نفرت کی بھاشا کی ڈائنوں کا سایہ (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 435 - Naveed Masood Hashmi - nafrat ki bhasha ki dainoon ka saya

نفرت کی بھاشا کی ڈائنوں کا سایہ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 435)

’’امن‘‘ کے پیامبر امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہرمدظلہ کا مظفر آباد کے یونیورسٹی گراؤنڈ میں منعقدہ محمد افضل گوروؒ شہید کانفرنس میں آڈیو کیسٹ کے ذریعے سنایا جانے والا پیغام حق بھارت کو تو چبھنا ہی تھا، مگر پاکستان میں‘‘امن کی آشا‘‘ اینڈ کمپنی بھی اس سے اتنا ڈرجائے گی۔۔۔ یہ تو کسی سچے مسلمان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔۔۔ لاہور میں المرابطون کے شعبہ عصری کے ایک سیمینار کو بنیاد بنا کر۔۔۔ امن کی آشا نامی’’ڈائن‘‘ نے ولی کامل حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہرصاحب کے خلاف وہ سیاپا ڈالا کہ الاماں، الاماں۔۔۔

 

پاکستان میں بھارت کے ترجمان’’اخبار‘‘ نے10فروری کو صفحہ اول پر جو خبر چھاپی اس کا کچھ حصہ آپ بھی پڑھئے۔۔۔

’’اسلام آباد(عامر میر) نواز شریف حکومت بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی سخت کوشش کر رہی ہے، تو دوسری جانب کالعدم جیش محمدﷺ کے سربراہ مولانا محمدمسعود ازہر امن کوششوں کو خطرات میں ڈالتے نظر آرہے ہیں۔ بھارت کے یوم جمہوریہ کے حوالے سے مظفر آباد میں ریلی ہوئی، جہاں کیمرے اور موبائل فون لے جانے پر پابندی تھی۔۔۔ ریلی میں افضل گورو کی کتاب کی رونمائی ہوئی، جو اس نے جیل میں لکھی تھی۔۔۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ ریلی مولانا مسعود ازہر کی طاقت کا مظاہرہ تھا،جوان کی سرگرمیاں شروع ہونے کا ایسے موقع پر اظہار تھا، جب دو جوہری ممالک پاکستان اور بھارت جامع مذاکرات کی بحالی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، مولانا مسعود ازہر (خبر نگار نے بدتمیزی سے نام لکھا) نے بھارت پر کشمیری مسلمانوں کو قتل کرنے پر تنقید کی اور پاکستان میں دہشت گردی کا الزام لگایا۔۔۔ لگتا ہے کہ (مولانا) مسعود ازہر(پھر بدتمیزی) اپنی سرگرمیاں بڑھائیں گے۔۔۔ وہ جلد پنجاب یونیورسٹی میں ایک تقریری مقابلے کی صدارت کریں گے‘‘

امن کی آشا والے’’ اخبار‘‘ میں جس دن یہ خبر چھپی اسی دن اخبار کے نجی چینل نے اس خبر کو بنیاد بنا کر حضرت مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔۔۔ میں نے اپنے طور پر جب اس معاملے کی انوسٹی گیشن کی تومجھے المرابطون کے شعبہ عصری کے ذمہ داران علی بھائی اور طیب بھائی نے فون پر جو حقیقت حال بیان کی۔۔۔ اس کا لب لباب یہ ہے کہ 16فروری کو لاہور میں مون مارکیو ھال میں’’جہاد: سورہ انفال کی روشنی میں‘‘ کے موضوع پر ایک پروگرام رکھا گیا تھا، جس میں دانشور، صحافی اور علماء نے خطاب کرنا تھے۔۔۔ اس پروگرام کی تشہیر کیلئے بنائے جانے والے پینا فلیکس پر۔۔۔ محض برکت اور بے پناہ عقیدت کی وجہ سے ایک یہ جملہ’’بفیضان امیرالمجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازھر‘‘ لکھا ہوا تھا، محض اس جملے کو بنیاد بنا کر انڈین ذہنیت کے حامل ایک بدنام زمانہ رپورٹر نے اپنے اخبار کو انڈیا کی سپورٹ میں استعمال کرتے ہوئے۔۔۔ ایک خود ساختہ اور جھوٹی خبر چھپوا دی۔۔۔ نہ تو حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہرنے پنجاب یونیورسٹی میں آنا تھا اور نہ ہی ان کا وہاں پر خطاب تھا۔۔ بلکہ غالباً آٹھ سال ہونے کو ہیں۔۔۔ پاکستان کے کروڑوں مسلمان بالخصوص ان کے لاکھوں کارکنوں کی نگاہیں۔۔۔ مولانا محمد مسعود ازہر کی زیارت کو ترس گئی ہیں۔۔۔ مگر ملکی سالمیت اور سلامتی کی خاطر نجانے وہ کن پہاڑوں یا غاروں میں روپوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔۔۔

خدا کی قدرت دیکھئے کہ جہاں ایک طرف بھارتی ایجنٹ اور اس کے ترجمان اخبار اور چینل حضرت اقدس مولانا محمد مسعودازہر اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے۔۔۔ تو دوسری طرف ایک نجی چینل کے سینئر اینکر مبشر لقمان نے اپنے پروگرام’’کھرا سچ‘‘ میں۔۔۔ جھوٹے رپورٹر اور جھوٹے اخبار اور چینل کے جھوٹ کے تار پود بکھیرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ’’3فروری کو ’’ٹائمز‘‘ آف انڈیا‘‘ نے مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف جو خبر شائع کی ۔۔۔ ٹائمز آف انڈیا کی اسی خبر کو من و عن روزنامہ جنگ نے10 فروری کو پاکستان میں شائع کر دیا‘‘۔ توبہ توبہ، توبہ۔خدا کی پھٹکار پڑے ایسے دو نمبرصحافی اور اخبار پر کہ جو محض دولت کی خاطرکشمیری مجاہدین کے خلاف جھوٹی خبریں شائع کر کے پاکستان کی سالمیت اور کشمیری مجاہدین کے کاز کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتے ہیں۔۔۔ دس فروری کو چھپنے والی خبر جس کا تذکرہ میں نے اوپر کیا ہے کواگر بغور پڑھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اس میں خبر کم اور مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا زیادہ ہے۔۔۔

کشمیری مجاہدین اور علماء کے خلاف’’امن کی آشا‘‘ کے خرکاروں کا یہ جھوٹا پروپیگنڈا۔۔۔ اس بات کو بھی واضح کر رہا ہے کہ ‘‘امن کی آشا‘‘ دراصل انڈیا کے مفادات کے تحفظ اور پاکستان کے مفادات پرکاری ضرب کا ہی ایک حصہ ہے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ آٹھ سالوں سے روپوش مولانا محمد مسعود ازہر پاک، بھارت امن کو ششوں کو کیسے خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کوششیں تو کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔۔۔ لیکن اس کے باوجود1965ء اور1971ء کی پاک بھارت جنگیں آج بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔۔۔

کارگل کے پہاڑوں پر پاکستانی فوجیوں کی بے گور وکفن لاشوں سے لیکر بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کے بھیانک منصوبے تک۔۔۔ ان سارے معاملات اور جنگ و جدل سے امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر کا نہ تو کبھی کوئی تعلق رہا اور نہ ہی کوئی تعلق بنتا ہے۔۔۔ پاکستان کی سلامتی کو چھیاسٹھ سالوں سے سب سے زیادہ خطرات تو بھارت کے ہاتھوں لاحق رہے ہیں۔۔۔

پاکستان کی حکومتیں اور خفیہ ادارے خود تسلیم کرتے چلے آرہے ہیں۔۔۔ کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے، حکومت اور خفیہ ایجنسیاں خود یہ کہتی ہیں کہ بھارت بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو اسلحہ دے رہا ہے۔۔۔ پاکستان کی حکومتوں اور خفیہ ایجنسیوں کی اپنی رپورٹیں جب بھارت کے حوالے سے خطرناک ہوں تو پھر اس بھارت کے ساتھ امن کی کوششیں کیا خاک رنگ لائیں گی؟ پاکستان کی سا لمیت اور سلامتی کے حوالے سے میرے الشیخ امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر کا کردار۔۔۔سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔۔۔ مولانا محمد مسعودازہر نے چھ سال سے بھی زائد عرصہ کشمیر اور بھارت کے قید خانوں میں گزارا تو صرف اور صرف پاکستان کی عزت و وقار اور سلامتی کی خاطر۔۔۔ ورنہ مولانا ازہر کا بھارت سے کوئی جائیداد کا ذاتی تنازعہ تو نہ تھا؟

امن کی آشا کے نام پر بھانڈ، میراثیوں اور کنجروں کے تبادلے کرنے والے نہ پاکستان کے وفادار ہیں اور نہ ہی اسلام کے، بھارت کے ساتھ امن کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت کا اپنا ظالمانہ کردار ہے۔۔۔ امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر اگر کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں، بھارت کی جیلوں میں قید بے گناہ مسلمانوں کی رہائی کی بات کرتے ہیں، بابری مسجد کی شہادت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔۔۔ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج کے درندوں کے بہیمانہ مظالم کے خلاف آواز حق اٹھاتے ہیں تو۔۔۔ پاکستان میں امن کی آشا کے خرکاروں کی پتلونیں کیوں گیلی ہوتی ہیں؟

کشمیر کے ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد مسلمانوں کے حقوق کی جدوجہد کرنا، کشمیر کی مظلوم بیٹیوں کو ہندوؤں کی غلامی سے نجات دلانے کیلئے آواز اٹھانا، ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہداء کے خون سے وفاداری کا عہد نبھانا، پاکستان سے محبت کا تقاضہ ہے۔۔۔ دہشت گرد تووہ خرکار ہیں کہ جو امن کی آشا کے نام پر شہداء کشمیر کے لہو کی قیمت وصول کر رہے ہیں۔۔۔ دہشت گرد تو وہ ہیں کہ جو نہ صرف یہ کہ نظریہ پاکستان کے باغی ہیں۔۔۔ بلکہ ہندوؤں کی غلامی میں اپنا تن، من یہاں تک کہ نظریات اور ضمیر سب کچھ ہی فروخت کر چکے ہیں۔۔۔

پاکستان مولانا محمد مسعود ازہر کا نام ہے۔۔۔ اور مولانا محمد مسعود ازہر پاکستان کی آن، شان اور بان ہیں۔۔۔ پاکستان کو عامر، ایاز امیروں، اور نجم سیٹھیوں کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ آج کا بدلہ ہوا پاکستان امریکہ اور انڈیا کے ایجنٹوں سے نجات چاہتا ہے۔۔۔ پیٹ اور شہوت کے ان مریضوں نے’’ پاکستان‘‘ کو بھارتی مندر میں رکھی ہوئی کوئی مورت سمجھ لیا ہے۔۔۔ حالانکہ پاکستان تو مکہ اور مدینہ کے بعد۔۔۔ ایک مقدس اور وہ پاک سرزمین ہے۔۔۔ کہ جس کے بارے میں غالباً امیر شریعت حضرت سید عطاء اﷲ شاہ بخاریؒ نے فرمایا تھا کہ’’مسجد کی تعمیر سے پہلے تو یہ اختلاف رہتا ہے کہ مسجد یہاں تعمیر ہونی چاہئے یا کہیں اور؟ لیکن جب’’مسجد‘‘ تعمیر ہو جائے تو پھر اختلاف کی ہر گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ جب تک پاکستان نہیں بناتھا تب تک اختلاف کی گنجائش تھی، لیکن اب پاکستان قائم ہو گیا ہے تو اس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے‘‘

پاکستان میں اخبار نکال کر امن کی آشا کے گروپ نے صرف کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کمائے۔۔۔ پاکستان میں رہ کر اس گروپ کے مالکان نے اتنی دولت سمیٹی کہ پھر دبئی، لندن اور ممبئی میں جا بسے۔۔۔ لیکن امن کی آشااینڈ کمپنی میں سے کسی نے آج تک پاکستان کی سلامتی یا سالمیت کی خاطر خون کا ایک قطرہ تک نہیں بہایا۔۔۔مگر جس مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف یہ اخبار اور اس کے خرکار جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔۔۔ اس مولانا محمد مسعودازہر نے اپنی زندگی کے چھ قیمتی سال پاکستان کی خاطر بھارتی جیلوں میں گزارے۔۔۔ کیا صحافت، اخبار اورچینل اس لئے نکالے جاتے ہیں کہ وہ مافیاء بن کر پاکستانی قوم کے نظریات کا سودایہود وہنود کے ساتھ کر کے۔۔۔ دونوں ہاتھوں سے ڈالر سمیٹے؟ کیا اخبار اور چینل نکالنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسلام اورپاکستان کے اصل تہذیب و تمدن اور نظریہ پاکستان کے خلاف وار ڈکلیئر کردی جائے؟ اگر نہیں اوریقینا نہیں تو پھر۔۔۔ امن کی آشا کے سربراہوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ڈائنوں کی لگام کس کر انہیں سمجھائیں کہ1947ء میں لاکھوں جانیں قربان کرنے والوں نے پاکستان بھارت یا امریکہ کے ایجنٹوں کیلئے نہیں بنایا تھا۔۔۔ بلکہ پاکستان نفاذ اسلام کیلئے بنایا گیا تھا۔۔۔ اور پاکستان کی حفاظت بھی اسلامی جذبوں سے سرشار جانباز کریں گے ۔ان شاء اﷲ

وما توفیقی الا باﷲ

٭…٭…٭