Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بچوں کو مارنے اور مسجدیں گرانے والے! (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 475 - Naveed Masood Hashmi - Bachon ko marne aur masjdein girane wale

بچوں کو مارنے اور مسجدیں گرانے والے!

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 475)

پاکستان کی سب سے پُراَمن جماعت ’’ایم کیو ایم‘‘ کہ جس جماعت کے قیام کے بعد سے لیکر اب تک کراچی میں 30ہزار سے زائد بے گناہ انسانوں کاخون بہہ چکا ہے۔۔۔ لندن میں مقیم قائد الطاف حسین نے فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’لال مسجد کو گرادو۔۔۔ جامعہ حفصہؓ کو بند کردو‘‘۔۔۔ توبہ، توبہ، توبہ۔۔۔ لال مسجد سمیت کسی بھی مسجد کو گرانے، ڈھانے یا آگ لگانے کا کام کوئی سچا مسلمان تو کبھی نہیں کر سکتا، اور نہ ہی کرے گا۔۔۔الطاف حسین کو چاہئے کہ وہ اس بُرے کام کیلئے پرویز مشرف کی قیادت میں ہی کوئی کمیٹی قائم کر دیں۔۔۔ تاکہ مسجدیں ڈھانے اور گرانے کی۔۔۔ سیکولر شدت پسندی کی پرانی خواہش کا کچھ تو اِزالہ ہو سکے۔۔۔ مساجد شعائر اللہ میں سے ہیں۔۔۔’’مساجد‘‘ اللہ کا گھر ہیں۔۔۔ کہ جہاں ہر وقت رب کی رحمت چھما چھم برستی رہتی ہے۔۔۔

ہر سچا مسلمان مسجدوں میں جا کر روحانی سکون۔۔۔ محسوس کرتاہے۔۔۔ اللہ کی عبادت کر کے اپنے دلوں کو تسکین دیتاہے۔۔۔ کسی بھی آبادی یا شہرمیں سب سے مقدس اورمطہر جگہ’’مساجد‘‘ ہی ہوتیں ہیں۔۔۔ عزت وعظمت، رفعت و سربلندی اور مقام و مرتبے میں’’مساجد‘‘ کا مقابلہ کسی بھی بلڈنگ، عمارت یا عبادت گاہ سے نہیں کیا جا سکتا، حتیٰ کہ پارلیمنٹ کی بلڈنگ ہو، سینٹ کی بلڈنگ ہو۔۔۔ یا دیگر ریاستی اداروں کی بلڈنگیں اور عمارتیں۔۔۔ مساجد کی عظمت کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔۔۔

کسی بھی مسجد کے امام یا مولوی سے کسی کا بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔۔۔ لیکن کیا مولوی صاحب سے اختلاف کو بنیاد بنا کر مسجد کو ڈھایا جا سکتا ہے؟ کسی مولوی یا امام کی غلطی کو بنیاد بنا کر اللہ کے گھر کو’’استغفراللہ‘‘ ’’مسجد ضرار‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے؟ پاکستانی قوم جائے تو جائے کہاں؟ اس قوم کو اگر ایک طرف ایسے شدت پسند دہشتگردوں سے پالا پڑا ہوا ہے کہ جو پشاور آرمی پبلک سکول میں دن دیہاڑے معصوم بچوں کو شہید کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔۔۔ تو دوسری طرف اس قوم کو ایسے شدت پسندوں نے گھیر رکھا ہے۔۔۔ جو چاہتے ہیں کہ مساجد کو ڈھا دیا جائے۔۔۔ مدارس دینیہ کو مٹا دیا جائے۔۔۔ ہر داڑھی اور پگڑی والے کو مار دیا جائے۔۔۔

ان دو قسم کے شدت پسندوں سے پاکستان کو نجات دلانے کیلئے ضروی ہے کہ حکمران اورمقتدر ادارے۔۔۔ قومی سطح کے فیصلے ہوں یا خارجہ امور کے فیصلے اور پالیسیاں، اسلام اور نظریہ پاکستان کی روشنی میں ترتیب دیں۔۔۔

جنہوں نے پشاور کے اسکول میں معصوم بچوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔۔۔ ان کی حمایت کوئی بھی ذی ہوش انسان کرہی نہیں سکتا۔۔۔

معصوم بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے درندے ہیں درندے۔۔۔ ایسے درندے کہ جو انتقام کی آگ میں اندھے ہو کر۔۔۔ اسلامی احکامات پس پشت ڈال کر۔۔۔ اس قسم کے قبیح جرائم کے مرتکب ہوئے۔۔۔ پاکستان میں کسی بھی مذہبی جماعت۔۔۔ یا علماء کرام کے کسی بھی گروہ۔۔۔ یا کسی بھی جہادی تنظیم کے لیڈر نے ایسی کسی بھی کسی قسم کی مارا ماری۔۔۔ یا قتل و قتال کی نہ کبھی حمایت کی اور نہ ہی کبھی اس ماراماری یا سیکورٹی اداروں کا مقابلہ کرنے کو جہاد قرار دیا۔۔۔ ہاںالبتہ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ

لندن کے شہری الطاف حسین نے کراچی میں اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ’’گھروں کے برتن بیچ کر بھی اسلحہ خریدیں‘‘۔۔۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی عدالت میں اس وقت کے ڈی جی رینجرز نے یہ بیان دیا تھا کہ کراچی کے حالات وزیرستان سے بھی بدتر ہیں۔۔۔چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کراچی کے حالات اگر درست کرنے ہیں تو پھر بعض سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز ختم کرنا پڑیں گے۔۔۔ تو کیا ان باتوں کو بنیاد بنا کر عسکری ونگز رکھنے والی جماعتوں کے دفاتر یا مراکز کو آگ لگائی جا سکتی ہے؟گرانے یا ڈھانے کے مطالبے کئے جا سکتے ہیں؟ حالانکہ ان جماعتوں کے دفاتر اور مراکز کی کسی بھی مسجد کے سامنے ذرا برابر بھی نہ کوئی حیثیت ہے اورنہ ہی اہمیت۔۔۔

پھر لال مسجد کو گرانے کے مطالبے کرنا۔۔۔ مسجد کو منافقین کا گڑھ قرار دینا۔۔۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟۔۔۔22سال قبل ہندوستان کی سرزمین پر ایودھیا کے مقام پر مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا تھا۔۔۔ تب ہندو شدت پسند لیڈر۔۔۔ بال ٹھاکرے، ایل کے ایڈوانی، اوما بھارتی۔۔۔ وہاں کے ہندوؤں کو بابری مسجد کے خلاف اکساتے رہے کہ بابری مسجد کو گرادو، اس مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجا دو۔۔۔بابری مسجد تو شہید کر دی گئی۔۔۔ لیکن ہندوستان میں ہندوؤں کی اکثریت ہونے کے باوجود۔۔۔ حکومت اور فوج مل کر بھی تادم تحریر بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر نہیں کرپائی تو کیوں؟

سیکولر شدت پسند۔۔۔ اگر ہندوؤں کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے۔۔۔ پاکستان کی مساجد کو شہید کرنے کی کوشش کریں گے۔۔۔ تو یہ صرف پاکستانی قوم سے ہی نہیں۔۔۔ بلکہ اسلام سے بھی دشمنی کے مترادف ہو گا۔۔۔

میری پاک فوج کے بہادر چیف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اور نواز شریف حکومت سے اپیل ہے کہ۔۔۔ وہ پاکستانی بچوں کو مارنے والوں اورمسجدیں گرانے کے اعلانات کرنے والوں۔۔۔ دونوںقسم کے انتہا پسندوں سے نجات دلائیں۔۔۔

سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل(ر) کیانی نے ایک موقع پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’’پاکستان کا مقدر اسلام سے جڑا ہوا ہے۔۔۔ پاکستان اور اسلام لازم ملزوم ہیں‘‘

مساجد اسلام کے شعائر میں سے ہیں۔۔۔ ہمارے بچے۔۔۔ ہمارا سرمایہ ہیں۔۔۔ لال مسجد سمیت کسی بھی مسجد کو گرانے کی بات کرنا بھی دہشت گردی ہے۔۔۔ اور معصوم بچوں کا قتل عام کرنا بھی دہشتگردی ہے۔۔۔ القلم کے قارئین جانتے ہیں کہ جب ڈمہ ڈولہ میں دینی مدرسے کے85معصوم بچوں کے چیتھڑے اڑائے گئے۔۔۔ جب2007ء میں لال مسجد میں سینکڑوں معصوم بچوں اور بچیوں کو زندہ جلا دیا گیا۔۔۔ جب ڈرون حملوں کے ذریعے۔۔۔ امریکی قاتلوں نے وزیرستان کے معصوم بچوں کا خون بہایا۔۔۔ اس خاکسار اور ہمارے ہفت روزہ القلم نے ان بچوں کا خون بہانے والوں کے خلاف کھل کر لکھا۔۔۔

اور آج تک ہم ان دہشت گردوں کے خلاف قلمی جہاد کر رہے ہیں۔۔۔ پشاور کے اسکول میں شہید ہونے والے136بچے بھی مسلمان ماؤں کے لخت جگر تھے۔۔۔

 مسلمان بہنوں کے بھائی تھے۔۔۔ ان بچوںکانہ کوئی ملکی فیصلوں میں عمل دخل تھا اور نہ ہی۔۔۔ یہ بچے اپنے ماںباپ کے اعمال کے ذمہ دار تھے۔۔۔جن دہشت گردوں نے اسکول کے بچوں کو خاک و خون میں تڑپایا۔۔۔ انہوں نے اسلام کے واضح احکامات کو پامال کیا۔۔۔ بچوں کومارنا نہ اسلام ہے اور نہ ہی جہاد۔۔۔ بلکہ یہ دہشت گردی ہے فقط دہشت گردی ۔۔۔ ہم پشاور کے شہید بچوں کے والدین کو انصاف دلوانے کیلئے۔۔۔ بھی قلمی جہاد جاری رکھیں گے۔۔۔ وہ ڈالر خور این جی اوز جو کہ مساجد اورمدارس کے خلاف متحرک ہیں۔۔۔ وہ دراصل غیر ملکی ایجنڈے پر کاربند ہیں۔۔۔ لہٰذا۔۔۔ مساجد کو گرانے اور معصوم بچوں کو مارنے والے دراصل ایک سکے کے ہی دو رخ ہیں۔۔۔ ان دونوںقسم کے ظالموں کے سامنے ہم سینہ سپر رہیں گے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor