفع شناخت آقا و مولیٰﷺ کا نام نامی اسم گرامی ہے۔

یہ امریکی اور یہود ی کس قدر بیوقوف ہیں … کہ انہوں نے ہر دور میں مسلمانوں کی اپنے پاک پیغمبرﷺ سے محبت کا غلط اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے … ان چودہ سو سالوں میں مشرق مغرب ‘ شمال و جنوب کے ہر کونے پر بسنے والے مسلمانوں نے یہود و نصاریٰ کی اس تاریخی غلط فہمی کو ہمیشہ اپنے عمل سے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی … آج کے دور کو بڑا ماڈرن اور جدید دور کہا جاتا ہے … یہود و نصاریٰ کے غلام نئے نئے ناموں کے ساتھ مسلمانوں میں … در آئے ہیں … کوئی اپنے آپ کو لبرل کہتا ہے تو کوئی سیکولر … اور کسی کو اپنے ماڈرن ہونے پر ناز ہے … اور ان سب کی تعلیمات یہی ہوتی ہیں کہ مسلمانوں کو جذباتیت کو چھوڑ دینا چاہیے … اگر کوئی گستاخ … نبی رحمت ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی بھی کرتا ہے … تو بھی مسلمانوں کو صبر کرنا چاہیے ‘ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

یہود و نصاریٰ اور ان کے غلاموں کی ان تمام تر کوششوں کے باوجود مسلمان خواہ کتنا بھی گنہگار ‘ خطاء کار اور سیاہ کار کیوں نہ ہو … وہ آج بھی اپنے پاک نبی کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کیلئے تیار نہیں ہے … اور ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ کسی بھی گستاخ رسول کو زمین پر زندہ رہنے کا حق نہیں دیا جاسکتا … حضرت جبیر بن مطعمؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺسے سنا ‘ آپﷺ فرما رہے تھے ’’میرے بہت سے نام ہیں ‘ میں محمد ہوں ‘ میں احمد ہوں ‘ میں ماحی (مٹانے والا) ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعے سے کفر کو مٹائے گا … میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں کہ جس کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔’’ (بخاری’ مسلم)

رحمت عالم ﷺ کے مبارک ناموں میں سے ہر ایک نام کے اندر معانی و مفاہیم کا ایک جہان آباد ہے … ان مقدس ناموں کی برکتیں دنیا پر سوا چودہ سو سالوں سے جاری و ساری ہیں۔

’’محمد‘‘ کا مطلب ہے جس ذات کی بے حد تعریف کی گئی ہو … جسے دنیا میں سب سے زیادہ چاہا گیا ہو … امریکہ نے ’’محمد‘‘نام والے لوگوں کو پریشان کرکے کوئی نیا کام نہیں کیا … بلکہ چودہ سو سالوں سے کفریہ طاقتیں حسد اور جلن کی بنیاد پر یہی کچھ کرتی رہی ہیں ‘ یہ یہود و نصاریٰ اور ان کے غلام عجب گھٹیا بیماری میں مبتلا نظر آتے ہیں ‘ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے وہ محمد کریم ﷺ کی عزت و حرمت میں کوئی کمی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے … مگر ان بدبختوں کو اس بات کا علم نہیں ہے … کہ محمد ﷺ نام کا کمال دیکھئے … کائنات میں اللہ کے بعد جس ہستی کی سب سے زیادہ تعریف و منقبت بیان کی گئی ہے … وہ آپ ﷺ ہی کی ذات گرامی ہے۔

قرآن مقدس کو نازل ہوئے چودہ سو پینتیس سال گزر چکے ہیں … قرآن کریم محمد کریم ﷺ کی تعریف سے بھرا پڑا ہے … کائنات کے ذرے ذرے پر جب تک قرآن پاک کی تلاوت ہوتی رہے گی … آپﷺ کی تعریف و منقبت بھی ساتھ بیان ہوتی رہے گی … ان چودہ صدیوں میں مجھے روئے زمین کا کوئی ایک تو ایسا خطہ ‘ ایسا علاقہ ‘ ایسا شہر ‘ ایسا صوبہ ‘ ایسا ملک یا ایسا براعظم … کوئی بتائے کہ جہاں آقا و مولیٰ کی تعریف نہ کی گئی ہو؟ بلکہ دنیا میں جہاں انسان نہیں بستے ‘ صرف درخت یا جنگل پائے جاتے ہیں … میرا ایمان ہے کہ وہ درخت اور جنگل بھی آقا و مولیٰﷺ پر درود بھیجتے ہیں…

علامہ شرف الدین بوصیری ’’قصیدہ بردہ’’ شریف میں کیا خوب فرماتے ہیں کہ…

’’آپﷺ اپنی خوبیوں میں اور کمالات میں یکتا ہیں اور ان میں آپ ﷺ کا کوئی شریک نہیں … آپﷺ کا حسن و کمال صرف آپﷺ میں ہی ہے … جیسے تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

اللہ کے رسول ﷺ کے اوصاف کی کوئی حد نہیں کہ کوئی انسان اس کا مکمل اظہار کرسکے‘ آپﷺ کے بارے میں ہم یہی جانتے ہیں کہ آپﷺ بشر ہیں … اور اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر اور افضل‘‘۔

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جب ہم اپنے بیٹے کا نام ’’محمد‘‘ رکھیں گے … اور پھر کسی موقع پر ڈانٹ ‘ ڈپٹ سے کا م لینا پڑگیا تو پھر ہم اس نام کو لے کر کیسے برا بھلا کہہ سکتے ہیں؟ بلاشبہ یہ شبہ بھی اہل ایمان کی سرکار دو عالم ﷺ سے محبت کی علامت ہے … لیکن یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ’’محمد‘‘ نام رکھنے کی اجازت خود حضرت نبی اکرم ﷺ سے صحیح احادیث میں ثابت ہے۔

صحیح بخاری میں یہ حدیث پاک موجود ہے کہ (لوگو میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت (ابو القاسم) اختیار نہ کرو! (یاد رہے کہ یہ کنیت کی ممانعت بھی رسول کریمﷺ کی حیات طیبہ کی تک مخصوص تھی، کیوں کہ اس طرح بات کرتے وقت جب کسی کو اس کنیت سے خطاب کیا جاتا تو پتہ نہ چلتا کہ بلانے والا ’’ابوالقاسم‘‘ کہہ کر حضورﷺ کو بلا رہا ہے یا کسی اور کو؟ چنانچہ حضورﷺ کے انتقال کے بعد اب آپ والی کنیت رکھنا بھی جائز ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor