Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

فرعون اور’’را‘‘ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 496 - Naveed Masood Hashmi - Firon aur Raa

فرعون اور’’را‘‘

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 496)

مصر میں ایک دفعہ پھر فرعون کا دور لوٹ رہا ہے۔۔۔ مصر کے سیکولر شدت پسندوں کے مظالم دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ۔۔۔ قدیم دور کے’’فرعون‘‘ بھی ’’سیکولر‘‘ لا دینیت سے ہی وابستہ تھے۔۔۔ مصر کے سیکولر شدت پسندوں نے عیسائی قبطیوں اور اسرائیلیوں کے ساتھ مل کر۔۔۔ اخوان المسلمون کی حکومت کا جولائی2013ء میں تختہ الٹ کر اقتدار  پر قبضہ جما لیا۔۔۔ تب سے لیکر آج تک۔۔۔ اخوان المسلمون کے کارکن، رہنما اور ہمدرد مصر کی سیکولر فوج کے ظلم وستم کا نشانہ بن رہے ہیں۔۔۔ فرعونِ مصر جنرل سیسی کی عدالتیں اخوان المسلمون کے قائدین اور کارکنوں کو یوں موت کی سزائیں سنا رہی ہیں کہ ۔۔۔ جیسے وہ گوشت پوست کے انسان نہیں۔۔۔ بلکہ ڈربوں میں بند مرغیاں ہوں کہ قصائی کا جب دل چاہا۔۔۔ ڈربے میں ہاتھ مارا۔۔۔ اور مرغی پکڑ کر ذبح کر ڈالی۔۔۔

مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی، عالم دین یوسف قرضاوی، اخوان کے مرشد عالم محمد بدیع سمیت دیگر متعدد راہنماؤں کو مصری عدالت نے جھوٹے مقدموں میں پھانسی کی سزا کا حکم سنا کر۔۔۔ ’’انصاف‘‘ کا جس طرح سے خون کیا۔۔۔ وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔۔۔ مصر کے فرعون جنرل سیسی اور اس کے ہمنوا شیطان ڈاکٹر مرسی سمیت اگر مصر کے ہر مسلمان کو بھی پھانسی پر چڑھا دیں۔۔۔ تو کیا ان پھانسیوں سے حق کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے؟

شیطان کے چیلے جنرل سیسی کو کوئی بتائے کہ جب تمہارا روحانی باپ ’’قدیم فرعون مصر‘‘ ستر ہزار معصوم بچوں کو ذبح کر کے بھی اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو نہ روک سکا۔۔۔ بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش بھی اس کی آنکھوں کے سامنے ہوئی۔۔۔ تو تم ڈاکٹر مرسی سمیت سینکڑوں بے گناہوں کو پھانسیاں دیکر حق کا راستہ کیسے روک سکتے ہو؟ حق کو ایک نہ ایک دن غالب ہو کر ہی رہنا ہے۔۔۔ اور ان شاء اللہ مصر میں بھی ظلم کے اندھیروں کو شکست دیکر ’’حق‘‘ غالب آکر ہی رہے گا۔۔۔ اسلام سے محبت کے جرم میں ماریں کھانے والے۔۔۔ جانیں لٹانے والے کشمیر میں ہوں، افغانستان پاکستان میں ہوں یا انڈیا، اسرائیل اور مصر میں۔۔۔ میرا قلم ان سب اسلام پسندوں کوسلام عقیدت پیش کرتا رہے گا۔۔۔ ان شاء اللہ۔۔۔

 اب آتے ہیں۔۔۔ دوسرے موضوع کی طرف۔۔۔

۔ آج کل کراچی سے لیکر اسلام آباد تک ۔۔۔ ’’را‘‘۔۔۔’’را‘‘ اور’’را‘‘ کی ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔۔۔ شرک کی غلاظت اور نفرت کی کوکھ سے جنم لینے والی۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کیا واقعی اتنی مضبوط تھی کہ پچیس لاکھ سے زائد شہیدوں کی قربانیوں سے حاصل کی جانے والی مملکت خداد داد پاکستان میں پنجے گاڑ کر۔۔۔ یہاں بے گناہ پاکستانیوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیلتی۔۔۔ نہیں، نہیں۔۔۔ خدا کی قسم نہیں۔۔۔’’مشرک‘‘۔۔۔ نجس اور پلید ہوا کرتا ہے۔۔۔ بزدل اور کمینہ ہوا کرتا ہے۔۔۔ جب کہ’’موحد‘‘ بہادر اور دلیر ہوا کرتا ہے۔۔۔

اگر’’را‘‘ اتنی ہی طاقتور تھی۔۔۔ تو پھر۔۔۔گزشتہ30 سالوں سے مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی تحریک آزادی کشمیر پر قابو کیوں نہ پاسکی؟ اگر ’’را‘‘ طاقتور ہے تو پھر۔۔۔ آج بھی سرینگر کی گلیوں، بازاروں، چوکوں اور چوراہوں پر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کیسے لہرا سکتے ہیں؟

بھارت اگر اپنی تمام تر عسکری طاقت استعمال کرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں تحریک جہاد کو نہیں روک سکا۔۔۔ تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ۔۔۔ مسلمانوں کے ایمان کے سامنے’’را‘‘ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔۔۔ وہ فقط۔۔۔ جہنمی مشرکوں کے ایک بدنسل گروہ کا نام ہے۔۔۔ کمزور مسلمانوں کو پکڑنا، نہتے مسلمانوں پر تشدد کرنا۔۔۔ انہیں قتل کرنا ہی ’’را‘‘ کا مشن اور ایجنڈا ہے۔۔۔

پاکستان میں’’را‘‘ اس وقت مضبوط ہوئی۔۔۔ جب امن کی آشا والوں نے پاکستانی قوم کو دھوکا دیتے ہوئے انڈیا کے قدموں پر جھکانے کی کوشش کی، دہلی اور ممبئی میں پاکستان کے خلاف نفرت، انتقام اور تشدد کے شعلے بھڑکتے رہے اور یہاں امن کی آشا اور این جی او مارکہ خرکار ’’را‘‘ کیلئے راستے ہموار کرتے رہے۔۔۔ دہلی میں ’’را‘‘ کے مالکان کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے کا راگ الاپتے رہے۔۔۔ جبکہ اسلام آباد میں بھارت کو پاکستان کا پسندیدہ ملک قرار دینے کی تیاریاں ہوتی رہیں۔۔۔ دہلی والے کشمیریوں کی لاشیں گراتے رہے۔۔۔ جبکہ اسلام آباد والے۔۔۔ انڈیا کے آلوؤں اورپیاز کیلئے ترستے رہے۔۔۔ پاکستان کے لوگوں کا ’’را‘‘ سے کوئی پہلی مرتبہ واسطہ نہیں پڑا۔۔۔ بلکہ پاکستانی قوم1971ء میں’’را‘‘ اور اس کے ایجنٹوں کے ہاتھوں زخم کھا چکی ہے۔۔۔ اس قت ’’را‘‘ کا اثر سیاست دانوں پر تھا۔۔۔ مگر آج ’’را‘‘ سیکولر شدت پسندی کا ’’غازہ‘‘بن کر بعض سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ۔۔۔ بعض اینکرز، کالم نگاروں، میڈیا ہاؤسسز اور تجزیہ نگاروں کے گالوں پر لہرا رہا ہے۔۔۔

پاک فوج کے سپہ سالار اعلیٰ جنرل راحیل شریف سے لیکر ایس ایس پی راؤ انور تک۔۔۔ وزارت خارجہ کے ترجمان سے لیکر وزارت داخلہ تک۔۔۔ ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ’’را‘‘ کراچی میں بے گناہ انسانوں کے قتل عام میں ملوث ہے۔۔۔ مگر سیکولر ازم کی بدبو سے بھرے ہوئے بعض اینکرز اور کالم نگار۔۔۔ یہ تسیلم کرنے کیلئے تیار ہی نہیں۔۔۔ بلکہ اب تو خیر سے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے بھی کہہ دیا ہے کہ ’’سانحہ صفورا گوٹھ‘‘ میں’’را‘‘ ملوث ہے۔۔۔ اس کے ثبوت بھی مل گئے ہیں، مگر دہلی کی محبت کے ’’اسیروں‘‘ کو۔۔۔ یہ بات سمجھ ہی نہیں آرہی سیکولر لادینیت کے یہ بت چلا رہے ہیں۔۔۔ کہ اگر سانحہ صفورا گوٹھ یا دیگر کسی مقام پر’’را‘‘ ملوث ہے تو اس کے ثبوت انہیں بھی دکھائے جائیں۔۔۔

ثبوت، ثبوت کی رٹ لگانے والے۔۔۔ یہ سیکولر جاہل۔۔۔ جب مدارس کے خلاف طوفان اٹھاتے ہیں۔۔۔ تب تو یہ کسی ثبوت کو دیکھنے کے روادار نہیں ہوتے۔۔۔ جب انہیں مساجد، جہاد مقدس یا اسلامی احکامات کے خلاف بدزبانی کرنا ہوتی ہے۔۔۔ تب تویہ بغیر کسی ثبوت کے چڑھ دوڑتے ہیں۔۔۔ لیکن جب معاملہ بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ کا ہو، تو پھر یہ ثبوت،ثبوت، ثبوت کی گردان پڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔۔۔

کیوں؟ کیا دہلی اور ممبئی کے ان بقراطوں کو اپنی ایجنسی آئی ایس آئی سمیت دیگر قومی اداروں پر یقین نہیں ہے؟ کوئی وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ سے پوچھے کہ اگر سانحہ صفورا گوٹھ میں’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے ثبوت مل چکے ہیں تو پھر۔۔۔ مذہبی نوجوانوں کو کیوں اٹھایا جارہاہے؟

دہشت گرد کوئی بھی ہو، کسی بھی روپ میں ہوئی ۔۔۔ کسی بھی صف میں ہو۔۔۔ اس کو گرفتار کرنا لازمی ہے۔۔۔ مگر کسی بے گناہ کو پکڑ کر دہشت گرد بنا دینا کہاں کا انصاف ہے؟

مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ’’را‘‘ کے دہشت گردوں کو پاکستانی قوم پر مسلط کرنے میں سیکولر ٹولے کا پورا پورا ہاتھ ہے۔۔۔ ایک اخباری گروپ نے امن کی آشا کے نام پر جو گند پھیلایا تھا۔۔۔ پاکستان میں’’را‘‘ کی مضبوطی اسی کا شاخسانہ ہے۔۔۔ کیونکہ شرک کی نجاست اور نفرت کی کوکھ میں پلنے والی ’’را‘‘ اسی قسم کی گندگی کے ڈھیروں سے پروان چڑھتی ہے۔۔۔ پاکستانی قوم کو ایسے اخباری گروپوں، ایسے دانشوروں، ایسے کالم نگاروں کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ۔۔۔ جنہیں دہشت گردی اور جہالت کے مراکز مدارس نظر آتے ہیں۔۔۔ مگربھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ معصوم نظر آتی ہے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor