Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

امیر کی اطاعت (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 501 - Naveed Masood Hashmi - Ameer ki Itaat

امیر کی اطاعت

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 501)

اِخلاص اور نظریہ کبھی کسی کارکن کو گمنامی کے عالم میں مرنے نہیں دیتا۔۔۔یقینا غلطیاں ہیں اور ممکن ہے کہ بہت ساری ہوں۔۔۔ مسائل بھی ہیں۔۔ بعض دفعہ زیادتیاں بھی ہو جاتی ہیں۔۔۔ مگر کبھی کوئی سچا اور مخلص جہادی کارکن۔۔۔ بعض لوگوں کی غلطیوں، یا ذمہ داروں کی زیادتیوں کو بنیاد بنا کر۔۔۔ نہ توجہاد کو چھوڑ سکتا ہے اور نہ ہی۔۔۔ جہاد سے منہ موڑ سکتا ہے۔۔۔ جو جہاد کرتا ہے کسی’’فرد‘‘۔۔۔ یا ’’افراد‘‘ کیلئے وہ ایک نہ ایک دن خزاں رسیدہ پتے کی طرح جھڑ کر’’دنیا‘‘ کو پیارا ہوجاتا ہے۔۔۔ لیکن مخلص جہادی اور سچا مجاہد زیادتیاں سہہ کر بھی۔۔۔ طعن و تشنیع برداشت کر کے بھی۔۔۔ اپنے جہادی کاز کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔۔۔

ہم بھی کیا لوگ ہیں۔۔۔ مانتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے۔۔۔ جانتے ہیں جہاد ہمارا راستہ ہے۔۔۔ شہادت ہماری تمنا اور آرزو ہے۔۔۔ لیکن اس کے باوجود’’دولت کی دیوی‘‘ پر ہم میں سے بعض لوگ’’ مضاربت‘‘ کے نام پر۔۔۔ اپنا دل ہار بیٹھے۔۔۔ تو کیوں؟ وہ کون تھے کہ جو اللہ کے نام پر سر کٹانے والے دیوانوں، مستانوں اور پروانوں کے قافلے میں۔۔ دولت کی دیوی کے بندے بن کر آئے تھے؟ میں بہت سے’’مخلصین‘‘ کی زبانوں سے بعض’’افراد‘‘ کے حوالے سے ایک کان سے باتیں سن کر دوسرے کان سے یہ کہتے ہوئے نکال دیتا ہوں کہ۔۔۔’’صبر‘‘ کہ مضاربت کے نام پر دھوکا دینے والوں کے دن تھوڑے ہیں۔۔۔ پھر جب ان کے مکروہ چہرے بے نقاب ہوں گے۔۔۔ تو یہ اپنی بیویوں سے بھی منہ چھپاتے پھریں گے۔۔۔۔ بے شک میرے سمیت ہر انسان کمزور بھی ہے۔۔۔ اور شیطانی بہکاوے میں بھی آسکتا ہے۔۔۔۔ لیکن اگر کوئی مضاربت کے نام پر لوٹ مار کو گناہ سمجھتا ہے تو پھر اس کے چہرے پر شرمندگی کے آثار کیوں نہیں۔۔۔اس کے ماتھے پر ندامت کے اثرات کیوں نہیں؟ کیا دوسروں کے مال کو ہڑپ کرنا شریعت میں جرم نہیں ہے؟ اُف اللہ۔۔۔ جو کٹر مذہبی لوگ۔۔۔ سود سے نفرت کرتے تھے۔۔۔ سودی بنک اکاؤنٹس میں اپنا پیسہ نہیں رکھوانا چاہتے تھے۔۔۔ بعض دولت کے بندوں نے انہیں ہی سود کھانے پر مجبور کر دیا۔۔۔ ایک لاکھ پر دوسے چار ہزار خود’’دلالی‘‘ کے رکھنا۔۔۔ اور5یا دس ہزار روپے۔۔۔رب المال کو دینا یہ سب کیا تھا؟

بے شمار رحمتیں برسیں۔۔ جہاد افغانستان کے ہیرو حضرت کمانڈر عبدالرشید شہید کے مرقد مبارک پر۔۔۔ انہوں نے ایک دفعہ مجھ سے فرمایا تھا کہ۔۔۔’’مجاہد نہ کمیشن خور(دلال) ہوتا ہے۔۔۔ نہ رشوت خور ہوتا ہے اور نہ ہی بھتہ خور ہوتا ہے۔۔۔ چندہ ضرور جمع کرو۔۔۔ لیکن پورے جہادی طنطنے اور شان کے ساتھ۔۔۔ کہ جس میں نصرت خداوندی کا تسلسل بھی ساتھ جاری و ساری ہے۔۔۔‘‘

اس میں کیا شک ہے کہ ہمارے امیر حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر ہیں۔۔۔ یہ جرأت اظہار اور جسارت قلم میں نے انہی سے تو سیکھی ہے۔۔۔میں نے انہیں مجاہدین حق کیلئے چندے کی اپیلیں کرتے ہوئے دیکھا بھی اور سنا بھی۔۔۔ بلکہ وہ تو آج تک۔۔۔ مسلمانوں کو اس حوالے سے ترغیب دے رہے ہیں۔۔ جہاد کیلئے چندہ مانگنا تو سنت رسولﷺ ہے۔۔۔

جب ہمارے امیر ہمارے سروں پر ہیں تو پھر ہمیں جہاد کے لئے چندہ مانگتے ہوئے۔۔ انہی کے اصولوں کو آگے بڑھانا پڑے گا۔۔۔’’الرحمت‘‘ کے جانباز۔۔۔’’رمضان مہم‘‘ میں مصروف عمل ہیں۔۔۔ اور کوئی بھی مخلص اور سچا کارکن اس مہم سے پیچھے رہ بھی کیسے سکتا ہے؟ ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں۔۔۔ وہاں ایسے بدبخت بھی ہیں کہ جو رشوت مانگتے ہوئے نہیں شرماتے۔۔۔۔ جو دوسرے بے بس اور مجبور انسانوں کی زمینوں پر قبضہ جمانا بھی(نعوذ باللہ) عبادت سمجھتے ہیں۔۔۔ حالانکہ ان بیوقوفوں کو کوئی بتائے کہ یہ جہنم کی آگ ہے۔۔۔ جہنم کی آگ۔۔۔ اللہ ہم سب کی اس آگ سے حفاظت فرمائے، آمین یارب العالمین۔۔۔

مجاہدین یا جہاد کیلئے جھولیاں پھیلانا۔۔۔۔ بڑی عزت اور سربلندی کی بات ہے۔۔ خوش قسمت ہے وہ جو عزت اور سربلندی کے راستے کو اختیار کرے گا وہ کامیاب ٹھہرے گا۔۔۔ ان شاء اللہ۔۔۔ ہمیں اپنے ایمان کو بچانا ہے۔۔۔ اور ایمان کا عروج یہ ہے کہ ہر قیمت پر جہادی پرچم کو۔۔۔سربلند رکھاجائے۔۔۔۔ ’’جہاد‘‘ کوئی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کا نام نہیں بلکہ’’جہاد‘‘ ایک مقدس،مسلسل اور مستقل عبادت کا نام ہے۔۔۔ اس لئے جہاد کی محنت کرنے والے ہر فرد کو اپنے اندر کے اخلاص کو مرنے نہیں دینا۔۔۔ بلکہ اخلاص نیت کو جگائے رکھنا ہے۔۔۔

 ہمارا جہاد اللہ کی رضا اور نبی کریمﷺ کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ہے۔۔۔ ہم سچے دل سے جہادی راستوں پر چلتے رہیں گے۔۔۔ دائیں بائیں سے اُگ آنے والے گھاس پھونس، راستے میں آجانے والے کیل کانٹوں یعنی’’پروپیگنڈہ برگیڈ‘‘ سے اپنے دامنوں کو بچا کر جہاد کے عمل جاری رکھنے میں ہی ہماری عظمت و رفعت ہے۔۔۔ فلاں یہ کر گیا۔۔۔ کرنے دو۔۔۔ فلاں یہ کہہ گیا کہنے دو۔۔۔ اگر شیطاں نے فلاں، فلاں کو جہاد اور مجاہدین کے پیچھے کھلا چھوڑ رکھا ہے تو کوئی بات نہیں۔۔۔ آپ بھی اپنے جہادی عمل کی پختگی پر ثابت قدمی سے ڈت جائیے۔۔۔۔ یہ شیطان اور اس کی ذُریت اپنی دم منہ میں ڈالے آنسو بہانے پر مجبور ہو جائیگی۔۔۔ رمضان مہم میں اگر کہیں سستی، کاہلی اور غفلت ہو رہی تھی۔۔۔ تو فوراً سستی، کاہلی اور غفلت کی چادر اتار پھینکئے۔۔۔ وہ دیکھو تمہیں تمہارے امیر مولانا محمد مسعود ازہر بلا رہے ہیں۔۔۔’’نجات‘‘ کی طرف، ’’مغفرت‘‘ کی طرف، حق وصداقت کی طرف۔۔۔ کامیابی وکامرانی کی طرف، جہادی میدانوں اور جہادی ترتیبات کی طرف۔۔۔ اپنے دامنوں کو راستے میں آنے والے کانٹوں سے بچا کر۔۔۔ دوڑئیے اپنے’’امیر‘‘ کی طرف۔۔۔ اگر ان کی باتوں میں اتنی چاشنی ہے۔۔۔ ان کی صداؤں میں اخلاص وللہیت کے سمندر کروٹیں لیتے ہیں۔۔۔ ان کی پکار مردہ ضمیروں کے ذہنوں پر پڑے ہوئے جہالت و گمراہی کے قفل توڑ ڈالتی ہے۔۔۔ تو ان کی’’اطاعت‘‘ میں کیا خوب مزے ہوں گے؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor