Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بد بخت قاتلوں کا ٹولہ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 472 - Naveed Masood Hashmi - badbakht qatilon ka tola

بد بخت قاتلوں کا ٹولہ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 472)

وہ ایک انقلابی اورجہادی روح کے مالک تھے۔۔۔ مگر وہ مولانا فضل الرحمن کے زیر سایہ جمہوری سیاست کے ذریعے پاکستان میں اسلامائیزیشن کے عمل کو آگے بڑھانے کی آخری سانسوں تک جدوجہد کرتے رہے، میں انہیں سندھ کا شہزادہ قرار دیا کرتا تھا۔۔۔ اندرون سندھ کہ جہاں غربت، جہالت اور بدعقیدگی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔۔۔ اس اندرون سندھ کے دیہاتوں، گوٹھوں اور شہروں میں وہ حضرت شیخ الہندؒ کے پیغام کو پہنچاتے رہے۔۔۔ انہوں نے ایک مرتبہ لاڑکانہ کے عظیم دینی مرکز جامعہ اسلامیہ اشاعت القرآن و الحدیث کی مرکزی مسجد میں اس خاکسار کو جمعہ کے خطاب کی دعوت دی۔۔۔ تو میں نے اپنا پورا خطاب فریضہ’’جہاد وقتال‘‘ پر کیا۔۔۔ وہ سارا وقت خود بھی وہاں موجود رہے اور نماز سے پہلے اپنے مخصوص انداز میں عوام سے فرمایا کہ وہ اس خطاب کی انقلابی کیسٹ لاڑکانہ کے ہر گھر تک پہنچانے کی کوشش کریں۔۔۔ مجھے یہ دیکھ کر خاصی حیرانی ہوئی کہ ان کی مرکزی مسجد پہلی اذان کے ساتھ ہی نمازیوں سے بھر جاتی ہے۔۔۔

وہ لاڑکانہ کے مرکزی چوک پر سالانہ دینی جلسہ بھی کیا کرتے تھے۔۔۔ ایک مرتبہ ان کی دعوت پر مجھے اس سالانہ جلسے سے بھی خطاب کی سعادت حاصل ہوئی، تو میں نے دیکھا کہ سندھ کے عوام ان سے بے پناہ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔۔۔ ان کے والد گرامی حضرت اقدس مولانا علی حمد حقانیؒ کا شمار سندھ کے جید علماء کرام میںہوتا تھا۔۔۔ یوں اگر میں یہ بات لکھ دوں کہ ذہانت وفطانت، علم و ذکاوت اور شہادت کا شوق انہیں وراثت میں ملا تھا تو یقینا غلط نہ ہوگا۔۔۔

مولانا ڈاکٹر خالدسومرو کی قسمت پر رشک کیجئے کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی دین کی سربلندی کیلئے گزار دی۔۔۔ دینی نظریات کی آبیاری کیلئے انہوں نے انتہائی سرگرم کردار ادا کیا۔

وہ ایوان بالا سینٹ کے رکن بھی رہے۔۔۔ دینی سرگرمیوں سے بھرپور زندگی گزار کر ہفتہ29 نومبر کی علی الصبح عین نماز فجر کو ادا کرتے ہوئے بدبخت دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہادت کا جام نوش کر کے خلد بریں کے مالک بن گئے۔۔۔مولانا سومرو ایم بی بی ایس ڈاکٹر تو تھے ہی۔۔۔ مگرانہوںنے قرآن و حدیث کے علوم حاصل کرنے کے بعد۔۔۔ لوگوں کے دلوں پر محنت کرنے کافیصلہ کیا۔۔۔ حق گوئی و بے باکی اور بہادری ان کی فطرت میںشامل تھی۔۔۔ اندھیری راتوں کی پیداوار دہشت گرد تو میرے دوست خالد محمود سومرو کو مارنے آئے تھے، مگر قربان جائیے پروردگار کی قدرتوں پر۔۔۔ اللہ نے انہیں شہادت سے ہم آغوش کر کے ہمیشہ کیلئے زندہ کر دیا۔۔۔ کوئی قاتلوں کو بتائے کہ تم ناکام رہے۔۔۔نامراد رہے۔۔۔ اور مولانا ڈاکٹر خالد سومرو انتہائی کامیابی کے ساتھ شہادت کا تاج پہن کرہمیشہ کیلئے امر ہوگئے

اللہ اللہ موت کو کس سے مسیحا کر دیا

زندہ ہو جاتے ہیں وہ جو مرتے ہیں حق کے نام پر

55سالہ مولانا خالد سومرو سے میری پہلی ملاقات ۔۔۔24سال قبل کراچی میں ہوئی تھی۔۔۔ ان 24سالوں میںہم جب بھی آپس میںملے۔۔۔ محبتوں میں اضافہ ہی ہوا۔۔۔

جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ’’ریاست علماء کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں بے بس ہے۔۔۔ قاتل دندناتے ہوئے پھر رہے ہیں، تحقیقات کے نام پر ٹالا جارہا ہے، ہمیں پرامن رہنے کی سزا دی جارہی ہے۔۔۔ قاتل ہمارے حوالے کئے جائیں یا ریاست حملوں کی ذمہ داری قبول کرے‘‘ مولانا فضل الرحمن انتہائی زیرک، بردبار اورمتحمل مزاج سیاستدان ہیں۔۔۔ آئین میں موجود اسلامی شقیں کہ جن کوختم کروانے کیلئے امریکہ،لندن اور یورپ سمیت پاکستان میں بسنے والے لبرل اور سیکولر فاشسٹ ایڑی چوٹی کا زورلگا رہے ہیں۔۔ مولانا فضل الرحمن ان اسلامی شقوں کی حفاظت ایک زبردست پہرے دار کی حیثیت سے کر رہے ہیں۔۔۔ انہوں نے ریاست کی ذمہ داری کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے ہیں وہ انتہائی غور وفکر کے قابل ہیں۔۔۔

مولانا نے حکومت کی بجائے’’ریاست‘‘ سے علماء کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھانے کا تقاضہ کیا ہے، باشعورلوگ سمجھتے ہیں کہ جہاں سے آگے۔۔۔ حکومت کے پر جلنا شروع ہو جائیں۔۔۔ وہاں سے ریاستی اداروں کی حدود شروع ہوجاتی ہیں۔۔۔کیا مولانا فضل الرحمن کا شکوہ ریاستی اداروں سے ہے؟ مولانا فضل الرحمن مسلسل تین مرتبہ جان لیوا خود کش حملوںسے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔۔۔ تب بھی ان کاروئے سخن’’ریاست‘‘ ہی کی طرف تھا۔۔۔لگے ہاتھوں ’’ریاست‘‘ کے سامنے چند سوالات ہم بھی اٹھائے دیتے ہیں۔۔۔ مفتی نظام الدین شامزئیؒ، حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، مفتی محمد جمیل خانؒ،مولانا سعید جلال پوریؒ، مولانا عبدالغفور ندیمؒ، مولانا محمد عبداللہؒ، مولانا اعظم طارقؒ سمیت سینکڑوں علماء کا لہو۔۔۔ گزشتہ دس پندرہ سالوںمیں بہا دیا گیا۔۔۔

کیا’’ریاست‘‘ کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ قوم کو اعتماد میں لینے کیلئے ان سب جید علماء کرام کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے؟ آخر وہ کون سی کالی طاقتیں ہیں کہ جو گزشتہ دو عشروں سے ممتاز علماء کرام کو قتل کروارہی ہیں؟ علماء کرام معاشرے کے سب سے عظیم لوگ ہوتے ہیں۔۔۔ معاشرے کے ان عظیم لوگوں کو خاک و خون میں تڑپانے والے ابلیس کے ایجنٹوں کو گرفتار کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟

مجھے یہ بات لکھنے میںکوئی باک نہیں کہ گزشتہ دو عشروں میںجس طرح سے مسلک اہلسنت والجماعت دیو بند مکتبہ فکر کے جید علماء کرام کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔۔۔ اسے دیکھ کر یہ بات صاف محسوس ہورہی ہے۔۔۔ کہ علماء کے قاتلوں کو بین الاقوامی قوتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔۔۔۔ اور نہایت دکھ کی بات یہ ہے کہ’’ریاست‘‘ علماء کرام اور مذہبی کارکنوں کی جان و مال کوتحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آرہی ہے۔۔۔

شہید کئے جانے والے جید علماء کرام نہ توپاکستان میں عسکریت پسندی کے قائل تھے اور نہ ہی ملک میں فتنہ وفساد پھیلنے والوں کو پسند کرتے تھے۔۔۔ شہید علماء کرام کے دلوں میں اسلام اور پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔۔۔مگر اس کے باوجود انہیں چن چن کر گولیوں سے چھلنی کیا جاتا رہا۔۔۔

پولیس اوریاستی ادارے یہ سب ظلم ہوتا ہوا کھلی آنکھوں سے دیکھتے رہے، ڈاکٹر خالد سومرو تو جمہوری سیاست کے امین تھے،ان کا تعلق نہ تو کسی جہادی تنظیم سے تھا۔۔۔ اور نہ ہی ریاست کیلئے وہ کسی قسم کا چیلنج تھے، مگر اس کے باوجود۔۔۔ جہنمی دہشت گردوں نے انہیں مسجد میں گھس کر گولیوں سے چھلنی کرڈالا۔۔۔

یہ بات یاد رکھنا لازمی ہے کہ علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں۔۔۔ جو طبقہ، جو گروہ۔۔۔ حق گوئی و بے باکی اور مذہب اسلام سے محبت کے جرم میں علماء کرام کو قتل کروارہا ہے۔۔۔ اگر ریاست نے’’خناس قاتلوں‘‘ کے اس لعنتی گروہ کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہ کیا تو پھر یہ ملک’’امن‘‘ کے لئے ہمیشہ ترستا ہی رہے گا۔۔۔

وما توفیقی الاباللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor