Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ذکرِ اولیاء کرام کا (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 480 - Naveed Masood Hashmi - Zikr e Aulia karam

ذکرِ اولیاء کرام کا

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 480)

آج کے قلم تلوار میں اولیاء کرام کا تذکرہ ہو گا۔۔۔ ان شاء اللہ.. پہلے26جنوری کو موصول ہونے والا مکتوبِ خادم پڑھ کر اپنے اِیمان کو جلا بخشئے۔۔۔ولی کامل حضرت اَقدس مولانا محمد مسعود ازہر لکھتے ہیں کہ’’ اللہ تعالیٰ کے ہاں جب بندوں کی پیشی ہو گی۔۔۔ اور یہ ضرور ہو گی تو اس دن ان لوگوں کے مزے ہوں گے جنہوں نے دین کی خاطر قربانی دی،کوئی زخم، کوئی خون کا قطرہ، قید کا کوئی دن، خوف کے لمحات، غم اور پریشانی۔۔۔ ارے بھائیو! اس دن یہ اعمال اتنے قیمتی،اتنے وزنی اور اتنے مقبول ہوں گے کہ دوسرے لوگ کہیں گے۔۔۔ یا اللہ! ہمیں واپس دنیا میں بھیج۔۔۔ وہاں ہم پر ایسی آزمائش آئے۔۔۔ کہ ہمارے جسم قینچیوں سے کاٹے جائیں، تاکہ ہمیں بھی قیامت میں ایسا اِنعام اور ایسا اِکرام ملے، ہاں! بے شک دین کے راستے کی آزمائش کے برابر اور کوئی نیکی نہیں، اللہ تعالیٰ دین والوںپر آزمائش لاتے ہیں۔۔۔ تاکہ کھوٹے کھرے اور سچے جھوٹے میں امتیاز ہو جائے، جو جھوٹے اور کھوٹے ہوتے ہیں۔۔۔ وہ بھاگ جاتے ہیں، اور وہ جو سچے ہوتے ہیں وہ آزمائش کی بھٹی میں پک کر اورمضبوط ہو جاتے ہیں۔۔۔ اس لئے ہمیں سکھایا گیا کہ جب آزمائش شروع ہو تو نہ ہی گھبراؤ، نہ بھاگو اورنہ ڈھیلے پڑو۔۔۔ بلکہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو کر تین چیزیں مانگو۔۔۔(۱) مغفرت، معافی، (۲) ثابت قدمی(۳) نصرت‘‘

میرے الشیخ کا یہ مکتوبِ خادم ان کے ہر چاہنے والے کو چاہئے کہ فریم کروا کر اپنے پاس رکھ لے۔۔۔ یا پھر اسے لفظ بلفظ یاد کر کے اس پر عمل پیرا ہو جائے۔۔۔ بے شک زمانے کے’’ولی‘‘ ہی ایسی باتیں لکھ سکتے ہیں،’’حضرت اقدس‘‘ نے اپنے مکتوب میںجس آزمائش کی طرف اِشارہ فرمایا ہے۔۔۔ میرا دل تھا کہ۔۔۔ اس پر کھل کر لکھتا۔۔۔ لیکن چونکہ کالم کا آغاز ایک ’’ولی‘‘ کے تذکرے سے ہوا۔۔۔ اس لئے اس موضوع کو اس آخری جملے تک محدود رکھتے ہوئے۔۔۔ ایک دوسرے ولی کامل کے تذکرے کو شروع کرتے ہیں۔۔۔

وہ جملہ یہ ہے کہ۔۔۔ صاحبانِ عقل و دانش اور کارکنانِ جہاد! یہ وقت اپنے ’’امیر محترم‘‘ کے دامن کو مزید مضبوطی کے ساتھ تھامنے کا ہے۔۔۔ حالات کسی بھی رخ پر کیوںنہ چلے جائیں۔۔۔ لیکن جینوئن کارکنانِ جہاد کی دنیا وآخرت کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنے امیر اور مقدس مشن کے ساتھ استقامت کے ساتھ وابستہ رہیں‘‘۔

 اب شروع کرتے ہیں ولی کامل حضرت صندل بابا جی کا تذکرہ۔۔۔ ہفتے کے دن یہ خاکسار اپنے ساتھیوں:صفدر کھوکھر، بھائی محمد عرفان اورمجاہد غفران کے ہمراہ ضلع دیر کی تحصیل واڑی کے علاقہ میں واقع’’صندل‘‘ نامی گاؤں میں پہنچا۔۔۔ توسہ پہر کے ساڑھے تین بجنے والے تھے۔۔۔ دیر بالا کے پہاڑ برف سے ڈھکے ہوئے تھے۔۔۔ یہ وہی گاؤں ہے کہ۔۔۔ جہاں پر ایک ایسے ولی کامل،نابغۃ العصر عالم دین، رہبر شریعت، پیر طریقت حضرت اقدس مولانا سید محمود المعروف صندل بابا جی کی خانقاہ، مسجد اور مدرسہ موجود ہے کہ جن کے مریدین کا سلسلہ پاکستان سے باہر، ایران، افغانستان اورافریقہ تک پھیلا ہوا ہے۔۔۔ حضرت صندل بابا جی سے اصلاحی بیعت کرنے والوںمیں۔۔۔ پاکستان کے جید علماء کرام اور مشائخ عظام بھی شامل ہیں۔۔۔

مجھے یاد ہے کہ اپنی شہادت سے تقریبا چھ، آٹھ ماہ قبل۔۔۔ مجھے حضرت علامہ علی شیر حیدریؒ کا پیغام موصول ہوا کہ۔۔۔ ’’وہ لال مسجد اسلام آباد میں موجود ہیں۔۔۔ لہٰذامیں ان سے ملاقات کر لوں‘‘۔۔۔ یہ خاکسار۔۔۔ علامہ علی شیر حیدریؒ سے ملنے لال مسجد پہنچا، وہ مسجد سے متصل۔۔۔ لال مسجد کے خادم قاری محمد ایوب صاحب کے گھر تشریف فرما تھے، ان کے ساتھ غازی عبدالرشید شہیدؒ بھی موجود تھے۔۔۔ علامہ حیدریؒ بڑی محبت اور شفقت سے ملے اور فرمایا کہ’’بھائی ہاشمی صاحب‘‘ ہم آپ کے امیر مولانا محمد مسعود ازہر کے بڑے مشکور ہیں کہ۔۔۔ جن کی وجہ سے۔۔۔ ہم حضرت صندل بابا جی کی زیارت کرنے میں کامیاب ہوئے۔۔۔ میں حضرت صندل بابا جی کی بیعت کر کے آج ہی واپس آیا ہوں، لیکن حضرت صندل بابا جی تک پہنچانے میں میری راہنمائی جیش محمدﷺ کے پندرہ روزہ’’راہ وفا‘‘ نے کی۔۔۔

آٹھ سال قبل راقم جب صندل گاؤں میں حضرت کی خانقاہ میں حاضر ہوا تھا۔۔۔ تو تب صندل بابا جی۔۔۔ نامور عالم دین اور ولی کامل ہونے کے باوجود۔۔۔ اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کرتے تھے۔۔۔ اس وقت ان کی عمر 127 برس تھی۔۔۔ مگرآپ ہر قسم کی بیماریوں سے دور۔۔۔تشنہ لب سالکین اورپریشان حال مسلمانوں کی روحانی دواو غذا کا بھرپور انتظام کرتے۔۔۔ اب کی بار حاضری کی سعادت حاصل ہوئی تو ان کے پوتے عزیزم فضل ولی نے بتایا کہ’’حضرت‘‘ سے ماشاء اللہ بیماریاں اب بھی بہت دور ہیں۔۔۔ ہاں البتہ135برس عمر ہونے کے سبب۔۔۔ ضعف ضرور بڑھتا جارہا ہے۔۔۔

آپ شہرت سے دور رہے۔۔۔ اور اپنے آپ کو ہمیشہ مستور رکھنے کی کوششیں کیں، گمنامی میں رہ کر اللہ سے لو لگانا آپ کو نہایت مرغوب رہا۔۔۔ آٹھ برس قبل جب راقم حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے کالم لکھنے سے منع فرما دیا تھا۔۔۔ گمنامی اور شہرت سے دور رہنے کی کوششوں کے باوجود۔۔۔ آپ کا نام، آپ کے تقویٰ و طہارت اور علم و عمل کیوجہ سے پھیلتا چلا گیا۔۔۔

ہم جب ان کے کمرہ خاص میں داخل ہوئے۔۔۔ تو حضرت صندل بابا جی بے پناہ ضعف کیوجہ سے بستر پر درازتھے۔۔۔ مگر آپ کی زبان ذکر اللہ سے تر تھی۔۔۔ انہیںان کے خادم فضل ولی نے ہمارے بارے میں پشتو میں بتایا تو۔۔۔ ان کے نورانی چہرے پر محبت و شفقت کی آبشار ظاہر ہوئی۔۔۔ انہوںنے ہماری طرف دیکھا۔۔۔ ہم نے ان کے دست حق پرست پر بوسے دیئے۔۔۔ پھر تینوں ساتھیوں کو اپنے حلقہ ارادت میں قبول کیا۔۔۔

اور نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ۔۔۔’’غرور اور تکبر سے ہمیشہ دور رہنا۔۔۔ یہ غرور اور تکبر ہی تو ہیں کہ جو انسان کو راندہ درگا بنا دیا کرتے ہیں، تکبر اور غرور دل کے وہ امراض کہ جو اگر کسی انسان کو لگ جائیں تو پھر اس کی دنیا اورآخرت تباہ کر کے چھوڑتے ہیں۔۔۔

سنت رسولﷺ کی ہمیشہ اتباع کرنا۔۔۔ کیونکہ سنت رسولﷺ کی پیروی کرنے سے ہی انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا شرف پاتا ہے‘‘۔۔۔

حضرت سید محمود صندل بابا جی حسینی سید ہیں، آپ خود بھی شریعت مطہرہ کی سختی سے پابندی کرنے والے۔۔۔ اور عملیات کی دنیا کے بے تاج بادشاہ۔۔۔ مگر آپ کے سارے عملیات شریعت کے تابع ہوتے ہیں۔۔۔ ساری عمر نہ خود شریعت سے ہٹ کر کوئی ’’عمل‘‘ کرنے کی کوشش کی۔۔۔ اور نہ کسی کو شرعی حدود سے متجاوز عمل کرنے کی اجازت عطا کی۔۔۔

آپ سے دم،درود اور تعویذ کرانے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔۔۔ لیکن آپ اپنے پاس آنے والوں کا شریعت کی روشنی میں روحانی علاج کرنے کے ساتھ ساتھ انہیںسنت رسولﷺ کی۔۔۔ پیروی کرنے کی ہدایت کرتے۔۔۔

یہ بات حقیقت ہے کہ جس طرح انسان کی جسمانی بیماریوں کے علاج کیلئے کسی ماہر طبیب یا ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ بالکل اسی طرح روحانی بیماریوں کے علاج کیلئے کسی ماہرشریعت و طریقت کی قدم قدم پر ضرورت پڑتی ہے۔۔۔

آدابِ طریقت میں لکھا ہے کہ کوئی کمال استاد کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔۔۔ جب راہ سلوک میں آنے کی توفیق ہو۔۔۔ استاد طریقت کو تلاش کرناچاہئے۔۔۔ طریقت درحقیت شریعت ہی پر عمل کا نام ہے،کوئی زائد چیزنہیں۔۔۔لیکن شرط یہ ہے کہ طلب صادق اورجذبہ صحیح موجود ہو۔۔۔ بیعت و طریقت کا مقصودیہ ہے کہ انسان کا ظاہر و باطن سنورجائے۔۔۔

شیخ طریقت کی علامات میں سے چند یہ ہیں کہ(۱) بقدر ضرورت علم شریعت سے واقفیت رکھتا ہو تاکہ خود کو اور طالبین کو فساد عقائد و اعمال سے محفوظ رکھ سکے۔۔۔(۲) پرہیز گار ہو، کبائر اورصغائر سے بچتا ہو۔۔۔(۳) تارک دنیا، راغب آخرت ہو(۴) مریدوں کا خاص خیال رکھے کوئی کام ان سے خلاف شرع ہو جائے تو ان کو متنبہ کرے۔۔۔(۵) بزرگان دین کی محبت سے فیض یاب ہو(۶) بنسبت عوام کے علماء و فقراء کے نزدیک اس کی قبولیت زیادہ ہو(۷) کسی شیخ کامل میں کشف و کرامات و خوارق کا ظاہرہونا اورتارک کسب ہونا ضروری نہیں۔۔۔ بلکہ دنیا کا حریص اورلالچی نہ ہو۔۔۔

برصغیر پاک و ہند وہ خطہ ہے کہ جہاں پر۔۔۔ بڑے بڑے اولیاء کرام تشریف لائے۔۔۔ اورانہوں نے۔۔۔ اپنے کردار کی عظمت اور اعمال کی سربلندی کی برکت سے لاکھوں غیر مسلمانوں کو اسلام کی دولت سے مالا مال کیا، اس خطۂ ارضی پر اولیاء کرام اور بزرگان دین متین نے اسلام کی دولت کو جس حسن وخوبی سے پھیلایا۔۔۔وہ اپنی مثال آپ تھا۔۔۔ بزرگان دین اور اولیاء کرام کہتے ہی انہیں ہیں کہ جو خود بھی شریعت مطہرہ کی پابندی کرنے والے ہوں۔۔۔ اور اپنے مریدوں اور ساتھیوں کوبھی شریعت مطہرہ کی مکمل پیروی کرنے کی تعلیم و تلقین کرے۔۔۔

حضرت صندل بابا جی انہیں اولیاء کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے۔۔۔ روحانی مریضوں اور پریشان حال مسلمانوں کا نہ صرف یہ کہ تزکیۂ نفس کرتے ہیں۔۔۔ بلکہ ان کے اندر اِطاعت رسولﷺکاجذبہ بھی بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں.. اللہ ان کا سایہ تادیر سلامت رکھے۔۔۔ اور انہیں شفاء کاملہ عاجلہ مستمرہ عطاء فرمائے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor