Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ایران میں دہشت گردی کے کیمپ (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 432 - Naveed Masood Hashmi - Iran mein Dehshat gardi k camp

ایران میں دہشت گردی کے کیمپ؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 432)

مفتی عثمان یار خان کی شہادت کے تیسرے دن جامعہ دارالخیر میں منعقدہ اجلاس میں مسلک دیوبند کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی مقامی قیادت کے علاوہ اکثر بڑے دینی مدارس کے نمائندے بھی موجود تھے…علمائے کرام کراچی میں دینی مدارس کے طلباء،اہلسنت کارکنوں اور علمائے کرام کی بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اجلاس میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے…مذہبی جماعتوں کے قائدین اور مدارس کے اکابرین کی آراء سن کر یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہ تھا کہ اہلسنت سے تعلق رکھنے والے علماء کرام ،طلباء دینی مدارس اور عام کارکن کراچی میں کس خطرناک صورتحال سے دو چار ہیں… اور اکثر کو ہر وقت یہ دھڑکا لاحق رہتا ہے کہ شاید اب اگلا نمبر اسی کا ہو… اجلاس میں علامہ اورنگ زیب فاروقی،قاری عثمان، شیخ الحدیث مولنا نور الھدی،مولنا مفتی نعیم، قاری اللہ داد، مولنا قاری عبد المنان، قاری بشیر نقشبندی، مولنا اقبال صاحب اپنی قیمتی رائے کا اظہار کر چکے تو اسٹیج سیکرٹری نے اس خاکسار کو بھی اپنی رائے کے اظہار کی دعوے دے دی…اس خاکسار نے اپنی گزارشات میںعرض کیا کہ :

 

’’میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے علماء کو اس طرح کی پریشانی میں مبتلا چھوڑ آیا تھا جس طرح کی پریشانی میں آج کراچی کے دینی مدارس کے اکابرین،،علماء اور اہلسنت کارکنوں کو مبتلا دیکھ رہا ہوں…اجلاس میں مختلف بزرگوں کی آراء سن کر یہ خیال شدت سے قلب و ذہن میں جڑ پکڑ رہا ہے کہ کراچی کے طلباء و علماء اور اہلسنت عوام کو کسی مفتی احمد الرحمن کی تلاش ہے…

جس دن آپ سب نے مل کر اپنے اندر سے کسی مفتی احمد الرحمن کو تلاش کر کے اس کے پیچھے چلنے کا اعلان کر دیا… تو کراچی میں اہلسنت عوام کی یتیمی کے آثار ختم ہونا شروع ہو جائیں گے…اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ کراچی میں اہلست عوام اور کارکنوں کا قتل عام ہو رہا ہے…دینی مدارس کے طلباء کو گولیوں سے بھونا جا رہا ہے…صرف جامعہ احسن العلوم گلشن اقبال کے چودہ طلباء کو چودہ مہینوں کے اندر شہید کر دیا گیا ہے…مدارس پر رینجرزچھاپے بھی مار رہی ہے…پولیس اور سی آئی ڈی والے مکتبہ دیوبند کے بے گناہ فرزندان کو گھروں،مسجدوں اور مدرسوں سے اٹھوا کر …غائب کر دیتے ہیں…اور چند دن بعد انہیں جعلی پولیس مقابلوں میں مار کر حکومت سے تمغے اور میڈیا سے داد وصول کر لیتے ہیں…کراچی میں آئے روز جید علماء کرام کو سڑکوں اور چوراہوں پر شہید کیا جا رہا ہے…جب کہ الیکٹرانک چینلز کے ذریعے مظلوم اہلسنت کے خلاف کمپین بھی چلائی جا رہا ہے…کیا یہ ساری خوفناک صورت حال اکابرین اور قائدین سے اس بات کا تقاضہ کرنے کے لئے کافی نہیں ہے کہ وہ اپنے طلباء،علماء اور کارکنوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے جاندار عملی پالیسیوں کا اعلان کریں…اس خاکسار نے اکابرین کی خدمت میں بڑی دردمندی کے ساتھ عرض کیا کہ حضرات علماء کرام!اگر اسلام دشمنوں نے ہمیں مارنے کی ٹھان ہی لی ہے تو پھر بے بسی سے مرنے سے بہتر ہے کہ عزت و افتخار اور ایک نرالی شان کے ساتھ تو مریں…اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو گا کہ بعض افراد اپنی جان اور مدرسے بچانے کے لئے لندن کی پناہ گزیں ’’پیر مغان‘‘ کی بے جا تعریفیں کرنے پر مجبور ہیں…

اجلاس کے دوران…ممتاز حق گو عالم دین علامہ اورنگ زیب فاروقی نے پڑوسی ملک ایران کے حوالے سے کافی انکشاف انگیز گفتگو کی…وہ گفتگو اس وقت تو شاید کسی کی سمجھ میں اتنی نہ آئی ہو…لیکن تمام مذہبی جماعتوں کے اس مشترکہ اجلاس کے چھ دن بعد ہی سی آئی ڈی کاؤنٹرٹیرا رزم یونٹ کے ایس ایس پی راجہ عمر خطاب کی دھماکہ خیز پریس کانفرنس نے سب کی آنکھیں کھول ڈالیں…

ایس ایس پی عمر خطاب کے مطابق ’’سی آئی ڈی پولیس نے گلستان جوہر میں کارروائی کر کے کالعدم تنظیم کے جن دو خطرناک ٹارگٹ کلرز جوھر حسین اور ارشاد حسین کو گرفتار کیا ہے…انہوں نے پڑوسی ملک ایران سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کر رکھی ہے…ایس ایس پی سی آئی ڈی کہتے ہیں کہ کالعدم شیعہ تنظیم کے گرفتار ٹارگٹ کلرز  نے گروپ کی نشاندہی کی ہے…اس گروپ کے ٹارگٹ کلرز چند برسوں کے دوران شہر میں سینکڑوں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی کاروائیاں کر چکے ہیں…انہوں نے کہا کہ دونوں گرفتار دہشت گرد کراچی میں مفتی عبد المجید دین پوری ؒ سمیت ساٹھ سے زائد علماء و دیگر اہلسنت کے افراد کے قتل میں ملوث ہیں…‘‘

 دوسری طرف کراچی کے ایک بڑے اخبار میں چھپنے والی ایک رپورٹ نے تو پاکستانی قوم کے ہوش اڑا کر رکھ دئے ہیں…رپورٹ کے مطابق’’ان دہشت گردوں نے تفتیش کے دوران تفتیشی اداروں کو بتایا کہ پاکستان میں محفوظ تربیتی کیمپ نہ ملنے کے بعد کالعدم تنظیم اپنے دہشت گردوں کو ٹارگٹ کلنگ کے لئے اہداف بھی وہیں موجود ٹارگٹ کلرز جاری کرتے ہیں…رپورٹ کے مطابق پڑوسی ملک سے تربیت لے کر آنے والے ریلیوں اور جلسوں میں کوریج کے بہانے اپنے مخصوص ٹارگٹ کی تصویریں بناتے ہیں…اور اس کے بارے میں معلومات اکھٹی کرتے ہیں…رپورٹ کے مطابق یہ ایرانی تربیت یافتہ قاتل محض 25ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کالعدم تنظیم کے اہداف پورے کرتے ہیں جب کہ ٹارگٹ مکمل ہونے پر انہیں 50ہزار روپے انعام الگ سے دیا جاتا ہے…رپورٹ کے مطابق کراچی کے چھ علاقوں میں کالعدم تنظیم کے نیٹ ورک کام کر رہے ہیں…تاہم ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے مرکزی نیٹ ورک رضویہ سوسائٹی سے چلایا جا رہا ہے…جہاں ایران میں موجود دہشت گردوں کے مقامی ایجنٹ موجود ہیں…کالعدم تنظیم کے دہشت گرد کراچی کی رافضی آبادیوں میں پناہ لیتے ہیں…اور دہشت گرد تنظیم میں ہر سال رافضی نوجوانوں کی مزید بھرتیاں بھی کرتے ہیں…ایس ایس پی سی آئی ڈی عمر خطاب کے مطابق …اہلسنت والجماعت کے مولنا اورنگ زیب فاروقی کو ٹارگٹ کرنے پر ایران میں موجود دہشت گردوں کی قیادت نے 20لاکھ روپے انعام بھی رکھا تھا…ایران سے آئے ہوئے دہشت گردوں نے گلشن اقبال میں کارروائی کر کے انہیں نشانہ بنایا مگر…مولنا اورنگ زیب فاروقی تو زخمی ہو کر زندہ بچ گئے…مگر ان کے دو ذاتی گارڈز سمیت کئی پولیس والے جاں بحق ہوئے‘‘

ایس ایس پی عمر خطاب کی پریس کانفرنس سن کر اور ایک معاصر اخبار میں چھپنے والی اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ پڑھ کر…ایک محب وطن پاکستانی یہ سوچتے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ غیر ملکی طاقتیں ہر قیمت پر پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے پر تلی بیٹھی ہیں…ایس ایس پی سی آئی ڈی عمر خطاب کی اس انکشاف انگیز پریس کانفرنس کے بعد…کراچی سمیت ملک بھر میں اہلسنت والجماعت کے علماء اور لاکھوں کارکنوں نے ایران کے خلاف باقاعدہ احتجاج شروع کر دیا…اس حوالے سے پہلے 26جنوری اور پھر 31جنوری کو ملک بھر میں پڑوسی ملک کے خلاف یوم احتجاج کے طور پر منایا گیا…

31جنوری کو تو کلفٹن کراچی میں واقع ایرانی قونصلیٹ کی طرف جانے والے تمام راستے اور سڑکیں کنٹینرز لگا کر بند کر دی گئیں…اہلسنت کا احتجاج روکنے کے لئے ضلع جنوبی میں دفعہ 144کا نفاذ کر دیا گیا…مگر اس کے باوجود کراچی گرومندر اور اسلام آباد میں ہزاروں اہلسنت کارکنوں نے …پاکستان میں سنی علمائے کرام اور اہلسنت کارکنوں کے خلاف ایران کے ٹریننگ کیمپوں میں دہشت گردوں کو تیار کرنے کے خلاف زبردست مظاہرے کیے…یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 29جنوری کو ایرانی قونصل خانے کی طرف سے میڈیا کو ایک بیان جا ری کیا گیا …اس بیان میں ایران کی طرف سے یہ کہا گیا کہ ’’ایران کے خلاف میڈیا پر آنے والے بیانات بے بنیاد ہیں…یہ بیانات اور الزامات فرقہ واریت کی اصل وجہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں…بیان کے مطابق ایران مسلمانوں میں اچھے تعلقات کو فروغ دیتا چلا آیا ہے…اور مسلم امہ میں تفرقے سے صرف مسلم دشمن قوتوں ہی کو فائدہ ہو گا‘‘ …

سوال یہ ہے کہ ایران پر صرف کراچی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام کسی مولوی،پیر یا سنی عالم دین نے نہیںلگایا،ایران میں واقع دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپوں کی نشاندہی بھی کسی…مذہبی جماعت کے لیڈر نے نہیں کی…

بلکہ…کراچی میں60سے زائد علماء اور سنی کارکنوں کے دو گرفتار قاتلوں نے پولیس کی تفتیش میں یہ انکشاف کئے ہیں…اور پولیس کی تفتیش میں یہ انکشاف کئے ہیں…اور سی آئی ڈی پولیس کے اعلی آفیسر نے یہ الزامات پریس کانفرنس میں ثبوتوں کے ساتھ دوہرائے ہیں…اگر ایرانی سفارت خانے کا موقف درست مان لیا جائے تو پھر ایس ایس پی سی آئی ڈی راجہ عمر خطاب کو جھوٹا ماننا پڑے گا…یاد رہے کہ سی آئی ڈی کے یہ آفیسر مقتول چوہدری اسلم ہی کی طرح بہادر اور فرض شناس تصور کئے جاتے ہیں…

کالعدم تنظیموں کے خلاف ان کی سخت ترین کاروائیاں گزشتہ دس سالوں سے اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں…اگر ایران کے خلاف عمر خطاب کے انکشافات غلط ہیں…تو پھر ان کی دیگر کاروائیاں درست کیسے تسلیم کی جا سکتی ہیں…

حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر سی آئی ڈی ایس ایس پی کی طرف سے ایران کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کا نوٹس لے…اگر وہ الزامات صحیح ہیں تو پھر اعلی سطح پر ایران کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروانے کے علاوہ …ایران کی سرزمین پر موجود کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کر کے …پاکستان میں قتل و غارت کروانے کے لئے ایران میں قائم ٹریننگ کیمپوں کو فی الفور بند کرنے کا مطالبہ بن کرے…اور اگر ایک ذمہ دار پولیس آفیسر نے ایران پر غلط الزامات لگائے ہیں…تو اس پولیس آفیسر کا سخت ترین محاسبہ کرے…یہ وقت بہت نازک اور بروقت فیصلوں کا ہے…اگر حکومت پاکستان نے بروقت صحیح فیصلے نہ کئے…تو پاکستان میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کو روکنا کسی کے اختیار میں نہیں رہے گا…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor