Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مسلمانوں کی عزت کا مسئلہ؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 473 - Naveed Masood Hashmi - Musalmanon ki Izzat ka masla

مسلمانوں کی عزت کا مسئلہ؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 473)

ہندوئوں سے بڑا انتہا پسند ‘ دہشت گرد اور تخریب کار دنیا میں اور کون ہوسکتا ہے کہ جنہوں نے ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی عبادت گاہوں ’’مساجد‘‘ کو طاقت ‘ دھونس اور دہشت گردی کے زور پر مندروں میں تبدیل کرنا شروع کر رکھا ہے … پاکستان میں بسنے والے بھارت کے بعض ایجنٹ میڈیا کے ذریعے یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہیں … کہ صوبہ سندھ کے بعض علاقوں میں ہندو عورتوں کو زبردستی مسلمان کرکے ان سے شادیاں کی جارہی ہیں۔

حالانکہ یہ پروپیگنڈہ  سراسر ظلم ‘ جھوٹ پر مبنی اور لغو ہے … سوا چودہ سو سال سے زائد ہوچکے ہیں … مذہب اسلام کو دنیامیں آئے ہوئے… ان  سوا چودہ سو سالوں میں کوئی ایک ایسی مثال نہیں پیش کی جاسکتی کہ جس میں کسی مسلمان بادشاہ ‘ مسلمان  حکمران ‘ مسلمان جرنیل یا کسی مذہبی جماعت نے کسی بھی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش کی ہو ہاں البتہ … اپنی مرضی سے خلوص دل کے ساتھ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونے والوں کو نہ کوئی اس سے قبل روک سکا ہے … اور نہ قیامت تک روک سکے گا ‘ مگر اس کے باوجود … بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹ لبرل اور سیکولر فاشسٹ یہ رونا روتے ہیں کہ سندھ کے ہندو بھارت کی طرف ہجرت کرکے جارہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں دودھ اور شہد کی نہر یں بہہ رہی ہیں؟ کیا بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کو پامال نہیں کیا جارہا؟ کیا بھارت میں زبردستی مسلمان بچیوں کو ہندو بنانے کی کوشیں نہیں ہوتیں؟ کیا بھارت میں آج بھی صرف گائے جیسے جانور کو ذبح کرنے کی وجہ سے سینکڑوں مسلمانوں کو جانوں سے ہاتھ نہیں دھونا پڑتے؟

کیا بھارت میں ’’ہندوستان میں رہنا ہوگا … ہندو بن کر رہنا ہوگا‘‘ کے نعرے نہیں گونج رہے؟ یقینا یہ سب کچھ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہو رہا ہے … تو پھر بھارت کے خلاف بات کرتے ہوئے صہیونی استعمار کے ایجنٹ سیکولر فاشسٹوں کی زبانوں پر تالے کیوں پڑ جاتے ہیں؟… بھارت کے مقام ایو دھیا (ضلع فیض آباد) میں آج سے  22 سال قبل دسمبر1992 ء کو موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قائدین اور ساتھیوں نے مسلمانوں کی 500  سالہ   تاریخی ’’بابری مسجد‘‘ پر حملہ کرکے … اسے جس طرح سے شہید کیا … کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ بھارت کے انتہا پسند ہندو مسلمانوں کی جان و مال کے ساتھ ساتھ ’’مساجد‘‘ کے بھی دشمن ہیں … جس وقت بھارتی جنتا پارٹی کے  لیڈران … لال کرشن ایڈوانی  ‘ مرلی منوہر جوشی ‘ ونے کٹیار  اور اوما بھارتی اپنے ہزاروں ہندو دہشت گردوں کے ساتھ مظلوم بابری مسجد پر حملہ آور تھے … اور مسلمانوں کی پیاری مسجد کو کدالوں ‘ بھالوں اور کسیوں کے ساتھ منہدم کررہے تھے … بابری مسجد کے  منبر و محراب کو اکھیڑ رہے تھے … بابری مسجد کے  گنبد و مینار کو شہید کر رہے تھے …  اس وقت انسانی حقوق کے عالمی منشور کو منظور کرنے والا ادارہ … اقوام متحدہ اور اس کے بدنام زمانہ ایجنٹ نہ صرف یہ کہ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے … بلکہ وہ ان قیامت خیز لمحا ت میں بھی مسلمانوں کی اشک شوئی کرنے کی بجائے … ہندو دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے رہے … دسمبر1992 ء میں ہندو دہشت گردوں نے صرف بابری مسجد کو ہی شہید کرنے پر اکتفا نہ کیا … بلکہ ہندوئوں کی اس بدمعاشی کے خلاف احتجاج کرنے والے ڈھائی ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید … اور مسلمانوں کی اربوں روپے کی املاک کو نذر آتش کر ڈالا … ہندو دہشت گردوں نے بابری مسجد کی شہادت کے بعد … بھی مزید درجنوں مساجد کو شہید کرنے سے دریغ نہ کیا … مگر اقوام متحدہ ‘ امریکہ ‘ برطانیہ اور انسانی حقوق کا نعرہ بلند کرنے والے سارے ادارے اپنے منافقانہ رویوں کے ساتھ یہ سب  ہوتے ہوئے  دیکھتے رہے … 6 دسمبر1992 ء کے دن بابری مسجد کی شہدت کے دس دن بعد جسٹس لبراہن کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔

اس کمیشن کو تین ماہ یعنی16 مارچ1993  تک اس بات کی انکوائری کرکے رپورٹ دینا تھی کہ کن حالات کے نتیجے میں بابر ی مسجد کو شہید کیا گیا … لیکن بھارتی عدالت کی کہہ مکرنیوں کا اندازہ لگائیے کہ … یہ بھارت کی تاریخ کا سب سے  طویل ترین انکوائری کمیشن ثابت ہوا اور اس کی مدت کار میں مسلسل 48 مرتبہ توسیع کی گئی … ہندو دہشت گردوں اور بھارتی فوج نے طاقت کے زور پر بابر ی مسجد کی جگہ ایک عارضی مندر تعمیر کر دیا… بابری مسجد کا واقعہ جہاں بھارت سے انصاف کا جنازہ اٹھنے کی نشاندہی کرگیا … وہاں پر مسلمان سیکولر قائدین کے مکرو فریب اور مسلمان عوام سے دھوکا دہی کو بھی طشت ازبام کرگیا۔

مجھے یہ بات لکھنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ جس طرح سے پاکستان کے عوام آج تک کسی ایسے قائد  اور راہنما سے محروم چلے آرہے ہیں کہ جو ان کی ڈولتی نائو کو کنارے پر لگاسکے … اسی طرح ہندوستان کے مسلمان بھی مخلص ‘ بے باک اور خوف خدا رکھنے والے قائدین اور لیڈروں کی شدید قحط سالی کا شکار ہیں … ہندوستان میں ایک طرف سے ہندو انتہا پسند بھارتی سیکورٹی فورسز کے ادارے … عام مسلمانوں کو شدید نفسیاتی تنائو میں رکھتے کی کوششیں کرتے ہیں۔

تو دوسری طرف ’’مسلم سیکولر لیڈران ‘‘ کی بے وفائی ‘ بے اعتنائی اور مفاد پرستی  بھارت کے عام مسلمانوں کے لئے سوہان روح بنی ہوئی ہے … ہندو دہشت گردی … اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی بھارت میں اس حد تک رچ بس چکی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے جائز حقوق کے لئے آواز بلند کرنا یا مسلمانوں کے مفاد کی بات کرنا بھی ایک جرم بنا دیا گیا ہے … پاکستان کے الیکٹرانک چینلز اور میڈیا کے اہم پوائنٹس پر تقریباً شدت پسند سیکولر قابض ہیں اور بعض الیکٹرانک چینلز تو دل کھول کر بھارت کی حمایت اور وہاں کے کلچر کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کرنے سے نہیں شرماتے … پاکستان سیکولر اور لبرل دانش فروش … بھارت کے حق میں تو پاکستانی عوام پر محنت کررہے ہیں جبکہ بھارت میں … وہاں کے حکمران ‘پاکستان اور اسلام کے خلاف زبردست پروپیگنڈے کررہے ہیں … نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے انتہا پسند ہندو تنظیموں … آر ایس ایس ‘ وی ایچ پی اور بی جے پی کے قائدین بابری مسجد اور متنازعہ را جنم بھومی مسئلہ کو حل کرنے پر زوردے رہے ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنے کا ان کے پاس صرف ایک ہی نسخہ ہے کہ وہ بابر ی مسجد کی جگہ ایک بہت بڑا رام  مندر تعمیر کر دیں … انتہا پسند ہندو لیڈر ’’پروین توگاڑیہ‘‘ نے یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ ً’’ایودھیا میں ایک بڑا مندر ہر صورت میں تعمیر کیا جائے گا ‘ یہ  ہندوئوں کی عزت کا مسئلہ ہے … صرف ہندوستان  ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں بسنے اولے مسلمان … بابر ی مسجد کے تنازعے کو بغور دیکھ رہے ہیں ‘ مقبوضہ کشمیر کی مضبوط ترین عسکری تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا محمد مسعود ازہر نے تو بھارت کے حکمرانوں کو باقاعدہ دھمکی دے رکھی ہے … کہ اگر بابری مسجد کی جگہ رام تعمیر کیا گیا تو جیش کے مجاہدین بھارت میں سرکاری تنصیبات کو نشانہ بناسکتے ہیں اگر یہ کہہ دیا جائے تو یقینا غلط نہ ہوگا کہ … بابری مسجد کا تنازعہ اگر انصاف کے مطابق حل نہ کیا گیا تو ہندو دہشت گردخطے کے  اربوں عوام کیلئے خطرہ بنے رہیں گے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor