Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ثقافت -یا کثافت ہی کثافت (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 434 - Naveed Masood Hashmi - Saqafat ya kasafat hi kasafat

ثقافت :یا کثافت ہی کثافت ؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 434)

انہوں نے گرما گرم کافی کا کپ میرے سامنے رکھا....او ر بولے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ پچھلے سات دنوں سے سندھ فیسٹیول کے نام سے ثقافت کے نام پر جس طرح سے کثافت پھیلائی جارہی ہے...وہ آئین میں درج اسلامی شقوں سے بغاوت کے مترادف ہے؟ کیا مُردوں کے ٹیلے موہنجودڑو کے ایک مخصوص مقام پر کروڑوں روپے خرچ کرکے راگ رنگ کی محفلیں سجانا اور محفل بھی ایسی کہ جس میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دو سابق وزراء اعظم، حاضر سروس وزیروں ‘ مشیروں کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری اور ان کے خاص الخاص غیر ملکی مہمان بھی موجود ہوں اور اس افتتاحی تقریب میں تنگ کپڑوں میں پھنسی ہوئی ایک گلوکارہ...صوفیانہ کلام گاتے ہوئے.... جس طرح کی حرکتیں کر رہی تھی اس کا سندھ کی ثقافت سے کیا تعلق بنتا ہے؟’’گلوکارہ ‘‘کا پانچ سو ’’معززین‘‘ اورشرفاء محفل کی دیکھتی آنکھوں کے سامنے سرعام ’’بوسہ‘‘ لینا کہ جس کو کئی چینلز نے لائیو بھی دکھایا کیا یہ فحاشی اور بے حیائی کے زمرے میں نہیں آتا؟کیا سندھ کی رولنگ پارٹی سندھ فیسٹیول کی تقریبات او ر سرگرمیوں کو آئین پاکستان کے تحت نہیں رکھ سکتی تھی؟

 

میں نے اپنے دوست مبین ایوب کی باتوں کو سنا اور کہا کہ یار تم مجھے طارق روڈ کے... اس ریستوران میں اس لئے لائے تھے کہ... ایسی خشک باتیں کرنے لگو... ارے بندہ خدا! گرما گرم کافی پیؤ... اپنے دائیں بائیں کی رنگینیوں کو محسوس کرو... مزے اڑاؤ... اور مدہوش زندگی میں گم ہو جاؤ... ورنہ تم پر بھی ’’طالبان‘‘ کی مہر لگ جائے گی....

ایسی کی تیسی تیری بھی اور مہر لگانے والوں کی بھی...سندھ کامحکمہ تعلیم خود اعتراف کرچکاہے کہ صوبہ سندھ میں پانچ ہزار چھ سو ستانوے سکول بند پڑے ہیں… جس موہنجودڑو میں راگ رنگ کی محفلیں سجا کر آئین پاکستان کا مذاق اڑایا گیا… ذرا اس کے ارد گرد کے شہروں اور قصبوں میں زندگی گزارنے والے سندھی پاکستانیوں کی حالت زار کا ہی مشاہدہ کرلینا چاہیے… ان بے چاروں کو تو نہ صاف پانی میسر ہے ‘ نہ بجلی اور گیس میسر ہے… اور نہ ہی تعلیم اور صحت کی سہولتیں مہیا ہیں… لیکن سندھ فیسٹیول کی تقریبا ت میں پانچ ہزار سالہ پرانی تہذیب او ر کلچر سے بار بار وابستگی کا اظہار کرنے والے… کیا سندھ کے عوام کو بتاسکتے ہیں کہ مذہب اسلام کی تہذیب اور کلچر تو چودہ سو پینتیس سالوں سے شروع ہوا ہے صوبہ سندھ چونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کاحصہ ہے اس لئے یہاں کے مسلمانوں کا بھی رسول اکرم ﷺ نے جو کلچر متعارف کروایا تھا۔۔۔ اسی کلچر او رتہذیب سے تعلق بھی ہے اور واسطہ بھی۔

پھر پانچ ہزار سالہ پرانے کلچر اور تہذب سے وابستگی کے اعلانات کرنا اس سے سندھ کے عوام کا کوئی تعلق نہیں بنتا… اس قسم کے اعلانات کرنے والے کہیں اپنے غیر ملکی آقاؤں کو یہ پیغام تو نہیں دینا چاہتے تھے کہ تمہیں آئین پاکستان میں درج شقوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے… ہم تو پانچ ہزار سال پہلے والے اس کلچر کے ماننے والے ہیں کہ جس کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے… جس میں ہر طرح کے ناچ گانے ‘ ہر طرح کے تنگ ‘ چھوٹے موٹے لباس پہننے کی اجازت ہے… جس کلچر او ر تہذیب میں نہ حیاء ہے نہ غیرت ‘ جس کلچر اور تہذیب کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ نظریہ… جس پانچ ہزار سالہ پرانے ’’کلچر‘‘ میں محض مستی ہی مستی ہے… ہر طرف حرص و ہوس اور نگاہوں کی بھوک ہے۔

مُردوں کے ٹیلے سے بھلا سندھ یا پاکستان کے عوام کی ثقافت اور تہذیب کا کیا تعلق اور واسطہ؟یکم فروری کو موہنجودڑو میں ہونے والی افتتاحی تقریب پر صرف 500 ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کی آؤ بھگت پر دس کروڑ روپے پھونک دیئے گئے… اور ایک اخبار نے تو خبر دی ہے کہ ’’سندھ فیسٹیول میں کلچرل پروگراموں میں فن کا مظاہرہ کرنے والے گلوکاروں کو 82 لاکھ روپے دینے کی منظوری دی گئی ہے‘‘۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟میرے دوست مبین ایوب کی یہ ساری باتیں اپنی جگہ درست تھیں۔۔۔ اور یہ پریشانی صرف ان کی تنہا نہیں تھی… بلکہ صوبہ سندھ میں بسنے والا… ہر ذی شعور مذہبی مسلمان… اسی طرح کی پریشانی میں مبتلا ہے۔

ہم چونکہ مسلمان ہیں… اور مسلمان اپنی دینا اور آخرت کی کامیابی چودہ سو سال پہلے مکہ مکرمہ کی سرزمین پر سیدہ آمنہ سلام اللہ علیہا کی جھولی میں تشریف لانے والے آقاومولیٰ ﷺ کی ختم نبوت کے نور سے پھوٹنے والی نورانی تہذیب اور کلچر سے محبت اور وابستگی میں سمجھتا ہے۔

یقیناًحضور اکرمﷺ کی آمد سے قبل حضرت عیسٰی علیہ السلام ‘ حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام اور دیگر ایک لاکھ سے زائد انبیاء اور رسول دنیا میں آکر تشریف لے جاچکے تھے… سرور دو عالم ﷺ کی مبارک آمد سے قبل روم و فارس ‘ قیصرو کسریٰ ‘ ایران اور شام کی تہذیب و تمدن زندہ بھی تھی اور موجود بھی…حضر ت محمدﷺ عرب کے جس ماحول میں تشریف لائے تھے ،ان عربوں کا بھی ایک مخصوص کلچر تھااور ان کی روایات تھیں…کعبتہ اللہ میں 360 بتوں کو رکھ کر ان کی پوجا کرنا یہ عرب کی تہذیب اور عقیدہ کلچر کاحصہ تھا… معصوم بچیوں کو زندہ درگور کر دینا یہ عرب کلچر اور روایات کاحصہ تھا… محض پانی پینے اور پلانے کے معاملے پر سو ‘ سو برس تک جنگیں کرتے رہنا…یہ عرب معاشرے کی ریت اور کلچر تھا۔

بیت اللہ کا ننگا طواف کرنا… یہ عرب معاشرے کی تہذیب اور کلچر کا حصہ تھا ‘ پانی سے زیادہ شراب پینا یہ عرب معاشرے کی روایت اور کلچر کا حصہ تھا… لیکن محسن انسانیت ﷺ نے ساری رسوم و رواج ‘ غلط اعتقادات ‘ شرک و بدعت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ… کعبتہ اللہ میں رکھے ہوئے تین سو ساٹھ بتوں کو منہ کے بل گرا کر اعلان فرمایا کہ: ’’حق آگیا اور باطل مٹ گیااور بے شک باطل مٹنے ہی کیلئے ہے‘‘…کوئی برطانیہ کی یونیورسٹیوں سے پڑھ لکھ کر اڑن کھٹولے میں پاکستان آوارد ہونے والے بلاول بھٹو زرداری کو بتائے کہ ’’حق‘‘ تو سوا چودہ سو سال پہلے آیا تھا۔۔۔ پھر وہ پانچ ہزار سال پہلے کی کس تہذیب اور کلچر کے متلاشی ہیں؟صحابہ کرام کی مقدس جماعت نے حضرت محمدﷺ کا کلمہ پڑھنے کے بعد اپنی سابق تہذیب و کلچر کو چھوڑ کر… مذہب اسلام کی تہذیب اور کلچر کے رنگ میں اپنے آپ کو ہمرنگ کرلیا۔

اسلامی رنگ سے ہمرنگ تہذیب اور کلچر ہی تو مسلمانوں کا اصل اثاثہ ہے… آتش بازی کرنا مجوسیوں اور آتش پرستوں کی تہذیب تو ہوسکتی ہے… مگر مسلمانوں کی نہیں… راگ ‘ رنگ ‘ ڈانس اور گانوں کی مخلوط محفلیں سجانا یور پ اور انڈیا کا کلچر تو ہوسکتا ہے… مگر مسلمانوں کا نہیں… اور سندھ تو اولیاء اور صوفیاء کرام کی دھرتی ہے… اولیاء اور صوفیا عظام میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ جس نے کبھی مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ہو کہ وہ مخلوط محفلوں میں تنگ لباس میں پھنسی ہوئی ’’مغنیاؤں‘‘ کے ڈانس اور گانوں پر جھومتے اور تالیاں بجاتے رہیں… گلوکارہ کا سرعام بوسہ دینا… اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کی مقدس تعلیمات سے بغاوت کے زمرے میں آتا ہے… پانچ ہزار سال پہلے ہر طرف شرک تھا‘ بدعت تھی… ظلمتوں کے اندھیرے تھے… اور باطل تھا… ’’حق‘‘ تو حضرت محمد کریم ﷺ کی صورت میں سوا چودہ سو سال پہلے ظاہر ہوا تھا… مسلمانوں کی ثقافت اور کلچر بھی مدنی کریم ﷺ کے لائے ہوئے پیغام حق کے ساتھ وابستہ ہے۔

سندھ فیسٹیول کے نام پر تقریبات کرنے والوں کے پیش نظر یہ بات ضرور رہنی چاہیے کہ انہیں تاریخ بھی دیکھ رہی ہے اور رب کی ذات بھی… سندھ کے عوام کو ثقافت چاہیے مگر کثافت نہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor