Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

پرویز رشید کے خیالاتِ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 495 - Naveed Masood Hashmi - Pervez rasheed k khiyalat

پرویز رشید کے خیالاتِ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 495)

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات پرویز رشیدنے 3 مئی کو کراچی میں منعقدہ ایک ادبی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بچوں کو بھی علم سے محروم رکھواور بڑوں کو بھی علم سے محروم رکھو۔اب کتاب تو وجود میں آچکی ،اسکول تو وجود میں آچکے جب پاکستان بنتا ہے یہ انگریز کا تحفہ ہے اس کو بند نہیں کیا جا سکتا ،اس سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی پھر اس کا متبادل تلاش کیا گیا کہ کتاب چھپتی رہے لیکن وہ کتاب نہ چھپے جو آپ تحریر کرتے ہیں ،وہ فکر عام نہ ہو جس کی شمع آپ جلاتے ہیں۔ لوگوں کو پڑھنے کے لیے کتاب دی جائے تو کون سی دی جائے؟موت کا منظر عرف مرنے کے بعد کیا ہوگا؟(قہقہے)جہالت کاوہ طریقہ جو پنڈت جواہر لال نہرو کو سمجھ نہیں آیا وہ ہمارے حکمرانوں کو سمجھ آگیا کہ لوگوں کو جاہل کیسے رکھا جا سکتا ہے …کہ فکر کے متبادل فکر دو لیکن فکر کے متبادل مردہ فکر دے دو…اور پھر منبع جو فکر کو پھیلاتا ہے ۔کیا ہو سکتا تھا ؟لاؤڈ اسپیکر …لاؤڈ اسپیکر بھی اُن کے قبضے میں دے دو ۔دن میں ایک دفعہ کے لیے نہیں بلکہ پانچ دفعہ کے لیے دے دو ۔اب آپ کے پاس اتنے اسکول اور اتنی یونیورسٹیاں نہیں ہیں جتنی جہالت کی یونیورسٹیاں ان کے پاس ہیں (تالیاں )اور بیس پچیس لاکھ طالبعلم جن کو وہ طالبعلم کہتے ہیں ۔آپ کو تو یہ شکایت ہے کھوڑو صاحب! کہ سندھی سے سندھ کی زبان چھین لی گئی ،پختون سے پختون کی زبان چھین لی گئی ،پنجابی سے پنجاب کا ورثہ چھین لیا گیا ،بلوچستان سے اس کی تہذیب اور ثقافت چھین لی گئی ۔لیکن مجھے یہ بتائیے کہ یہ جو یونیورسٹیاں ہیں جن کو ہم سب چندہ بھی دیتے ہیں …عید بقرعید پر فطرانے اور چندے اور کھالیں دیتے ہیں …خود پالتی ہے ہماری سوسائٹی …یہ جو جہالت کی یونیورسٹیاں ہیں …پنجابی سندھی ،پٹھان ،مہاجربھئی! ان مسئلوں کا تو کوئی حل نکل سکتا ہے ،ان کا حل پاکستان کے آئین میں بھی موجود ہے ،بدقسمتی یہ کہ چونکہ آئین پر عمل نہیں ہوتا اس لیے جھگڑا باقی رہ جاتا ہے لیکن جو فکر انہوں نے دے دی ،جو نفرت،تعصب ،تنگ نظری انہوں نے پھیلادی اور جو روز پھیلاتے ہیں اور جو تقسیم انہوں نے ڈال دی اور جو روز تقسیم ڈالتے ہیں ۔اسکول میں نصاب میں ایک ہی جماعت میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو تقسیم کر دیا گیا ،ایک فرقے کا نصاب یہ ہو گا کہ زکوٰۃ کیسے دینی ہے اور دوسرے فرقے کا یہ نصاب ہو گا کہ زکوٰۃ کیسے دینی ہے؟…ـــ‘‘

مسلم لیگ (ن) کے مسلمان کارکنوں‘ مسلمان قائدین سے گزارش ہے کہ وہ ... پاکستان کے وزیر اطلاعات کی تقریر کے اس اقتباس کو بار بار پڑھیں... اور پھر فیصلہ کریں کہ کیا یہ شخص ایک اسلامی نظریاتی مملکت کا وزیر بننے کا اہل ہے؟...کیا قرآن و سنت اور دینی علوم کے مراکز کو جہالت کی یونیورسٹیاں قرار دینے والا  شخص مسلمانوں کی کسی جماعت کا نمائندہ یا عہدیدار ہوسکتا ہے؟

کیا پرویز رشید کی تقریر کے مندرجہ بالا الفاظ آئین پاکستان سے غداری کے زمرے... میں نہیں آتے؟

پرویز رشید کو تقریباً بیس لاکھ سے زائد شہیدوں کے مقدس خون سے بننے والی ایک اسلامی نظریاتی مملکت کا وفاقی وزیر لکھتے ہوئے میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے... لیکن کروں کیا... اس حقیقت سے انکار بھی تو نہیں کیا جاسکتا‘ نجانے میاں محمد نواز شریف اور دیگر مسلم لیگی قائدین... اپنی جماعت کے عہدے اور وزارتیں تقسیم کرتے وقت یہ دھیان کیوں نہیں رکھتے... کہ آیا کہ  جس کو وہ وزیر بنا رہے ہیں وہ مملکت کے ساتھ ساتھ مذہب اسلام کا وفاداربھی ہے یا نہیں؟

پرویز رشید کی یہ تقریر جیسے ہی منظر عام پر آئی... پاکستان کے 19کروڑ مسلمانوں میں ... غم و غصے کی لہر دوڑ گئی... بریلوی ہوں‘ دیوبندی ہوں یا دیگر  مسالک کے علماء کرام... اور مسلمان... انہوں نے کراچی سے پشاور تک احتجاج شروع کر دیا... گزشتہ روز وفاق المدارس العربیہ کے زیراہتمام اسلام آباد پریس کلب کے سامنے علماء و طلباء نے  وفاقی وزیر کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا... اطلاعات کے مطابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کے بیان کے متنازعہ کلپس مختلف دارالافتاء میں بھیجوا دئئیے گئے ہیں... جہاں مفتیان کرام شریعت مطہرہ کی روشنی میں جائزہ لے کر پرویز رشید کے خلاف مشترکہ اور متفقہ فتویٰ جاری کریں گے۔

جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم ممتاز عالم دین مفتی محمد نعیم نے تو میڈیا پر آکر پرویز رشید کے خلاف باقاعدہ کفر کا فتویٰ جاری بھی کر دیا ہے‘ مفتی محمد نعیم نے وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ ... وہ فوری طور پر پرویز رشید کو وزارت سے برطرف کرکے ان کی گرفتاری کا آرڈر جاری کریں‘ پاکستان کے مسلمان... تمام مسالک کے علماء کرام اور مسلم لیگ (ن) کے قائدین پرویز رشید کے ساتھ کیا کرتے ہیں... یہ تو میں نہیں جانتا... لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں... کہ پرویز رشید نے کراچی کی ادبی تقریب میں تالیوں کی گونج میں جس تمسخرانہ انداز میں اسلامی فکر اور دینی سوچ کا مذاق اڑایا... اس نے ہر درد دل رکھنے والے مسلمان کو تڑپا کر رکھ دیا۔

سیکولر لادینیت کا بت کفن پھاڑ کر باہر نکل آیا ہے‘ لائوڈ سپیکر پر پانچ وقت کی اذان ’’لادینوں‘‘ کو تو ہضم نہیں ہو رہی... جب کہ وہ خود  دجالی ہتھیار الیکٹرانک چینلز کے ذریعے گھر گھر اپنے بدبودار نظریات کا تعفن پھیلا رہے ہیں... قرآن مقدس حفظہ کروانے‘ قرآن پاک کو تجوید کے ساتھ پڑھانے‘ احادیث رسولﷺ کے علوم پڑھانے والے دینی مدارس کو  تو جہالت کی یونیورسٹیاں قرار دیا جارہا ہے اور انگریزی پڑھانے والے سکول‘ کالجوں کو ’’علم‘‘ کے مراکز قرار دیا جارہا ہے‘ حالانکہ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ پاکستان توڑ کر بنگلہ دیش بنانے والوں میں دینی مدارس کا نہ تو کوئی طالب علم شریک تھا اور نہ ہی کوئی مولوی شامل تھا... پرویز رشید وزیر اطلاعات ہیں  میرا انہیں چیلنج ہے کہ وہ قوم کو بتائیں کہ کون سے دینی مدرسے نے پاکستان میں مہاجر ازم‘ پنجابی ازم‘ بلوچی ازم‘ پختون ازم یا بھٹو ازم پھیلایا؟ لسانیت کی بدبو کو پھیلانے میں سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے پڑھنے والے سیکولر شدت  پسندوں نے پھیلایا‘ پاکستان سے غداری کرنے والوں کی  لسٹ پر ایک نظر دوڑا لیجئے... اس پوری لسٹ میں آپ کو مدرسے کا کوئی مولوی نظر نہیں آئے گا۔

قومی خزانے کی لوٹ مار کرکے عوام کی دولت بیرون ملک بھجوانے والوں کی لسٹ پر نظر دوڑا لیجئے‘ اس پوری لسٹ میں آپ کو مدرسے یا مسجد کا کا کوئی مولوی نظر نہیں آئے گا۔ پاکستان میں فحاشی‘ عریانی اور بے غیرتی پھیلانے والوں کی لسٹ دیکھ لیجئے... اس پوری لسٹ میں بھی آپ کو کسی مدرسے‘ مسجد یا مذہبی جماعت کا کوئی طالب علم  یا مولوی نظر نہیں آئے گا‘ پاکستانی بچوں کو ایک نصاب تعلیم دینا مولویوں کی ذمہ داری نہیں تھی بلکہ یہ ذمہ داری حکمرانوں کی تھی... اگر پرویز رشید کی حکومت پاکستانی بچوں کے لئے ایک نصاب تعلیم مرتب نہیں کر سکی... تو اس پر انہیں اپنی جہالت اور غفلت کا ماتم کرنا چاہیے نہ کہ اسلامی شعائر اور دینی مدارس کے خلاف فتوے دینے چاہئیں۔

پرویز رشید اور ان کے گروپ کے دیگر سیکولر فاشسٹوں نے چونکہ  مرنا نہیں اس لئے نہ تو انہیں موت کے منظر اور نہ ہی انہیں مرنے کے بعد والے مناظر پر یقین ہے... لیکن ’’کپی مارکہ‘‘ ان لادینوں کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ قرآن و سنت کے احکامات کا مذاق اُڑائیں ... اور قہقہے بلند کریں۔

ہم راسخ العقیدہ مسلمان ہیں‘ ہم نے مرنا بھی ہے ... اور مرنے کے بعد قبر میں جواب دہی کا سامنا بھی کرنا ہے۔ اس لئے ہم نہ صرف پرویز رشید کے ان خیالات باطلہ کو نہ صرف یہ کہ سختی سے مسترد کرتے ہیں... بلکہ حکومت سے پرزور مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ وہ موصوف سے پاکستان کی جان چھڑا کر انہیں مودی سرکار کے پاس بھجوا دے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor