Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حیرت کی بات؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 491 - Naveed Masood Hashmi - Hairat ki Baat

حیرت کی بات؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 491)

سو جوتے اور سو پیاز کی حد تک تو ٹھیک تھا۔۔۔ مگر اس مرتبہ۔۔۔ بے چاری حکومت کو سوجوتوں کے ساتھ پانچ سو سے زائد پیاز کھانے پڑ گئے؟ چونکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کامشترکہ اِجلاس پانچ دن تک جاری رہا۔۔۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کوکھ سے جو قرار داد برآمد ہوئی۔۔۔ اس میں’’غیر جانبدار‘‘ رہنے کے شوق نے پوری عرب دنیا کو ہلاکر رکھ دیا۔۔۔ عرب امارات ہو یا سعودی عرب وہاں یہ سمجھا گیا کہ۔۔۔ پاکستان کا جھکاؤ’’ایران‘‘ کی طرف ہے، اور پھر ایک ’’اماراتی وزیر‘‘ نے پاکستان کوبھاری قیمت چکانے کی دھمکی دے ڈالی۔ یمن اور سعودی عرب کے معاملے پر’’غیر جانبدار‘‘ اور ثالث بننے کی شوقین پارلیمنٹ کیوجہ سے حکومت کو سوجوتے اور پانچ سو سے زائد پیاز کھانے کے بعد۔۔۔ احساس ہوا کہ’’غیر جانبدار‘‘ رہنے کی متفقہ قرار داد کیوجہ سے۔۔۔عرب ممالک اگر ناراض ہو گئے تو۔۔۔ پاکستانی معیشت تباہ ہو کر رہ جائے گی۔۔۔

کیونکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے جانے والے زرمبادلہ میں سے تقریبا64فیصد سے زیادہ عرب ممالک سے آتا ہے۔۔۔ چنانچہ پیر کے دن وزیر اعظم نواز شریف کو’’غیر جانبداری‘‘ کی بدہضمی سے کافی افاقہ محسوس ہوا۔۔۔ انہوںنے نئے سرے سے پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ’’حوثی باغیوں کی مذمت کرتے ہیں۔۔۔سعودی عرب اسٹرٹیجک پارٹنر ہے۔۔۔ پاکستان دوستوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا، سعودی عرب کی سالمیت کو خطرہ ہوا تو پاکستان سخت جواب دے گا۔۔۔ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔۔۔ چشم بددور۔۔۔ اب یہ بات کہی جا سکتی ہے۔۔۔ کہ مسلم لیگ ن میں شدت پسند سیکولر گروپ کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف، ایم کیو ایم، اے این پی اور سیکولر انتہا پسند میڈیا۔۔۔ قرار داد منظور کروانے کے باوجود بری طرح ہار گیا۔۔۔

 اور پاکستانی مسلمانوں کی حرمین شریفین سے محبت جیت گئی۔۔۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان سعودی عرب اوریمن تنازعے پر غیر جانبدار رہتا۔۔۔ تو اسے دوستی نہیں بلکہ’’’طوطا چشمی‘‘ کہا جاتا۔۔۔غیر جانبداری کا چکر۔۔۔ ’’دوستی‘‘ کے نام پر ایک بدنما داغ بن کر۔۔۔ ہمیشہ پاکستانی قوم کا منہ چڑاتا، اس سے قبل رسوائے زمانہ پرویزمشرف نے امریکہ کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال کر۔۔۔ افغان طالبان کے ساتھ غداری کی جو تاریخ رقم کی ہے۔۔۔ وہ ہمیں آج بھی یاد ہے۔۔۔ پاکستان میں افغان سفیر ملا ضعیف کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر اسے جس ذلت آمیز اندازمیں گھسیٹتے ہوئے۔۔۔ امریکیوں کے حوالے کیا گیا۔۔۔ ذلت و رسوائی کی یہ داستان۔۔۔ ہر غیرت مند پاکستانی کو ہمیشہ تڑپاتی رہے گی۔۔۔ پاکستانی فضاؤں سے امریکی طیارے اڑان بھر کر۔۔۔ افغانستان کے مسلمانوں پر بارود برساتے رہے۔۔۔ پاکستانی سرزمین کو افغان مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت امریکہ کو رسوائے زمانہ پرویز مشرف نے دی تھی۔۔۔ پاکستان کی غیرت مند قوم کو یہ احسان آج بھی کچوکے لگاتا ہے۔۔۔ کہ ’’رسوائے زمانہ‘‘ کے تاریک دورمیں۔۔۔ چھ سو سے زائد مسلم نوجوانوں کو۔۔۔ امریکہ کے ہاتھوں ڈالروں کے بدلے فروخت کر ڈالا گیا۔۔۔ کیا عرب اوریمن تنازعے پر غیر جانبدار رہ کر۔۔۔ پارلیمنٹ اس قوم کے لئے شرمندگی کا کوئی نیا باب کھولنا چاہتی تھی؟ باوجود اس کے کہ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما راجہ ظفرالحق سعودی عرب کے پاکستان پر احسانات کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’سعودی عرب نے ہر مرحلے پر پاکستان کی بھرپور مدد کی،چاہے وہ ایٹمی پروگرام ہو۔۔۔ یا1971ء کی پاک بھارت جنگ۔۔۔ انہوںنے کہا کہ1982ء میں صدر ضیاء الحق نے سعودی عرب کی مدد سے16 طیاروں کی خریداری کی تھی ۔۔۔ اورجب1998ء میں پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو امریکہ نے پاکستان پراقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔۔۔ اس وقت میں سعودی عرب گیا تھا۔۔۔تو سعودی عرب نے تین ارب ڈالر کا پیٹرول پاکستان کو مفت دیا تھا۔۔۔ اور کہا تھا کہ پہلے پاکستان کے اسٹرٹیجک ذخائر بھرے جائیں۔۔۔ اس کے علاوہ ملائیشیا سے پام آئل منگانے کیلئے500ملین ڈالر قرض فراہم کیا تھا‘‘۔۔۔

سابق سفیر ڈاکٹر ایس ایم قریشی کہتے ہیں کہ’’میں1977ء میں ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ تھا۔۔۔ بھٹو حکومت ختم ہو چکی تھی۔۔۔ اور قومی خزانے میں صرف120ملین ڈالرز کا زرمبادلہ بچا تھا۔۔۔ میں اور وزیر خارجہ آغا شاہی، سیکرٹری دفاع غلام اسحاق خان کے پاس گئے۔۔۔ اور کہا کہ کیا ہم نیوکلیئر پروگروام کو بند کردیں؟ غلام اسحاق خان نے جواب دیا نہیں۔۔۔ نیوکلیئر پروگرام جاری رہے گا اس کے لئے سرمائے کی آپ فکر نہ کریں۔۔ یہ سرمایہ سعودی عرب فراہم کر رہا تھا۔۔۔ ڈاکٹر ایم ایس قریشی مزید بتاتے ہیں کہ1971ء میں وہ شام میں پاکستان کے سفیر تھے۔۔۔ وہاںان کے ساتھ ایک ملٹری اتاشی تھے، جنہیں مختلف اسلامی ملکوں میں پاکستان کیلئے اسلحہ لینے بھیجا گیا۔۔۔وہ ایران گئے جہاں رضا شاہ پہلوی حکمران تھے۔۔۔ لیکن انہوں نے دوسری جنگ عظیم کا مسترد شدہ اسلحہ دکھایااورکہا یہ ہم آپ کوقیمتاً دے سکتے ہیں۔۔۔ وہ ترکی گئے جہاں سیکولر ری پبلکن پارٹی کی حکومت تھی۔۔۔ اس کی جانب سے نئے اسلحے کی پیشکش تو ہوئی لیکن وہ بھی قیمتاً۔۔۔اس کے بعد وہ ملٹری اتاشی سعودی عرب گئے۔۔۔ ان کے پاس پاکستان کی دفاعی ضروریات کی فہرست تھی دوسرے ملکوں سے جواب ملنے کے بعد وہ سوچ رہے تھے کہ اس فہرست میںموجود آدھا اسلحہ بھی مل جائے تو ہمارا کام بن جائے گا۔۔۔ لیکن حیرت انگیز طور پر سعودی حکام نے اس فہرست کو واپس کر دیا اور کہا کہ آپ ہمارے پاس موجود اسلحے میں سے سعودی عرب کی ایمرجنسی کے لئے اسلحہ چھوڑ کر اپنی ضرورت کے لئے۔۔۔ جتنا اسلحہ لے جا سکتے ہیںلے جائیں، سیاست دان نہیں جانتے کہ سعودی عرب نے کس کس مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا‘‘۔۔۔

یہ حیرت انگیز انکشافات پڑھ کر ہر ذی شعور پاکستانی کو سعودی عرب کی دوستی پر فخر محسوس ہوتا ہے۔۔۔ لیکن پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے’’عقلمندوں‘‘ کو نجانے یہ کیا سوجھی کہ انہوں نے ایران اور سعودی عرب کو ایک ہی پلڑے میں رکھنے کی کوشش کی۔۔۔ ان سیاست دانوں اور وڈیروں کے ڈیرے پر۔۔۔ اگر کوئی ان کے حلقے کا غریب یا مسکین بھی چلا جائے۔۔۔ اول تو ان کی حفاظت پر متعین پولیس اسے ڈیرے کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتے۔۔۔ اگر وہ بے چارہ پولیس سے بچ کر ڈیرے میںداخل ہونے میں کامیاب بھی ہو جائے تو۔۔۔ پھر ان کے کتے اسے بھنبھوڑڈالتے ہیں۔۔۔

ان سیاست دانوں نے اپنے اثاثہ جات قوم کے خون پسینے کی کمائی سے بنائے ہیںانہوںنے پاکستانی خزانے کو لوٹ کر پیسا۔۔۔ باہر کے ملکوں کے بنکوں میں منتقل کیا ہے۔۔۔ لیکن سعودی عرب وہ ہے کہ۔۔۔ جو صرف ہدیئے میں ہی پاکستان کو سوا ارب ڈالر دے دیتا ہے۔۔۔

 یہ سعودی عرب سے ڈالر لیتے ہوئے تو نہیں شرماتے۔۔۔ سعودی عرب سے مددمانگتے ہوئے تو نہیں ڈرتے۔۔۔ لیکن جب سعودی عرب یہودی اور ایرانی خطرات کی زد میں آجائے۔۔۔تو انہیں غیر جانبدار رہنے کا شوق چرانا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔اچھا ہوا۔۔۔وزیراعظم نواز شریف نے۔۔۔حوثی باغیوں کی مذمت کر کے قرار داد میں لکھے ہوئے ’’غیر جانبداری‘‘ کے لفظ کو دھو ڈالا۔۔۔

ورنہ آنے والا مؤرخ’’دوستی‘‘ پر لگنے والے’’غیر جانبداری‘‘ بوزنِ غداری کے بدنماداغ کو کبھی نہ مٹا پاتا۔۔۔ سعودی عرب نے تو پاکستان کو بے پناہ وسائل مہیا کئے، پاکستان پر بے پناہ احسانات کئے۔۔۔ اگر وہ یہ نہ بھی کرتا۔۔۔ اور کسی مشکل میں پھنس جاتا تب بھی حرمین شریفین کی حفاظت اور تقدس کی خاطرہم اپنا سب کچھ قربان کرنا عین ایمان سمجھتے ہیں۔۔۔ امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر نے سعودی عرب اور یمن تنازع کے بعد پہلے ہی دن جو بات مکتوب خادم میں لکھی تھی۔۔۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس پہ کروڑوں روپے برباد کرنے کے بعد۔۔۔ پیر کے دن وزیراعظم نوازشریف کو اسی بات پر آنا پڑ گیا ۔۔

ہے نہ حیرت کی بات؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor