Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

گمراہوںکی شدت پسندی؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 469 - Naveed Masood Hashmi - Gumrahon ki shiddat pasandi

گمراہوںکی شدت پسندی؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 468)

سیکولر شدت پسندی کا’’جن‘‘ بوتل سے باہر آچکا ہے، نصابِ تعلیم کی تبدیلی سے لیکر انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اسرائیل کے ثقافتی سٹال لگانے تک۔۔۔ میڈیا سے لیکر ایوانِ اقتدار کی راہ داریوں تک۔۔۔ ہر جگہ سیکولر شدت پسندی کا فتنہ منہ کھولے کھڑا ہے۔۔۔ فیصل مسجد سے متصل انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں جن این جی اوز مارکہ طالبات نے اسرائیل کا ثقافتی سٹال لگایا تھا، ہونا تویہ چاہئے تھا کہ ان کے خلاف قانون حرکت میں آتا۔۔۔ انہیں گرفتار کر کے اس بات کی تفتیش کی جاتی کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک کے ایک باوقار تعلیمی ادارے میں انہوں نے اسرائیل کی ایجنٹی کیوں کی؟

ان کے پیچھے کون سے خفیہ ہاتھ ہیں؟ کیا اسلام آباد جیسے شہر میں اسرائیل کے ایجنٹوں کی موجودگی یہ بات ثابت نہیں کر رہی کہ پاکستان کی سالمیت اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔۔۔ گوکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک انکوائری کمیٹی بھی قائم کی۔۔۔ بعض حساس اداروں کے حرکت میں آنے کی خبریں بھی اخبارات کی زینت بنیں، مگر اسرائیل کے ایجنٹوں پر اب تک ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جا سکا؟۔۔۔ اس حوالے سے کوئی لب کھولنے کیلئے تیارنہیں ہے۔۔۔ اسرائیلی سٹال لگنے کے واقعہ کے بعد یہ خاکسار اسلامی یونیورسٹی گیا۔۔۔ اور وہاں بعض طلباء سے ملاقاتیں کر کے۔۔۔ اصل صورت حال جاننا چاہی تو اسلامی یونیورسٹی کی زبوں حالی کی تفصیلات سن کر دل دہل گیا۔۔۔

یونیورسٹی کے طلباء کے مطابق۔۔۔اسلامی یونیورسٹی کہ جو قائم ہی اس لئے کی گئی تھی کہ یہاں سے بچوں اور بچیوں میں اسلامی تہذیب و تمدن کو رواج دیا جائے گا۔۔۔ اب وہاںسیکولر لادین پرستوں کی شیطانی حرکتیں جاری ہیں۔۔۔ یونیورسٹی کے’’فی میل کیمپس‘‘ میں کبھی مرد سٹاف رکھنے کی اجازت نہ تھی۔۔۔ مگر اب یونیورسٹی کے طالبات کے کیمپس میں بگڑی ہوئی این جی اوز کے مرد گھومتے نظر آتے ہیں۔۔۔غیر ملکی ڈالروں پر پلنے والی این جی اوز کے گمراہ مرد یونیورسٹی میں سیکولرلادینیت کا کھلے عام پرچار کرتے ہیں۔۔۔

سوال یہ ہے کہ آخر ڈالرخور این جی اوز کو پاکستان کے سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں۔۔۔ کھلے عام رسائی کیوں حاصل ہے؟ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔۔۔ یہاں پر سیکولر ازم،بھٹو ازم، کمیونزم یا کیپٹل ازم کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے، لیکن حکمرانوں اور سیاست دانوں کی مجرمانہ غفلت کی بدولت۔۔۔ سیکولر شدت پسند ہر شعبے پر غلبہ پانے کی خوفناک سازشوں میںمصروف نظر آتے ہیں۔۔۔

ایک طرف تو ڈالر خور این جی اوز نے پاکستان کے تعلیمی اداروں کو اپنی شکار گاہ بنا رکھا ہے ،جبکہ دوسری طرف’’انجمن غلامانِ امریکہ‘‘ کے بعض خرکار اپنے کالموں کے ذریعے ایک دفعہ پھر پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں۔۔۔ مختلف مسالک کے فالورز کی تعداد کے حوالے سے خود ساختہ سروے رپورٹیں چھاپ کر۔۔۔ بین المسالک اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔۔۔

کوٹ رادھا کشن میں مارے جانے والے عیسائی جوڑے کو بنیاد بنا کر۔۔۔ پاکستان میں بسنے والے عیسائیوں کو مسلح جدوجہد کے مشورے دیئے جارہے ہیں۔۔۔ حالانکہ اس بات سے پاکستان کا بچہ بچہ آگاہ ہے۔۔۔ عیسائی جوڑے پر ڈھائے جانے والے ظلم کی۔۔۔ پوری قوم نے نہ صرف یہ کہ بھرپور مذمت کی۔۔۔ بلکہ حکومت پنجاب اس واقعہ میں ملوث۔۔۔ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے میں بھی۔۔۔ ذاتی دلچسپی لے رہی ہے۔۔۔

’’انجمن غلامانِ امریکہ‘‘ کے وہ سیکولر دانش فروش جو کہ کوٹ رادھا کشن والے المناک واقعہ کی آڑ میں بریلویوں اور شیعوں سے ہمدردی جھاڑ کر۔۔۔ اپنے کالموں کے ذریعے دوسرے مسالک کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔۔۔ ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ پاکستان میں بسنے والے بریلوی ہوں، دیوبندی ہوں یا اہلحدیث ہوں ۔۔۔ یہ سب ان کے مکروہ چہروں سے بخوبی واقف ہیں۔۔۔

بریلوی اور دیوبندی علماء اورمشائخ کی اکثریت۔۔۔ غازی ممتاز قادری کو پاکستانی قوم کا ہیرو اور سابق گورنر سلمان تاثیر کو گستاخانِ رسول کا حامی سمجھتی ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ جب مقتول سلمان تاثیر کے جنازہ کا مسئلہ آیا تو۔۔۔ بریلوی اور دیوبندی علماء اور مشائخ نے سلمان تاثیر کے جنازے کے خلاف مشترکہ فتویٰ جاری کر کے سیکولر شدت پسندوں کے قلعوں پر زلزلہ طاری کر دیا تھا۔۔۔ کوئی نجم سیٹھی اور چکوال کے ایاز امیر سے پوچھ کر دیکھے کہ وہ سلمان تاثیر کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔۔۔۔ تو ان کی اصلیت سب کے سامنے آجائے گی۔۔۔

بریلوی ہوں۔۔۔ دیوبندی ہوں، اہل حدیث ہوں، یا حنبلی، شافعی اور مالکی۔۔۔۔ یہ سب اس بات پر سوفیصد متفق ہیں کہ۔۔۔ اگر کسی عدالت میں توہین رسالت کا جرم ثابت ہو جائے تو صاف اور شفاف ٹرائل کے ذریعے۔۔۔ اسے ہرقیمت پر پھانسی کی سزا دی جائے، بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور دیگر مسالک۔۔۔ شراب خانہ کو حرام اور شراب پینے والے کو فاسق و فاجر سمجھتے ہیں۔۔۔ حتیٰ کہ عیسائی مذہب میں بھی شراب جائز نہیں ہے۔۔۔ اب ذرا سیکولر شدت پسند ایاز امیر سے اس حوالے سے کوئی سوال کرکے ہمیں بتائے کہ ان کے مسلک اور فقہ میں شراب خانہ خراب حرام ہے یا حلال؟ اور ان کے نزدیک شراب پینے والا۔۔۔ فاسق و فاجر ہے یا پھر ولی کامل؟ اردشیر کاؤس جی پارسی تھے۔۔۔ اور پارسی عقیدے پر ہی مر گئے، کاؤس جی کا کوئی پیروکار اگر مختلف مسالک کی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔۔۔ یا پھر عیسائیوں کو اسلحہ اٹھانے کے مشورے دے گا۔۔۔ تو پاکستانی قوم سیکولر شدت پسندوں کی ان گھناؤنی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔۔۔ الحمدللہ۔۔۔ پاکستان میں دنیا کے متعدد ممالک سے زیادہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی موجود ہے۔۔۔ اختلافات کے باوجود ۔۔۔ اہل سنت ہوںیا دیگر مسالک کے مسلمان ہوں ۔۔۔ سب ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔۔۔ بریلوی ہوں یا دیو بندی ہوں۔۔۔ سب کے ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط تعلقات موجود ہیں۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ موجود ہیں۔۔۔ لیکن تمام مسالک کے اکابر علماء کرام اور مشائخ عظام اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ۔۔۔ پاکستانی قوم کے اتحاد و اتفاق کو سب سے بڑا خطرہ سیکولرشدت پسندی سے لاحق ہے!

تمام مسالک کے اکابر کا ایک دوسرے سے نہ صرف یہ کہ رابطہ رہتا ہے۔۔۔۔ بلکہ اجتماعی معاملات پر۔۔۔ گفت وشنید اور اجلاسات بھی ہوتے رہتے ہیں۔۔۔ فتنۂ قادیانیت ہو یا معاملہ گستاخانِ رسول کا ہو۔۔۔ بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور دیگر مسالک کے اکابر علماء اور مشائخ مشترکہ طور پر جدوجہد کرتے چلے آرہے ہیں۔۔۔ ان تمام مسالک کے علماء کے اتحاد و اتفاق کی برکت کا نتیجہ ہی تو تھاکہ 1974ئ؁ میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی وزارت عظمیٰ کے دوران۔۔۔ قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔۔۔

جس وقت سیکولر شدت پسند سلمان تاثیر نے اپنی گورنری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے۔۔۔ عدالت سے سزا یافتہ توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح کو چھڑانے کی کوششیں شروع کی تھیں۔۔۔ تب بھی۔۔۔ تمام مسالک کے۔۔۔ اکابر کے  اتحاد کا ہی نتیجہ تھا کہ۔۔۔ پوری قوم علماء کے شانہ بشانہ گستاخانِ رسول کے حامیوں کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔ اور میڈیا میں گھسی ہوئی بدروحوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود۔۔۔ پیپلز پارٹی کی حکومت قانون توہین رسالت کو ختم کرنے پرآمادہ نہ ہوئی۔۔۔ تمام مسالک کے علماء اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ۔۔۔ یہود و نصاریٰ، ہنود اور پاکستان میں بسنے والے انجمن غلامان امریکہ دانش فروشوں کی  یہ بڑی پرانی خواہش ہے کہ ۔۔۔ جس طرح سے بھی ممکن ہو۔۔۔ پاکستان میں آباد۔۔۔ دو بڑے مسالک یعنی بریلوی اوردیوبندی۔۔۔ علماء اور عوام کو آپس میں لڑا دیا جائے۔۔۔ چنانچہ ان مذموم مقاصد کیلئے۔۔۔ امریکہ نے گزشتہ سالوںمیں۔۔۔ بعض مخصوص شخصیات پر لاکھوں ڈالرز بھی خرچ کئے۔۔۔ مختلف مسالک سے وابستہ بعض متنازعہ شخصیات پرلاکھوں ڈالرز بھی خرچ کئے۔۔۔ مختلف مسالک سے وابستہ متنازعہ شخصیات کو امریکہ کے دورے بھی کروائے گئے، امریکی خرچے پر امریکہ کے دورے کس کس نے کئے؟ ان شخصیات کے نام بھی منظر عام آچکے ہیں۔۔۔ بلکہ’’وکی لیکس‘‘ نے تو یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ۔۔۔ جامعہ نعیمیہ لاہور کے مہتمم اور اہل سنت وجماعت بریلوی مسلک کے سربلند عالم دین مولانا سرفراز نعیمیؒ کو شہید کرنے کے پیچھے بھی۔۔۔ امریکی ہاتھ ہی تھے۔۔۔ کیونکہ وہ پاکستان میں امریکی عزائم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھے جاتے تھے۔۔۔

اس وقت تو علماء کرام نے اپنی جانوں پر کھیل کر دو بڑے مسالک کو آپس میں لڑانے کی سازش کو ناکام بنا دیا تھا۔۔۔ لیکن اس کے باوجود امریکہ اور اس کے حواریوں نے ہمت نہ ہاری۔۔۔ اور اب ایک دفعہ پھر۔۔۔ نئے انداز میںاسی پرانی سازش کو آگے بڑھایا جارہاہے۔۔۔ بعض میڈیائی بدروحیں کہ۔۔۔ سیکولر شدت پسندی جن کے انگ انگ سے پھوٹتی ہے۔۔۔ اب انہوں نے کسی ایک مسلک کی نرمی، شرافت اور حب الوطنی کی گواہیوں کی آڑ میں دوسرے مسلک کو مطعون کرنا شروع کر رکھا ہے۔۔۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ۔۔۔اپنے کالم میں بعض مسالک کی حمایت اوربعض کی مخالفت کرنے والا یہ سیکولر شدت پسند، ان میں سے کسی بھی مسلک کا حامی نہیں ہوتا، نہ اسے مسلک سے کوئی غرض ہے۔۔۔ اور نہ ہی نعوذباللہ مذہب اسلام سے کوئی خاص رغبت ہے۔۔۔ ہاں اس کا ایجنڈا۔۔۔ تو مسالک کو ایک دوسرے کے خلاف ابھار کر فتنہ و فساد برپا کرنا ہوتا ہے ۔۔ ۔ یہ سیکولر شدت پسند تو پورے کے پورے مذہب اسلام کو ہی تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔۔۔ ان کی رگیں تو امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کی خفیہ ایجنیسوں کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہیں۔۔۔ یہ مذہبی شدت پسندی کی مخالفت کی آڑ لے کر ۔۔۔ یہود و نصاریٰ کے کلچر اور سیکولر شدت پسندی کو بڑھاوا دے رہے ہوتے ہیں۔۔۔ اس لئے پوری قوم کو ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor