Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

دینی مدارس، مذہبی اور جہادی قیادت کی فتح؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 477 - Naveed Masood Hashmi - Deeni Madaris Mazhabi wa Siyasi Qiyadat ki Fatah

دینی مدارس، مذہبی اور جہادی قیادت کی فتح؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 477)

دہشت گردی کے خلاف جتنے بھی سخت سے سخت قوانین بنائے جائیں۔۔۔ دینی مدارس کے اَکابر ہوں، مذہبی قائدین ہوں۔۔۔ یا جہادی قائدین، انہوں نے ہمیشہ اس کی حمایت کی۔۔۔ پاکستان کی68سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ۔۔۔ کبھی کسی مسلّمہ مذہبی جماعت کے قائد یا جہادی جماعت کے اَمیر نے نہ تو ریاست کے خلاف اَسلحے کے اِستعمال کو جائز قرار دیا۔۔ نہ پاکستان کی فوج یا دیگر فورسز کے مقابلے میں۔۔۔ لڑنے مرنے کو جائز قرار دیا۔۔۔ اور نہ ہی پاکستان کے شہریوں پرحملے کرنے والوں کی معمولی سی بھی حمایت کی۔۔۔

بلکہ درست تاریخ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں۔۔۔ خود کش حملوں کو۔۔۔ حرام قرار دینے کا فتویٰ علماء اسلام نے ہی جاری کیا تھا۔۔۔ اس فتوے کوجاری کرنے والوں میں دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث علماء اور مفتیان شامل تھے۔۔۔۔ دینی مدارس ہوں، مذہبی جماعتیں یا جنیوئن جہادی جماعتیں۔۔۔ پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کیلئے۔۔۔ انہوںنے ہمیشہ صف اول کا کردار اداکیا۔۔۔ اور جب بھی ضرورت پڑی۔۔۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے۔۔۔ اپنے لہو کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔۔۔

یہ بات بھی درست ریکارڈ کا حصہ ہے کہ۔۔۔ کسی بھی مذہبی، یا جینوئن جہادی قائد نے 68سالوں میں ایک مرتبہ بھی نہ تو ملکی خزانے کو لوٹا، نہ سپریم کورٹ یا ملکی پولیس اور فورسز سے بھاگ کر۔۔۔ بیرون ممالک میںپناہ لی۔۔۔ اور نہ ہی یہود و ہنود اور نصاریٰ سے ملکی سلامتی پر کبھی کمپرومائیز کیا۔۔۔ دینی مدارس تو وہ ہیں کہ۔۔۔ جو ملک کے غریب، نادار اور معاشرے کے پسے ہوئے لاکھوں بچوں کو نہ صرف یہ کہ آسمانوں سے نازل شدہ قرآنی علوم بلکہ حدیث رسولﷺ کے ساتھ ساتھ منطق، فقہ اور دیگر اہم ترین علوم کی مفت تعلیم دیتے ہیں۔۔۔

کیا کوئی یہ سمجھتا ہے کہ۔۔۔ قرآن وحدیث سے بڑھ کو بھی کوئی دوسرا علم ہو سکتا ہے؟ انگلش ہو، سائنس ہو، جغرافیہ ہو یاریاضی، فزکس ہو یا کیمسٹری ہو یا دیگر دنیاوی تعلیم، اس کی افادیت بھی بے پناہ ہے۔۔۔ اس کا حصول بھی ضروری ہے۔۔۔ مگرقرآن وسنت کی تعلیمات سے بڑھ کر نہیں۔۔۔ پھر پاکستان میں کونسا ایسا مفتی ،مولوی، عالم یا مدرسہ ہے کہ۔۔۔ جو طالب علموں کو پرائمری،مڈل، میٹرک،ایف اے،ایف ایس سی یا ڈاکٹر اور انجینئر بننے سے منع کرتا ہے؟ کوئی ایک بھی نہیں۔۔۔ جب کوئی ایک بھی نہیں تو پھر میڈیا میں گھسے ہوئے خرکار! دینی تعلیم دینے والے مدارس کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کس کے اشارے پر کر رہے ہیں۔۔۔ عالمی صہیونی طاقتوں کے اشارے پر؟ یقینا۔۔۔ کیونکہ پاکستان کے دینی مدارس کو ختم کرنے کا اصل منصوبہ ساز تو بہرحال امریکہ ہی ہے۔۔۔۔

پشاور کے آرمی پبلک سکول میں سوا سو سے زائد بچوں کو شہید کرنے والے دہشت گردوںکی۔۔۔تمام جینوئن جہادی تنظیموں،تمام مسالک کے علمائ، خطبائ، واعظین اور ہر پاکستانی نے شدید مذمت کی۔۔۔ بلکہ وفاق المدارس العربیہ کے زیر اہتمام20ہزار سے زائد مدارس کے25لاکھ طلبائ، علمائ، مہتممین اور شیوخ نے سانحہ پشاور کے شہداء کیلئے دعائیہ تقریبات اور قرآن خوانی کا بھی اہتمام کیا۔۔۔

لیکن اس سب کے باوجود ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر سیکولر چوہے۔۔۔ دینی مدارس کی بنیادوں کو کترنے میں لگے رہتے ہیں تو کیوں؟ کیا دینی مدارس، علماء کرام، جینوئن جہادی قائدین اور مذہبی جماعتوں کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر جب چاہے۔۔۔ علماء کرام اور دینداروں کی پگڑیاں اچھالنا شروع کر دینا یہ کوئی جرم نہیں ہے؟

گزشتہ روز وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا حنیف جالندھری سے میری گفتگو ہوئی۔۔۔ انہوں نے مجھے بتایا۔۔۔ ’’وفاق المدارس العربیہ کے زیر اہتمام دینی مدارس کا وسیع ترین نیٹ ورک موجود ہے۔۔۔ ہم نے حکومت سے بارہا کہا کہ اگر کوئی دینی مدرسہ اندرونِ ملک دہشت گردی میں ملوث ہے تو اس کا ثبوت پیش کیا جائے۔۔۔ مگر حکمران آج تک کسی ایک مدرسے کے بارے میں بھی ثبوت پیش نہیں کر سکے، انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کا یہ اعتراف کہ مدارس کسی قسم کی دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں۔۔۔ بلکہ دینی مدارس پاکستان میں تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ہمارے مؤقف کی تائید ہے۔۔۔ وزیر داخلہ کا اعتراف، دین بیزار، اسلام دشمن اور مدارس مخالف لابیوں کے لئے موت ہے۔۔۔ اب ان’’مخصوص لابیوں‘‘ کو مدارس مخالف سرگرمیوں سے باز آجانا چاہئے۔۔۔ حکومتی بیانات اور اقدامات میں ہم آہنگی ہونی چاہئے، مولاما حنیف جالندھری نے بڑے پر عزم لہجے میںکہا کہ’’ اب وزیر داخلہ کی۔۔۔ یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ غیر ملکی حکومتوں سے فنڈز لینے والے مدارس اور تنظیموں کے ناموں کے ساتھ ساتھ ان این جی اوز کے نام بھی قوم کو بتائیں کہ جو غیر ملکی حکومتوں سے فنڈز لیتے ہیں‘‘۔۔۔

وفاقی وزیر داخلہ کا مدارس کے حسین کردار کے حوالے سے اعتراف یقینا وفاق المدارس کی قیادت بالخصوص مولاناجالندھری کی اخلاقی فتح ہے۔۔۔ لیکن جب وزیر داخلہ یہ بات مان رہے ہیںکہ مدارس کے خلاف جان بوجھ کر غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں۔۔۔ تو انہیں اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہئے کہ۔۔۔ وہ کون سے سیکولر ضمیر فروش ہیں کہ جو۔۔۔ مدارس اور علماء کرام کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کر کے پاکستان کے ماحول کو پراگندہ کر رہے ہیں؟۔۔۔ ان گندے اور بدبودار عناصر۔۔۔ کو گرفتار کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟

کیا دینی مدارس اور علماء کرام پر جھوٹے الزامات لگانے والے۔۔۔ اور ان جھوٹے الزامات کو نشر کرنے والوں، چھاپنے والوں اور ان کا ساتھ دینے والوں کے خلاف کارروائی کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں بنتی؟ سیکولر انتہا پسندوں کی طرف سے پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے۔۔۔ حکومت نے اب تک کیا پالیسی بنائی ہے؟ سیکولر انتہا پسندوں کو ٹی وی سکرینوں کے ذریعے۔۔۔ دینی مدارس اورمذہبی جماعتوں کے خلاف۔۔۔ نفرت پھیلانے سے حکومت نے اب تک کیوں نہیں روکا؟

کیاحکمران یہ بات نہیں جانتے کہ۔۔۔ اگر امریکہ اور برطانیہ کے ٹکڑوں پر پلنے والے سیکولر خرکار۔۔۔ اسی طرح مذہبِ اسلام یا دینی جماعتوں، مدارس اور جہادِ مقدس کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکال کر نفرت پھیلاتے رہیں گے۔۔۔ تو اس سے دہشت گردوں کے خلاف بنائی جانے والی پالیسی کو نقصان پہنچے گا۔۔۔ عوام میں بددلی اور بے چینی کی لہر دوڑے گی۔۔۔ سیکولر خرکاروں نے آخر مذہبِ اسلام کو اپنی ضد کیوں سمجھ لیا ہے؟۔۔۔۔ علماء کرام، جینوئن جہادی قائدین، مذہبی اور دینی وسیاسی جماعتوں کے سربراہان تو پاکستان کے اندر سے دہشت گردی کی جڑ ختم کرنے کیلئے حکومت اور فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔۔۔جہادی قائد مولانا محمد مسعود ازہر ہوں یا دیگر جہادی قائدین۔۔۔ انہوں نے تو ہمیشہ پاکستان کو’’مسجد‘‘ کی طرح مقدس جانا۔۔۔ اور اس کی حفاظت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھا۔۔۔ لیکن ایف بی آئی، امریکی سی آئی اے اور’’را‘‘ کے گماشتے دانشوروں کا روپ دھار کر جب چاہتے ہیں انہیں اور ان کے کارکنوں کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر۔۔۔ ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ ’’را‘‘ کے یہ ایجنٹ یہ بات سرے سے جانتے ہی نہیں ہیں کہ۔۔۔ جہاد اور دہشت گردی میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔۔۔ ’’جہاد‘‘ اللہ تعالیٰ کا حکم اور رسول اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کا نام ہے۔۔۔ جبکہ دہشت گردی وہ ہے کہ جو امریکہ نے عراق اور افغانستان میں کی۔۔۔ اسرائیل فلسطین میں اوربھارت مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے۔۔۔ پاکستان کی سرحدات پر حملہ آور ہونا، پاکستانی فورسز پر حملے کرنا۔۔۔ پاکستان میں بے گناہ انسانوں کو قتل کرنا۔۔۔ خواہ وہ لسانیت کے نام پر ہو ،فرقہ واریت کے نام پر ہو، جہاد کے نام پر ہو، یا سیاست کے نام پر۔۔۔ یہ سب کی سب دہشت گردی ہے۔۔۔ اور اس دہشت گردی کے تانے بانے بھی امریکہ، بھارت اور اِیران سے جا ملتے ہیں۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor