Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مدینہ سے پیرس تک (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 478 - Naveed Masood Hashmi - Madina se Peras tak

مدینہ سے پیرس تک

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 478)

ربیع الاول جہاں نبی کریم ﷺ کی پیدائش کا مہینہ ہے... وہیں پر رسول اللہ ﷺ کی جدائی بھی اسی مہینے میں ہوئی تھی... جو محمد کریم ﷺ کی پیدائش پر خوش نہیں ہوتا ... اس کی بے ایمانی اور شیطانیت پر تو شک بھی نہیں کیا جاسکتا...  لیکن جو رسول اکرم ﷺ کی جدائی کے موقع کو بھی مخلوط جلوسوں اور رنگ برنگی جھنڈیوں کو لگانے میں گنوا دیتا ہے وہ بھی اپنے ایمان کی خیر منائے۔

محسن عالم ﷺ کی وفات تو وہ اَلمناک موقع تھا کہ جس موقع پر جگر گوشہ رسول، حضرت فاطمۃ الزہرہؓ نے شدت رنج و الم میں فرمایا تھا کہ ’’پیارے باپ نے دعوت حق کو قبول کیا... اور فردوس بریں میں نزول فرمایا ... آہ! کون ہے جو جبرائیل امین کو اس حادثۂ غم کی اطلاع کردے!

الہٰی! فاطمہؓ کی روح کو محمد مصطفیﷺ کے پاس پہنچا دے، مجھے دیدار رسول ﷺکی مسرت عطا فرما دے۔

حضرت سیدہ اماں عائشہؓ نے گلوگیر لہجے میں فرمایا تھا، ’’آہ!.. وہ نبی جو اُمت عاصی کے غم میں ایک پوری رات بھی نہ سویا... آہ، آج اسی وجود سرمدی سے ہماری دنیا خالی ہے۔‘‘

شاعر رسولؐ سیدنا حسان بن ثابتؓ روتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ’’میں لحدِ رسول ﷺ پر کھڑا ہوکر روتا ہوں... اور آنکھیں روتے روتے اندر دھنس گئی ہیں، لوگ ان پر روتے ہیں ...  وہ ایک نور تھا، وہ سچ کا معلم تھا، ہوائیں اس پر روتی ہیں اور تعریف کرتی ہیں۔

حرم ان کے بغیر ویران ہوگیا ہے... آپ کی مسجد آپ کے فوت ہونے سے اداس ہے... گھر، میدان، حویلیاں اجڑ گئی ہیں...  اے آنکھ! برسوں رسول ﷺ کی جدائی پر آنسو بہا...  میں عمر بھر تیرے آنسو خشک ہوتے نہ دیکھوں...  خوب رو، اور اس ہستی کے کھو جانے پر شور کر...  جس کی مثل زمانے میں نہیں... گزشتہ لوگوں نے محمد ﷺ کی مثل کوئی آدمی نہیں کھویا اور نہ قیامت تک آپ جیسا انسان کامل کھویا جائے گا۔

12ربیع الاول بروز پیر 11ہجری کو نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد ... آپ کے صحابہؓ پر جو قیامت گزری... حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت سیدنا عمر فاروقؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علی المرتضیٰؓ و دیگر انصارؓ اور مہاجرینؓ کی آپ سے جدائی کے غم میں جو حالت ہوئی...  اسے اگر الفاظ میں ڈھالا جائے...  تو اسے پڑھ کر ہر صاحب دل کے آج بھی جگر پاش پاس ہو جائیں۔

مگر مقدس صحابہ کرامؓ نے آپ کی جدائی کے عظیم سانحہ کو برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ ... اطاعت رسول کرکے محبت رسول ﷺکا حق ادا کردیا۔

آج اگر دنیا کے کافر رسولﷺ کی شانِ اَقدس میں توہین کا اِرتکاب کررہے ہیں... تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان اور اس کے پیروکار دنیا کو جہنم زار بنانے پر تلے بیٹھے ہیں... اس نبی اقدس کی شان میں گستاخی کہ جس نبی پاک ﷺ پر خود خالق کائنات درود پڑھتا ہو...  اب جو لعنتی بھی گستاخانہ سوچ رکھے گا...  یا گستاخان رسول کی اشارے کنائے میں بھی حمایت کرے گا...  وہ اللہ کے غضب کا شکار بن کررہے گا... پیرس کے جس جریدے نے نبی کریم ﷺکے گستاخانہ خاکے چھاپے تھے...  دنیا نے دیکھا کہ ... رسول رحمت ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا ... وہ ملعون کارٹونسٹ اور اس جریدے کا ملعون ایڈیٹر اللہ کے غضب کا نشانہ بن کر جہنم کا ایندھن بن گئے۔

وہ تعداد میں تین تھے... انہوں نے گستاخ جریدے کے دفتر میں داخل ہوکر اللہ اکبر کے نعرے لگائے... اور پھر رسول رحمت ﷺ کے گستاخوں کو واصل جہنم کرکے کہا کہ ہم نے اپنے نبی کی گستاخی کا بدلہ لے لیا۔

اتوار کے دن فرانس کے دارالحکومت پیرس میں چالیس ممالک کے عیسائی اور یہودی اکٹھے ہوئے... اور انہوں نے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کے دفتر پر ہونے والے حملے کے خلاف مارچ کیا، اس مارچ میں عالم کُفر کے سرکردہ رہنما بھی شریک تھے۔

سوال یہ ہے کہ توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے گستاخ جریدے سے اظہار یکجہتی کیلئے مارچ کرنے والے عالمی رہنما اس وقت کیوں خاموش رہے کہ جب اس گستاخ جریدے کے کارٹونسٹ نے توہین آمیز خاکے بنائے۔۔۔ اور ملعون ایڈیٹر نے ان خاکوں کو شائع کر کے۔۔۔ امت مسلمہ کے دلوں پر وار کیا تھا؟ پیرس میں چالیس ممالک کے اکٹھے ہونے والے یہود وہنود، نصاریٰ اور ان کے ایجنٹوں کو وہ دن بھول گئے کہ۔۔۔ جب اس جریدے کی گستاخانہ حرکت کے خلاف دنیا کے ایک ارب چالیس کروڑ مسلمانوں نے مظاہرے کئے تھے؟

مسلمان روئے تھے، تڑپے تھے۔۔۔ اور انہوں نے سینکڑوں  بار امریکہ اوریورپ کے حکمرانوں سے مطالبے کئے تھے کہ محمد مصطفیٰﷺکی گستاخی کا ارتکاب کرنے والے گستاخوں کو سزا دی جائے، مگرامریکہ اور یورپ کے حکمرانوں نے تب نہایت ڈھٹائی کے ساتھ رسول رحمتﷺ کے گستاخانہ خاکے چھاپنے کو اظہار رائے کی آزادی قرار دیا تھا۔۔۔

اب تک کی تفتیش کے مطابق۔۔۔ پیرس میں گستاخ جریدے پر حملہ آور ہونے والے نوجوانوں کا تعلق نہ القاعدہ سے تھا، نہ طالبان سے تھا اورنہ ہی داعش یا کسی اورجہادی گروپ سے تھا۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ محض مسلمان تھے۔۔۔ اور عشق رسولﷺ ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔۔۔ اورانہوںنے نبی پاکﷺ کی گستاخی کا بدلہ لینے کیلئے ہی وہ حملہ کیا تھا۔۔۔ اگر فرانس کے حکمران بروقت کارروائی کر کے۔۔۔ گستاخ جریدے کے ایڈیٹر اور گستاخ کارٹونسٹ کو سزادے دیتے۔۔۔ تو ممکن ہے کہ وہ حالات پیدا نہ ہوتے جو اب فرانس میں پیدا ہو چکے ہیں۔۔۔

عالم کفر کے راہنماؤں نے بھی عجیب مزاج پایا ہے۔۔۔ وہ اگر کتوں کو کھلا چھوڑ کر پتھروں کو باندھنا چاہیں گے ۔۔۔ تو یہ ممکن نہیں ہوگا۔۔۔ کہا جارہا ہے کہ جنہوںنے گستاخ جریدے کے دفتر میں گھس کر حملہ کیا ان کی مذمت کی جائے...میں امریکہ اور یورپ کے ان حکمرانوں کی مذمت کیوں نہ کروں کہ ... جنہوںنے پہلے سلمان رُشدی جیسے ملعون کو اپنی گود میں لیا... پھر تسلیمہ نسرین جیسی لعنتی کو یورپ میں پناہ دی...  جب صلیبی سوچ کے حامل شیطانوں نے گستاخانہ خاکے چھاپنے کا عمل شروع کیا تو... ان گستاخ شیطانوں کی بھی سرپرستی جاری رکھی۔

گستاخ جریدے پر حملے کے بعد ... یورپ میں مسلمانوں کی جان و مال اور عبادت گاہوں پر حملوں کی خبریں ... منظر عام پر آرہی ہیں... عیسائی ، یہودی اور سیکولر دنیا میں اگر کوئی پڑھا لکھا انصاف پسند ہے تو اسے چاہئے کہ وہ آگے آئے... اور یورپ میں مسلمانوں کی جان و مال اور مساجد پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کو کنٹرول کرے... ورنہ اگر سلسلہ جاری رہا... تو ردعمل میں ایسی آگ بھڑک اٹھے گی... کہ جس کو کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔

وما توفیقی الاباللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor