Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شراب، خانہ خراب (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 466 - Naveed Masood Hashmi - Sharab khana kharab

شراب، خانہ خراب

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 466)

سورہ مائدہ میں ارشاد خداوندی ہے:

 (ترجمہ) ’’ اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت اور جوئے کے تیر ‘ یہ سب گندی باتیں ‘ شیطانی کام ہیں ‘ سو اس سے بالکل الگ رہو … تاکہ تم فلاح پاسکو ‘ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کرے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نما زسے تمہیں غافل رکھے‘ سو کیا اب بھی بازنہ آئو گے؟‘‘

اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے شراب کو قطعی طور پر حرام قرار دیا‘ رسول کریم ﷺ نے شراب کے بارے میں عذاب کی سخت ترین وعیدیں ارشاد فرمائیں … آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ  کہ شراب ام الخبائث اور ام الفواحش ہے ‘ اس کو پی کر انسان برے سے برے گناہ کا مرتکب ہوسکتا ہے … ایک حدیث مبارکہ میں پیغمبر مصطفی ﷺؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’شراب اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے‘‘ حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ‘ -1 شراب بنانے والا -2 نچوڑے والا -3 پینے والا-4 پلانے والا-5 اس کو لاد کر لانے والا ‘-6 جس کیلئے لائی جائے -7 اس کا بیچنے والا-8 خریدنے والا-9 اس کو پیدا کرنے والا-10 اس کی آمدنی کھانے والا (جامع ترمذی)

جب تک شراب کی حرمت نہیں آئی تھی … تو شراب مدینہ میں بھی پی جاتی تھی … حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب شراب کو حرام قرار دیا گیا … تو حضورﷺ  کے منادی نے مدینہ کی گلیوں میں یہ آواز لگائی کہ مسلمانو! شراب حرام کر دی گئی ہے‘ تو جس کے ہاتھ میں جو برتن شراب کا تھا اس نے اس کو وہیں پھینک دیا جس کے پاس کوئی سبو یا خم شراب کا تھا اس کو گھر سے باہر لاکر توڑ دیا ‘ بعض روایات میں آتا ہے کہ اعلان حرمت کے وقت جس کے ہاتھ میں جام شراب لبوں تک پہنچا ہوا تھا اس نے وہیں سے اس کو پھینک دیا ‘ مدینہ میں اس روز شراب اس طرح بہہ رہی تھی … جیسے بارش کا پانی بہہ رہا ہو۔

صحابہ کرامؓ نے فرمانبرداری کرتے ہوئے … اللہ کے نبی ﷺ کے حکم پر آنا ً فاناً نہ صرف یہ کہ شراب کو ترک کر دیا … بلکہ اس کاروبار سے منسلک حضرات نے حکم رسولؐ کی بجاآوری میں اس کے کاروبار پر بھی لعنت بھیج دی … حکم الٰہی اور فرمان نبویؐ نے ان کی عادات میں ایسا عظیم الشان انقلاب پیدا کیا کہ انہیں شراب اور جوئے سے شدید نفرت ہوگئی۔

پاکستان بننے سے قبل متحدہ ہندوستان میں ہندوں ‘ سکھوں اور دیگر اقوام میں شراب بھی عام تھی اور جوا بھی عام تھا …  متحدہ ہندوستان میں گائے کے ذبح کرنے پر پابندی تھی … مسلمان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ایک طویل جدوجہد کے بعد …14 اگست 1947 ء کو لاکھوں بچے ‘ بوڑھے ‘ جوان‘ عورتیں اور مرد شہید کروانے کے بعدبالآخر پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کرلیا … پاکستان اسلامی نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا… اور لاکھوں جانیں پیش کرنے والوں نے انگریز سے آزادی اس لئے حاصل کی تھی کہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہوگا ‘ یہاں شراب‘ جوئے اور دیگر حرام کاموں پر مکمل پابند ی ہوگی۔

پاکستانی قانون میں شراب پر پابندی عائد بھی ہے … لیکن اس کے باوجود دن بدن پاکستان میں شراب کا کاروبار بڑھتا چلا جارہا ہے ‘ کچھ عرصہ قبل بعض شدت پسند سیکولرز نے اسلام آباد میں ایک اجلاس میں حکومت سے باقاعدہ طور پر یہ مطالبہ کیا کہ پاکستان میں شراب پر سے پابندی ہٹائی جائے۔

دارالحکومت اسلام آباد ہو ‘ لاہور ہو ‘ پشاور ہو ‘ کراچی ہو یا ملک کے دیگر بڑے شہر شراب نوشی کرنے والوں میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ‘ کہیں کچی شراب ‘ کہیں دیسی شراب اور کہیں بدیسی شراب ‘ اس عید الاضحی کے موقع پر کچی شراب پینے والے 29 افراد موت کے منہ میں جاپہنچے ‘ کراچی میں کچی شراب پی کر مرنے والوں کی اکثریت مسلمان تھی۔

جس  شراب کو مذہب اسلام نے حرام قرار دیا ہے ‘ شراب بنانے والے ‘ پینے والے ‘ شراب کا کاروبار کرنے والے ‘ اس کی آمدنی کھانے والے ‘ شراب کو تحفے میں دینے والوں پر محسن عالم ﷺ نے لعنت فرمائی ہے… ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی … اور مسلم لیگ ن کی حکومت … اس شراب کے ہر قسم کے کاروبار پر مکمل پابندی عائد کر دیتی ‘ لیکن قومی اسمبلی اور حکمرانوں کی منافقت ملاحظہ کیجئے ‘ جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی محترمہ آسیہ ناصر نے 6 مئی2014 ء کو دیگر15 ارکان کے ساتھ مل کر قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا ‘ جن میں مسلم لیگ (ن) کی مسیحی رکن قومی اسمبلی نیلس عظیم ‘ مسلم لیگ (فنکشنل) کی ہندو رکن ریتا ایشور اور مسلم لیگ (ن) کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار بھی شامل تھے ‘ اس بل میں آئین کے آرٹیکل37 کی ذیلی شقH میں ترمیم پیش کی گئی ‘ جس کے تحت آئین کی اس شق سے غیر مسلم اور مذہبی مقاصد کا لفظ حذف کرنے کیلئے کہا  گیا تھا ‘ اس بل کا مقصد پاکستان میں شراب کے استعمال پر پابندی کا دائرہ غیر مسلموں تک وسیع کرنا تھا ‘ جمعیت علماء اسلا م کی اقلیتی رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر  کا استدلال یہ تھا کہ  عیسائیت سمیت پاکستان میں کسی بھی اقلیتی مذہب کی رسومات میں شراب پینے کی اجازت نہیں ہے بلکہ شراب نوشی سے ملک میں سماجی برائیاں بڑھتی ہیں … اقلیتوں کی آڑ میں شراب کی فروخت درست نہیں ‘ شراب کوئی اور استعمال کرتا ہے … جبکہ بدنامی اقلیتوں کے حصے میں آتی ہے … شراب پر مکمل پابندی لگوانے کے حوالے سے پیش کیا جانے والا اقلیتی رکن اسمبلی کا بل وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور آفتاب شیخ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا… مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی کہ جس کی عمارت کی پیشانی پر کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ درج ہے ‘ اس قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وہ بل یہ کہہ کر مسترد کر دیا … کہ ’’اس ترمیم کی منظوری سے دنیا بھرمیں پاکستان کی بدنامی ہوگی۔‘‘

جمعیت علماء اسلام کی مسیحی رکن اسمبلی آسیہ ناصر نے بڑے دکھی لہجے میں بتایا کہ ’’قائمہ کمیٹی کی اس بات سے مجھے بہت صدمہ ہوا ہے کہ شراب پر پابندی سے ملک کی بدنامی ہوگی … آئین کی اس شق سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے عیسائی مذہب نے ہمیں شراب پینے کی اجازت دے رکھی ہے … حالانکہ ہمارے مذہب میں شراب نوشی کی قطعاً اجازت نہیں ہے اور بائبل مقدس میں اس کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے ‘ لیکن آئین کے آرٹیکل37 کی ذیلی شقH میں لکھا ہے کہ نشہ اور مشروبات کے استعمال کی اجازت صرف طبی مقاصد کیلئے ہوگی یا غیر مسلم اپنی مذہبی رسومات میں استعمال کرسکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسیحی مذہب سمیت ہندو سکھ اور بدو مت میں بھی ایسی مذہبی رسم نہیں جس میں شراب کے استعمال کا حکم دیا گیا ہو … اس لئے ہماری گزارش ہے کہ اس شق میں سے ’’غیر مسلموں کی مذہبی رسومات‘‘ کے جملے کو حذف کیا جائے … یہ جملہ امتیازی ہے اور اس  سے یہ سمجھا جاتاہے کہ پاکستان میں اقلیتیں شراب پیتی ہیں۔

انہوںنے سوال اٹھایا کہ ہر سال حکومت پاکستان 12 ارب روپے سے زائد کا ریونیو محض شراب کی فروخت سے حاصل کرتی ہے ‘ کیا یہ قیمتی اور مہنگی شرابیں صرف ’’اقلیتی برادری‘‘ ہی استعمال کرتی ہے؟ ہمارے مذہب نے جس شراب کو حرام قرار دیا ہے اس کی فروخت کو ہماری آڑ لیکر قانونی قرار دیا جائے یہ درست نہیں ہے اگر ایک غلطی برسوں سے چلتی چلی آرہی ہے تو کیا اسے ہم کبھی درست نہیںکریں گے؟ یہ ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی ‘کہ جو شراب ‘ صرف مذہب اسلام ہی نہیں بلکہ عیسائیت میں بھی حرام ہے … اس قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے یہ کہتے ہوئے میڈیم آسیہ ناصر  کے پیش کردہ بل کو مسترد کر دیا کہ ’’اگر اس طرح کی کوئی پابندی عائد کی گئی تو پاکستان کو تنگ نظر ملک قرار دے دیا جائے گا۔‘‘

یعنی نہ اللہ کا خوف اور نہ ہی رسول اللہﷺ ؐکے حکم کا پاس ‘ ہاں البتہ اس بات کا ڈر ضرور کہ کہیں دنیا ہمیں تنگ  نظر قرار نہ دے دے … جب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اراکین جان بوجھ کر دنیا کے ڈر سے احکامات خداوندی کا کھلا مذاق اڑائیں گے تو پھر… یہ ملک کیا خاک ترقی کرسکے گا؟

شراب سے حاصل ہونے والا 12 ارب روپے ریونیو … اس قوم کے کس کام کا؟ کہ جس قوم کی اکثریت غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے … چودہ سو پینتیس سالوں سے کوئی بھی مسلمان ملک ‘ مسلمان حکومت یا مسلمان عوام اس وقت تک ترقی کی معراج نہیں پاسکے کہ جب تک انہوں نے اپنے قوانین ‘ ثقافت ‘ علم و ادب ‘ معیشت اور معاشرت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے قوانین کو مقدم نہیں جانا … قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو کوئی بتائے کہ شراب سے سال کے 12 ارب  کی بجائے … اگر سینکڑوں کھرب بھی ریونیو میں وصول ہوں … تب بھی نہ یہ ملک ترقی کرسکے گا اور نہ ہی اس ملک کے عوام کی تقدیر سنور سکے گی ‘ تنگ نظر وہ قومیں ‘ وہ افراد اور وہ حکمران ہیں کہ … جنہیں اسلام جیسے روشن خیال مذہب کے احکامات پر یقین نہیں ہے … 1947 ء سے لے کر 1977 ء تک یہاں شراب نوشی جرم نہ تھی … تب پاکستان نے ترقی کیوں نہ کی؟1977 ء میں جب مسلمانان پاکستان نے ایک زبردست تحریک چلائی تو پھر ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اس شراب خانہ خراب پر پابندی عائد کر دی گئی۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان کے جو حکمران ‘ جو سیاست   دان ‘ جو کالم نگار ‘ دانشور اور اینکر شراب پیتے ہیں انہوں نے کون سا تیر مار لیا؟ شراب خانہ خراب کے تومفاسد ہی مفاسد ہیں ‘ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ معارف القرآن  میں رقمطراز ہیں کہ ’’شراب پینے کے نقصانات اس قدر کثیر اور گہرے ہیں کہ شاید کسی دوسری چیز میں اتنے نقصانات اور مفاسد نہ ہوں... بدن انسانی پر شراب کے نقصانات یہ ہیں کہ وہ رفتہ رفتہ معدے کے فعل کو ناکارہ کر دیتی ہے... کھانے کی خواہش کم کر دیتی ہے‘ چہرے کی رعنائی ختم کرکے اس کی ہیت بگاڑ دیتی ہے ‘ پیٹ بڑھ جاتا ہے... ایک جرمن ڈاکٹر کے مطابق جو شخص شراب کا عادی ہو... چالیس سال  کی عمر میں اس کے بدن کی ساخت ایسی ہو جاتی ہے‘ جیسے ساٹھ سالہ بوڑھے کی ساکھ۔

وہ جسمانی اور قوت کے اعتبار سے سیٹھائے ہوئے بوڑھوں کی طرح ہو جاتا ہے‘ اس کے علاوہ شراب جگر اور گردوں کو خراب کر دیتی ہے‘ سل کی  بیماری شراب کا خاص اثر ہے‘ یورپ کے شہروں میں سل کی کثرت شراب ہی کو بتایا جاتا ہے‘ یہ تو شراب کی جسمانی اور بدنی نقصانات ہیں‘ لوگ سمجھتے ہیں کہ شراب پی کر جب تک نشہ رہتا ہے... اس وقت تک عقل کام نہیں کرتی‘ لیکن اہل تجربہ اور ڈاکٹروں کی تحقیق یہ ہے کہ نشہ کی عادت خود قوت عاقلہ کو بھی ضعیف کر دیتی ہے‘ جس کا اثر ہوش میں آنے کے بعد بھی رہتا ہے۔

بعض اوقات جنون تک اس کی نوبت پہنچ جاتی ہے‘ ڈاکٹروں اور اطباء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شراب نہ جزوبدن بنتی ہے‘ اور نہ اس سے خون بنتا ہے‘ بلکہ اس کا فعل صرف یہ ہوتا ہے کہ خون میں ہیجان پیدا کر دیتی ہے‘ جس سے وقتی طور پر قوت کی زیادتی محسوس ہونے لگتی ہے‘ اور یہی خون کا دفعتاً ہیجان بعض اوقات اچانک موت کا سبب بن جاتا ہے۔

(بقیہ صفحہ۵پر)

جس کو ڈاکٹر ہارٹ فیل ہونے سے تعبیر کرتے ہیں‘ شراب سے شرائین یعنی  وہ رگیں جن کے ذریعے سارے بدن میں روح پہنچتی ہے سخت ہو جاتی  ہے جس  کی وجہ سے بڑھاپا جلدی آجاتا ہے‘ شراب نوشی کرنے والے کے حلقوم اور تنفس پر بھی خراب اثر پڑتا ہے۔

شراب کا اثر اگلی نسل پر بھی پڑتا ہے‘ شرابی کی اولاد کمزور رہتی ہے‘ اور بعض اوقات اس کا اثر قطع نسل تک جا پہنچتا ہے۔ حضرت اقدس مفتی محمد شفیعؒ معارف القرآن میں مزید لکھتے ہیں کہ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ شراب پینے کی ابتدائی حالت میں بظاہر انسان اپنے جسم میں چستی و چالاکی محسوس کرتا ہے... لیکن درحقیقت شراب ایک ایسا زہر ہے کہ جس کا اثر آہستہ آہستہ ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے اور کچھ عرصہ بعد یہ سارے نقصانات سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں کہ جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔

شراب کا ایک بڑا نقصان تمدنی یہ ہے کہ وہ اکثر لڑائی جھگڑے کا سبب بنتی ہے اور پھر یہ بغض و عداوت دور تک انسان کو نقصان پہنچاتی ہے‘ شریعت مطہرہ میں شراب کا یہ مفسدہ سب سے بڑا ہے ‘ اس لئے قرآن پاک کی سورہ مائدہ میں خصوصیت کے ساتھ اللہ پاک نے اس فساد کا ذکر فرمایا ہے۔

ترجمہ: ’’ یعنی شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کر دے‘‘... شراب انسان کو کھلونا بنا دیتی ہے کہ جس کی ناگفتہ بہ حالت کو دیکھ کر بچے بھی ہنستے ہیں۔

کیونکہ شرابی کا کلام اور اس کی حرکات سب غیر متوازن ہو جاتی ہیں‘ شراب کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ ام الجنائث ہے‘ انسان کو تمام برے برے جرائم پر آمادہ کر دیتی ہے۔

زناء اور قتل اکثر اس کے نتائج ہوتے ہیں... اور یہی وجہ ہے کہ عام شراب خانے زنا اور قتل کے اڈے ہوتے ہیں‘ شراب انسان کی روحانی حس کو کچل کر رکھ دیتی ہے کیونکہ نشہ کی حالت میں نہ نماز ادا ہوسکتی ہے‘ نہ اللہ کا ذکر ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسری عبادت... اسی لئے قرآن کریم میں شراب کی مضرت کے بیان میں فرمایا گیا ہے کہ

ترجمہ: ’’شراب تم کو ذکر اللہ اور نماز سے روکتی ہے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ شراب جیسی ام الخبائث کہ جس کے انسانوں کے لئے بے شمار نقصانات ہیں‘ جس پر اسلام اور عیسائیت سمیت دیگر مذاہب  میں بھی پابندی موجود ہے‘ پاکستان کے حکمران اور قومی اسمبلی اس پر مکمل پابندی عائد کرنے سے گھبرا کیوں رہی ہے؟ شراب پینے‘ پلانے‘ بنانے‘ بیچنے اور خریدنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں کیوں نہیں آتا‘ نئی نسل کو شراب اور دیگر نشوں میں مبتلا کرنے والے پاکستان میں دندناتے ہوئے کیوں پھر رہے ہیں؟ام الفواحش شراب خانہ خراب کو پینے والے ہیں قومی اسمبلی اور سینٹ کے رکن بننے کے علاوہ وزیر اور مشیر کیسے بن جاتے ہیں؟ شراب نوش‘ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں کالم نگار‘ تجزیہ نگار‘ اینکرز اور مسلمانوں کے دانشور کیسے کہلا سکتے ہیں؟ جب پاکستان کی قومی اسمبلی اور حکمران قول و فعل کے خوفناک تضادات کا شکار رہیں گے تو پھر پاکستان کبھی بھی ترقی نہیں کر سکے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor