Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

افضل گوروؒ کی شہادت کا ایک سال (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 433 - Naveed Masood Hashmi - Afzal ki goru ki shahadat ka aik saal

افضل گوروؒ کی شہادت کا ایک سال

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 433)

محترم اہل خانہ اور اہل ایمان!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکریہ کہ اس نے مجھے اس مقام کے لئے چنا…باقی میری طرف سے آپ تمام اہل ایمان کو بھی مبارک ہو کہ ہم سچائی اور حق کے ساتھ رہے…اور حق و سچائی کی خاطر آخرت ہمارا اختتام ہوا، اہل خانہ کو میری طرف سے گزارش ہے کہ میرے سے اختتام پر افسوس کی بجائے وہ اس مقام کا احترام کریں… اللہ پاک آپ سب کا حافظ و ناصر ہو…اللہ حافظ

 

یہ وہ نایاب تحریر ہے کہ جو 9 فروری 2013کی صبح چھ بج کر پچیس منٹ پر غزوہ ہند کے عظیم مجاہد محمد افضل گورو ؒ نے اپنی شہادت سے صرف ایک گھنٹہ پینتیس منٹ قبل لکھی…اس ۹ فروری کو محمد افضل گورو کی شہادت کو ایک سال مکمل ہو گیا…مجاہد عظیم محمد افضل گورو ؒ کی یہ چند سطری تحریر اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ پھانسی چڑھنے سے قبل ہی اس کے قلب و ذہن’’شہادت‘‘ کی خوشبو سے معطر ہو چکے تھے…

یہ چند سطری تحریر اس بات کا ثبوت ہے کہ پھانسی کا پھندہ گلے میں پہننے سے قبل ہی اس مجاہد اعظم کو جنت میں اس کا مقام دکھا دیا گیا تھا…یہ چند سطری تحریر زندہ رہ جانے والے ’’مجاہدین‘‘ کے لئے پیغام ہے کہ پھانسی کے پھندے کے دوسری طرف موت نہیں زندگی ہے…ذلت نہیں عزت ہے…اونچا مقام اور اعلی رتبہ ہے…اور کشمیر کا جہاد اگر ’’شرعی‘‘ نہ ہوتا تو پھر شاعرانہ طبیعت کا مالک محمد افضل گورو ؒ بھلا اس طرح مسکراتے ہوئے تختہ دار پر کیسے چڑھ سکتا تھا؟

غیرت مند نوجوانو! کشمیر تمہارا منتظر ہے…یہ بیڑیاں،ہتھکڑیاں،گولیاں، جیل کی کال کوٹھڑیاں ، اور پھانسی کے پھندے تو ایک سچے مجاہد کو شہادت کی لذت آفرینی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہیں…میں بار بار ڈبڈباتی آنکھوں سے مجاہد اعظم محمد افضل گورو ؒ کی یہ چند سطری تحریر پڑھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے نورانی ہالے کے درمیان خراماں، خراماں چلتے ہوئے وہ تختہ دار پر پہنچا ہو گا۔

بزدل اور بدبودار ہندو…اس کے منہ سے آں، یا ہائے کے الفاظ سننے کے متمنی ہوں گے؟ لیکن اس کی زبان سے کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ جاری ہو گا…بدبودار ہندو یہ سمجھتے ہوں گے کہ یہ ابھی اپنے بیوی بچوں کو یاد کرے گا…مگر محمد افضل گورو ؒ سبیلنا سبیلنا الجہاد الجہاد کے نعرے بلند کر رہا ہو گا…پھانسی کے پھندے کے دوسری طرف …جنت کی حسین ’’حوروں‘‘ کی فوج ظفر موج…اپنے شیر دل مہمان کے استقبال کے لئے مچل رہی ہو گی…’’حوران جنت‘‘ کی یہ تڑپ ہو گی کہ ان کے افضل ؒ کی روح کب پرواز کرے اور پھر کب وہ ان کی آغوش میں سما جائے؟

جن کا استقبال جنت کی حوریں کریں…وہ مرا نہیں کرتے…جن کو ’’حور عینا‘‘ کا پیار ملے وہ مرا نہیں کرتے…جن کے خون کا قطرہ زمین پہ گرنے سے قبل ہی آسمان کا پروردگار ان کے کبیرہ، صغیرہ گناہ معاف کر دے…وہ ناکام نہیں ہوتے…جو مسلمان ماؤں کی عزت و عظمت کے دفاع میں جان پر کھیل جائیں…وہی تو زمانے کی آنکھوں کے ’’تارے‘‘ ہوا کرتے ہیں جو بہنوں کی چادر عفت کی خاطر تختہ دار پر جھول جائیں…وہی تو بہنوں کا مان ہوتے ہیں…بزدل اور بدبودار ہندو…آزادی کے متوالے محمد افضل گوروؒ کو کیا مارتے؟ بھلا نالی کے گندے پانی میں رہنے والے غلیظ کیڑے سے بھی بدتر…نجس اور پلید ہندو کی کیا اوقات؟

محمد افضل گوروؒ تو تختہ دار پر چڑھ کر کروڑوں دلوں کی دھڑکنوں میں سما گیا…میں نے’’ماؤں‘‘ کو محمد افضل گوروؒ کے لئے آنسو بہاتے دیکھا ہے…میں نے ’’بہنوں‘‘ کو محمد افضل گوروؒ کے لئے دوپٹے پھیلا کر دعائیں مانگتے ہوئے دیکھا ہے…میں نے ’’جوانوں‘‘ کو محمد افضل گوروؒ کے مقدس لہو کے انتقام کے لئے عہد وفا باندھتے ہوئے دیکھا ہے…میں نے سنا ہے کہ مظفر آباد کے یونیورسٹی گراؤنڈ میں…جہاد مقدس کے ہزاروں عشاق جمع ہوئے  اور انہوں نے صوتی لہروں پر اپنے امیر حضرت اقدس مولنا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ کی آواز کو گونجتے ہوئے سنا کہ ’’محمد افضل گوروؒ‘‘ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ ہم نہ صرف یہ کہ شہید افضل گوروؒ کا بھارت سے انتقام لیں گے…بلکہ شہیدؒ کا مشن بھی جاری رکھیں گے…کیا اس کے بعد بھی بھارت کے بزدل اور بدبودار ہندوؤں کو یقین نہیں آیا کہ ’’شہید‘‘ زندہ ہوتا ہے اور محمد افضل گورو شہید بھی زندہ جاوید ہے؟ واہ، محمد افضل گوروؒ نے کیا خوب اشعار کہے تھے۔

اس کوچے میں ہوں صورت یک نقش وفا میں

دنیا نے مٹایا مجھے،لیکن نہ مٹا میں

بن بن کے مٹاؤ نہ میرا نقشہ ہستی

مٹ مٹ کے بنا ہوں ہمہ تن نقش وفا ہیں

اے اہل حقیقت ! مجھے آنکھوں پہ بٹھاؤ

طے کر کے چلا آتا ہوں میدان وفا میں

محمد افضل گوروؒ اس مظلوم کشمیری قوم کا ایک فرد تھا کہ جو کشمیری قوم پچھلے 67برسوں میں آزادی کے حصول کی جدوجہد میں اپنے لاکھوں بیٹے قربان کر چکی ہے…جس کشمیری قوم کے ہزاروں بیٹے بھارتی فوج کے درندوں کے ہاتھوں …زخموں سے چور چور ہو کر اپاہج بن چکے ہیں…جس کشمیری قوم کی ہزاروں عفت ماب بیٹیاں بھارتی درندگی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں…لیکن 67 سالوں میں بے پناہ قربانیاں دے کر بھی کشمیری قوم نے نہ تو ہار مانی،اور نہ ہی بھارت کے سامنے سر جھکانا گوارا کیا۔

بلکہ چشم فلک تو اب ’’کشمیر کی بیٹیوں‘‘ کے تحریری جہاد کے بانکپن پہ بھی انگشت بداں ہے…کشمیری مسلمانوں نے اپنے خون سے پاکستان سے والہانہ محبت اور عقیدت کی جو بے مثالی داستانیں رقم کی ہیں… پوری پاکستانی قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی… ’’کشمیر‘‘ کے مسلمانوں کی عظمت کا اندازہ لگائیے…کہ آج جب کے وزیرستان سے لے کر کراچی اور بلوچستان تک ناحق خون مسلم کی ندیاں بہہ رہی ہیں…سندھ میں ’’سندھو دیش‘‘ کے نعرے بلند ہو رہے ہیں…کراچی میں لسانیت کے نام پر ملک توڑنے کی سازشیں عروج پر پہنچی ہوئی ہیں،اور بلوچستان علیحدگی پسند دہشت گردوں کے ہاتھوں دھک رہا ہے مگر ان خوفناک حالات میں بھی،سرینگر ہو یا بڈگام اننت ناگ ہو یا وادی لولاب، کشمیر کی ہر گلی اور ہر چوک پر پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے گونج رہے ہیں…بھارت کے ہر قومی تہوار کو کشمیری مسلمان یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔میڈیا میں چھائے ہوئے ’’سینما برانڈ دانش فروش‘‘ تو پاکستان میں بیٹھ کر بھارت کی محبت کے گن گاتے ہیں…لیکن کشمیر کے مسلمان بھارتی فوج کی سنگینوں کے سائے میں بھی …پاکستان کی محبت کا دم بھرتے ہیں…پاکستان میں تو امن کی آشا کے عنوان سے بھارتی پرچموں کو ہر پاکستانی کے گھر تک پہنچانے کی سازش کی جاتی ہے…جبکہ مقبوضۃ کشمیر کے بہادر مسلمان…بھارتی فوج کی چلتی گولیوں میں بھی… پاکستانی پرچم لہرا کر…پاکستان سے وابستگی کا والہانہ اظہار کرتے ہیں،پاکستان کی آزادانہ فضاؤں میں سانس لینے والے…سیکولر فاشسٹ تحریک پاکستان کے بنیادی نعرے…پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الا اللہ کو ختم کر دینے کے درپئے ہیں۔جبکہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان…اس مقدس نعرے کو لگاتے ہوئے بھارتی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں…

مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ…لاکھوں شہیدوں کو بھلا کر…ہزاروں زخمیوں کے زخموں کو بھلا کر…بھارت کے ساتھ امن کی آشا کے نام پر سرکس تماشا سجانے والے صرف پاکستان ہی  نہیں بلکہ ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر کے کروڑوں مظلوم مسلمانوں کے بھی مجرم ہیں …میں جب سیفما برانڈ دانشوروں… انڈیا کے کلبوں اور ہوٹلوں میں جا کر اپنی اصل اوقات بھول جانے والے ضمیر فروشوں کی انڈیا کے حوالے سے عاشقانہ گفتگو کو سنتا ہوں اور دوسری طرف سرینگر کے کسی چوک میں پاکستان کی خاطر گولیوں سے چھلنی ہونے والے نوجوان کو میڈیا کے ذریعے دیکھتا ہوں…تو مجھے یہ سارے اس نوجوان کے مقابلے میں انتہائی کمتر اور بونے محسوس ہوتے ہیں…یہ پاکستان کی آزاد سرزمین پر رہ کر بھی انڈیا کے غلام…اور وہ بھارت کی غلامی میں رہ کر پاکستان کی محبتوں کے اسیر…اور وفادار …یہاں کے سیکولر دانش فروشوں کی انڈیا کے حوالے سے گفتگو میں یوں لگتا ہے کہ ان کا صرف رنگ ہی بھارتی نہیں بلکہ دل و دماغ بھی…بھارتی ماتاؤں کی محبت سے لبریز رہتے ہیں…ان کو ہونا تو ممبئی یا دہلی میں چاہیے تھا مگر یہ بے چارے بد قسمتی سے پاک سرزمین پر پیدا ہو گئے…اور اب یہاں رہنا ان کی مجبوری ہے…لیکن میں جب افضل گوروؒ جیسے کشمیری جوانوں کی جرات و بہادری اور پاکستان کے حوالے سے محبت دیکھتا ہوں تو …دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ وہ بھارت میں رہ کر بھی…پاکستان کی محبت کے روشن مینار نکلے…کشمیر کے غیور مسلمانوں کو صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ بھارت کی خطرناک جیلوں میں نہ صرف یہ کہ قید رکھا گیا بلکہ مار مار کر ان  کی چمڑیاں ادھیڑ دی گئیں…مگر وہ ماریں کھا کر پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرتے رہے…

جسم لہولہان کروا کر بھی…پاکستانی سبز ہلالی پرچم سے پیار کرتے رہتے…سرینگر کے کوچہ وبازار میں بھارتی فوج کی گولیوں سے جسم پھڑک رہے ہیں…لیکن ’’مجاہد‘‘ روح پرواز کرنے سے قبل دعا یہ کرتا ہے’’ اللہ پاکستان کی حفاظت فرما‘‘ آمین

خالص پاکستانی کون ہیں؟ وہ کشمیری کہ جو جان جان آفریں کے سپرد کرتے ہوئے بھی پاکستان کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں…یا وہ پاکستانی کہ جو امن کی آشا کے نام پر بھارتی پرچم گھر گھر پہنچا رہے ہیں؟

اصل پاکستانی کون ہے وہ کشمیری کہ جو بھارتی جیلوں میں خوفناک تشدد سہہ کر بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں؟یا پھر وہ پاکستانی کہ جو پاکستان میں رہ کر پاکستان کا کھا کر بھی پاکستان کو گالیاں دینے اور الزامات لگانے سے گریز نہیں کرتے؟ ظلم تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے ماضی اور حال سے بیگانے…پاکستان کی ثقافت اور کلچر سے نابلد،کچھ اجنبی لوگ پاکستان کے میڈیا میں گھس آئے ہیں…’’یہ گھس بیٹھیے‘‘ پاکستانی قوم کو کنفیوز کر کے بھارت کی بالادستی قبول کروانا چاہتے ہیں…لیکن ان ’’گھس بیٹھیوں‘‘ کو کوئی بتائے کہ کشمیری قوم سے پاکستانی قوم کا اصل رشتہ لا الہ الا اللہ ہے…اور لا الہ الا اللہ والا رشتہ…دنیا کے تمام رشتوں سے زیادہ مضبوط…اور اعلی و ارفع ہوتا ہے…تم اگر کشمیری شہداء کے خون سے غداری کر چکے ہو…تو تمہاری مرضی…آخر میر جعفر اور میر صادق کی نسل بھی باقی رہنی تھی…لیکن پاکستان کی عوام نہ کشمیری شہداء کے خون سے غٖداری کریں گے اور نہ کسی کو کرنے دینگے۔

کیونکہ ہم عوام جانتے ہیں کہ جو قوم اپنے شہداء کو بھول جاتی ہے…تاریخ میں وہ ایک ’’مسخ شدہ‘‘ قوم کی حیثیت سے جانی جاتی ہے…67سال پہلے کشمیری مہاراجہ کانگریسی چانکیہ لیڈروں اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کشمیری مسلمانوں کے خلاف جو سازش کی تھی…اسی سازش کو رسوائے زمانہ پرویز مشرف نے اپنے سیاہ دور اقتدار میں پروان چڑھایا…جس طرح تاریخ آج بھی کشمیری مہاراجہ، کانگریسی لیڈروں اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سیاہ کرادر کو بے نقاب کرتی ہے…اسی طرح پرویز مشرف سمیت …شہداء کشمیر کے خون سے غداری کا مرتکب ہر کردار تاریخ میں ذلتوں کی علامت بنا رہے گا…کشمیر کے مسئلے پر…پاکستان اور بھارت میں اب تک 3 جنگیں ہو چکیں ہیں…کشمیر کو آج بھی بھارت اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے…بھارت نے کشمیر کو اپنا حصہ ثابت کرنے کے لئے دنیا بھر میں اپنے سفارت کاروں کے ذریعے کمپئین لانچ کر رکھی ہے…لیکن پاکستان کے حکمران ’’محض کشمیر کمیٹی‘‘ قائم کرکے ہی کشمیر کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔گھس بیٹھیے دانش فروشوں کی منافقت دیکھیے کہ وہ فوج اور طالبان میں تو جنگ ہوتی ہوئی دیکھنا چاہتے ہیں…مگر بھارت کے سامنے پاک فوج کو بھیگی بلی بنانا چاہتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor