Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قتال فی سبیل اللہ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 471 - Naveed Masood Hashmi - Qital fi Sabeelillah

قتال فی سبیل اللہ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 471)

پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔۔۔ اور یہاں جہاد مقدس سے محبت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔۔۔ تحصیل سمبڑیال کے علاقے گھڑتل کی جامع مسجد کی ساری منزلیں فرزندانِ اسلام سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔۔۔ اس علاقے کی خاص بات یہ تھی کہ۔۔۔ یہاں پر پورے علاقے میں صرف ایک مسجد میں ہی جمعہ اداکیا جاتا ہے۔۔۔ جس کی وجہ سے تمام مسالک کے لوگ جوق در جوق جمعہ کی ادائیگی کیلئے جامع مسجد گھڑتل میں پہنچتے ہیں۔۔۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ایسا فقید المثال جذبہ ملک کے دوسرے حصوں میںبہت کم دیکھنے کو ملتاہے کہ۔۔۔ جیسا جذبہ مجھے گھڑتل میں دیکھنے کو ملا۔۔۔

اس خاکسار نے جمعۃ المبارک کے اس عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جو معرضات پیش کیں۔۔۔ اس میں سرفہرست یہ تھی کہ جذبہ جہاد ہی امت مسلمہ کی اجتماعیت کا وہ بنیادی جزو ہے۔۔۔۔ کہ جس پرپوری امت کو اتحاد و اتفاق کی دعوت دی جا سکتی ہے۔۔۔

مجاہدین کا کام جوڑ پیدا کرنا ہے،توڑ نہیں، جہادی صفوں میںشامل ہر سچے مجاہد کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ جہادی کام مزید آگے بڑھا کر انتشار کا راستہ روکے، مجاہدین کے سربلند قائد حضرت مولانا محمد مسعود ازہر نے پہلے دن سے لیکر آج تک اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے ملک میں محبت، مروت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنیکی کوشش کی، مسلمان اسلامی احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کا نام ہے۔۔۔

مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔۔۔ اور یہی سبق’’امیر المجاہدین‘‘ نے اپنے رضاکاروں کو دیا، رات کو عشاء کے بعد ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے علاقے منڈیکی گورائیہ کے چوک میں ختم نبوت کانفرنس تھی،’’ الرحمت‘‘ گوجرانوالہ ڈویژن کے منتظم بھائی محمد شفقت عثمان نے ایک ہی دن میں دو بڑے پروگرام رکھ کر دعوت جہاد کو عوام الناس تک پہنچانے کی جو سعی کی تھی۔۔۔ وہ یقینا قابل تحسین تھی۔۔۔ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس خاکسار نے کہا کہ’’ مسیلمہ کذاب سے لیکر قادیانی دجال تک۔۔۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی ملعون سے لیکر راجہ اصغر کذاب لعنتی تک ہر وہ شخص ذلیل و رسوا اورراندہ درگاہ ہوگیا کہ جس نے نبی محتشم ﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی، مسلمان خواہ کتنا ہی گناہ گار اور سیاہ کار کیوں نہ ہو۔۔۔ لیکن وہ نبی کریمﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کو برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔

مرزا غلام احمد قادیانی ملعون نے فرنگی سامراج کے اشارے پر جعلی نبوت کا دعویٰ کیا تھا، اور اس کے اس دعوے کا مقصد۔۔۔ جہادو قتال کے خلاف سازش کرنا تھا۔۔۔ لیکن افغان مجاہدین ہوں یا۔۔۔ حضرت الشیخ مولانا محمد مسعود ازہر کے زیرِ قیادت مجاہدین۔۔۔ ان سب نے جہاد و قتال والی عبادت پر عمل کرکے مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل کے پردوں کو تار تار کر ڈالا، پاکستان کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ۔۔۔ وہ قادیانی اور آئے روز دعویٰ نبوت کر کے امت مسلمہ کی دل آزاری کرنیو الے دیگر مرتدین کو۔۔۔ کڑی سے کڑی سزاؤں کے عمل سے گزارے۔۔۔تاکہ ملک میںامن و امان کی فضاء پیدا ہو سکے۔۔۔دونوں کانفرنسوں میں شرکت کے بعد راولپنڈی پہنچا تو۔۔۔ ایک دفعہ پھر۔۔۔راولپنڈی سے لاہور،لاہور سے ساہیوال اور پھر بہاولپور تک کا سفر جو ہفتے کی شام کی سے شروع ہوا تھا، پیر کی صبح8بجے راولپنڈی واپسی پر ختم ہوا۔۔۔ ان چالیس بیالیس گھنٹوں میں بہت سے ناموردوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔۔۔ سابق وزیر اطلاعات محمد علی درانی کہ جنکی والدہ محترمہ کا گزشتہ ہفتے انتقال ہو گیا تھا۔۔۔۔ ان سے تعزیت بھی کی۔۔۔ راولپنڈی سے بہاولپور تک جن دوستوں سے بھی ملاقات ہوئی۔۔۔ انہیں ملکی حالات کے حوالے سے انتہائی فکرمند پایا۔۔۔

ملکی سیاسی حالات کی مخدوشی پرہرکوئی پریشان اور دل گرفتہ نظر آیا۔۔۔بلکہ بعض تو مایوسی کی کیفیت سے دوچار نظر آئے۔۔۔ بہاولپور کے معروف علمی جہادی اور روحانی مرکز ’’مرکزعثمانؓ وعلیؓ ‘‘ میں۔۔۔ جامعہ کے پرنسپل مولانا طلحہ السیف نے دوران گفتگو۔۔۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منور حسن نے مینار پاکستان پر منعقدہ اجتماع میں اپنے خطاب میں جو یہ کہا ہے کہ’’قتال فی سبیل اللہ کا کلچر عام نہ کیا تو حالات پرقابو نہیں پایا جا سکتا۔۔۔ محض انتخابی اور جمہوری سیاست سے انقلاب نہیں آسکتا‘‘۔۔۔ یہ بالکل ٹھیک کہا ہے لیکن سیکولر دانش فروش اور سیکولر جماعتیں ان پر ایسے برس پڑی ہیں کہ جیسے خدانخواستہ انہوں نے کوئی بہت بڑی غلطی کر دی ہو۔۔۔

میں جو مسلسل سفر کی وجہ سے دو دنوں سے میڈیا سے بالکل کٹا ہوا تھا۔۔۔ جناب منور حسن کے تازہ ترین بیان اور اس کے آفٹر شاکس سے بالکل ناواقف تھا۔۔۔ پیرکی صبح راولپنڈی پہنچا تو۔۔۔ دو دن پرانے اخبارات دیکھنے کے بعد اصل صورت حال کا اندازہ ہو سکا کہ جناب منور حسن کے بیان نے کہاں کہاں پر آگ کو سلگایا ہے؟ ایم کیو ایم کے راہنماؤں نے تو قتال فی سبیل اللہ کے کلچر کو عام کرنے کے بیان کی وجہ سے سید منور حسن کی باقاعدہ گرفتاری کا مطالبہ کر دیا، اور کہا کہ’’ الطاف حسین پاکستان کو صحیح معنوں میں قائداعظم کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں، ایساپاکستان کہ جس میں مذاہب کو بلا امتیاز رنگ و نسل ومذہب برابر کے حقوق حاصل ہوں‘‘۔۔۔

بھارتی لابی سے وابستہ ایک تجزیہ نگار نے تو اپنے لمبے چوڑے مگر لایعنی خبر نما تجزیے میں جناب منور حسن سے یہ سوال بھی کیا ہے کہ وہ قتال فی سبیل اللہ کی وضاحت کریں اور قوم کو بتائیں کہ ان کی اس سے کیا مراد ہے؟ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔۔۔ افسوس کہ سیکولر سیاست دانوں اور لادین دانش فروشوں نے پاکستان میں’’سچ‘‘ بولنا بھی نہایت مشکل بنا دیا ہے۔۔۔ اگر کسی بیوقوف کو’’قتال فی سبیل اللہ‘‘ کے مطلب، معنیٰ اور مفہوم کا ہی علم نہیں ہے۔۔۔ تو اسے کس نے کہا ہے کہ وہ خوامخواہ اس موضع پر طبع آزمائی کی کوششیں کرتا پھرے؟۔۔۔

اگر بزرگ سیاست دان منور حسن ملک میں بوری بند لاشیں پھینکنے کے کلچر کوعام کرنے کی بات کرتے۔۔۔ امن کی آشا کے نام پر پاکستان میں فحاشی و عریانی اور بے حیائی کے ایجنڈے کو پروان چڑھانے کے کلچر کی بات کرتے۔۔۔ بھارت اور امریکہ کی طاقت کا سکہ پاکستانی قوم کے دلوں پر بٹھانے کے کلچر کی بات کرتے تو یقینا یہ سب غلط بھی تھا۔۔۔ اور اس پر ان کی گرفت بھی نہایت ضروری تھی۔۔۔ لیکن انہوں نے تو’’قتال فی سبیل اللہ‘‘ کے کلچر کو عام کرنے کی بات کی ہے۔۔۔جس کا مطلب ہے۔۔۔ اللہ کے راستے میں قتال کرنا۔۔۔ امام مالکؒ ہوں، امام شافعیؒہوں، امام احمد بن حنبلؒ ہوں، یا امام ابو حنیفہؒ ہوں۔۔۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرامؓ ہوں۔۔۔ تابعین کرامؒ ہوں، تبع تابعین ہوں یا اولیاء کرامؒ ہوں۔۔۔ سوا چودہ سو سالوں سے اسلام کی ہر نامور شخصیت قتال فی سبیل اللہ کی عبادت کو نہ صرف یہ کہ تسلیم کرتی چلی آرہی ہے۔۔۔بلکہ قیامت تک آنے والا ہر سچا مسلمان قتال فی سبیل اللہ کوعبادت سمجھتا رہے گا۔۔۔ قتال فی سبیل اللہ کا نہ تو دہشت گردی سے کوئی تعلق ہے۔۔۔ اور نہ ہی تخریب کاری یا فتنہ وفساد سے اس کا کوئی واسطہ ہے۔۔۔

بلکہ قتال فی سبیل اللہ کی وجہ سے تو دہشت گردی اور فساد فی الارض کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتاہے۔۔۔ سیکولر سیاست دان ہوں یا سیکولر دانش فروش۔۔۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ عظیم عبادت کو سمجھنے کیلئے قرآن و سنت کا گہرائی سے مطالعہ کریں، قتال فی سبیل اللہ اور جہاد مقدس کے خلاف امریکہ ، برطانیہ ،اسرائیل اور بھارت کے خفیہ اداروں کے پیدا کردہ’’اسکالرز‘‘ کے پروپیگنڈے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔۔۔

امریکہ اگر قتال فی سبیل اللہ کو دہشت گردی یا فساد فی الارض سے تعبیر کرتاہے تو اس کی مرضی۔ ہم امریکہ اور امریکی ڈالرخوروں کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ عبادت خداوندی کی من چاہی تشریح کرتے پھریں۔۔۔ قتال فی سبیل اللہ ایک دینی اصطلاح ہے۔۔۔ جنگ بدر، جنگ احد، جنگ خندق، غزوہ حنین، غزوہ خیبر، غزوہ تبوک سمیت27غزوات اور55سرایا۔۔۔ قتال فی سبیل اللہ پر عملی شاہد ہیں۔۔۔ جہاد مقدس یا قتال فی سبیل اللہ کی حقانیت پر قرآن مقدس کی558آیاتِ جہاد گواہ ہیں۔۔۔ موجودہ دور میں اگر کوئی جماعت، شخص یا کوئی گروہ قتال فی سبیل اللہ کے نام پر بے گناہ انسانوں کو قتل کرتا ہے۔۔۔ ملک کے اندر مارا ماری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔ یہ نہ صرف یہ کہ غلط بلکہ ظلم عظیم ہے۔۔۔

لیکن کسی گروہ کے غلط طرز عمل کیوجہ سے قتال فی سبیل اللہ کی شرعی حیثیت پر ذرا برابر بھی کمی واقع نہیں ہو سکتی۔۔۔ اور نہ قتال فی سبیل اللہ کے کلچر کو عام کرنے کی بات کو فتنہ و فساد سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ اگر داعش یا تحریک طالبان پاکستان والے نماز پڑھتے ہیں۔۔۔ توکیا سیکولر دانش فروش نماز کو نعوذباللہ اس لئے چھوڑ دیں گے کہ داعش یا ٹی ٹی پی والے بھی نماز پڑھتے ہیں؟

پاکستان میں نماز کے کلچر کو رواج دینا یا جہاد فی سبیل اللہ کے کلچر کو پرموٹ کرنا۔۔۔ عین ایمان ہے۔۔۔ اس کی مخالفت کرنیوالے بھی اسی طرح کے انتہا پسند ہیں کہ جس طرح کے انتہا پسند۔۔۔ پاکستان میںجہاد یا اسلام کے نام پر بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے کا سبب بنتے ہیں، میرے نزدیک جناب منور حسن نے قتال فی سبیل اللہ والے کلچر کو عام کرنے کی بات بجا طورپر درست کہی۔۔۔

جب پاکستان کے خلاف بھارت کا وزیراعظم مودی دہشتگردی کے کلچر کو عام کرنے کی کوششیں کرے گا ۔۔۔ جب پاکستان کے خلاف امریکی سی آئی اے، ایف بی آئی ، اسرائیلی موساد اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ دہشت گردی کے کلچر کو پرموٹ کرنے کی کوششیں کرے گی۔۔۔ توپھر پاکستان میں قتال فی سبیل اللہ کے کلچر کو رواج دینا ۔۔۔ صرف ضروری نہیں بلکہ لازمی بن جائے گا۔۔۔

وما توفیقی الاباللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor