Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اشتہاری (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 470 - Naveed Masood Hashmi - Ishtehari

اشتہاری

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 470)

یہ صرف  پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ جہاں’’اِشتہاری‘‘ نہ صرف یہ کہ دندناتے ہوئے پھر رہے ہیں۔۔۔ بلکہ بھرے جلسوں میں کھلے عام حکومت کو یہ چیلنج بھی کر رہے ہیں کہ ’’ اگر تم میں ہمت ہے تو آؤ ہمیں گرفتار کرو‘‘ کبھی کہتے ہیں کہ’’ اگر ہمیں پکڑا گیا تو ہم پاکستان میں آگ  لگا دیں گے‘‘

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے جن کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔۔۔ وہ عوامی جلسوں میں اپنی تقریروں میں للکارتے بھی ہیں، دھاڑتے بھی ہیں اور مرنے اورمارنے کی تلقین بھی کرتے ہیں۔۔۔ مگر’’قانون‘‘ کہیں دور بہت دور بھنگ پی کر سویا ہوا ہے۔۔۔

ذرا سوچئے کہ اگر یہی باتیں۔۔۔ کسی مولوی، جہادی یا مدرسے کے طالبعلم نے کسی جلسے میں کی ہوتیں، تو اب تک یہاں کے خفیہ ادارے، پولیس اور حکومت اس کا کس کس طرح سے حشر نشر کر چکے ہوتے۔۔۔

ایک اشتہاری اور دوسرا شخیل کینیڈا، واہ رے پاکستان تیری قسمت میں کیسے کیسے طوفان لکھ دیئے گئے ہیں۔۔۔ عدالت نے جنہیں اشتہاری قرار دیکر۔۔۔ گرفتار کر کے اپنے سامنے پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔۔۔ وہ’’ اشتہاری‘‘ کروڑوں پاکستانیوں کے سامنے قانون کو چیلنج کر رہے ہیں، حکومت کی بے بسی کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔۔۔ پولیس کے افسران کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔۔۔ سیاست دانوںکی پگڑیاں اُچھال رہے ہیں۔۔۔ سب سے بڑھ کر عورتوں اورمردوں کو اکٹھا کر کے گانوں اور موسیقی کی دھنوں پر انہیں سر عام نچوا کر ربّ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں۔۔۔ مگر نہ انہیں کوئی ٹوکنے والا ہے اور نہ ہی روکنے والا۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں حکومت نام کی کوئی شے ہے بھی یا نہیں؟ پاکستان کا وزیرداخلہ کون ہے؟ پاکستانی وزارت داخلہ کیا کر رہی ہے؟ اگر انہیں علمائِ کرام، مدارس اور مجاہدین کے خلاف اقدامات سے فرصت ملے تو انہیں چاہئے کہ وہ اس ملک کو اشتہاریوں کے شر سے بچانے کیلئے بھی کوئی سخت قدم اُٹھائے۔۔۔ ویسے موجودہ حکومت کی بزدلی اوربے حسی نے آج پاکستانی قوم کو یہ دن دکھائے ہیں کہ چند’’ اشتہاری‘‘ شہر، شہر جا کار دوسروں کی پگڑیاں اُچھال رہے ہیں۔۔۔

بے حیائی اور فحاشی کو پرموٹ کررہے ہیں اور ہر کسی کو بکاؤ اور ضمیر فروش قرار دے رہے ہیں، مسلم لیگ ن کی بزدلی اور کم ہمتی دیکھ کر۔۔۔ دل چاہتا ہے کہ ان حکمرانوں کو چوڑیوں کا ٹوکرا بجھوایا جائے۔۔۔ حکمرانی کی جاتی ہے، غیرت کیلئے۔۔۔ جب حکمرانوں کی عزت چوکوں اور چوراہوں پر تار تارہو رہی ہے۔۔۔ اور وہ یہ سب کچھ ہوتا ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر رہے ہوں تو ایسی بے عزتی پروف حکمرانی سے بہتر ہے کہ وہ کسی چوک میں کریلوں، بھنڈی توری، پیاز اور لہسن کی ریڑھی لگانا شروع کر دیں۔۔۔ گزشتہ90دنوں سے ’’اشتہاریوں‘‘ نے جوکچھ ان حکمرانوں کے ساتھ کیا ہے۔۔۔ اگر کسی عزت والے کے ساتھ اس کا عشر عشیر بھی کسی اور نے کیا ہوتا تو وہ یا تو خود کشی کر لیتا اور یا پھر بے عزتی کرنیوالے کے سر چڑھ جاتا، مگر’’اشتہاریوں‘‘ کی طرح نجانے یہ حکمران بھی کس مٹی سے بنے ہوئے ہیں۔۔۔ کہ ان پرکوئی چیز اثر ہی نہیں کرتی، ’’اشتہاری‘‘ کہتا ہے کہ ’’حکومت صحافیوں، کالم نگاروں اور میڈیا ہاؤسز کو خرید لیتی ہے۔۔۔ جو لوگ ہمارے خلاف لکھ رہے ہیں انہیں شرم آنی چاہئے‘‘۔۔۔

یقینا حکومت میڈیا ہاؤسز، صحافیوں اور کالم نگاروں کو خرید لیتی ہو گی۔۔۔ لیکن ہمارے نزدیک حکمرانوں سے پیسے لے کر دوسروں کے خلاف لکھنا دلالی اور بے غیرتی کے مترادف ہے، جو لوگ حکمرانوں سے پیسے لے کر دوسروں کیخلاف لکھتے ہیں ان پر خدا کی پھٹکار برسے۔۔۔ لیکن کوئی ذرا اُس’’اشتہاری‘‘ کو بتائے کہ یہودیوں سے ڈالر لے کر مغربی کلچر کو پاک سرزمین پر پرموٹ کرنے والے بھی۔۔۔ خدا کے پھٹکارے ہوئے ہیں۔۔۔ اور ان سے بڑا ضمیر فروشی سے بدتر کردار ادا کر رہے ہیں۔

 جو صحافی اور کالم نگار یا اینکر اور دانشور، حکومت سے مفادات لے کر دوسروں پر تنقید کے ٹوکرے اُلٹتے ہیں۔۔۔ وہ یقینا قابل گرفت بھی ہیں۔۔۔ اور قابل مذمت بھی۔۔۔ لیکن اگر’’ اشتہاری‘‘ حکومت سے پیسے لیکر لکھنے والوں کے نام منظر عام لانے سے قاصر ہے۔۔۔ تو پھر اسے یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ سب لکھاریوں اور کالم نگاروں کوایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی کوششیں کرے۔۔۔ شرم تو انہیں آنی چاہئے کہ جو ایک’’اشتہاری کھلاڑی‘‘ کے قصیدے گاتے ہوئے نہیں تھکتے۔۔۔ ایک ایسا اشتہاری کہ جو گھر کا ہے اور نہ گھاٹ کا، جس کی بیوی بھی اس سے طلاق لیکر ایسی بھاگی کہ نعوذباللہ دائرہ اسلام سے ہی نکل کر مرتدہ بن گئی، مگر وہ طلاق دینے کے باوجود اب بھی اس مرتدہ عورت سے نہ صرف یہ کہ تعلق رکھتا ہے، بلکہ اسے بے چاری قرار دیکر اکثر اس سے ہمدردی کا بھی اظہار کرتا ہے۔۔۔

شرم تواس لوٹے کو آنی چاہئے۔۔۔ کہ جو موسیقی کی دھنوں اور گانوں پر مخلوط ڈانس کر کے۔۔۔ اللہ کے عذاب کو دعوت دیتا ہے۔۔۔شرم تو ان کالم نگاروں، اینکرز، صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو آنی چاہئے کہ جو تمام تر جرائم اور بداعمالیوں کے باوجود ایک اشتہاری کو اس ملک کے عوام کا نجات دہندہ قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتے۔۔۔

شرم تو انہیں آنی چاہئے کہ جو عورتوں اور مردوں کو جمع کر کے کنٹینر پر کھڑے ہوکر خود بھی ڈانس کرتے ہیں اور لوگوں سے بھی ڈانس کرواتے ہیں۔۔۔

شرم تو اسے آنی چاہئے کہ جو ساری عمر لوگوں سے زکوٰۃ، صدقات اکھٹے کرتا رہا۔۔۔ اور اب تک کرتا چلا آرہا ہے۔۔۔ مگر وہ شخص خود کروڑوں روپے کے محل میں رہتا ہے۔۔۔ مگر مجھے یقین ہے کہ ’’شرم‘‘ ایسے بہروپیوں کے قریب سے بھی نہیں گزرے گی، کیوں کہ جنہیں شرم آتی ہو۔۔۔ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرتے ہیں کہ جن سے مخلوق خدا کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔۔۔

کیا پاکستان کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کسی خون خرابے کی طرف دھکیلا جارہاہے، کیا پاکستان میں اقتدار کے بھوکے۔۔۔ لاشیں گرانے کے منصوبے بنا چکے ہیں؟ میرا وجدان کہہ رہا ہے کہ۔۔۔ پاکستان  کے حالات جس تیزی سے بگاڑے جارہے ہیں۔۔۔ اگر انہیں فوراً روکا نہ گیا۔۔۔ تو یہاں لاشیں تو بہت گریں گی، مگر انہیں قبروں میں دفن کرنے والا کوئی نہیں ملے گا۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor