Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شاہراہ ’’مغفرت‘‘ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 499 - Naveed Masood Hashmi - Shahra e Maghfirat

شاہراہ ’’مغفرت‘‘

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 499)

مفتی وحید الرحمان کا کراچی سے فون آیا تو انہوں نے خاصے پُرجوش لہجے میں بتایا کہ نئی کتاب ’’ الیٰ مغفرۃ ‘‘ کی جامع مسجد بطحاء میں ہونے والی افتتاحی تقریب بہت شاندار تھی…کراچی والوں نے ’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ کے پہلے ایڈیشن کو ہاتھوں ہاتھ خرید لیا…افتتاحی تقریب میں ہزاروں مسلمان شریک ہوئے…مفتی وحید الرحمان کہ جسے میں پیار سے ’’مفتی اعظم بلدیہ‘‘ بھی کہتا ہوں …اس کی باتیں سن کر میرے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی… میں نے اپنے دوست سے کہا کہ جس کتاب کے مصنف…شیخ طریقت حضرت مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ ہوں …وہ کتاب ہاتھوں ہاتھ نہ نکلے تو پھر کون سی نکلے گی؟…

’’ میرے شیخ ‘‘ کی پاکیزہ صحافت کا یہی تو کمال ہے کہ وہ …انوکھے اور اچھوتے موضوع چنتے ہیں …اور پھر ان موضوعات پر قرآن و حدیث میں سے… دلائل تلاش کر کے …انہیں بے مثال کتابی شکل میں ڈھال کر…افادہ عام کے لئے…پیش کر دیتے ہیں…ہمارے معاشرے میں کالے دل اور کالی زبان والوں کی کمی نہیں ہے… ایک اینٹ اٹھائیں …تو نیچے سے اس قسم کے ’’ہزار جہلائ‘‘ بر آمد ہوتے ہیں…سو ایک جگہ پر ایسی ہی کالی زبان والے سے بندہ ناچیز کا بھی واسطہ پڑ گیا۔ محفل مشترک تھی …یعنی جس میں تین علمائ، دو صحافی اور ایک دو سابق جہادی بھی تھے۔

کالی زبان والا بولا : یہ جہاد کا وقت ہے…مگر مجاہدین کو کتابیں لکھنے سے فرصت نہیں ہے… ممکن ہے ’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ کتاب تو اچھی ہو … مگر اس کا مجاہدین کو کیا فائدہ؟ …میں نے چونک کر موصوف کی طرف دیکھا…اور پھر کہا کہ ’’اگر انسان کا چہرہ اچھا نہ ہو تو اسے بات تو اچھی کر لینی چاہیے…لیکن مجھے لگتا ہے کہ آپ حسد اور جلن کی جس بیماری میں مبتلا ہیں …اگر آپ اس کا شافی علاج چاہتے ہیں تو پھر آپ کو بھی امیر المجاہدین حضرت مولنا محمد مسعود ازہر کی نئی کتاب ’’ الیٰ مغفرۃ‘‘ کا مطالعہ کرنا پڑے گا…

کالی زبان والا جل کر بولا…کیا آپ نے ’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ کا مطالعہ کیا ہے؟ میں نے کہا ابھی تک تو نہیں …لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ میرے ’’شیخ‘‘ کی جو کتاب بھی آئے گی…وہ پہلے جہاد اور مجاہدین اور پھر پوری امت مسلمہ کے لئے زبردست نفع بخش ہو گی…کیا مجاہدین کو مغفرت کی طلب کی ضرورت نہیں؟ اگر ہے اور یقیناً ہے تو پھر … ’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ لکھ کر …میرے شیخ مولنا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ نے ہم سب پر احسان کیا ہے… یہ مولنا محمد مسعود ازہر ہی ہیں کہ جن کی تصنیف کردہ کتابوں اور مضامین کی بدولت براعظم ایشاء کے مجاہدین کے نصاب اور لٹریچر کی کمی ختم ہو گئی…جس طرح پھولوں کی خوشبو کو صرف اس کی پتیوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا…بالکل اسی طرح مولنا محمد مسعود ازہر کی تحریروں یا کتابوں کی خوشبو کو کسی جماعت کے خول میں مقید نہیں کیا جا سکتا …مولنا محمد مسعود ازہر کی کتابوں کا فائدہ صرف پاکستان والوں تک ہی محدود نہیں رہا، بلکہ مقبوضہ کشمیر ،ہندوستان ،بنگلہ دیش،حتی کہ لندن اور افریقہ تک کے مسلمانوں کو…ان کی کتابوں سے بے شمار علمی فوائد حاصل ہوئے…

منہ پھاڑ کر اعتراض کرنے والے تو اپنی پیدائش کے دن پر بھی اعتراض کرنے سے نہیں گھبراتے،جہالت کی پٹاری کے یہ خبر کار…خود کچھ کر نہیں سکتے…اور اگر کوئی دوسرا کر دے تو اسے برداشت کرنا بھی ان کے بس میں نہیں ہے…اللہ سے مغفرت طلب کرنا، اپنی بخشش کی دعائیں کرنا…قبر اور حشر میں اللہ کے عذاب سے پناہ مانگنا…یہ وطیرہ اور شیوہ انبیاء کا بھی رہا…اولیاء و اتقیاء اور اصفیاء کا بھی رہا…

میں نے ملتزم سے لپٹ کر…لوگوں کو دھاڑیں مار مار روتے ہوئے اللہ سے مغفرت طلب کرتے ہوئے دیکھا…حجر اسود کو بوسہ دے کر اپنی بخشش کا سامان کرنے والوں …میں دھکے اور پاؤں کے نیچے کچلتے ہوئے دیکھا…یہ طواف کرنا، صفاء اور مروہ کی سعی کرنا، حجر اسود کو بوسہ دینا، احرام باندھنا، مقام ابراہیم پر نوافل ادا کرنا…ریاض الجنۃ میں نفل پڑھنا…یہ سب اپنی مغفرت کے لئے ہی تو ہے…

حضرت اقدس مولنا محمد مسعود ازہر ’’دلنشین خلاصہ‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ ’’ جو اللہ تعالیٰ کا جتنا مقرب ہے وہ اسی قدر اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور معافی کا لالچی اور حریص ہے…اور وہ اللہ تعالیٰ سے بار بار معافی مانگ رہا ہے…استغفار کر رہا ہے…حالانکہ لگتا یوں ہے کہ ایسے لوگوں کو استغفار کی کیا ضرورت؟ وہ تو بخشے بخشائے لوگ ہیں…

جو اللہ تعالیٰ سے جتنا دور ہے…جو جس قدر نفاق میں دفن ہے… وہ اسی قدر استغفار سے دور ہے…اس کے دل میں ہر چیز کی لالچ ہے…مگر مغفرت کی لالچ نہیں…حالانکہ ایسے لوگوں کو استغفار کی زیادہ ضرورت ہے…مگر وہ اپنے نفاق ،اپنے گناہوں اور اپنی حب دنیا پر مطمئن ہیں…اسی لئے نہ وہ معافی مانگتے ہیں اور نہ مغفرت…

اللہ تعالیٰ ہم سب کو بار بار مغفرت کی توفیق عطا فرمائے … بار بار توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے … پکی اور سچی توبہ نصیب فرمائے…جو مغفرت اور توبہ سے دور ہیں…بھلا اس کی بھی کوئی زندگی ہے… ’’میرے شیخ‘‘ آ ج سے نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے … مسلمانوں کے دلوں میں مغفرت کی محبت جگا رہے ہیں …نوجوانوں کو ’’شاہراہ مغفرت‘‘ پر چلانے کی کوشش فرما رہے ہیں…انسانوں کو شیطانوں سے کاٹ کر… رب رحمان کے راستے پر چلانے کی کوششیں کر رہے ہیں … مدرسہ ہو،مسجد ہو،میدان جہاد،سفر، حضر ہو، جیل ہو، ٹارچر سیل ہو،خانقاہ ہو، یا جلسے ہوں یا تحریریں… ہر موقع، ہر مقام پر میرے ’’الشیخ‘‘ نے نوجوانوں…میں مغفرت اور توبہ کی شدت میں بڑھاوا دینے کی کوشش کی…اللہ سے مانگنے ، اللہ کے سامنے سر جھکانے، اللہ سے ڈرنے اور رسول کریم ﷺ کی محبت میں تڑپنے ، پھڑکنے کے انداز کو عام کیا

میرے ’’شیخ ‘‘ ’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ کے صفحہ نمبر چودہ پر لکھتے ہیں کہ ’’مجاہدین استغفار کریں تو ان کو قوت، ثابت قدمی اور فتح ملتی ہے…اور ان کا جہاد اور کام دور دور تک پھیل جاتا ہے… علماء استغفار کریں تو ان کے علم میں روشنی اور برکت آ جاتی ہے…اور ان کا علم خود ان کے لیے اور دوسروں کے لئے نفع مند بن جاتا ہے ، کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جو …توبہ و استغفار سے معاف نہ ہوتا ہو، جو گناہ کر کے اللہ سے ڈرے ہی نہ…وہ سخت خطرے میں ہے…اور جو گناہ کر کے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت سے مایوس ہو بیٹھے…وہ اس سے بھی زیادہ خطرے میں ہے…مغفرت ایک مومن کے لئے سب سے بڑا انعام ہے۔‘‘

پیر کی شام ’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ کتاب مجھ تک پہنچی تو …حسب روایت میری توقع کے عین مطابق…وہ اپنی مثال آپ تھی…اللہ پاک ہم سب کو بھی مغفرت کی دولت سے مالا مال کر دے۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor