Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

روضہ اقدس کی سنہری جالیوں کے سامنے (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 498 - Naveed Masood Hashmi - Roza aqdas k samne

روضہ اقدس کی سنہری جالیوں کے سامنے

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 498)

عشق کی حقیقت کیا ہے؟ اس کا اندازہ محبوب کی گلیوں میں چل پھر کرہوتا ہے … مجنوں کو کسی نے در و دیوار کو چومتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ ’’مجنوں‘‘ تو یہ کیا کر رہا ہے؟ ’’مجنوں‘‘ نے جواب دیا ’’لیلیٰ کی بستیوں سے گزرتے وقت کبھی ایک دیوار چومتا ہوں اور کبھی دوسری … در و دیوارکی محبت نے مجھے سراسیمہ نہیں بنایا … بلکہ ان کے مکینوں اور باشندوں نے جو اس میں کسی وقت اترے تھے۔‘‘

عاشق کہتا ہے کہ میں دیار محبوب پر پہنچتا ہوں تو اس کے در دیوار کو بوسہ دیتا ہوں … مجھے در دیوار نے مجنوں نہیں بنایا … بلکہ گھر والے نے، ان در و دیوار کے اندر رہنے والے نے مجنوں بنایا ہے … جس قدر دیار حبیب کے قریب تر ہوتے جائو آتش شوق بھڑکتی جائے ‘‘… آقا و مولیٰ ﷺ کا منبرو محراب سامنے ہو … میرے جیسا گنہگار ریاض الجنتہ میں سجدہ ریز ہو، سب سے بڑھ کر روضہ رسول ﷺ آنکھوں کے سامنے ہو تو … ایک عاشق صادق کے دل و دماغ کی کیفیت کا عالم کیا ہوگا؟

کس کے بس میں ہے کہ وہ اس کا اندازہ لگاسکے؟ شاعر اسلام حضرت امین گیلانی نے شاید اسی موقع کی مناسبت سے … عشق مصطفی ﷺ میں ڈوب کر یہ اشعار کہے تھے۔

’’اپنی پلکوں سے غبار رہ طیبہ چوموں

ذرہ ذرہ میں ترے شہر کا آقا ﷺ چوموں

وعظ فرمایا تھا جس کوہ صفا پر چڑھ کر

لب لہو دینے لگیں اس کو میں اتنا چوموں

معجزے تیرے ہی تقسیم ہوئے ہیں ان میں

ید موسیٰ کو میں چوموں لب عیسیٰ چوموں

مسجد و منبر و محراب و ریاض الجنہ

میرے محبوب ،حرم میں تیرے کیا کیا چوموں

مجھ کو بدعتی ہی کہے کیوں نہ فقیہ بے ذوق

کاش مل جائے تیرا نقش کف پا چوموں

جب کہے رب مجھے آ میرے محمد ﷺ کے غلام

حشر میں تھام کے میں عرش کا پایہ چوموں

سنگ اسود کو میں چوموں گا کہ آپ نے چوما

ورنہ میں کس لیے پتھر کا یہ ٹکڑا چوموں

اس میں ہیں جذب ہوئے ان کی جبیں کے انوار

کیوں نہ میں شوق سے سجدہ گہہ مولا چوموں

لب کو لب چومتا ہے جب کوئی لے نام اُن کا

اے امین لکھ کے نہ کیوں نام میں ان کا چوموں

روضہ رسول ﷺ کی سنہری جالیوں کے سامنے کھڑا ہوکر کچھ اسی قسم کے جذبات میرے اندر بھی موجزن تھے … میرے ہونٹوں پہ صل علیٰ کی صدا تو جاری تھی … درودوسلام تو مچل رہا تھا … مگر میں کوشش کر رہا تھا کہ اپنی وارفتگی اور بے خودی کو اپنے آپ تک محدود رکھوں … اور میرے دائیں، بائیں اور آگے … پیچھے سے گزرنے والے … عاشقوں کے سیل بے کراں کو میری وجہ سے تکلیف نہ ہونے پائے … زندگی میں بہت سوچا کرتا تھا کہ جب کبھی در مصطفیﷺ پر حاضری کا موقع ملا تو … پیارے محمد کریم ﷺ کے سامنے … یہ کہوں گا اور وہ عرضداشت پیش کروں گا … مگر آج جب … محبوب خدا … حبیب کبریا حضرت محمد مصطفیﷺ کے در پہ حاضری کی سعادت حاصل ہو رہی تھی … تو سب کچھ ذہن سے نکل چکا تھا … مجھے عبد اللہ کے دُریتم سید آمنہ کے نور نظر … حسن و حسین کے نانا ، سیدہ رقیہ، سیدہ زینب، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمتہ الزہراء کے عظیم بابا حضرت محمد کریم ﷺ پہ عاشقانہ انداز میں درود سلام پڑھنے میں جو سکون ملا … وہ بیان سے باہر ہے … کہاں میرے جیسا سیاہ کار ‘ گنہگار اور معصیت کار … اور کہاں امام المجاہدین حضرت محمدﷺ کا روضہ مبارک؟

ایسے لگتا تھا کہ ’’دل‘‘ توڑ کر باہر نکل آئے گا …

رفتوں کی جستجو میں ٹھوکریں تو کھا چکے

آستان یار پر اب سر جھکا کر دیکھئے

مئے گلگوں میں تسکین دل و جاں ڈھونڈنے والو!

سرور و کیف ذکر ساقئی کوثرﷺسے ملتا ہے

اصول زندگی اس نے سکھائے اہل عالم کو

سرور آگہی کونین کے سرور سے ملتا ہے

مدینے کی فضا اک عالم انوار ہے کیفی

سکون دیدہ و دل اس کے ہر منظر سے ملتا ہے

روضہ اطہرکے سامنے جو یہ گنہگار زبان سے کچھ نہ کہہ سکا … وہ اس کے دل اور آنکھوں سے نکلنے والے اشکوں نے کہہ دیا۔

اشکوں سے تر ہے ہر اک پھول کی پنکھڑی

رویا ہے کون تھام کے دامن بہار کا

کوئی ہے جو یورپ سے مرعوب انڈین کلچر کے دلدادہ اور یہود و نصاریٰ سے متاثرہ … مسلمانوں کو یہ پیغام دے سکے … کہ کیوں بھٹک رہے ہو؟ کیوں دولت کی محبت نے تمہیں انسانیت کی معراج سے گرا کر … پستیوں میں لاڈالا ہے؟

یہ ڈالرز، یہ پائونڈز ، یہ درہم و دینار، یہ دولت کی چکا چوند کوئی ایسی چیز تو نہیں کہ جس کی وجہ سے محبوب رب العالمین ﷺکے قیمتی طریقوں اور سنہرے اصولوں کو چھوڑ دیا جائے؟ مسلم ممالک کے غلام حکمرانوں … آخر آقا و مولیٰ ﷺکے لائے ہوئے آسمانی اور الہامی نظام اسلام کو تم اپنے ممالک میں نافذ کرنے سے کیوں کتراتے ہو؟ کیوں گھبراتے ہو؟ بھٹکے ہوئے مسلمانو … گنہگارو، سیاہ کارو! حکمرانو … توڑ ڈالو … یہود و نصاریٰ کی غلامی کی زنجیروں کو… مسترد کر دو … ان کے دیئے ہوئے شیطانی نظاموں کو ! مت ڈرو ! مت گھبرائو… تم کوئی لاوارث تھوڑے ہی ہو … تمہارے وارث تو محمد کریمﷺ ہیں …اور محمد کریم ﷺ کی ذات ایسی بابرکت ہے کہ جن پر آسمان کے فرشتے ہی نہیں … بلکہ خود خالق کائنات بھی درود سلام پڑھتے ہیں … جن کے وارث حضور نبی کریم ﷺ ہوں … انہیں دنیا اور آخرت میں نہ کوئی خوف ہے ، نہ ڈر ہے … اور نہ ہی انہیں پریشانی ہوگی، لوٹ آئو حضورﷺ کی طرف ، آقا ئﷺ مولیٰ محمد کریم ﷺ اپنے غلاموں اور جانثاروں کو کتنا عزیز سمجھتے ہیں… ساڑھے چودو سو سال بعد … محمد مصطفی ﷺ کے روضہ اقدس کی سنہری جالیوں کے سامنے کھڑا … میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا … روضہ مبارک کی جالیوں کے اوپر لکھا ہوا تھا ’’ھنا السلام علی ابی بکر صدیق‘‘… اور اس کے ساتھ ’’ھنا السلام علی عمر بن خطاب‘‘ رقم تھا۔

واہ سبحان اللہ … دنیا میں اپنے جانثاروں سے وفااری نبھانے کا … یہ انداز قیامت تک مثال بن کر چاند کی طرح چمکتا رہے گا … روضہ مصطفیﷺ پر حاضری کو … جس نے کامیاب بنانا ہے … اسے حضرت سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا عمر بن خطاب پر بھی سلام بھیجنا پڑے گا … حضرت سیدنا صدیق اکبر اور حضرت سیدنا عمر فاروق مذہب اسلام کا حسن ہیں … گلشن نبویﷺ کا ہر پول نرالا اور اعلیٰ شان والا ہے، سیدنا عثمان ذی النورین، سیدنا علی المرتضیٰ، سیدنا امیر معاویہ، سیدنا حسن و حسین غرضیکہ اہل بیت عظام ہوں … یا سارے صحابہ کرام ہوں … یہ سب آسمان نبوتﷺ پر چمکنے والے چاند تارے ہیں … وہ بھی بھلا ’’انسان‘‘ کہلانے کا مستحق ہے کہ … جو اہل بیعت یا صحابہ کرام سے عناد رکھتا ہو؟ جب محمد کریمﷺ کے روضہ انور میں آپﷺ کے پہلو میں ایک طرف صدیق اکبر اور دوسری طرف فاروق اعظم موجود ہیں … یہ اس بات کی علامت ہے … کہ نہ ہم لاوارث ہیں اور نہ یہ اُمت لاوارث ہے؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor