Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جھوٹ کا طوفان (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 465 - Naveed Masood Hashmi - Jhoot ka toofan

جھوٹ کا طوفان

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 465)

آج پاکستانی معاشرہ جس طرح سے جھوٹ کی دلدل میں دھنستاچلا جارہا ہے وہ انتہائی افسوسناک بھی ہے اور المناک بھی‘ ہر پاکستانی دوسرے پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرتا ہے اور یہ ہے بھی حقیقت‘ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا شعبہ یا محکمہ بچا ہو کہ جس کے بارے میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جاسکے کہ اس شعبے میں جھوٹ نہیں بولا جارہا ہے۔

استاد‘ شاگردوں کے بارے میں شاکی ہے کہ وہ جھوٹ بہت بولتے ہیں‘  شاگرد استادوں کو جھوٹ بولنے کا ماہر قرار دیتے ہیں‘ سیاست دان عوام سے جھوٹ بولتے ہیں اور عوام ایک دسرے سے جھوٹ بول بول کر ...حکمرانوں اور سیاست دانوں پر آئے ہوئے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘ ہمارا میڈیا کہ جس کو ’’آئینہ‘‘ ہونے کا دعویٰ ہے ... اس کے جھوٹا ہونے میں تو کسی کے شک کرنے کی بھی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔

مذہبی رہنمائوں کی زندگیوں کو دیکھیں تو وہاں بھی جھوٹ ہی جھوٹ نظر آئے گا‘ ظلم تو یہ ہے کہ وہ منبر و محراب کہ جہاں سے سچ بولنے کا درس دیا جاتا تھا... اب وہاں بھی سچی بات چھپانے کو حق سمجھا جاتا ہے ‘ پاکستانی معاشرہ جس تیزی کے ساتھ ’’جھوٹ‘‘ کے طوفان میں پھنستا چلا جارہا ہے۔ اگر اس کے سامنے بند تعمیر نہ کیا گیا تو ہمارا معاشرہ اخلاقی پستیوں کی گہرائی میں گرتا چلا جائے گا‘ اس معاشرے کی بربادیوں پر کیا شک کیا جاسکتا ہے کہ جس معاشرے میں باپ‘ بیٹے سے جھوٹ بولے اور بیٹا باپ سے‘ شوہر بیوی سے جھوٹ بولے اور بیوی شوہر سے... حتیٰ کہ جس معاشرے میں لیڈر بھی جھوٹے ہوں‘ حکمران بھی جھوٹے ہوں...دانشور اور تجزیہ نگار بھی جھوٹے ہوں‘ کالم، نگار اور خطیب بھی جھوٹے ہوں‘ دوکاندار اور تاجر بھی جھوٹے ہوں‘ جج اور وکیل بھی جھوٹے ہوں‘ صنعت کار اور مزدور بھی ایک دوسرے سے جھوٹ بول رہے ہوں۔ جس معاشرے سے ’’سچ‘‘ کا جنازہ اٹھ جائے... اور جھوٹ اپنی تمام تر لعنتوں کے ساتھ براجمان ہو جائے... وہ معاشرہ نہ دنیا میں ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی اس معاشرے میں بسنے والے لوگ آخرت میں فلاح پاسکتے ہیں۔

کیا کبھی کسی باپ‘ کسی استاد‘ کسی پیر‘ کسی ایڈیٹر‘ کسی دانشور‘ تجزیہ نگار‘ کسی سیاستدان‘ کسی جج‘ کسی تاجر یا کسی صنعت کار یا حکمرانوں نے کبھی اس بات کی کوشش کی کہ پاکستان میں سچائی کا بول بالا ہونا چاہیے ؟ یہ سارے کیا سوچتے ؟یہاں تو مذہبی پیشوا بھی اس احساس سے دور ہوتے چلے گئے... پاکستان میں جھوٹ کا اک طوفان برپا ہے‘ جھوٹ بولتے ہوئے نہ کسی کو شرم آتی ہے اور نہ ہی کوئی حیاء محسوس کرتا ہے‘ بلکہ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ پاکستانی معاشرے میں جھوٹ بولنا اک آرٹ اور فیشن بن چکا ہے تو یقیناً غلط نہ ہوگا۔

کاش کہ پاکستانی قوم اس بات کو سمجھ لے کہ جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا بدترین جرم ہے‘ اور قرآن کریم میں جھوٹ بولنے والوں پر اللہ پاک نے لعنت کی ہے۔ ارشاد خداوندی ملاحظہ کیجئے۔ ’’ پس اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اُن پر کہ جو جھوٹے ہیں‘‘ (سورہ آل عمران آیت 61)

جو لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ جھوٹوں پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے پھر بھی ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں ان کی شقاوت قلبی اور سیاہ بختی کا عالم کیا ہوگا؟ نبی رحمتﷺ کا ارشاد  گرامی ہے کہ ’’ جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو اس کے جھوٹ کی وجہ سے رحمت کا فرشتہ اس سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔‘‘ (ترمذی)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’سچ کو اختیار کرو‘ اس لئے کہ سچ بولنا‘ نیکی کی طرف لے جاتا ہے... اور نیکی جنت تک پہنچا دیتی ہے اور آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کا متلاشی رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اس کا نام صدیقین میں لکھ دیا جاتا ہے... اور جھوٹ سے بچتے رہو‘ اس لئے کہ جھوٹ فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے... اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کو تلاش کرتا رہتا ہے تاآنکہ اللہ کے نزدیک اس کا نام جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے‘ پیغمبررحمتﷺ نے تو مذاق میں بھی جھوٹ بولنے سے ممانعت فرمائی ہے‘ بلکہ ایسے شخص کے لئے تین مرتبہ بدعا فرمائی ہے۔

فرمان رسولﷺ ہے کہ ’’جو شخص لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولے اس کے لئے بربادی ہو بربادی ہو۔ (مشکوٰۃ شریف)

ان احادیث مبارکہ کو پڑھنے کے بعد میرے سمیت ہر شخص اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے کہ کہاںو ہ کھڑا ہے؟ اللہ ہمیں معاف فرمائے‘ آج ہمارا معاشرہ سچائی سے قطعی طور پر ناآشنا ہوتا جارہا ہے... دوستوں کی محفلیں ہوں‘ یا دشمنوں کی مجلسیں‘ گھروں کی پنچائیت ہوں یا دفتروں میں لگنے والی محفلیں... ہر جگہ جھوٹ کا کاروبار ہو رہا ہے‘ تھوک کے حساب سے جھوٹ بولا جارہا ہے‘ جھوٹی باتیں گھڑ گھڑ کر پھیلائی جاتی ہیں، جھوٹی افواہیں پھیلانے میں ہمارے میڈیا کو تو کمال حاصل ہے... صرف مذاق ہی مذاق میں ہنسنے اور ہنسانے کے لئے ایسا ایسا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ الامان و الحفیظ۔

اللہ کے بندو! ذرا سوچو تو سہی کیا ہم نے مرنا نہیں ہے ؟جس اللہ نے قرآن پاک میں جھوٹ بولنے والوں پہ لعنت بھیجی ہے‘ ہم اس رب کریم کے سامنے کس منہ سے جائیں گے؟

حضرت محمد کریمﷺ نے جھوٹ بولنے سے منع فرمایا اور سچ بولنے کا حکم دیا... کل قیامت کے دن ہم رسول اللہﷺ کا سامنا کیسے کر پائیں گے؟

’’جھوٹ‘‘ نے ہمارے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے‘ ’’جھوٹ‘‘ نے ہماری معاشرتی اقدار کو تباہ کر دیا ہے؟ ’’جھوٹ‘‘ نے ہمارے خاندانی سسٹم کو ہلا کر رکھ دیا ہے ’’جھوٹ‘‘ نے ماں‘ باپ اور اساتذہ کے احترام کو مٹی میں ملا دیا ہے‘ جھوٹ نے ’’دوستی‘‘ کے معیار کو گالی بنا کر رکھ دیا ہے... جھوٹ کہ جس کو تمام برائیوں کی جڑ کہا جاتا ہے... جب اسے معاشرے میں ’’برائی‘‘ ہی نہیں سمجھا جائے گا تو پھر معاشرے کی زبوں حالی اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔ نبی مکرمﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’منافق کی تین (خاص) نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب اسے امین بنایا جائے تو اس میں خیانت کرے۔ (بخاری شریف)

یا اللہ! ہمیں معاف فرما دے... ہمیں سچ بولنے کی طاقت عطا فرما دے‘ جھوٹ بولنا تو منافق کی علامت ہے۔ یا اللہ! ہمیں منافقت کی اس نشانی سے نجات عطا فرما دے۔ (آمین)

نبی مکرمﷺ نے ’’سچ‘‘ بولنے کو ان اعمال میں شمار فرمایا ہے جو محبتِ خدا اور محبتِ رسولﷺ کی نشانی ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرے اور اللہ اور اسکا رسولﷺ اس سے محبت کریں‘تو وہ جب بولے، سچ بولے... اور جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو اسے ادا کرے ‘ اور اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتائو کرے۔ (بیہقی فی شعب الا ایمان)

نجانے لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ جھوٹ بولنے سے عزت میں اضافہ ہوتا ہے‘ یا جھوٹ بولنے سے کاروبار میں ترقی ہوتی ہے؟ حالانکہ جھوٹ بولنے سے نہ کاروبار میں ترقی ہوتی ہے اور نہ ہی عزت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ جھوٹ تو بدنامیوں اور رسوائیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں گراتا چلا جاتا ہے۔

خرید و فروخت کے وقت جھوٹ بولنے والے‘ گاہکوں کو نبھانے کی خاطر جھوٹ بولنے والے‘ قطعاً اس بات کا احساس نہیں کرتے کہ وہ ایک خوفناک گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں‘ محض چند روزہ نفع کے لئے آخرت کی رسوائیوں کو خرید لینا کہاں کی عقلمندی ہے؟ نبی کریمﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ ’’اکثر تاجر قیامت کے دن فاجروں کی صف میں اٹھائے جائیں گے... مگر وہ تاجر جو اللہ سے ڈرے‘ نیکی کرے اور سچ بولے۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف)

تجارت سے وابستہ حضرات اگر جھوٹ سے توبہ کرکے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے سچائی اور دیانتداری کو شعار بنائیں تو اللہ تعالیٰ دنیا میں بے حساب برکت عطا فرمائے گا...اور آخرت میں بھی ان کا حشر حضرات  انبیاء صدیقین‘ شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔

جھوٹ بولنے والا وقتی طور پر جھوٹ بول کر اگر کسی جگہ بچ بھی جائے تو پھر بھی آگے چل کر کسی نہ کسی مصیبت میں ضرور گرفتار ہو جاتا ہے۔العیاذ باللہ تعالیٰ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor