Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مدینہ منورہ میں (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 497 - Naveed Masood Hashmi - Madina Munawara mein

مدینہ منورہ میں

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 497)

سامنے اگر گنبد خضر یٰ ہو تو پھر آنکھوں میں کوئی اور منظر کیسے سماسکتا ہے …؟ سعودی ایئر لائن کے طیارے نے جب پرنس محمد بن عبد العزیز انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو چھوا … تو مقامی وقت کے مطابق شام کے سوا چھ بج چکے تھے … ائیرپورٹ سے نکل کر باہر آئے … تو مدینہ منورہ کی مہربان ہوائوں نے استقبال کیا … گرمی تھی یا نہیں … درجہ حرارت کیا تھا اس کا کسے ہوش تھا … مدینہ کی معطر فضائوں میں پہنچنے کے احساس نے روح تک کو سرشار کر ڈالا تھا … اس احساس سے ہی دل دھک دھک کر رہا تھا … یہ گنہگار اور خاکسار بھی اپنے پاک پیغمبر ﷺ کے ’’یثرب‘‘ میں پہنچ گیا ہے … جب رسول اللہﷺ ہجرت کرکے اس شہر میں تشریف لائے تھے … تب اس کا نام  ’’یثرب‘‘ تھا … مگر پھر اس کا نام مدینہ طیبہ یا مدینہ طابہ رکھ دیا گیا…ہماری بس مدینہ منورہ کی سڑکوں پر دوڑنا شروع ہوئی … تو میں نے اپنے دائیں طرف بیٹھے ہوئے … مولانا عتیق الرحمن شاہ سے کہا کہ … انہی جگہوں سے میرے سرکار ﷺ اور آپﷺ کے مقدس صحابہ بھی گزرے ہوں گے؟ شاہ جی کی آنکھوں میں نمی تیرنا شروع ہوگئی … اور وہ بولے کہ نبی کریمﷺ کے مدینہ میں آنا کس قدر فرحت انگیز احساس ہے … بے شک انہی گلیوں اور راستوں سے آقا و مولیٰ ﷺاور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم گزرے ہوں گے … ہماری بس مسجد نبوی شریف کی طرف رواں دواں تھی … اور پھر اچانک ترستی نگاہوں کو دور سے مسجد نبوی کے خوبصورت مینار نظر آہی گئے …

جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے

اللہ کی رحمت کے آثار نظر آئے

مدینہ تو تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب ’’یثرب‘‘ تھا … تب بھی خوبصورت اب تو ویسے ہی اس شہر امن کو مدینہ منورہ کہتے ہیں’مدینہ منورہ کی خوبصورتیکی تو کوئی حد ہی نہیں۔

حضرت کیفی نے کیا خوب اشعار کہے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا

جب میرے پیش نظر حسن مدینہ ہوگا

شوق دل راہنما بن کے چلے گا آگے

جب رواں سوئے حرم اپنا سفینہ ہوگا

آنکھ جب روضہ اقدس کی جھلک دیکھے گی

یا خدا! کیسا مبارک وہ مہینہ ہوگا

میری آنکھوں میں سمٹ آئے گا حسنِ کونین

جس طرف آنکھ اٹھائوں گا مدینہ ہوگا

جب نگاہیں درِ احمد کی بلائیں لیں گی

صرف آنکھیں ہی نہیں قلب بھی بینا ہوگا

حاضری ہوگی بصد شوق مواجہہ کی طرف

دل حضوری میں سعادت کا خزینہ ہوگا

نغمہ صلی علیٰ ہوگا لبوں پر جاری

اور ماتھے پر ندامت کا پسینہ ہوگا

چومتا نقش قدم اُن کے پھروں گا ہر سو

کیسا پُرکیف یہ جینے کا قرینہ ہوگا

باب جبریل سے گزروں گا دعائیں پڑھتا

ذوق اور شوق سے معمور یہ سینہ ہوگا

اُن کی جب چشم کرم ہوگی دل کیفی پر

دل نہیں ‘ پھر تو یہ انمول نگینہ ہوگا

میں لرزتے وجود کے ساتھ نماز عشاء کی ادائیگی کے لئے مسجد نبوی میں داخل ہوا … تو میرے قلب و ذہن میں اس عظیم ترین ’’مسجد‘‘ کی شاندار تاریخ گھوم رہی تھی… یہ وہی مسجد نبوی تھی کہ جہاں سے آفتاب نبوتﷺ کی شعاعیں چاردانگ عالم میں پھیلی تھیں … یہی وہ ’’مسجد عظمیٰ‘‘ تھی کہ جو دینی ‘ دنیوی ‘ ملی ‘ ملکی آئین اور قانون کے نفاذ کا سرچشمہ ہونے کے ساتھ ساتھ مجاہدین حق کا ہیڈ کوارٹر اور حرب و ضرب اور دفاع کی تربیت گاہ ہونے کا شرف بھی رکھتی تھی ‘ یہ اسلام کا سب سے پہلا دارالعلوم اور رسولﷺ کا شاہی دربار بھی تھا۔ پرودگار عالم نے مسجد نبوی شریف کو ایسی عظمت’ وقار اور تمکنت عطا فرمائی ہے … کہ جس پر رشک ہی کیا جاسکتا ہے … حضرت انس بن مالکؓ، حضور اکرم ﷺ کا مبارک ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ’’جو آدمی گھر میں نماز پڑھے … اسے ایک نماز کا ثواب ملے گا … محلہ کی مسجد میں یہ ثواب25 گنا بڑھ جائے گا … جامع مسجد میں نماز پڑھنے سے ثواب 5سو گنا ہو جائے گا ‘ مسجد اقصیٰ میں پچاس ہزار گنا بڑھ جاتا ہے اور میری مسجد (مسجد نبوی) میں پچاس ہزار گنا تک پہنچ جاتا ہے … جبکہ مسجد حرام میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ گنا تک جاپہنچتا ہے۔

مسجد نبوی کی عظمت و جلالت کے کیا کہنے؟ مکہ سے ہجرت کرکے جب حضرت محمد کریمﷺ نے سرزمین مدینہ پر قدم رنجہ فرمایا تو سیدنا ابو ایوب انصاریؓ کے مکان کو اپنے قیام سے رونق بخشی … ابتدائی ایام میں جہاں نماز کا وقت ہوتا … وہیں نماز پڑھ لی جاتی … پھر آپﷺ نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیا … جس جگہ مسلمان نماز پڑھتے تھے … وہ جگہ سیدنا اسعد بن زررارہ کے زیر کفالت دو یتیم بچوں سہل اور سہیل کی ملکیت تھی جو وہاں کھجوریں خشک کرتے تھے … آپﷺ نے ان بچوں کو بلایا اور اس جگہ مسجد تعمیر کرنے کیلئے خریدنے کی خواہش کا اظہار فرمایا … اور اس قطعہ اراضی کی قیمت دریافت فرمائی’ ان بچوں نے قیمت لینے سے انکار کر دیا … اور بلامعاوضہ ہبہ کرنے کی پیشکش کی مگر محسن انسانیت ﷺ کو یہ منظور نہ ہوا … اور پھر بالآخر قیمتاً وہ جگہ بچوں سے خرید لی گئی…

حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ جب مسجد نبوی شریف کا سنگ بنیاد رکھا جانے لگا تو سردار دو جہاں ﷺ نے پہلا پتھر اپنے دست مبارک سے نصب فرمایا … پھر سیدنا صدیق اکبر پتھر لائے اور اس کے ساتھ لگا دیا … پھر سیدنا فاروق اعظم اور سیدنا عثمان ذی النورین نے ان دونوں نصب کردہ پتھروں کے ساتھ اپنے ہاتھ سے پتھر لگا دیئے… تعمیر مسجد کے لئے کچی اینٹیں بنانے کا انتظام جنت البقیع کے مشرق میں ’’بیر ایوب’’ کے قریب کیا گیا تھا ‘ صحابہ کرام بڑے انہماک اور ولولے کے ساتھ اینٹیں لانے میں مصروف تھے … جبکہ نبی مکرم ﷺ بھی ان کے شانہ بشانہ کام میں مصروف تھے … حضرت سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کے ساتھ آقا ء ومولیٰ ﷺ بھی اینٹیں اٹھانے میں مشغول تھے۔

میں نے دیکھا کہ آپﷺ نے اتنی زیادہ اینٹیں اٹھا رکھی تھیں کہ آپ کے سینہ مبارک … تک پہنچی ہوئی تھیں … میں نے محسوس کیاکہ آپ پر بہت بوجھ ہے … یہ محسوس کرکے میں نے آقاء ومولیٰ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے حبیب ﷺ کچھ اینٹیں مجھے دے دیں … آپ نے فرمایا: ابوہریرہ… اینٹیں تو اور بھی بہت پڑی ہیں … تم وہاں سے اٹھا لائو … یہ اینٹیں میں خود پہنچا دوں گا’ آقا و مولیٰﷺ نے مسجد نبوی کی بنیادیں ‘ پتھروں سے اٹھائیں … اور دیواریں کچی اینٹوںسے بنوائیں … اور مسجد کے تین دروازے رکھے … ایک جنوب میں ‘ دوسرا مغرب کی طرف … باب عاتکہ … جسے باب الرحمت بھی کہا جاتا ہے … اور تیسرا مشرق کی جانب باب عثمان جس سے آپ مسجد میں تشریف لاتے تھے … مسجد نبوی کی عظیم الشان تاریخ میرے دماغ میں گھوم رہی تھی … اور میری آنکھوں سے اشک جاری تھے … میں نے مسجد نبوی میں دور دور تک نظریں دوڑائیں … تو ہر طرف انسانوں کے سر ہی سر تھے … یہ سب فرزندان توحید تھے … مجھے وہاں نہ کوئی جدت پسند نظر آیا … نہ ماڈریٹ نظر آیا … وہاں نہ کوئی سیکولر ملا اور نہ ہی لبرل … بلکہ وہاں ہر رنگ ‘ ملک ‘ نسل اور قبیلے کے مسلمان تھے … جو صرف اور صرف عبادت کرنے آئے تھے … رسول مکرمﷺ پر سلام بھیجنے آئے تھے … وہ سب کے سب بنیاد پرست تھے جبھی تو وہ ساڑھے چودہ سو سال پہلے تعمیر ہونے والی اولین مسجد نبوی میں عبادت کر رہے تھے  یہ منظر بڑا ہی خوبصورت اور سہانا تھا … اور میں سوچ رہا تھا …کہ دنیا بھرکے سیکولر فاشسٹ مسجدوں اور مدرسوں کے خلاف متحد ہوکر جتنا چاہیں زور لگالیں … مگر یہ مسجدوں اور مدرسوں کا بگاڑ کچھ نہیں سکتے۔ کیوں؟ اس لئے کہ ’’مسجد’’ کی تعمیر سب سے پہلے میرے آقا و مولیٰﷺ نے خود فرمائی ہے … سب سے پہلے دینی مدرسے کی بنیاد رسول اکرمﷺ نے خود رکھی تھی … اس لئے مدارس اور مساجد قیامت تک قائم و دائم رہیں گے…ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor