Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سعود ی عرب کو ایران کی دھمکی؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 492 - Naveed Masood Hashmi - Saudi Arab ko Iran ki Dhamki

سعود ی عرب کو ایران کی دھمکی؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 492)

مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام یعنی بیت اللہ اور مدینہ منورہ میںمسجد نبویﷺ... کرہ ارض پر بسنے والے ہر مسلمان کی محبتوں اور عقیدتوں کا مرکزو محور ہیں۔۔۔ یہی وہ مقدس مقامات ہیں کہ جہاں جا کر عبادت کرنے اور عمرہ اور حج کی سعادت حاصل کرنے کی خواہش دنیا کے ہر مسلمان کے دل میں ہمیشہ مچلتی رہتی ہے۔۔۔ اگر مسلمان ایک دفعہ مسجد نبویﷺ اور مسجد الحرام یعنی بیت اللہ شریف کی زیارت کر بھی لے اور بیت اللہ کے حج سے مشرف بھی ہو جائے۔۔ تب بھی اس کا دل نہیں بھرتا۔۔۔ بلکہ اس کی پہلی اور آخری خواہش یہی رہتی ہے کہ۔۔۔ اللہ اسے بار بار۔۔۔ حرمین شریفین کی زیارت کا موقع نصیب فرمائے۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے ایک مقام ہے جس کو بیت المعمور یا بیت الحمد کہتے ہیں۔۔۔ فرشتوں کو اس کے طواف کا حکم ہے۔۔۔

ایک روایت کے مطابق روزانہ ستر ہزار فرشتے اس کا طواف کرتے ہیں۔۔۔ اس بیت المعمور کے بالکل نیچے کرہ ارض پر اللہ رب العزت نے فرشتوں کو ایک گھر تعمیر کرنے کا حکم دیا۔۔۔ یہ تعمیر تخلیق آدم سے دو ہزار سال پہلے ہوئی، پھر حضرت آدم علیہ السلام نے اس گھر کو تعمیر کیا، یہ زمین پر پہلا گھر تھا جو لوگوں کے اللہ تعالی کی عبادت اور توجہ الی اللہ کیلئے بنایا گیا۔۔۔

طوفان نوح کے بعداس کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کی ،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ’’ہم نے ابراہیم اوراسماعیل کو حکم دیا کہ میرے گھر کو پاک رکھو، طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کیلئے ۔ (البقرہ :125 )

مسجد الحرام یعنی بیت اللہ شریف کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مستری بن کر اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے مزدور بن کر کی تھی۔۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ۔۔۔’’اور لوگوں میں پکار دے حج کے واسطے کہ تیری طرف آئیں پیدل چل کر اور دبلے دبلے اونٹوںپر، دور دراز کی راہوں سے‘‘(الحج 27 )

چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک پہاڑپر کھڑے ہو کر پکارا کہ لوگو تم پر اللہ نے حج فرض کیا ہے، حج کو آؤ، حق تعالیٰ نے یہ آواز ہر ایک روح کو پہنچا دی، جس کے لئے حج مقدر تھا اس کی روح نے لبیک کہا وہی شوق کی دبی ہوئی چنگاری ہے کہ ہزاروں آدمی پا پیادہ تکلیفیں اٹھاتے ہوئے حاضر ہوتے اور بہت سے اتنی دور سے سوار ہو کر آتے کہ چلتے چلتے اونٹنیاں تھک جاتیں(تفسیر عثمانی) یہ وہ مکرم گھر ہے جو زمانہ قدیم سے مقدس اور معزز سمجھا جاتا تھا اسلام سے قبل بھی لوگ ہزاروں میل کا بامشقت سفر کر کے اس کی زیارت کیلئے حاضر ہوتے تھے۔۔۔ بیت اللہ کی اسی مقبولیت اور محبوبیت سے خوفزدہ اور حسد میں مبتلا ہوکر’’ابرہہ‘‘ نے ہاتھیوں کے ذریعے اس کو مسمار کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔

مسجد نبویﷺ اسلام کے ایک ناقابل تسخیر قلعہ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے آفتاب نبوتﷺ کی نورانی شعاعیں چار دانگ عالم میں پھیلیں، یہ اسلام کا اولین دارالعلوم اور رسول الثقلینﷺ کا شاہی دربار بھی تھا۔۔۔ اور تعلیم و تربیت، رشد وہدایت اور دعوتِ فکر و عمل کا مرکز تھا۔۔۔

خدائے بزرگ و برتر نے محبوبِ انس و جاں ﷺ کی اس مبارک مسجد کو ایسا قابل رشک مرتبہ عطا فرمایا جس کی مثال پیش کرنے سے تاریخ عاجز ہے، سیدنا انس بن مالکؓ رحمت کائناتﷺ کا یہ ارشاد بیان کرتے ہیں کہ’’جو آدمی گھر میں نماز پڑھے اسے ایک نماز کا ثواب ملے گا، محلہ کی مسجد میں یہ ثواب پچیس گنا زیادہ ہو جائے گا، جامع مسجد میں اس میں پانچ سو گنا اضافہ ہو جاتا ہے اور میری مسجد(مسجد نبوی)میں پچاس ہزار گنا تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ مسجد الحرام میں ایک لاکھ گنا تک جا پہنچتا ہے‘‘۔۔۔

سیدنا انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا’’جوشخص میری مسجد(مسجد نبوی) میں چالیس نمازیں اس طرح پڑھے کہ اس کی کوئی نماز جماعت سے فوت نہ ہونے پائے، تو اسے جہنم کی آگ سے نجات مل جاتی ہے، اور عذاب اور نفاق سے اسے بری کر دیا جاتا ہے‘‘مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی شان و رفعت اس قدر زیادہ ہے کہ اگر اس پر کئی کتابیں بھی لکھی جائیں تو شاید تب بھی اس کا حق ادا نہ ہو سکے۔

حرمین شریفین کی یہی عزت و عظمت ہے اور رفعت و شان ہے کہ پاکستانی مسلمان حرمین شریفین کے تحفظ اور دفاع کے حوالے سے انتہائی حساس واقع ہوئے ہیں۔۔۔ یمن کی آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے حوثیوں کا دعویٰ کہ وہ حرمین شریفین کو آل سعود سے آزادی دلوائیں گے۔۔۔اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا شیعہ حوثیوں کا یہ دعویٰ ثابت نہیں کررہا کہ حرمین شریفین پر قبضے کے حوالے سے ان کے ارادے نہایت بد ہیں ۔۔۔ سعودی عرب کے بادشاہ سے کسی کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔۔۔ لیکن زور، زبردستی یاسازش کے زور پر سعودی عرب اور مکہ اور مدینہ کوعدم استحکام سے دوچار کرنے کی سوچ رکھنا بھی روئے زمین پر بسنے والے ہر مسلمان کیلئے نہایت تکلیف دہ ہے۔۔۔ ایران کی حکومت کے منافقانہ طرز کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ ایک طرف تو وہ یمن میں کسی قسم کی مداخلت سے ہی مکمل طور پر انکاری ہے۔۔۔اور بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ اس کا نہ تو حوثیوں سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔۔۔ ہر چند کہ یمن کے زمینی حقائق اور سعودی عرب کی حکومت ایران کے اس ’’انکار‘‘ کو اس کی منافقت سے تعبیر کر رہی ہے، گزشتہ دنوں ایران کے صدر حسن روحانی نے سعودی عرب کو جو دھمکی دی۔۔۔ اس دھمکی کی وجہ سے بھی پاکستان کے مسلمانوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔۔۔

19اپریل کو اخبارات میں چھپنے والی خبر کے مطابق’’ایران کے صدر حسن روحانی نے سعودی عرب کے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی بمباری پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب خطے میں نفرت کے بیج بو رہاہے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو جلد یا بدیر اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔۔۔

سوال یہ ہے کہ اگر ایران میں کوئی گروہ یا جماعت ایرانی حکومت کے خلاف بغاوت کر کے تہران پر قبضے کی کوشش کرے۔۔۔ تو کیا ایران کے حکمران انہیں تحفے میں پھول پیش کریں گے یا پھر ان باغیوں سے جنگ کریں گے؟

حوثی باغی تو ایک آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کر کے یمن کے بعض شہروں پر قبضہ کر چکے ہیں۔۔۔ سعودی عرب اور حرمین شریفین پر قبضے کی اعلانات کر رہے ہیں۔۔۔ اگر سعودی عرب ،پڑوسی ہونے کے ناطے۔۔۔ اس بغاوت کو کچلنے کیلئے اپنی فوج استعمال کر رہا ہے تو پھر ایرانی حکمرانوں کے پیٹ میں مروڑ کیوں کیوں اٹھ رہے ہیں؟ایرانی حکومت کو حوثی باغیوں سے اس قدر ہمدردی کیوں ہے؟ منگل کے دن ایران کی بری فوج کے سربراہ برگیڈیئر احمد رضا کا بیان اخبارات میں چھپا ہے جس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف حملے بند نہ کئے۔۔۔ تو تہران ریاض کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا اوریمن میں اگر سعودی عرب کے فوجی حملے بند نہ ہوئے ۔۔ تو ایرانی طیارے سعودی عرب پر بمباری کریں گے‘‘۔۔۔

ایرانی صدر اورآرمی چیف کی سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکی۔۔۔ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ حوثی باغیوں کی جڑیں تہران تک پہنچی ہوئی ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں تحفظ حرمین شریفین کے حوالے سے پوری قوم میں ردعمل پایا جارہا ہے۔۔۔

گزشتہ دنوں سعودی عرب کے مشیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالعزیز العمار نے کراچی کے جید علماء کرام کو یمن کے حوالے سے بریفنگ دی۔۔۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم کراچی کے مہتمم مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے فرمایا کہ’’باغیوں کے خلاف جنگ دراصل قرآن پاک کا فیصلہ ہے۔۔۔ اور سعودی عرب حکومت اسی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے حجاز مقدس کی جانب بڑھتے ہوئے قدموں کے آگے بند باندھ رہی ہے‘‘۔۔۔

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے رئیس اور مہتمم حضرت مولانا ڈاکٹر عبدلرزاق اسکندر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے دفاع کیلئے مجھ جیسا بوڑھا اور کمزور بھی جنگ لڑنے کیلئے تیار ہے۔۔۔ اورمیں اس سلسلے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔۔۔ انہوںنے کہا کہ تاریخ کو سمجھے بغیر اس شورش پر بحث کرنا ظلم کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہے۔۔۔ اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یمن جزیرہ عرب کا ایک حصہ ہے۔۔۔ جس کا تحفظ کرنا سعودی عرب کا بنیادی حق ہے۔۔۔

اسی تقریب میں جمعیت علماء پاکستان(نورانی) کے سربراہ ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’اس کڑے وقت میں پاکستان کا ایک ایک شہری سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم حرمین کے تحفظ کے معاملے پر ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں‘‘۔۔۔

سعودی عرب اور حرمین الشریفین پر حملے پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھنے والی شیطانی قوتیں۔۔۔ پاکستان کے مسلمان اکابرین اور عوام میں پائے جانے والے۔۔۔ اس ردعمل کو مذاق مت سمجھیں۔۔۔ یہ ردعمل انتہائی سیرئس ہے۔۔۔ اور اگر شیطانی طاقتیں یمن، سعودی عرب اور حرمین الشریفین کوعدم استحکام سے دوچار کرنے کے گھناؤنے منصوبے سے باز نہ آئیں تو پھر۔۔۔

صرف پاکستان ہی نہیں۔۔۔ بلکہ دنیا بھر کے مسلمان مقدس مقامات کی حفاظت اور شیطانی قوتوں کو سبق سکھانے کیلئے۔۔۔ سروں پرکفن باندھ کر۔۔۔ جہادی راستوں کو اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔۔۔

سیدھی سی بات ہے کہ حرمین الشریفین کے تحفظ کیلئے مال تو کوئی چیز ہی نہیں۔۔۔ اگر ہمیں اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا تو ہم اس سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔۔۔ حرمین کا دفاع عربوں کی تنہا ذمہ داری نہیں ہے۔۔ بلکہ ہر مسلمان۔۔۔ حرمین الشریفین کے دفاع کو اپنا فرض سمجھتا ہے۔۔۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor