Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

لہو لہو داستان (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 493 - Naveed Masood Hashmi - Lahu Lahu Dastan

لہو لہو داستان

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 494)

میں اسے ذاتی طور پر جانتا تو نہیں تھا۔۔۔ مگر میں نے جب اس کی مظلومانہ شہادت کی داستان سنی تومیرا دل لہو، لہو ہو گیا۔۔۔ اس کا نام محمد عمران تھا۔۔ اس کی عمر23برس تھی۔۔۔ سال بھر پہلے اس کی شادی ہوئی تھی۔۔۔ وہ جامعہ ربانیہ قصبہ کالونی میں درجہ سابعہ کا طالب علم تھا۔۔۔ انتہائی شریف النفس، عبادت گزار، دیانت دار اور مخلص پاکستانی تھا۔۔۔

اسلام اور پاکستان سے محبت اس کے دل و دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔۔۔ محمد عمران ’’الرحمت‘‘ شعبہ المرابطون کے ذمہ دارہونے کی وجہ سے۔۔۔ اپنے ہم عصر طالب علموں میں ہر دلعزیز تھا۔۔۔ اس کے والد محمد اعظم فالج کے مریض تھے۔۔ وہ اپنے مریض والد کی خدمت بھی جی جان سے کرتا تھا۔۔۔

غالباً35سال قبل اس کے والدین۔۔ سوات سے آکر کراچی کے علاقے پیر آباد میں آباد ہوئے تھے۔۔۔15مارچ2015ء تک وہ اپنے والدین، بیوی اوربہن بھائیوں کے ساتھ پُرسکون زندگی بسر کر رہا تھا۔۔۔ 15مارچ2015ء کی رات اس کے ماں، باپ اس کی بیوی اور بہن بھائیوں کو زندگی بھر یاد رہے گی۔۔۔ کیونکہ یہی وہ رات تھی کہ جس رات کے تقریبا2بجے اس کے گھر کی دیواریں پھاند کر رینجرز کے اہلکار اس کے گھر میں گھس آئے۔۔۔ اور سوئے ہوئے محمد عمران کو گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے۔۔۔

وہ رات اتنی ڈراؤنی بن گئی کہ 4مئی کی شام جب میں اس کے چھوٹے سے گھر کے کمرے کی فرشی نشست پر بیٹھا ہوا۔۔۔ اس کے بڑے بھائی سے اس کی مظلومیت کی داستان سن رہا تھا۔۔۔ تو وہ مجھے بتا رہے تھے کہ۔۔۔ اس ’’رات‘‘ کو گزرے تقریبا پچاس دن بِیت چکے ہیں۔۔۔ مگر ہمارے گھر کی خواتین اس رات سے آج بھی خوفزدہ ہیں۔۔۔ محمد عمران کی بیوی اور ماں کے آنسو تو تھمنے میں ہی نہیں آرہے۔۔۔ کراچی میں چونکہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔۔۔ دہشت گرد سیاست کی آڑ لے رہے ہوں، فرقہ واریت کی چھتری استعمال کر رہے ہوں۔۔۔ یا مذہب اورسیکولر ازم کی آڑ لے رہے ہوں۔۔۔رینجرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردوں کے تسلط سے کراچی کے عوام کو نجات دلائے۔۔۔ رینجرز ہو یا دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے۔۔۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ان سے تعاون کرنا ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔۔۔۔

یہی سوچ کر محمد عمران کے بڑے بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی محمد عمران کی گھر سے گرفتار کر کے لے جانے کی مکمل روداد درخواست کی صورت میں ڈی جی رینجرز اور چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ٹی سی ایس کے ذریعے بھجوا دی۔۔۔ التبہ وہ مطمئن تھے کہ ان کے بھائی محمد عمران نے نہ تو کبھی قانون شکنی کی۔۔۔ اور نہ ہی کبھی گورنمنٹ کی رِٹ کو چیلنج کیا۔۔۔ اس لئے رینجرز ضروری تفتیش کے بعد ان کے بھائی کو بے گناہ قرار دیکر رہا کر دے گی۔۔۔ محمد عمران تو ایسا قانون پسند نوجوان تھا جس نے کبھی سگنل کی خلاف ورزی تک گوارا نہ کی، وہ23سال کا بانکاسجیلا جوان تھا۔۔۔ ان23سالوں میں کراچی سمیت پورے پاکستان کے کسی تھانے یا چوکی میں اس کے خلاف کسی قسم کی کوئی ایف آئی آر درج ہوئی اور نہ ہی اس کے خلاف کسی نے شکایت پر مبنی کوئی درخواست جمع کروائی۔۔۔

اس کا چہرہ سنت رسولﷺ سے مزین تھا۔۔۔ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی ہمدردی کے جذبات اس کے اندر موجزن تھے۔۔۔ ’’الرحمت‘ ‘ایک ایسا فلاحی ادارہ ہے۔۔۔ کہ جس کے رضا کار۔۔۔ سیلاب ہو، آندھی ہو، طوفان آئے یا زلزلہ۔۔ ہر موقع پر۔۔۔ آفتوں میں گھرے ہوئے پاکستانی بھائیوں کی مدد کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔۔۔ شعبہ المرابطون۔۔۔ کے بارے میں جو میری معلومات ہیں۔۔۔ طالب علموں کے دل و دماغ میں علم کی روشنی کے دیے جلانے کے ساتھ ساتھ۔۔۔ ان کی روحانی اصلاح کے علاوہ طلباء کی علمی اور عملی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا۔۔۔ اس کا مشن ہے۔۔۔ 15مارچ2015ء کی رات دو بجے۔۔۔ جس محمد عمران کو رینجرز کے جوان اس کے گھر سے لے گئے تھے اس محمد عمران کی تصویر3اپریل2015 کے اخبارات کے فرنٹ پیج پر چھپی۔۔۔ وہ تصویر جس نے بھی دیکھی دل تھام کر رہ گیا۔۔۔ تصویر کے نیچے تحریر تھا کہ’’لیاری ایکسپریس وے کے پاس سے برآمد ہونے والی محمد عمران کی تشدد شدہ لاش‘‘۔۔۔

محمد عمران کی والدہ، بیوی، بھائی اور اہل علاقہ پوچھتے ہیں کہ۔۔۔ جس محمد عمران کو رینجرز کے جوان لے کر گئے تھے اس کی تشدد زدہ لاش سڑک کنارے سے کیونکر ملی؟ آخر محمد عمران کا جرم کیا تھا کہ اسے جعلی مقابلے میں مار دیا گیا، پورا محلہ محمد عمران کی امن پسندی اور شرافت کی قسمیں کھاتا ہے۔۔۔ اگر عمران کا کوئی قصور تھا۔۔۔ تو اسے ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کیا جانا چاہئے تھا۔۔۔

محمد عمران کی میت کو غسل دینے والے نوجوان نے راقم کو بتایا کہ اس کے بائیں پاؤں کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔۔۔ دائیں طرف کی ران تقریبا 4انچ تک کٹی ہوئی تھی۔۔۔ اور اس کے جسم کے مختلف حصوں پر دس سے بارہ گولیاں ماری گئی تھیں۔۔۔

یہ دکھ بھری داستان سن کر میرا دل غم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب چکا تھا۔۔۔ ’’میں‘‘ کہ جو اپنے کالموں میں بہادر رینجرز پر فخر کیا کر تا تھا۔۔۔ اور رینجرز کے مخالفین پر کالموں میں شعلے برسایا کرتا تھا۔۔۔ گم سم بیٹھا۔۔۔ محمد عمران شہید کے بھائیوں اور دوستوں کے چہرے تکتا یہ سوچ رہا تھا کہ کسی بے گناہ انسان کا قتل مقامی طالبان ، ایم کیو ایم یاکوئی اور لسانی سیکولر یا مذہبی جماعت کا کارکن کرے تو اس کی دہشت گردی میں شک کرنا بھی جرم ہے۔۔۔ لیکن اگر پولیس یا رینجرزکسی بے گناہ انسان کو ماورائے عدالت جعلی مقابلے میں مار کراس کی لاش کو سڑک پر پھینک دے تو اس کو کیا کہا جائے گا؟۔۔۔

میری اطلاع کے مطابق۔۔۔ محمد عمران شہید کے دوستوں اور اہل محلہ کو بھی تنگ کیا جارہا ہے۔۔۔ اور کہا جارہا ہے کہ’’خبردار‘‘ اگر کسی نے محمد عمران کو معصوم اور بے گناہ کہا تو اس کا حشر بھی اچھا نہیں ہوگا۔۔۔ سیدھی سی بات ہے۔۔۔ میرے نزدیک کسی بھی دہشت گرد کی اشارے کنائے میں بھی ہمدردی یا حمایت کرنا بدترین جرم ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ محض شک کی بنیاد پربے پناہ تشدد کر کے۔۔۔ بغیرکسی جرم کے کسی انسان کو مار دینا بھی پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔۔۔

کب تک لوگوں کو ڈرا دھمکا کر حق کی گواہی دینے سے روکا جا سکتا ہے؟ کیونکہ

جو چپ رہے گی زبانِ خنجر

لہو پکارے کا آستیں کا

پاکستان قوم کو اپنی بہادر فورسز پرفخر ہے۔۔۔ لیکن بے گناہ انسانی جانوں سے کھیلنے والی کالی بھیڑوں سے بھی فورسز کو پاک کرنا ضروری ہے۔۔۔ محمد عمران تو مظلومیت کے تمغے اپنے سینے پر سجا کر۔۔۔ غازی گوٹھ قبرستان میں مٹی کی چادر اوڑھ کر سورہا ہے۔۔۔ لیکن میں کراچی سے واپس اسلام آباد جاتے ہوئے راستے میں سوچ رہا ہوں کہ کاش ڈی جی رینجرز یا چیف جسٹس آف پاکستان قانون کی آڑمیں لاقانونیت کا مظاہرہ کرنے والوں کو بھی نمونہ عبرت بنا ڈالیںتو پھر کسی ظالم کو کسی بے گناہ پر ظلم ڈھانے کی جرأت نہ ہوگی۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor