Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سیدنا حسینؓ اور سیدہ زینبؓ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 468 - Naveed Masood Hashmi - Sayedna Hussain aur Sayeda Zainab

سیدنا حسینؓ اور سیدہ  زینبؓ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 468)

12محرم الحرام سن61ہجری کو سیدنا امام حسینؓ کے پسماندگان کو جن میں کچھ خواتین بچے اور بیمار حضرت زین العابدینؓ بھی شامل تھے۔۔۔ ابن زیاد کی فوج انہیںاسیر بنا کر کوفہ کی طرف لے چلی۔۔۔ جب حسینی قافلے کے یہ سربلند اسیران کوفہ پہنچے تو انہیں دیکھنے کیلئے ہزاروںکی تعداد میں کوفی جمع ہو گئے۔۔۔ ان میں سے بعض ایسے بھی تھے کہ جن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔ ’’بے وفا‘‘ کوفیوں کے ہجوم کو دیکھ کر حسینی قافلے  کے اسیروں میں شامل ایک عفت مآب خاتون کو تاب ضبط نہ رہی۔۔۔ اور اس خاتون نے۔۔۔ کوفیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:

’’لوگو! اپنی نظریں نیچی رکھو، یہ محمد مصطفیٰﷺ کی اولاد ہے‘‘۔۔۔

 بے وفا کوفیوں کے اس  مجمع کوللکارنے والی خاتون کا نام حضرت سیدہ زینبؓ تھا، حضرت سیدہ زینبؓ ہمارے آقاء مولیٰ محمدکریمﷺ کی چہیتی نواسی، جنتی خواتین کی سردار حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرہؓ کی پیاری بیٹی، اور شیر خدا حضرت علی المرتضیٰؓ کے جگرکا ٹکڑا تھیں۔۔۔ حضرت سیدہ زینبؓ کا کردار قیامت تک آنے والی مسلمان خواتین کیلئے مشعل راہ بنا رہے گا۔۔۔ مجھے حیرت ہوتی ہے ان این جی اوز مارکہ خواتین و حضرات پر کہ۔۔۔ جو مسلمان خواتین کو۔۔۔ یورپ کی بدتمیز آزادی کے رنگ میں رنگنا چاہتی ہیں؟ مجھے حیرانگی ہوتی ہے ان حکمرانوںاور سیاست دانوں پر کہ۔۔۔ جنہیں حضرت سیدہ زینبؓ کا سورج کی شعاعوں سے بڑھ کر روشن کردار تو نظر نہیں آتا۔۔۔ البتہ مغرب زدہ خواتین کو وہ پاکستانی عورتوں کیلئے  آئیڈیل قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتے۔۔۔یورپ کے ڈالروں، پاؤنڈز اور ایوارڈز کی طاقت سے ملالہ یوسفزئی کو پاکستانی بچیوں اور خواتین کے لئے رول ماڈل قرار دینے والا یہودی میڈیا اور اس کے ایجنٹ جائیں۔۔۔ اور دنیا کی تاریخ کے ایک ایک ورق کو کھنگال ڈالیں۔۔۔ انہیں شیر خدا کی بیٹی حضرت سیدہ زینبؓ جیسا کوئی دوسرا دلیرانہ اور روشن کردار پیش کرنے سے تاریخ قاصر نظر آئے گی۔۔۔

لیکن عورتوں کے حقوق کی دعویدار این جی اوز سے کوئی پوچھے کہ ان میں سے کون سی این جی اوہے کہ جس کا ایجنڈا اورنصب العین یہ ہو کہ۔۔۔ وہ پاکستانی خواتین کو سیدہ زینبؓ کے نقش قدم پر چلاناچاہتی ہیں؟ کوئی اس این جی او کا نام بتائے کہ جو پاکستان کی عورتوں اور بچیوں کو۔۔۔ حضرت سیدہ زینبؓوالے حقوق دلانا چاہتی ہو؟ کسی ایک این جی کو سامنے لاؤ کہ۔۔۔جوپاکستانی خواتین کیلئے۔۔۔ خاتون جنت کی لخت جگرحضرت سیدہ زینبؓ کو رول ماڈل قراردینے کیلئے کوششیں کر رہی ہو؟ یورپکی مادر پدر آزادی کو پاکستانی خواتین پر زبردستی مسلط کرنے والی۔۔۔ این جی اوز اوران کے ہمنوا دانش فروشوں کا ایک مخصوص گروہ۔۔۔ پاکستان کی مظلوم، بے بس اور ظلم کی چکی میں پسنے والی عورتوں کو۔۔۔ جس طرح سے اپنے ڈالروں کے حصول کیلئے استعمال کرتا ہے۔۔۔ وہ نہ صرف یہ کہ انتہائی شرمناک بلکہ پوری ملت کیلئے المناک بھی ہے۔۔۔

آئیے ذرا کربلاچلتے ہیں۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ نو اور دس محرم کی درمیانی شب کو حضرت امام حسینؓ کی تلوار صاف کی جانے لگی تو انہوں نے چند عبرت انگیز اشعار پڑھے، اس وقت آپ کی بہن سیدہ زینبؓ بھی قریب ہی موجود تھیں۔۔۔ اشعار سن کر ان پر رقت طاری ہو گئی۔۔۔ اور سیدہ زینبؓ نے انتہائی دکھی لہجے میں فرمایا۔۔۔

اے کاش! آج کا دن دیکھنے کیلئے میں زندہ نہ ہوتی، ہائے میرے نانا (ﷺ) میری ماںؓ، میرے باپؓ اورمیرے بھائی حسنؓ سب مجھ کو داغ مفارقت دے گئے۔۔۔ اے بھائی! اللہ کے بعد ہمارا سہارا اب آپؓہی ہیں،ہم آپ کے بغیر کیسے زندہ رہیں گے؟‘‘

سیدنا حسینؓ نے فرمایا! زینبؓ صبر کرو‘‘ حضرت بی بی زینبؓ نے فرمایا میرے مان جائے۔۔۔ آپؓ کے بدلہ میں میں اپنی جان دینا چاہتی ہوں، حضرت امام عالی مقامؓ اپنی لاڈلی بہن کی دکھیاری باتوں کو سن کر اشکبار ہو گئے لیکن مومنانہ شان سے فرمایا:

’’اے بہن صبر کرو، خدا سے تسکین حاصل کرو، خدا کی ذات  کے سوا ساری کائنات کے لئے خفاء ہے۔۔۔ ہمارے لئے ہمارے نانا(ﷺ) خیرالخلائق کی ذات اقدس نمونہ ہے۔۔۔ تم ان ہی کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرو‘‘

پھر ابن علیؓ امام عالی مقام حضرت حسینؓ میدان کربلا میں نکلے۔۔۔ ابن زیاد اور شمرملعون کی فوج سے تن تنہا ٹکرا گئے۔۔۔ شمشیر حسینی کی چمک، لپک اور کڑک نے لعنتی فوج کے قدم اکھیڑ ڈالے۔۔۔  لیکن فوج کے سامنے تن تنہا امام عالی مقامؓ کب تک لڑتے؟ بالاآخر حضرت سیدہ زینبؓ کی دیکھتی آنکھوں کے سامنے۔۔۔ ان کے عزت مند اور سر بلند بھیا مردانہ وارلڑتے لڑتے شہادت کا جام نوش کر کے خلدِ بریں کے مالک بن گئے۔۔۔

شیر خدا کی لاڈلی بیٹی۔۔۔ اسیران کے ہمراہ جب کوفہ پہنچیں تو آپؓ نے کوفیوں کے سامنے جو عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا... وہ بھی آب زر سے لکھنے کے قابل ہے...

حیدر کرار کی لخت جگر... اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرماتی ہیں ’’اے کوفیو! اے مکارو، اے عہد شکنو! اپنی زبان سے پھر جانے والو، خدا کرے تمہاری آنکھیں ہمیشہ روتی رہیں، تمہاری مثال ان عورتوں کی سی ہے جو خود ہی سُوت کاتتی ہیں اور پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہیں ... تم نے خود ہی میرے بھائی سے  رشتہ بیعت جوڑا  اور پھر خود ہی توڑ ڈالا، تمہارے دلوں میں کھوٹ اور کینہ ہے،

تمہاری فطرت میں جھوٹ اور دغا ہے ...  خوشامد، شیخی خوری اور عہد شکنی تمہارے خمیر میں ہے ... تم نے جو کچھ آگے بھیجا ہے... وہ بہت برا ہے، تم نے خیرالبشر ﷺ کے فرزند کو جو جنت کے جوانوں کے سردار ہیں قتل کیا ہے...  خدا کا قہر تمہارا انتظار کررہاہے،

آہ...  اے کوفہ والو! تم نے ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا، جو منہ بگاڑ دینے والا اور مصیبت میں مبتلا کردینے والا ہے...  یاد رکھو تمہارا رب نافرمانوں کی تاک میں ہے... اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں...

اس خطبہ کو سُن کر کوفیو کو اس قدر ندامت ہوئی کہ ان میں سے اکثر کی روتے روتے ہچکی بند ہوگئی ... حذلم بن کثیر جو عرب کے فصیح ترین آدمیوں میںشمار ہوتا ہے...  وہ بھی سیدہ زینبؓ کا خطبہ سننے والوں میں شامل تھا... خطبہ سننے کے بعد وہ بے ساختہ پکار اُٹھا’’واللہ اے علیؓ کی بیٹی تمہارے بوڑھے سب بوڑھوں سے، تمہارے جوان سب جوانوں سے، تمہاری عورتیں سب عورتوں سے اور تمہاری نسل سب نسلوں سے بہتر اور برتر ہے ...  جو حق بات کہنے میں کسی سے نہیں ڈرتی‘‘ حضرت بی بی زینبؓ اور کربلا کے سارے شہیدوں پر اللہ کی رحمتیں چھما چھم برسیں...  حضرت زینبؓ اور دیگر صحابیات رسول ﷺ امت مسلمہ کا وہ قیمتی اثاثہ ہیں کہ جن پر تاریخ ہمیشہ نازاں رہے گی، اللہ کی اُلوہیت پہ قربان جائیے...  حضرت سیدہ زینبؓ نے مکار، دغا باز، بے وفا اور عہد شکن کوفیوں کو جو یہ بددعا دی تھی کہ ’’خدا کراے تمہاری آنکھیں ہمیشہ روتی رہیں...  وہ اللہ کے ہاں ایسے شرف قبولیت پاگئی ...  کہ تب سے لے کر آج تک ... ’’کوفی نسل‘‘ کو کسی پل چین نہیں ہوا، اور انشاء اللہ قیامت تک اس نسل ناہجار کو سکون مل بھی نہیں سکے گا... کیوں؟ اس لئے کہ ...  سیدنا حسینؓ میرے پاک نبی ﷺکو محبوب تھے، حسینؓ وہ تھے کہ جن کے کان میں خود نبی کریم ﷺ نے اذان دی تھی ... حسینؓ وہ تھے کہ جن کے رونے سے آقا ﷺ بے چین ہو جایا کرتے تھے ...  حسینؓ وہ تھے کہ شان نبوتؐ نے جنہیں اپنا پھول کہا ...  حسینؓ وہ تھے کہ جن کے ناز خود سرکار دو عالم ﷺ خوشی خوشی اٹھایا کرتے تھے، حسینؓ وہ تھے کہ جن کی مشابہت آقا ﷺ کے ساتھ تھی،

حسینؓ وہ تھے کہ جو اپنے بھائی حسینؓ کے ساتھ مل کر رسول اللہ ﷺ کے سینۂ مبارک پر کھیلا کرتے تھے ...  حسینؓ وہ تھے کہ جن کے ساتھ حضرت صدیق اکبرؓ کو پیار تھا ...  سیدنا فاروق اعظمؓ کو محبت تھی، حضرت عثمان غنیؓ کو محبت تھی، حسین وہ تھے کہ جو شیر خدا سیدنا علی المرتضیٰ ؓ کے نور نظر تھے، حسین ؓ وہ تھے کہ جن کی ماں جنتی عورتوں کی سردار ہوگی ...  حسینؓ وہ تھے کہ جو جنتی نوجوانوں کے سردار ہوں گے۔

سیدنا حسینؓ سارے صحابہؓ سے پیار کرتے تھے ...اور سارے صحابہ کرامؓ سیدنا حسین ابن علیؓ کا احترام اور ان سے محبت کرتے تھے ...  اس حسین ابن علیؓ اور ان کے جانثاروں کو کربلا کے ریگزاروں میں ...  تڑپانے والے لعنتیوں کی نسل قیامت تک تڑپتی رہے گی، کوئی انہیں زنجیروں میں جکڑنا چاہے یا قلعوں میں بند کرنا چاہے ...  وہ تب بھی اسے ماتم سے روک نہ پائے گا، مجھے اہل بیتؓ سے بے پناہ محبت ہے، اور میرا ایمان ہے کہ جو حسین ابن علیؓ، اہل بیت اطہارؓ یا صحابہ کرامؓ کو نہیں مانتا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ... سیدنا حسینؓ صحابہ کرامؓ سے پیار کرتے تھے اور سارے صحابہؓ سیدنا حسینؓ سے محبت کرتے تھے ... یہی ’’محبت‘‘ اتحاد اُمت کی اصل بنیاد بن سکتی ہے، میرا ایمان ہے کہ

افضل ہے کل جہاں سے گھرانہ حسینؓ کا

نبیوں کا تاجدار ہے نانا حسینؓ کا

اک پل کی تھی ہس حکومت یزید کی

صدیاں حسینؓ کی ہیں زمانہ حسینؓ کا

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor