Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بھیگی بلیاں اور بلے (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 503 - Naveed Masood Hashmi - Bheegi Biliyan aur Billay

بھیگی بلیاں اور بلے

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 503)

سپریم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ کے یہ ریمارکس۔۔۔ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہیں۔۔۔ کہ’’حکومتوں نے این جی اوز کے حوالے سے کیا کارکردگی دکھائی ہے؟ کیا کسی این جی او کا آج تک کوئی اکاؤنٹ فریز کیا گیا؟ صرف دینی مدارس کا نام کیوں لیا جاتا ہے؟ حکومت کو دہشت گرد تنظیمیں نظر کیوں نہیں آتیں؟‘‘

کروڑوں پاکستانی حکومت سے سوال کر رہے ہیں کہ اگر حاضر سروس وفاقی وزیر داخلہ نے ایک امریکی این جی او سیودی چلڈرن پر ملک دشمنی کا الزام عائد کرکے اس کے مرکزی دفتر کو سیل کر کے اس پر پابندی عائد کر ہی دی تھی تو پھر آناً فاناً ایسا کیا ہوا کہ۔۔۔ نہ صرف یہ کہ اس ملک دشمن این جی او کا۔۔۔ مرکزی دفتر کھل گیا۔۔۔ بلکہ وزیر داخلہ کے اعلان کے باوجود۔۔۔ اس امریکی این جی او نے پاکستان میں اب بھی اپنی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں؟

ذرا ذرا سی غلطی کو بنیاد بنا کر۔۔۔’’مدارس‘‘ اور دینی جماعتوں کے خلاف تو ہر وزیر، مشیر، اینکرز، اور اینکرنیاں۔۔۔ شیروں کی طرح دھاڑنا اپنا فرض منصبی سمجھتی ہیں۔۔۔ مگر این جی او کے سامنے بھیگی بلی بن کر رہنا انہیں اچھا کیوں لگتا ہے؟

ہمارے میڈیا کے بعض سودساختہ تجزیہ کاروں نے ہر مسئلے کی جڑ اور ہر برائی کا منبع مدارس کو قرار دینا شروع کر رکھا ہے۔۔۔ ’’مدارس‘‘ کا ذکر آتے ہی ان کی آنکھیں چڑھناشروع ہو جاتی ہیں۔۔۔ ان کی زبانیں شعلے اگلنے لگتی ہیں۔۔۔ مدارس کے یہ خدا واسطے کے دشمن۔۔۔ ٹی وی شوز میں بیٹھ کر ملک دشمن اور اسلام دشمن این جی اوز کی تو صفائیاں پیش کرتے ہیں۔۔۔لیکن مدارس اور دینی و جہادی جماعتوں کے خلاف نفرت کا زہر پھیلاتے ہیں۔۔۔ حالانکہ یہ بات اب راز نہیں رہی کہ یہود و نصاریٰ اور ہنود و مجوس۔۔۔ ان این جی اوز کو روز اول سے ہی جن بھیانک مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ وہ انتہائی قابل مذمت ہیں۔۔۔ مثلاً مسلمان ممالک میں مذہب اسلام کے احکامات کے خلاف سیکولر لادینیت کے شیطانی جراثیم کو پھیلانا۔۔۔ مسلمان ریاستوں۔۔۔ بالخصوص نظریاتی مسلم ممالک کے خلاف جاسوسی کرنا۔۔۔ اوروہاں کے عوام کو اسلام سے محبت کرنے والے حکمرانوں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوششیں کرنا۔۔۔ مسلمان ممالک کے وسائل کی لوٹ مار کرنا۔۔۔ جدت پسندی، ماڈرن ازم کا نعرہ بلند کر کے مسلمان ممالک میںفحاشی و عریانی اور بے حیائی کو فروغ دینا۔۔۔ مسلمان ممالک کی حساس دستاویزات تک رسائی حاصل کر کے انہیںنقصان پہنچانے کی کوششیں کرنا۔۔۔ اگر ان این جی اوز کا کام فلاحی ہوتا۔۔۔ تو پھر مدارس عربیہ کے خلاف طوفان اٹھانے کیلئے انہیں دن رات واویلا کرنے کی کیاضرورت تھی؟

اگر این جی اوز کا کام انسانیت کی خدمت ہوتا۔۔۔ تو پھر پولیو قطرے پلانے کی آڑ میں انہیں ایک جیتے جاگتے انسان’’اسامہ بن لادن‘‘ کی جاسوسی کرکے انہیں شہید کروانے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر ان این جی اوز کا کام عوام کی بھلائی سے منسلک ہوتا۔۔۔ توپھر انہیں فحاشی، عریانی پھیلا کر کے۔۔۔ عوام کو گمراہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

ہمارے معاشرے میں بعض ڈالر خور تجزیہ نگار اور کالم نگار۔۔۔ یہ تأثرجان بوجھ کر ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں کہ۔۔۔۔ ’’این جی اوز کی وجہ سے پاکستان میں عورتیں مضبوط اور بااختیار ہو رہی ہیں‘‘۔۔۔ توبہ، توبہ، توبہ۔۔ ان دانش فروشوں کوکوئی بتائے کہ عورتوں کو دنیا میں جو اعلیٰ و ارفع مقام مذہب اسلام نے بخشا ہے۔۔۔ اس کی مثال کسی دوسرے مذہب یا تہذیب میں تلاش نہیں کی جا سکتی۔۔۔ جو این جی اوز اپنی ملازمہ عورتوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتیں۔۔۔ان کے سروں پر چادر پا دوپٹہ نہیں اوڑھا سکتیں، حتیٰ کہ انہیں پورا لباس پہنانے سے بھی قاصر ہیں۔۔۔۔ وہ پاکستانی خواتین کو کس طرح سے مضبوط کر سکتی ہیں؟

بہنیں مضبوط ہوا کرتی ہیں۔۔۔ عزت مند بھائیوں کے دم قدم سے۔۔۔ مائیں مضبوط ہوتی ہیں فرمانبردار بیٹوں کی وجہ سے۔۔۔۔ بیویاں محفوظ ہوتی ہیں۔۔۔ وفادار شوہروں کی وجہ سے۔۔۔ بیٹیاں مضبوط اور بااختیار ہوتی ہیں باکردار اور صالح باپوں کی وجہ سے۔۔۔ این جی اوز کے حوالے سے۔۔۔ تو یہ بات مشاہدے میں آرہی ہے۔۔۔ کہ ان کے کارندوں نے خاص طور پر خاندانی سسٹم کو ’’ٹارگٹ‘‘ بنا رکھا ہے۔۔۔ بہنوں کو بھائیوں کے خلاف۔۔۔ بیویوں کو شوہروں کے خلاف۔۔۔ بیٹیوں کو ماں باپ کے خلاف بھڑکانا اکسانا ان کا سب سے پسندیدہ ترین مشغلہ ہے۔۔۔ یقینا عورتیں معاشرے کا مظلوم ترین طبقہ ہیں۔۔۔ لیکن یہ آج سے نہیں۔۔۔ ہزاروں سالوں سے ہے۔۔۔آقاو مولیٰﷺ کی تشریف آوری سے قبل۔۔۔ سگا باپ اپنی معصوم بیٹی کو زندہ دفن کرنا۔۔۔ اپنی بہادری اور شان سمجھتا کرتاتھا۔۔۔ یہ تو مذہب اسلام کی برکت سے عورتوں کے حقوق کو ماں، بہن ، بیٹی کے رشتوں سے باندھ کر مضبوط کیا گیا۔۔۔ عورتوں کو مضبوط کرنے انہیںبااختیار بنانے میں سب سے اہم کردار مذہب اسلام نے ادا کیا۔۔۔ خالہ، پھوپھی، ممانی،چچی اور دیگر رشتوں کی عظمت و رفعت کو اجاگر کر کے۔۔۔ انہیںاپنوں کی نظروں میں اونچا مقام عطا کیا۔۔۔

لیکن ڈالر خور این جی اوز نے سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ حقوق کے نام پر عورتوں کو گمراہ کر کے۔۔۔ انہیں مذہب اسلام سے ہی برگشتہ کرنے کی کوشش کیں، عورتوں کو اسلامی حکم پردے کیخلاف اُکسانا۔۔۔محبت کی شادی کے نام پر انہیں گھروں سے بھاگ جانے کے مشورے دینا۔۔۔ اور ایسا کرنے والی عورتوں کے حق میں کمپئین چلانا۔۔۔ انہیں ماں باپ جیسے مقدس رشتوں اور گھروں جیسے پاکیزہ ماحول سے جدا کر کے۔۔۔ دفتروں، کچہریوں اور بازاروں کی زینت بنانا۔۔۔ یہ سب’’عورت دشمنی‘‘ نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ بات حقیقت ہے کہ ڈالر خو این جی اوز کیوجہ سے مسلم معاشروں کو نقصان زیادہ پہنچا۔۔۔ اور فائدہ کم ہوا۔۔۔ عزت مآب جسٹس جواد ایس خواجہ کایہ سوال بہت اہم ہے کہ آخر۔۔۔حکومتوں نے این جی اوز کے حوالے سے کیا کیا؟۔۔۔ جانتے بوجھتے ہوئے این جی اوز کی کارستانیوں اور ملک دشمنی کے خلاف قانون کو حرکت میں کیوں نہ لایا جا سکا؟۔۔۔

چند سو افراد کو ملازم رکھ کر۔۔۔ یورپ کے ڈالروں سے اپنا نیٹ ورک چلانے والی۔۔۔ این جی اوز حکومتوں سے بھی زیادہ طاقتور کیوں ہو جاتی ہیں؟ملک دشمنی کے ثبوت ملنے کے باوجود وفاقی وزیر داخلہ اس این جی او کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کرنے سے قاصر کیوں رہتا ہے؟این جی اوز کے سامنے میاں نواز شریف حکومت کی بے بسی و بے کسی اور کسمپرسی دیکھی نہیں جاتی۔۔۔ مدارس کے خلاف گرجنے اور برسنے والے این جی اوز کی گود میں۔۔۔ سکون محسوس کرتے ہیں۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor