Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سیلاب اور زلزلے (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 505 - Naveed Masood Hashmi - Sailab aur Zalzale

سیلاب اور زلزلے

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 505)

چترال سے لے کر لیہ‘ مظفر گڑھ‘ گھوٹکی اور سکھر سمیت پاکستان کے بہت سے علاقوں میں ...پانی کی بپھری موجیں تباہی پھیلا رہی ہیں...لاکھوں پاکستانی سیلاب کی وجہ سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوچکے ہیں... سینکڑوں گائوں اور بستیاں پانی کی بپھری موجوں کے سامنے خس و خاشاک کی طرح بہہ گئی ہیں... جانور زندگی کی تڑپ میں ہاتھ پائوں مارتے مارتے... سیلاب بلاء کی نذر ہوچکے ہیں‘ سینکڑوں مکانات‘ درجنوں مساجد‘ سکول‘ پن بجلی گھر غرق آب ہوچکے ہیں...ہزاروں ایکڑ لہلہاتی فصلیں برباد ہوچکی ہیں...درجنوں جیتے جاگتے انسان سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوچکے ہیں۔

’’پانی‘‘ کہ جو اللہ کی نعمت ہے... اب ایک دفعہ پھر عذاب کی صورت اختیار کرکے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تہہ و بالا کر رہا ہے... اس ساری صورتحال کا اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لیا جائے تو اس سے یقیناً حکومت اور اس کے اداروں کی ... سستی‘ غفلت اور نااہلی کی بھی عکاسی ہوتی ہے... لیکن اس سے بڑھ کر... اسے آسمانی آفت اور عذاب بھی قرار دیا جارہا ہے۔

اگر حکمران چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کر... پانی کو جمع کرنے کی حکمت عملی اختیار کرتے تو ممکن ہے کہ آج پاکستانیوں کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے... حکمرانوں کو اپنے ادارو ں کی نااہلی کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے... لیکن اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ ... وہ جید علماء کرام پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کرکے ان کو یہ فریضہ سوپنے کہ ... وہ ان بے پناہ مصائب اور پریشانیوں کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لے کر کوئی حل تجویز کریں ۔

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ان مصائب اور پریشانیوں کے اسباب اور مقاصدجابجا مختلف پیرائے میں بیان فرمائے ہیں۔ سورۃ روم ‘پ21 میں ارشاد گرامی ہے کہ ’’خشکی اور تری میں جتنی خرابیاں ظاہر ہوتی ہیں لوگوں کی ہاتھ کی کمائی کا نتیجہ ہیں تاکہ انہوں نے جو کام کیے ہیں اللہ ان میں سے کچھ کا مزہ انہیں چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں۔‘‘ (آیت نمبر41 )

اس آیت کی تفسیر میں شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم رقمطراز ہیں کہ :مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو عام مصیبتیں لوگوں پر آئیں۔ مثلاً قحط ‘ وبائیں ‘ زلزلے ‘ ظالموں کا تسلط ان سب کا اصل سبب یہ تھا کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف وزی کی اور اس طرح یہ مصیبتیں اپنے ہاتھوں مول لیں اور ان کا ایک مقصد یہ تھا کہ ان مصائب سے دوچار ہوکر لوگوں کے دل کچھ نرم پڑیں اور وہ اپنے برے اعمال سے باز آئیں۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ دنیوی مصیبتوں کا بعض اوقات کوئی ظاہری سبب بھی ہوتا ہے جو کائنات کے طبعی قوانین کے مطابق اپنا اثر دکھاتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ وہ سبب بھی اللہ تعالیٰ ہی کا مہیا کیا ہوا ہے اور اس کو کسی خاص وقت یا خاص جگہ پر موثر بنا دینا اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے ہوتا ہے اور عموماً اس کی بنیادی وجہ انسانوں کی بداعمالیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح آیت کریمہ یہ سبق دے رہی ہے کہ عام مصیبتوں کے وقت چاہے وہ ظاہری اسباب کے ماتحت وجود میں آئی ہیں اپنے گناہوں پر استغفار اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

یہی مضمون دوسری ایک آیت میں اس طرح آیا ہے۔

وما اصابکم من مصیبتہ فبما کسبت ایدیکم ویعفوعن کثیر۔

یعنی تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے سبب سے ہے۔ یعنی ان گناہوں کے سبب جو تم کرتے رہتے ہو اور بہت سے گناہوں کو تو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتے  ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو مصائب اور آفات تم پر آتی ہیں ان کا حقیقی سبب تمہارے گناہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیا میں نہ ان گناہوں کا پورا بدلہ دیا جاتا ہے اور نہ ہر گناہ پرمصیبت و آفت ہوتی ہے بلکہ بہت سے گناہوں کو تو معاف کر دیا جاتا ہے۔ بعض گناہوں پر ہی گرفت ہوتی ہے اور آفت اور مصیبت بھیج دی جاتی ہے اگر ہر گناہ پر دنیا میں مصیبت آیا کرتی تو ایک انسان بھی زمین پر زندہ نہ رہتا۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ بہت سے گناہوں کو تو حق تعالیٰ معاف ہی فرما دیتے ہیں اور جو معاف نہیں ہوتے ان کا بھی پورا بدلہ دنیا میں نہیں دیا جاتا بلکہ تھوڑا سا مزہ چکھایا جاتا ہے ۔ جیسا کہ اس آیت کے آخر میں فرمایا : لیذ یقھم بعض الذی عملوا… یعنی تاکہ مزہ چکھا دے اللہ تعالیٰ کچھ حصہ ان کے برے اعمال کا اور اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ: اعمال بد اور گناہوں پر جو مصیبت اور آفت دنیا میں بھیجی جاتی ہ وہ بھی غور کریں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت ہی ہے کیونکہ مقصود اس دنیا کی مصیبت سے یہ ہوتا ہے کہ غافل انسان کو تنبیہ ہو جائے اور اپنے گناہوں اور نافرمانیوں سے باز آجائے۔

الغرض قرآن کریم نے مصائب اور پریشانیوں کے اسباب ‘ مقصد اور ان کا علاج مکمل کھول کر بیان کر دیا ہے اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی اس بارے بہت سے فرمودات نبویہ موجود ہیں۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب میری امت میں پندرہ کام عام ہو جائیں گے تو ان پر مصائب کا پہاڑ ٹوٹ پڑے گا۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ!(ﷺ) وہ پندرہ کام کون سے ہیں؟ جواب میں آپﷺ نے فرمایا:

۱۔ جب سرکاری خزانے کو لوٹ کا مال سمجھا جانے لگے۔۲۔ جب امانت میں لوگ خیانت کرنے لگیں۔۳۔ جب زکوٰۃ کو لوگ تاوان سمجھنا شروع کر دیں۔۴۔ جب آدمی بیوی کی اطاعت کرنے لگے۔۵۔ جب آدمی دوستوں سے اچھا سلوک اور والدین کے ساتھ برا سلوک کرے۔۶۔ مساجد میں آوازیں بلند ہونا شروع ہو جائیں۔۷۔ قوم کا لیڈر ذلیل ترین آدمی بن جائے۔۸۔ آدمی کی عزت صرف اس لئے کی جائے تاکہ اس کے شر سے بچا جا سکے۔۹۔ جب غنیمت چند ہاتھوں میں رہ جائے۔۱۰۔ شراب پی جانے لگے۔۱۱۔ ریشم کا لباس پہنا جائے۔۱۲۔ گھروں میں گانے بجانے والی عورتیں رکھ لی جائیں۔ اور آلات موسیقی سنبھال سنبھال کر رکھے جائیں۔۱۳۔ اس امت کے آخری لوگ پہلوں پر لعن طعن اور تنقید کرنے لگیں۔۱۴۔ شراب کو شربت کا نام دے کر پیا جانے لگے۔۱۵۔ سود کو تجارت کا نام دیا جانے لگے۔

ملاحظہ فرمائیں!آج ان علامات میں سے کونسی علامت ہے جو معاشرے میں نہیں پائی جا رہی۔قومی خزانے کو حکمرانوں سے لیکر عوام تک جس کا بھی داؤ چلتا ہے خوب لوٹ رہا ہے،جس آدمی کا جتنا بڑا ہاتھ ہے اتنا ہی زیادہ وہ قومی خزانے کو زیادہ لوٹ رہا ہے،بجلی کی چوری،فون کی چوری،یہ بھی قومی خزانے کی ہی چوری ہے،اور عام چوریوں سے زیادہ خطرناک اور جرم کے لحاظ سے عام چوری سے زیادہ سنگین ترین جرم ہے،جسے عوام میں بھی بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔عام چوری تو معاف کروانا آسان یا اس کو چوری شدہ چیز واپس کرنا بھی آسان،لیکن قومی خزانے میں کروڑوں انسانوں کا حصہ ہے اور ہر انسان کی اسمیں ملکیت ہے،اگر ایسے مال کو چوری کیا جائے تو کس کس معاف کروائے گا،اور جب تک حقدار معاف نہیں کریں گیااس وقت تک معاف نہیں ہو گا۔اسلئے اس سے اجتناب بھی اشد ضروری ہے،اسی طرح مساجد میں آوازوں کا بلند ہونا آج رواج بن چکا ہے، مسجد یں صرف اور صرف اﷲ کے ذکر اور عبادت کیلئے ہیں،لیکن آج کل مسجدوں میںسیاسی گپ شپ،دنیا کی باتیں،ہنسی مذاق تک عام ہو گیا ہے،اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ یہ اﷲ کا گھر ہے اس کی حرمت اور تقدس کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں اﷲ کے ذکر اور عبادت کے علاوہ اور کوئی کا م نہ ہو۔

اسی طرح ہر گھر میں گانے بجانے والی عورتیں اور آلات موسیقی ٹی وی،وی سی آر،ریڈیو‘  کیبل کی شکل میں ڈیرہ جما چکے ہیں۔پہلے زمانے میں شاذ و نادر کسی گھر میں گانے بجانے والی عورتیں اور آلات موسیقی ہوتے تھے اور نہ ہی ہر آدمی اس کی استطاعت رکھتا تھا،لیکن آج کے دور میں ریڈیو،ٹی وی اور کیبل،وی سی آر نے یہ کمی پوری کر دی ہے۔

شراب کو شربت کا نام دیا جائے گا اور شربت کہہ کر اسکو حلال بنانے کی کوشش کی جائے گی،اس کو حلال بنانے کیلئے لوگ مختلف قسم کی تاویلیں کریں گے،مثلاً یہ کہ قرآن کریم میں کیا لکھا ہوا ہے کہ شراب حرام ہے،قرآن میں کسی جگہ شراب کے متعلق حرام کا لفظ نہیں آیا،اس لئے یہ حرام نہیں۔آج کل بئیر نامی شراب ملتی ہے،پینے والے لوگ کہتے ہیں کہ یہ جو کا پانی ہے اور جسطرح اور شربت ہوتے ہیں اسی طرح یہ بھی ایک شربت ہے،اگر باقی شربت حلال ہیں  تو یہ کیوں حرام ہے ؟یہ بھی حلال ہے،باقاعدہ اس موضوع پر لوگوں نے کتابیں اور مقالے لکھے ہیں کہ موجودہ شراب حرام نہیں۔یہ خبر آج سے چودہ سو سال پہلے آپ نے دی تھی،جو کہ من و عن صادق چلی آ رہی ہے۔

سود کو تجارت کا نام دیا جائے گا۔آج کل ہمارا معاشی نظام مکمل سودی بنیادوں پر استوار ہے…

ہمارے ارد گرد پھیلا ہوا بینکاری نظام جسکو تجارت کی ایک شکل قرار دیا جا رہا ہے،حالانکہ سو فیصد سودی نظام ہے،اسکے تحفظ اور بقا کیلئے حلال اور جائز ہونے کیلئے باقاعدہ ترجمانی کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر اسکو ختم کر دیا گیا تو ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی،ہمارے ملک کی شرعی عدالت نے سود کو حرام قرار دے کر پورے ملک میں اسکو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تو ہمارے ملک کی سپریم کورٹ میں اس کو چیلنج کر دیا گیا،سپریم کورٹ سے اس  فیصلے کے خلاف حکم امتناعی لے لیا گیا۔

اسی طرح ایک حدیث میں آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب رشوت کو ہدیہ کا نام دیا جائے گا،یعنی رشوت ہدیے کے طور پر وصول کی جائے گی،اور جسطرح ہدیہ حلال ہے اسی طرح رشوت کو بھی حلال سمجھا جائے گا،آج کل رشوت دینے اور لینے کا یہ مہذب طریقہ سمجھا جاتا ہے،اور ہدیہ کے عنوان سے یہ ساری حرام خوری ہو رہی ہے،آپﷺ نے فرمایا کہ جب یہ ساری علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں تو سمجھ لو کہ اس امت کی ہلاکت کا وقت قریب ہے۔یہ ساری باتیں اﷲ محفوظ فرمائے،ہمارے آ ج کے دور پر پوری صادق آ رہی ہیں۔(کنز العمال حدیث نمبر ۷۹۴۸۳)

ایک اور حدیث میں مبارکہ میں آپ نے دورِ فتنہ کی علامات بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ، ’’لوگ میاسر پر سوار ہو کر آئیں گے اور مسجد کے دروازے پر اتریں گے‘‘ میاسر عربی زبان میں بڑے قیمتی ریشمی کپڑے کو کہا جاتا ہے جو اس زمانے کے بڑے سرمایہ دار لوگ اپنے گھوڑے کی زین پر ڈالا کرتے تھے، اور کشن کے طو پر اسکو استعمال کرتے تھے، یعنی آپﷺ کے فرمان مبارک کا مطلب یہ ہے کہ لوگ کشنوں پر سوار ہو کر مسجد آئیں گے اور مسجدوں کے دروازوں پر آ کر اتریں گے، آج سے چند برس پہلے تک اس کا تصور محال تھا، لیکن آج کے دور میں اسکا مشاہدہ عام ہے لوگ اپنی گاڑیوں پر سوار ہو کر مسجد میں آتے ہیں اور گاڑیاں مسجد کے دروازے پر کھڑی کر کے اس سے اترتے ہیں۔

آگے فرمایا:’’عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہونگی، مائل کرینگی ( غیر محرم مردوں کو) ( اور غیر محرم مردوں کی طرف) خود بھی مائل ہونگی‘‘۔

حضور نبی کریمﷺ جس وقت یہ بات ارشاد فرماتے تھے، اس وقت اس بات کا تصور بھی محال تھا۔ اور اس بات کا سمجھنا بھی دشوار تھا کہ عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہونگی۔ لیکن آج کے دور میں چاروں طرف مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، عورتیں لباس پہننے کے باوجود کس طرح ننگی ہیں،   عورتوں کا لباس یا تو اتناچست اور چھوٹا ہے کہ جسم کی شناخت اور بناوٹ پوری طرح نظر آتی ہے، یا لباس اتنا باریک ہے کہ جسم اس سے نظر آ رہا ہوتا ہے، آگے فرمایا کہ ان عورتوں کے سروں پر اونٹوں کے کوہان جیسے بال ہونگے‘‘

یہ بات بھی اس وقت تصور سے بھی بعید تھی کیونکہ اس وقت عورتیں اپنے سر کے بالوں کی مینڈیاں بنا کر مکمل طور پر مستور رکھتی تھیں لیکن آج کے دور میں عورتیں بالوں کو اکٹھا کر کے ان کا جوڑا بنا کر سر کے اوپر باندھ دیتی ہیں، اور ان کے سر پر اسکا ابھار بالکل اونٹ کے کوہان کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ یہ باتیں ارشاد فرمانے کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’ ایسی عورتیں ملعون ہیں، ایسی عورتوں کو جنت کی خوشبو تک بھی نصیب نہ ہوگی حالانکہ اسکی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت کی دوری تک بھی سونگھائی دے گی‘‘۔(العیاذ باﷲ)

آج کے دور میں مذکورہ بالا تمام علامات عورتوں میں نظر آرہی ہیں بالخصوص روشن خیالی کی وبا نے اس لعنت کو مزید فروغ دیا ہے۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’تم پر ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ دنیا کی دوسری قومیں تمہیں کھانے کیلئے ایک دوسرے کو دعوت دیں گی، جیسے لوگ دسترخوان پر بیٹھ کر دوسروں کو کھانے کی دعوت دیتے ہیں‘‘ مثلا دسترخوان لگا ہو اور اس دسترخوان پر مختلف قسم کے کھانے لگے ہوئے ہوں اس دسترخوان پر ایک آدمی پہلے آکر بیٹھ جائے تھوڑی دیر میں دوسرا شخص بھی آ جائے، تو پہلا شخص اس سے کہے کہ آؤ کھانا کھاؤ دسترخوان پر بیٹھ کر ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہو جاؤ پھر یکے بعد دیگرے جو آتا جائے وہ اس دسترخوان پر لگے کھانوں میں شریک بنتا جائے۔ اسی طرح ایک وقت ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی مثال دسترخوان پر چنے ہوئے کھانے کی ہوگی اور غیر مسلم طاقتیں ان پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکا کھانے پر ٹوٹتا ہے اور پھر صرف خود نہیں بلکہ اوروں کو بھی دعوت دینگے۔ (ابوداؤد شریف۔ کتاب الملاحم)

  آنے والے مصائب ‘ پریشانیوں اورتمام فتنوں سے آگاہ فرمانے کے بعد محسن عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سے بچنے کا نسخہ بھی تجویز فرمایا اور یقینا یہ آپ ہی کا منصب تھا کہ امت کو ان فتنوں سے بچنے کا کامیاب اور بہترین نسخہ عطاء فرمائیں۔ چنانچہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مصائب اور  فتنوں کے دور کیلئے اور فتنوں سے حفاظت کیلئے بہت سی ہدایات اور احکام صادر فرمائے ہیں جن کی اگر امت پیروی کرے تو فتنوں کے شر سے یقینا محفوظ رہ سکتی ہے۔جب حکومت  جید علماء اکرام پر کمیٹی قائم کرے گی...تو یقینا وہ ان مصائب اور فتنوں کا یقینی حل بھی قرآن و سنت سے اخذ کرکے قوم کے سامنے پیش کریں گے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor