Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تذکرہ ماؤں کا (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 467 - Naveed Masood Hashmi - Tazkira maon ka

تذکرہ ماؤں کا

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 467)

اِس مرتبہ کراچی جانا ہوا، تو الرحمت ٹرسٹ ضلع سعدؓ کے مسئول بھائی محمد امتیاز اور ضلع طلحہؓ کے مسئول بھائی محمد کاشف کے گھروں میں بھی جانا ہوا۔۔۔ دونوں ساتھی مخلص مجاہد اور الرحمت ٹرسٹ کے جانثار ہیں، پہلے بھائی محمد امتیاز کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا، تو اُس کے تقریبا ایک ہفتے بعد ہی بھائی کاشف کی والدہ محترمہ بھی اِنتقال فرما گئیں۔۔۔

کسی بیٹے کیلئے اس کی ’’ماں‘‘ سے بڑھ کر مقدس ہستی اور کونسی ہو سکتی ہے ؟ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان دونوں ساتھیوں کی مائیں ان سے راضی تھیں۔۔۔ اور وہ اپنے بیٹوں کیلئے ہمیشہ دعا گو رہتی تھیں۔۔۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اوران کے پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔۔۔

بلدیہ ٹاؤن میں بھائی امتیاز کے گھر میں مفتی وحید الرحمن کہ جنہیں میں پیار سے’’مفتی اعظم بلدیہ‘‘ بھی کہتا ہوں، وہ بھی پہنچ گئے۔۔۔ اور پھر ذکر ماں، بیٹے کے رشتے کے تقدس کا چل پڑا۔۔۔

انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی والدہ محترمہ کا کیا حال ہے؟ میں نے انہیں بتایا کہ میری والدہ محترمہ بدستور شدید علیل ہیں، لیکن علالت کی شدت کے باوجود انہیں میرے سمیت اپنی اولاد کی فکر لاحق رہتی ہے۔۔۔ اللہ پاک نے’’ماں‘‘ کا رشتہ بنایا ہی ایسا ہے کہ جس رشتے کی محبت کے سامنے دنیا کی تمام محبتیں دم توڑ جاتی ہیں، جب ذکر ماں اوربیٹے کی محبت کا چھڑا تو مجھے اپنے ساتھیوں کو بتانا پڑا کہ حضرت الشیخ مولانا محمد مسعود ازھر کو اپنی والدہ محترمہ سے کس قدر محبت ہے، اور ان کی والدہ محترمہ اپنے بیٹے سے کس طرح کا بے پناہ پیار کرتی ہیں، ویسے تو کسی بھی ماں کا اپنی اولاد کے ساتھ محبت کو کسی بھی پیمانے پر ماپا نہیں جا سکتا لیکن’’حضرت الشیخ‘‘ اور ان کی امی جان کے درمیان محبت و مودت کا عالَم ہی دوسرا ہے، حضرت الشیخ مولانا محمد مسعود ازھر نے دین پڑھنے کی خاطر بچپن ہی سے گھر چھوڑ دیا تھا۔۔۔ ان کے مرحوم والد محترم نے انہیں کراچی کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں داخل کروایا تھا، پھر ’’مولانا‘‘ نے سندِ فراغت حاصل کرنے کے بعد اسی جامعہ میں بحیثیت استاد فرائض سرانجام دینے شروع کر دیئے۔۔۔

اسی اثناء میں اللہ پاک نے ان پر فضل فرمایا،اور وہ افغانستان جا پہنچے۔۔۔ پھر وہ جہاد اور مجاہدین کو ایسے پیارے لگے کہ آج تک ’’مجاہدینِ حق‘‘ ان سے بے پناہ عقیدت و پیار کرتے چلے آرہے ہیں۔۔۔ اس دوران ان پہ آزمائشیں بھی آئیں، انہیں برس ہا برس تک انڈیا کے قید خانوں میں گرفتار بھی رہنا پڑا۔۔۔

پاکستان میں بھی ان کے خلاف سازش ہوتی رہیں، حسد وبغض کے مارے ہوئے ان کے خلاف اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے رہے۔۔۔ یہاں بھی انہیں کبھی گرفتار کیا گیا، اور کبھی نظر بند رکھا گیا، اور کبھی انہیں روپوشی کی زندگی کو اختیار کرنا پڑا۔۔۔۔

لیکن اس سب کے باوجود حضرت الشیخ مولانا محمد مسعود ازھر نے ماں، بیٹے کے تعلق پر ذرابرابر بھی آنچ نہ آنے دی۔۔۔ انہوں نے اپنی اماں جان کے احترام اور خدمت کو اپنے لئے حرز جاں بنایا اور ان کی اماں جان نے اپنی محبتوں، شفقتوں اور دعاؤں کے جام بھر بھر کے انہیں پلائے۔۔۔

ماں بیٹے کی محبتیں اوج ثریا کی بلندیوں کو چھونے کے باوجود مجال ہے کہ کبھی اماں جان نے اپنے لخت جگر مسعود ازہر کو دین کے کسی کام سے روکا ہو؟ جہادی سرگرمیوں سے منع کیا ہو؟ بلکہ پہلے دن سے لیکر آج تک حضرت اقدس الشیخ مولانا محمد مسعود ازہر کی والدہ محترمہ اپنے بیٹے سے نہ صرف یہ کہ راضی بلکہ مکمل مطمئن بھی ہیں۔۔۔

دینی، جہادی یافلاحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا یہ مطلب کہاں ہے کہ اپنے ماں، باپ کو ناراض کر لیا جائے؟ اور پھر ماں رحمت خداوندی کا ایسا خاص مظہر ہے کہ جس کو راضی کرنا ذرا بھر بھی مشکل نہیں رہتا۔۔۔ یہ کیسا عجیب دور آگیا ہے کہ جب لوگ جنت کی تلاش میں پہاڑوںپر جاتے ہیں، جنگل بیابانوں اور صحراؤں کا سفر کرتے ہیں۔۔۔ لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جنت تو ان کے گھر میں موجودہے۔۔۔ ختم نبوتﷺ کے تاجدار محمد کریمﷺ ارشادفرماتے ہیں کہ’’جنت ماں کے قدموں تلے ہے‘‘۔۔۔

کرۂ ارض پر سب سے اعلیٰ و ارفع بالا و برتر ذات حضرت محمد کریمﷺ کی ہے، آپﷺ کو بھی اپنی والدہ محترمہ حضرت سیدہ آمنہ سلام اللہ علیہا سے بے پناہ محبت تھی، رسول معظمﷺ کی عمر مبارک ابھی چھ برس کی تھی کہ جب حضرت سیدہ آمنہؓ کا انتقال ہوا ، ساری عمر آقاء ومولیٰﷺ اپنی پیاری والدہ محترمہ کی محبتوں کو یاد کرکے رویا کرتے تھے۔۔۔

بھلا وہ ہے کوئی انسان ہے کہ جو اپنی ماں سے محبت نہیں رکھتا، اس کا احترام نہیں کرتا، اس کی خدمت نہیں کرتا؟ بیویوں کے پیچھے لگ کرماؤں کی توہین کرنے والے، بیگمات کو راضی کرنے کیلئے اپنی ماؤں کی گستاخیاں کرنے والے، اپنے دوستوں کی خاطر اپنی ماؤں کو ناراض کرنے والے، کاش کہ یہ بات جان سکتے کہ وہ یہ سب کر کے کس قدر گھاٹے کا سودا کرتے ہیں۔۔۔ گزشتہ دنوں مجھے ایدھی ہوم سینٹر جانے کا اتفاق ہوا۔۔۔ تو وہاں مجھے کئی ایسی ماؤں کی زیارت نصیب ہوئی کہ جن کی اولادوں نے بدبختی کی انتہا کرتے ہوئے انہیں ایدھی سینٹر میں جمع کروا دیا تھا۔۔۔

ایک بوڑھی اماں کہ جس کی عمر کوئی ساٹھ، 65 سال کے لگ بھگ ہو گی۔۔۔ مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگی کہ بیٹا! میرے بھی دو بیٹے ہیں، وہ بڑے پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے ہیں، ابھی وہ دسویںکلاس تک ہی پہنچے تھے کہ جب میں بیوہ ہو گئی تھی، مگر اس کے باوجود میں نے نہ صرف یہ کہ ان کی تعلیم مکمل کروائی بلکہ ان کی شادیاں بھی بڑی دھوم دھام سے کروائیں مگر نجانے پھر انہیں کیا ہوا کہ شادی کے صرف ایک سال بعد ہی وہ میرے پاس آئے اور کہا امی، ہماری بیویاں آپ سے تنگ رہتی ہیں۔۔۔اگر آپ ناراض نہ ہوں تو ہم آپ کو ایدھی سینٹر میں داخل کروادیں۔۔۔ ہماری تو بیویاں ہیں۔۔۔ مگر آپ کا اورتو ہے کوئی نہیں۔۔۔ جب ہم نے ملنا ہوا تو وہیں آکر آپ سے مل لیا کریں گے۔۔۔۔

میں نے اپنے بیٹوں کی یہ گفتگو سنی اور چپکے سے چند جوڑے کپڑوں کے تیار کئے اور اپنے ایک بیٹے کی گاڑی میں بیٹھ کر ایدھی سینٹر میں آگئی۔۔۔ میں نے کہا اماں! کتنا عرصہ ہوا آپ یہاں ہیں؟ کہنے لگیںکہ دو سال ہونے کو ہیں۔۔۔ میں نے پھر پوچھا: ان دو سالوں میں آپ کا کوئی بیٹا آپ سے ملنے آیا؟ تو اماں کے لہجے میں دنیا جہاں کا کرب سمٹ آیا۔۔۔ کہا ایک دفعہ بھی دونوں میں سے کوئی بیٹا بھی ملنے نہیں آیا ۔۔۔

ایک بوڑھی ماں کے منہ سے یہ دکھ بھری داستان سن کرمیرا دل بجھ سا گیا، اور میرے منہ سے یہ جملہ نکل گیا کہ کیسے سیاہ بخت بیٹے ہیں؟ خدا انہیں برباد کرے، بوڑھی اماں نے چونک کرمجھے دیکھا اور غصے سے کہنے لگیں کہ خبردار میرے بیٹوں کو پھر کبھی بددعاد ی۔۔۔ خدا میرے بیٹوں کو خوش رکھے۔۔۔

اسے کہتے ہیں ماں کی محبت اور ماں کا پیار

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor