Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کی خوشبو (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 493 - Naveed Masood Hashmi - Jihad ki Khushbu

جہاد کی خوشبو

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 493)

امام کعبہ شیخ خالد الغامدی کے دورہ پاکستان نے سیکولر فاشسٹوں کے ساتھ ساتھ ایک پڑوسی ملک کے نمک خواروں کے تمام پروپیگنڈے اور منفی محنتوںپرپانی پھیر دیا۔۔۔ بحریہ ٹاؤن کی مرکزی مسجد سے لے کر جامعہ اشرفیہ، منصورہ، وفاق المدارس العربیہ، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے دفاع حرمین شریفین کانفرنسوں، اور ٹی وی چینلز کے پروگراموں تک۔۔۔ امام کعبہ جہاں جہاں بھی پہنچے۔۔۔ پاکستان کے مسلمانوں نے فرقہ بندی کے تمام بندھنوں سے آزاد ہو کر ان کا ایسا والہانہ استقبال کیا کہ عرب و عجم کی فضائیں جھوم اٹھیں۔۔۔ خود’’معزز مہمان‘‘ کو یہ بات کہنا پڑی کہ’’ پاکستانی پارلیمنٹ کی غیر جانبدار رہنے کی قرار داد پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔۔۔ لیکن پچھلے دو دنوںمیںمیری براہ راست پاکستانی عوام تک رسائی ہوئی ہے۔۔۔ تو ایسی صورت حال سامنے آئی جس پر میں یہ کہوں گا کہ پاکستانی عوام نے حرمین شریفین کے دفاع کیلئے جس جذباتیت اور قوت کا اظہار کیا ہے۔۔ اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔۔۔‘‘

’’معززمہمان‘‘ امام کعبہ کا مزید کہنا تھا کہ ’’ہر مسلمان چاہے وہ صدر ہو یا عام آدمی اس کا حرمین سے ایک ایمانی تعلق ہوتا ہے۔۔۔ خاص طور پر پاکستانی قوم نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ حرمین شریفین کے معاملے پر کوئی کمپرومائیز نہیں ہو سکتا۔۔۔ البتہ پارلیمنٹ کی قرار داد کے الفاظ سے لگتا ہے کہ اس سے پاکستانی قوم کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں‘‘۔۔۔

یہ بات ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ قرار داد میں سعودی عرب اور یمن تنازعے میں غیر جانبدار رہنے کے الفاظ ڈالنا پاک سعودی تعلقات کو خراب کرنے کے مترادف تھا۔۔۔ اور مشترکہ قرار داد کی منظوری کے بعد کی صورتحال نے واضح کر دیا کہ ہمارا وہ تجزیہ درست تھا۔۔۔ پارلیمنٹ کی مشترکہ قرار داد کی وجہ سے سعودی عرب ہم سے ناراض ہو گیا۔۔۔ سعودی عرب کی ناراضگی دور کرنے کیلئے۔۔۔ وزیراعظم نواز شریف کو پہلے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی قیادت میںایک وفد سعودی عرب بھیجنا پڑا۔۔۔ جب اس وفد کو ناکامی کامنہ دیکھنا پڑا ۔۔۔ تو پھر نواز شریف چیف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے ہمراہ خود سعودی عرب جا پہنچے۔۔۔

انڈیا اور ایران پاکستان کے پڑوسی ملک ہیں۔۔۔ اور ان سے ہمارے تعلقات بھی بہتر ہونے چاہئیں۔۔۔ لیکن پڑوسی ممالک کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔۔۔ کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے۔۔۔۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم سے باز رہیں۔۔۔ مقبوضہ کشمیر میں اگر بھارتی فوج بے گناہ کشمیری مسلمانوں کو درندگی کا نشانہ بنائے گی تو۔۔۔ مظلوم کشمیری مسلمانوں کی مدد کرنا پاکستان کا فرض بھی ہوگا۔۔۔ اور پاکستان پر قرض بھی۔۔۔ سرینگر میں جب ہزاروں کشمیری بچے،بوڑھے اور جوان۔۔۔ بھارتی فوج کے سنگینوں کے سائے میں’’ تیری جان، میری جان، پاکستان، پاکستان ‘‘کے نعرے بلند کریں گے، جب سرینگر کی سڑکوں پر سبز ہلالی پرچم لہرانے والوں کو گولیوںسے بھون ڈالا جائے گا۔۔۔ جب سرینگر کے چوکوں اور چوراہوں پر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں پر غداری کے مقدمات قائم کر کے۔۔۔ انہیں ٹارچر سیلوں اور جیلوں میں ٹھونس دیا جائے گا۔۔۔ تو پھر پاک انڈیا تعلقات کبھی بہتر نہ ہو پائیں گے۔۔۔ اور اگر ان سارے بھارتی مظالم کو نظر انداز کر کے کوئی حکمران بھارت سے تعلقات کی بحالی کا ڈھنڈورا پیٹنے کی کوشش کرے گا۔۔ وہ قوم کی نظروں سے گر جائے گا۔۔۔ مولانا محمد مسعود ازہر،محترمہ آسیہ انداربی سے لیکر بزرگ کشمیری لیڈر سید علی گیلانی تک۔۔۔ گرفتاریوں، ٹارچر سیلوں اور انٹروگیشن سینٹروں کی لاکھوں خوفناک داستانیں رقم کرنے والا بھارت نہ پاکستان کا کبھی پسندیدہ ملک ہو سکتا ہے۔۔ اور نہ ہی پاکستانی قوم بھارتی نمک خواروں کو کبھی پاک سر زمین پر برداشت کرے گی۔۔۔

مجھے بھائی عابد انجمؒ، بھائی عارفؒ، کمانڈر سجاد افغانیؒ سے لیکر کمانڈر غازی باباؒ سمیت وہ ہزاروں شہزادے آج بھی یاد ہیں کہ جو بھارتی فوج کی درندگی کا نشانہ بن کر شہادتوں کے جام نوش فرما گئے۔۔۔ ہم ان کشمیری بہنوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔۔۔ کہ جنہوں نے اپنی عصمتیں بچانے کیلئے نیلم کے پانی میں کود کر جانیں قربان کی تھیں۔۔۔ مقبول بٹ شہیدؒ سے لے کرافضل گورو شہیدؒ تک۔۔۔ دہلی کی تہاڑ جیل کے مظالم کے قرض کا جواب لوٹانا ہم پر فرض ہو چکا ہے۔۔ میرے شیخ مولانا محمد مسعود ازہر کی بہت سی راتیں اوربہت سے دن اسی تہاڑ جیل کی نظر ہو چکے ہیں۔۔۔ آج بھی میرے جگری یار’’ناصر آفتاب‘‘ سمیت اور نجانے کتنے کشمیری مجاہد ہیں کہ جو وہاں پر بھارتی ظلم وستم کا نشانہ بن رہے ہیں۔۔۔

پلندری سے تعلق رکھنے والے ناصر آفتاب کے ساتھ1990-91-92ء میں گذرے ہوئے وہ ایام کہ جو ہم نے کبھی بہاولپور، کبھی حاصلپور، کبھی خیر پور ٹامیوالی، کبھی مظفر آباد میں دعوت جہاد کے سلسلے میں گزارے۔۔۔ وہ دن جب یاد آتے ہیں تو دل میں جلنے والی جہادی شمع مزید بھڑک اٹھتی ہے۔۔۔ مجاہد ناصر آفتاب جب اپنی پرسوز آواز میں ’’کسی شب میں اچانک لوٹ آؤنگا‘‘گنگناتا تو ماحول پر سحر طاری ہو جاتا، میںنے روز اول سے ہی قلم فروشوں کے لیے۔۔۔’’دانش فروشوں‘‘ امریکی اور انڈین پٹاری‘‘ کی اصطلاحات اپنے کالموں میں استعمال کرنا شروع ہی اس لئے کی تھیں۔۔۔ کہ میں جب اپنے مخلص ساتھیوں کی قربانیوں پر۔۔۔ ’’بے غیرت برگیڈ‘‘ کے ان ’’نخچیروں‘‘کو پانی پھیرتے ہوئے دیکھتا تھا۔۔۔ تومیرا دل حروف کی شکل میں ان’’بدشکلوں‘‘ پر انگارے برسانے کو چاہتا تھا۔۔۔ ایک اخبار کے سینئر کالم نگار(قلم فروش) نے ایک موقع پر اس خاکسار سے شکوہ بھرے انداز میں پوچھا کہ’’ آپ اپنے کالموں میں ہمیں گالیاں کیوں دیتے ہیں؟‘‘

میں نے ہنستے ہوئے انہیں جواب دیا کہ یہ گالیاں تھوڑی ہیں۔۔۔ بلکہ یہ تو جدید تہذیب کی’’تڑکہ مارکہ‘‘ ۔۔۔ اصطلاحات ہیں۔۔۔ آپ جب کشمیر کے مخلص مجاہدوں اور شہیدوں کامذاق اڑائیں گے۔۔۔ دہلی کی غلامی کیلئے اللہ کے حکم جہاد کو مسترد کرینگے تو پھر آزادی اظہار کی روح کے عین مطابق ہم آپ کی نفرت پاکستانی قوم کے دل و دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھر دینگے۔۔۔

 ہزاروں نجم سیٹھی، ہزاروں امتیاز عالم، لاکھوں ایاز امیر اور اس قماش کے دیگرز جمع ہو جائیں۔۔ یہ سب مل کر بھی کشمیر کے مخلص، باوفا اور باضمیر مجاہد کے پاؤں کی خاک کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے۔۔۔ شہداء کشمیر کی قربانیوں کا مذاق اڑانا ’’سیاست‘‘ نہیں بلکہ یہودیت اور قادیانیت ہے۔۔۔ ان دانش فروشوں اور قلم فروشوں کی سنیئے۔۔۔ یہ کہتے ہیں کہ ’’سعودی عرب ناراض ہوتا ہے تو ہونے دو۔۔۔سعودی عرب پر حوثی باغی اگر حملہ کرتے ہیں تو کرنے دو۔۔۔ پرواہ مت کرو۔۔۔ ہاں البتہ’’ایران‘‘ ناراض نہیں ہونا چاہئے کیوں؟ اس لئے کہ اگر ایران ناراض ہو گیا تو پاکستان میں فرقہ وارانہ فساد بھڑک اٹھیں گے‘‘۔۔۔ ’’بے غیرت برگیڈ‘‘ کے ان دانش فروشوں کو کوئی بتائے کہ مکہ اور مدینہ ایران میں نہیں۔۔۔ بلکہ سعودی عرب میں ہیں۔۔۔اللہ پاک نے قرآن مقدس میں ایران کی قسم نہیں کھائی۔۔۔ بلکہ مکہ اور مدینہ کی قسم کھائی ہے۔۔۔ ایران جیسے لاکھوں ملک سعودی عرب کی گرد راہ پر قربان کئے جا سکتے ہیں۔۔۔ مگر حرمین شریفین کے تحفظ اور دفاع سے غفلت کی سوچ رکھنا بھی غداری کے زمرے میں آئے گا۔۔۔ ہم گناہ گاروں کے دامن میں بیت اللہ اور روضہ رسولﷺ کی محبت کے سوا اور رکھا بھی کیا ہے؟

ہمارے دل کی چاہت اور آرزو تو یہ ہے کہ اگر ہمیں موت بھی آئے۔۔۔مدینہ منورہ کی گلیوں میں آئے۔۔۔ ہمیں دفن کیلئے جگہ ملے۔۔ تومکہ یا مدینہ میں ملے۔۔۔ امام کعبہ شیخ خالد الغامدی اگر یہ کہتے ہیں کہ ’’حوثی باغی مکہ مکرمہ اورمسجد نبویؐ تک پہنچنے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں‘‘ تو پھر یہ یقینا غلط نہیں ہوگا۔۔۔ امام کعبہ پاکستان کے مسلمانوںکو جگانے آئے ہیں۔۔۔ امام کعبہ پاکستان کے مسلمانوں کو بتانے آئے ہیں کہ بیت اللہ اور مسجد نبویؐ صرف عربوں کا ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مقدس اور روحانی مقام ہے۔۔۔۔ اس لئے حرمین شریفین کے تحفظ کی ذمہ داری پوری امت مسلمہ کی ہے۔۔۔ اللہ کرے کہ یمن کا معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے۔۔۔ اللہ کرے کہ یمن کے معاملات سے ایران نکل جائے ، لیکن اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا۔۔۔ تو پھر عرب کے صحراؤں اور ریگزاروں سے اٹھنے والی جہاد کی خوشبو کو کوئی روک نہ پائے گا۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor