Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ہندو دہشت گردی کا عروج (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 474 - Naveed Masood Hashmi - Hindu Dehshat Gardi

ہندو دہشت گردی کا عروج

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 474)

کدھر ہیں وہ لال بجھکڑ اورشیطانی دماغ والے غیر ملکی ایجنٹ! جو کہتے ہیں کہ اب جہاد کی ضرورت باقی نہیںرہ گئی۔۔۔ اورنہ ہی یہ جہادو قتال کا زمانہ ہے۔۔۔(نعوذ باللہ) کیا انہوں نے یہ خبر نہیں پڑھی کہ’’بھارتی شہر آگرہ میں انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیونگ سنگھ کی ذیلی تنظیم اور بجرنگ دل نے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔۔۔ آگرہ کی انتہائی پسماندہ بستی دیونگ کی جہاںتین سو کے لگ بھگ مسلمان بستے ہیں۔۔۔ ان مسلمانوں کی حالت زار یہ ہے کہ وہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔۔۔ ان غریب ترین مسلمانوں کی غربت، مجبوری، بے بسی اور لاچاری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے۔۔۔ دہشت گرد ہندو تنظیموں نے آگرہ کی تقریب میں ستاون مسلمان خاندانوں کے200افراد کو ہندو بننے پر مجبور کیا، مسلمانوں کو زبردستی ہندو مورتیوں کے پاؤں دھونے پر مجبورکیا گیا۔۔۔ جبکہ ان کے ماتھوں پر روائتی ہندو نشان بھی لگا دیاگیا۔۔۔

میڈیا کے مطابق۔۔۔ دہشت گرد ہندو تنظیموںنے ان غریب مسلمانوں کو گھر، خوراک اور تعلیم کا لالچ بھی دیا۔۔۔اس موقع پر ہندو تنظیموں کے قائدین نے مزید پانچ ہزار مسلمانوں اور عیسائیوں کو زبردستی ہندو بنانے کا اعلان کیا۔۔۔

دو سو مسلمانوں کی تبدیلی مذہب کی اس اجتماعی تقریب کے بعد۔۔۔ پاکستان کے حکمرانوں سمیت دنیا کی دیگر اسلامی یا غیر اسلامی ممالک کی حکومتوں نے بھارت کا کیا بگاڑ لیا؟ کیا دنیا کے حکمرانوں میں کوئی بھی ایسا حکمران ہے کہ جو بھارت کی شدت پسند ہندو تنظیموں کو مسلمانوں کو زبردستی ہندوبنانے سے روک سکے؟ ہے کوئی پاکستان میں بسنے والا بھارتی گماشتہ سیکولر دانش فروش، اینکر، یاسیفما اینڈ کمپنی کا کوئی لیڈر کہ جو مظلوم بھارتی مسلمانوں کو۔۔۔ ہندو دہشت گردوں کے ظلم و ستم سے بچا سکے؟ کوئی بھی نہیں۔۔۔ کوئی ایک بھی نہیں۔۔۔ تو پھر مجروح دل مسلمان امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر، امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد یا دوسری جہادی قیادت کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں تواس کا انہیں حق حاصل ہے۔۔۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی خود ایک بدنام زمانہ دہشت گرد ہے۔۔۔ اس کی گردن پر۔۔۔ بھارتی گجرات کے سینکڑوں بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کی ذمہ داری بھی ثابت ہو چکی ہے۔۔۔ جس ملک کا وزیراعظم خود دہشت گرد ہو، جس ملک میں کروڑوں ہندو ایک معروف دہشت گرد کو ووٹ دیکر۔۔۔ وزیراعظم منتخب کر چکے ہوں۔۔۔ اس ملک میں اقلیتوں کے حقوق یا انسانی حقوق تو ویسے ہی اجنبی ہو جایا کرتے ہیں، بھارت کے ہندوؤں نے نریندر مودی جیسے خونخوار کوبھول کر اپنا وزیراعظم نہیں بنایا۔۔۔ بلکہ انتہائی سوچ سمجھ کے بعد، جان بوجھ کر خونخوار نریندرمودی کو بھارتی وزیراعظم بنایا گیا ہے۔۔۔ اب راشٹریہ سیونگ ہو، شیو سینا ہو، بی جے پی ہو یا بجرنگ دل، بھارت میں بسنے والی سب سے بڑی مسلمان اقلیت کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں، ان پر جس قدر چاہیں مظالم ڈھائیں۔۔۔ اس کا انہیں حق حاصل ہے۔۔۔ جس بھارت کا وزیراعظم خود دہشت گردوں کا کمانڈر اور سرپرست ہوگا۔۔۔ اس بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار کس قدر خطرناک حد تک بری ہوگی یہ سوچ ہی انسان کو ہلا ڈالتی ہے۔۔۔

آگرہ میں200مسلمانوں کو زبردستی ہندوبنانے کی مذموم کوشش خطے میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی کو ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے۔۔۔ ہندوستان کے کروڑوں مسلمان سنگین خطرات سے دوچار ہو چکے ہیں۔۔۔ہندوستان کی مساجد اور مدارس کو شدید خطرات لاحق نظر آرہے ہیں۔۔۔ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ ہندو دہشت گردی کا جن بوتل سے باہر آنے کے بعد پاکستان پر خطرات منڈلاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔۔۔ اس خوفناک سچوئیشن میں سوائے جہاد کی تیاری کے مسلمانوں کی حفاظت کی کوئی دوسری صورت نظر نہیں آتی۔۔۔پاکستان کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے۔۔۔ یہاں پر بسنے والے بھارت کے ہمدردوں اور اس کے ایجنٹوں کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھنا پڑے گی۔۔۔ نریندر مودی جیسے زہریلے وزیراعظم سے کبھی بھی کسی بھی انتہا پسندانہ مہم جوئی کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔۔۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جس میاں نواز شریف حکومت سے عمران خان نہیں سنبھالا جارہا۔۔۔ وہ نریندر مودی کی قیادت میں دہشت گرد بھارت کو کیسے قابو کرے گی؟ وہ زبانیں جو جہاد اور مجاہدین کے خلاف آگ اگلتی ہیں۔۔۔ اب خاموش کیوں ہیں؟ وہ منہ کہ جو جہاد اور مجاہدین کے خلاف بول بول کر خشک ہو جایا کرتے تھے۔۔۔ اب ان ہونٹوں پر تالے کیوں پڑے ہوئے ہیں؟

جن دانش فروشوں کو کشمیری مجاہدین دہشت گرد نظر آتے تھے،جن اینکرز اور اینکرنیوں کو پاکستان میں جہاد کی تقریریں بری لگتی تھیں۔۔۔ جنہیں عظمت جہاد بیان کرنے والے انتہا پسند نظر آتے تھے۔۔۔ وہ دانش فروش اور بھارتی پٹاری کے سانپ اب اپنے اپنے بلوں میںکیوں جا گھسے ہیں؟

 وہ بتاتے کیوں نہیں کہ آخر دہشت گردوں کی جنت بھارت کہ جس کا وزیراعظم نریندر مودی جیسا خونخوار ہے۔۔۔ اس کا طریقہ علاج کیا ہے؟ کیا امریکہ یا اقوام متحدہ۔۔۔ بھارتی شدت پسندوں کو مسلمانوں پر مظالم کرنے سے باز رکھ سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔۔۔ جو اقوام متحدہ اپنی ہی منظور کردہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی قرار داد پر آج تک بھارت سے عمل نہیں کرواسکا، وہ بھارتی مسلمانوں پر ہندو دہشت گردوں کے مظالم کیسے بند کروا سکتا ہے؟ یہ کہاوت بڑی پرانی ہے کہ بھارت صرف لاتوں کا بھوت ہے جو کبھی قرار دادوں، مطالبوں یا باتوں سے نہیں مانے گا، نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد۔۔۔ پاکستان کے حکمرانوں کو بھی ہنگامی بنیادوںپر اپنے دفاع کی بھرپور تیاری رکھنا پڑے گی۔۔۔

بھارتی مفادات کی خاطر سرزمین پاکستان کو استعمال کرنے والے’’بھارتی بھوتوں‘‘ کے خلاف سخت ایکشن لینا پڑے گا۔۔۔ جن کشمیری مجاہدین کے ساتھ۔۔۔ امریکہ اور بھارت کو خوش کرنے کیلئے زیادتیاں کی گئیں۔۔۔ ان کی فیملیز سے معذرت بھی کرنا پڑے گی۔۔۔

پاکستان کے حکمرانوں نے اب تک کی صورت حال سے دیکھ ہی لیا ہو گا کہ۔۔۔ بھارت کے سامنے لیٹ جانے سے نہ تو بھارت دوستی لگاتا ہے اور نہ ہی کسی بھی قیمت پر پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہے۔۔۔۔ اس صورت حال میں ہمیں اپنے دفاع کیلئے جہادی تیاری کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔۔۔

یہ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں ابھی مولانا محمد مسعود ازہر جیسے جہادی قائد موجود ہیں کہ جنہیں اگر کھل کر کام کرنے کا موقع دیا جائے تو ان کی صرف ایک تقریر سینکڑوں مجاہد تیار کرنے کیلئے کافی ہے،یہ ارض وطن ہمارے آباء و اجداد نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کی تھی۔۔۔ اس ارض وطن کی حفاظت کی خاطر جب بھی خون کی ضرورت پڑی تو پاک فوج کے شانہ بشانہ مذہبی نوجوانوں نے اپنا گرم لہو پیش کیا۔۔۔حالانکہ اس ملک کے سیکولر حکمرانوںنے امریکہ اور بھارت کی خوشنودی کیلئے جب بھی موقع ملا۔۔۔ پاکستان کی مذہبی قوتوں پر مظالم ڈھائے ہیں۔۔۔

پاکستان کی سلامتی کی خاطر جانیں پیش کرنے والی جہادی جماعتوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔۔۔ لیکن اس سب کے باوجود۔۔۔ مذہبی جہادی تنظیموں کے لاکھوں کارکنان ملک کی سلامتی کی خاطر جانیں نچھاور کرنے کیلئے ہروقت تیار رہتے ہیں۔۔۔ تو یہ ان کی وطن سے محبت کا انمٹ ثبوت ہے۔۔۔

ہندوستان میں بے بس اور مجبور مسلمانوں کو دہشت گرد ہندو بھارتی حکومت کی سرپرستی میں زبردستی ہندو بنانے کی مذموم کوششوں میں مصروف رہتے ہیں، یہ ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے کہ جس کی وجہ سے نفرت و عداوت کی آگ ہمیشہ بھڑکتی رہے گی۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor