Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عمر ثالث، ملا محمد عمرؒ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 506 - Naveed Masood Hashmi - Umr e Salis Mulla Muhammad Umar

عمر ثالث، ملا محمد عمرؒ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 506)

یہ1996ء کی بات ہے کہ افغانستان کے جید علماء کرام کہ جن کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے متجاوز تھی۔۔۔ قندھار میں جمع ہوئے۔۔۔ ان علماء کرام میں۔۔۔۔ وقت کے بڑے بڑے صلحاء بھی موجود تھے، اور شیخ الحدیث بھی موجود تھے۔۔۔ ان سب نے ملا محمد عمر کو امارت اسلامیہ کے ’’امیر المؤمنین ‘‘کا لقب عطاء کیا۔۔۔

واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ’’امیر المؤمنین‘‘ کا لقب ملنے کے بعد۔۔۔ ملا محمد عمر بالکل بچوں کی طرح بلک بلک کر روتے رہے۔۔۔ ساتھیوں کے اِصرار پر آپ نے علمائِ کرام اور مشائخِ عظام کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔۔۔کہ:

’’اے علمائِ کرام! آپ اپنے شرعی علم کی بنیاد پر انبیاء کے وارث کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔۔ آپ لوگوں نے آج جو بھاری ذمہ داری میرے کندھوں پر ڈالی ہے۔۔۔ درحقیقت اس کی استقامت یا انحراف کی ساری ذمہ داری آپ پر ہے۔۔۔

اے ہمارے اساتذہ کرام! اور قابل قدر علمائ! خدانخواستہ اگر ہم سے مسلمانوں کی اس بڑی امانت میں کوئی تقصیر یا اِنحراف ہو جائے۔۔۔ اس کی درستگی اور اصلاح آپ کی شرعی ذمہ داری ہے۔۔۔ آپ لوگ اپنے شرعی علم کی روشنی میں طالبان مجاہدین کی استقامت اور انہیں راہ حق پر چلنے کی راہنمائی کریں گے۔۔۔ اگر طالبان سے اسلامی احکام کے نفاذ کے حوالے سے کوئی کوتاہی یا اِنحراف کا اِرتکاب ہو جائے۔۔۔ اور تم اسے دیکھ لو اور اِصلاح کیلئے کچھ بھی نہ کہو تو اس کی ذمہ داری اللہ کے ہاں ساری آپ پر ہو گی۔۔۔ اور میں سوال و جواب کے دن تمہارا گریبان پکڑوں گا‘‘۔۔۔

قندھار کا مرد قلندر۔۔۔۔ بوریا نشین امیر المؤمنین۔۔۔ حضرت ملا محمد عمر مجاہد۔۔۔ اپنے رب کے حضور جا پہنچے۔۔۔ اس رب کے حضور کہ جس رب کا نظام انہوں نے افغانستان کے95فیصد علاقے میں نافذ کر کے۔۔۔ دنیا بھر کے باطل نظاموں پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔۔۔

ملا محمد عمر اِک ایسا مرد قلندر تھا کہ جس نے1994ء کے اواخر میںقندھار کو فسادیوں اور وارلارڈز سے۔۔۔ پاک کرنے کیلئے ۔۔۔ صرف پندرہ طالبان سے تحریک کا آغاز کیا۔۔۔ اور پھر اخلاص،للہیت، بے مثال جدوجہد اور نصرت خداوندی کی۔۔۔ برکت سے دیکھتے ہی دیکھتے ۔۔۔۔ پہلے15صوبوں کو فسادی کمانڈروں۔۔۔ اور وارلارڈز سے نجات دلا کر۔۔۔ وہاں اسلامی نظام کو نافذ کیا۔۔۔ اور بعد ازاں قندھار سے لیکر کابل تک۔۔۔ رب کا نظام نافذ کر کے دنیا کو متحیر کر دیا۔۔۔

افغان مہاجر کیمپوں میں ۔۔۔ رہ کر پاکستانی مدرسوں سے۔۔۔ قرآن وسنت کی تعلیم حاصل کرنے والے۔۔۔طالبان نے۔۔۔ ہزاروں علماء کے اجتماع میں جب ملا محمد عمر کو اپنا امیر المؤمنین منتخب کیا تھا۔۔۔ تب ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ۔۔۔ وہ اپنے امیر کی قیات میں دنیا کی سب سے بڑی سپر طاقت۔۔۔ اور اس کے اتحادیوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کر دیں گے!۔۔۔

لیکن پھر دنیا نے دیکھا کہ۔۔۔ قندھار کے بوریا نشین امیر المؤمنین کی قیادت میں۔۔۔ طالبان نے۔۔۔ نہ صرف امریکہ۔۔۔ بلکہ نیٹو فورسز کے غرور کے بتوں کو پاش پاش کر کے۔۔۔ انہیں افغانستان سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔۔۔

ملا محمد عمر مجاہد کو۔۔۔’’ عمر ثالث‘‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔۔۔ کہ جن کی حکومت کا سورج قندھار میں طلوع ہوا۔۔۔ مگر اس کی شعاعوں نے کابل تک کو منور کر ڈالا۔۔۔ ان کا کمال یہ تھا کہ ان کے طالبان، افغانستان کے جن جن علاقوں سے۔۔۔ فسادیوں کو بھگاتے تھے۔۔۔ سب سے پہلے وہاں امن و امان کو بحال کرتے۔۔۔ گلی گلی۔۔۔ خود ساختہ کمانڈروں کے تصور کو ختم کر تے۔۔۔ جگا ٹیکس پر پابندی عائد کرتے۔۔۔۔ ہر ایک کو اسلحہ ایک مقام پر جمع کروانے کا حکم دیتے، تاکہ خانہ جنگی کے اِمکانات ختم ہو جائیں ۔۔۔ تباہ شدہ آبادیوں کی بحالی اور آباد کاری کی کوششیں کرتے

بقیہ صفحہ ۷پر

 ہر فتح شدہ علاقے میں مقامی طور پر رضاکارانہ امن فورس قائم کرتے۔۔۔ امن و امان بحال رکھنے کی ذمہ داری۔۔۔ ان کے حوالے کرتے۔۔۔ شرعی عدالتیں قائم۔۔۔ کر کے تیز رفتار انصاف کے تصور کو اجاگر کرتے۔۔۔

لاقانونیت ختم کر کے عوام کے معاملات کو شرعی قوانین کے مطابق نمٹاتے۔۔۔ مساجد کی آباد کاری پر توجہ دیتے۔۔۔ اسکولوں اور مدارس کا سسٹم بحال کرتے، بجلی اور ٹیلی فون کے نظام کو بحال کرتے۔۔۔ سڑکوں کی مرمت، تعمیر اور صفائی کی بھی مقدور بھر کوششیں کرتے۔۔۔۔ افغان عوام سے۔۔۔ شفقت اور حسن سلوک نے۔۔۔ طالبان کیلئے فتوحات کے دروازے کھول دیئے۔۔۔

یہ1995 ء کے آغاز کی بات ہے۔۔۔ کہ جب راقم پاکستان کے جید علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ۔۔۔ کراچی سے کوئٹہ اور پھر قندھار پہنچا۔۔۔ وفد کی قیادت مولانا قاری سعیدالرحمن مرحوم(راولپنڈی) اور شیخ الحدیث مولانا شیر علی شاہ(اکوڑہ خٹک) فرما رہے تھے۔۔۔ تب طالبان کے امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد سے میری پہلی ملاقات ہوئی، نام ایسا کہ۔۔۔ جس کا ڈنکا دنیا بھر میں بج رہا تھا۔۔۔ ماسکو سے لیکر وائٹ ہاؤس تک کے وفود جس کو ملنے کیلئے بیتاب تھے۔۔۔ مگر سادگی ایسی کہ۔۔۔۔ نہ ہٹو بچو کی صدائیں، نہ کوئی اے ڈی سی جی، نہ سیکرٹری۔۔۔ نہ پروٹوکول۔۔۔۔ وہ ہمارے ساتھ فرشی نشست پر ہی تشریف فرما رہے۔۔۔

علماء کرام کی عزت و احترام۔۔۔۔ وہ حکمرانوں سے بھی زیادہ دینے کے قائل تھے۔۔۔ یہ ملا محمد عمر کا ہی اعزاز ہے کہ۔۔۔۔ وہ اپنی حکمرانی کے تقریباً چھ سالہ دور میں۔۔۔ نہ تو کسی امریکی گورے سے ملے۔۔۔ اور نہ ہی برطانوی گورے سے۔۔۔ غیر ملکی جتنے وفود بھی۔۔۔ افغانستان میں گئے۔۔۔ ان وفود کو ملا محمد عمر کے نمائندے ہی ڈیل کرتے رہے۔۔۔

 ہاں البتہ علماء کرام جب بھی۔۔۔ ان سے ملاقات کیلئے پہنچے۔۔۔ ملا محمد عمر مجاہد نے ۔۔۔ نہ صرف یہ کہ علماء کرام سے ملاقات کیلئے وقت دیا۔۔۔ بلکہ ان کو بے پناہ احترام بھی دیا۔۔۔

عمر ثانی عمر بن عبدالعزیزؒ کا دور حکومت صرف ڈھائی سال تھا۔۔۔ جبکہ عمر ثالث ملا محمد عمر کا دور حکومت تقریبا ًچھ سال۔۔۔ لیکن ان دونوں کے ادوار میں خلق خدانے یوں محسوس کیا۔۔۔ کہ جیسے زمین و آسمان کے درمیان عدل کا ترازو کھڑا ہو گیا ہے، اورفطرت الٰہی خود آگے بڑھ کر انسانیت کو آزادی، محبت اور خوشحالی کا تاج۔۔۔ پہنار ہی ہے۔۔۔ عمر ثانی حضرت عمربن عبدالعزیزؒ کے ڈھائی سالہ دورحکومت۔۔۔ کے کارناموں کو تو راقم نے کتابوں میں پڑھا ہے۔۔۔۔ مگر عمر ثالث ملا محمد عمر کے مثالی دور کو تو۔۔۔ راقم نے متعددبار اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھا ہے۔۔۔ افغانستان کے عوام ملا محمد عمر کی اسلامی حکومت سے کتنے خوش تھے۔۔۔ اس کا جواب اگر کوئی، امریکی، برطانوی، بھارتی ، یا اسرائیلی پیمانے سے جانچنا چاہے گا۔۔۔ تو ٹھوکر کھا کر منہ کے بل جا گرے گا۔۔۔۔ کیوں؟ اس لئے کہ۔۔۔ یہود و نصاریٰ، ہنود اور ان کے ایجنٹ تو اسلامی نظام کے نفاذ کی وجہ سے۔۔۔ ملا محمد عمر کو۔۔۔ اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے۔۔۔

ہاں البتہ۔۔۔ کوئی قندھار سے لیکر۔۔۔۔ کابل تک کے عوام سے پوچھے۔۔۔۔ تو افغان عوام کی اکثریت۔۔۔ ان سے ملا محمد عمر کی محبت سے لبریز ملے گی۔۔۔ میں نے کابل،جلال آباد، خوست، گردیز اور قندھار میں بسنے والے۔۔۔ سکھوں، ہندوؤں اور عیسائیوں سے۔۔۔ متعدد انٹرویوز کئے۔۔۔ اور ان سے ملا محمد عمر اور طالبان کے حوالے سے جاننے کی کوششیں کیں۔۔۔۔ ان سب نے طالبان کے دور حکومت کو۔۔۔ افغان عوام کیلئے رحمت قرار دیا۔۔۔ ایک ایسادور حکومت کہ جس میں چوریاں، ڈاکے، باہمی قتل و قتال، اغوائ، زناکاری تقریبا ختم ہو کر رہ گئی تھی۔۔۔ اور اگر کوئی لاقانونیت میں۔۔۔ ملوث پکڑا جاتا ۔۔۔ تو پھر شرعی عدالت کے ذریعہ۔۔۔ ثبوتوں کی روشنی میں سزاکا مستحق ٹھہرتا۔۔۔

میں نے نماز کے اوقات میں۔۔۔ دوکانیں، ٹھیلے۔۔۔۔ ریڑھیاں کھلی چھوڑ کر۔۔۔ لوگوںکو۔۔۔۔ مسجدوں کی طرف نماز کی ادائیگی کیلئے جوق در جوق جاتے دیکھا۔۔۔۔ تو ششدر رہ گیا۔۔۔ میں نے ایک دوکان دار سے سوال کیا کہ پیچھے اگر چوری ہو گئی۔۔ تو ذمہ دار کون ہوگا؟۔۔۔۔ اس کا جواب تھا۔۔۔ طالبان۔۔۔ کیا مطلب؟ وہ میری حیرت دیکھ کر مسکرایا۔۔۔ اور بولا کہ لگتاہے کہ آپ پاکستان سے آئے ہیں۔۔۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا تو اس نے کہا کہ جب سے ملا محمد عمر کی حکومت قائم ہوئی ہے۔۔۔ تب سے چوریاں تقریبا ختم ہو چکی ہیں، ملا محمد عمر نے افغانستان میں۔۔۔ اسلامی نظام نافذ کیا تھا۔۔۔ اور اسلام صرف پردہ، ڈاڑھی، یا اس نوع کے دیگر احکامات کا نام ہی نہیں۔۔۔ بلکہ فلاح انسانیت کا بین الاقوامی منشور بھی پیش کرتا ہے۔۔۔

ملا محمد عمرنے اپنے مختصر دور حکومت میں فلاح انسانیت کے عظیم پہلو پر عمل کرنے کی بھی مقدوربھر۔۔۔ کوششیں کیں۔۔۔ ملا محمد عمر نے پہلے افغانستان کو وار لارڈز اور فسادیوں سے پاک کر کے۔۔۔ اسلامی نظام نافذ کیا۔۔۔اور پھر۔۔۔ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کو بھی ناکوں چنے چبوائے۔۔۔ ملا محمد عمر رسوائے زمانہ پرویز مشرف۔۔۔ بدنام زمانہ جارج ڈبلیو بش، اوبامہ اور زرداری کی دنیا۔۔۔کے بندے نہیں تھے۔۔۔ بلکہ وہ تو قرونِ اولیٰ کے۔۔۔۔ کارواں سے بچھڑے ہوئے۔۔۔ مرد جری تھے۔۔۔

اسی لئے وہ’’بندگانِ امریکہ‘‘ کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے رہے۔۔۔ امریکہ نے ان کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔۔۔ وہ بہت کم گو تھے۔۔۔ لیکن جب ضرورت کے وقت بولتے۔۔۔ تو ایسے لگتا کہ جیسے موتی رول رہے ہوں۔۔۔۔

 انہوں نے صدیوںبعد۔۔۔ نہ صرف یہ کہ اسلامی نظام کو عملاً نافذ کیا۔۔۔ بلکہ ان کی اسلامی حکومت کو ختم کرنے والے۔۔۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کو بھی۔۔۔ ایسے کاری زخم دیئے کہ جسے یہود و نصاریٰ کبھی بھلا نہ سکیں گے۔۔۔ پاکستانی قوم کا واسطہ تو ایک ایسے بزدل کمانڈو سے پڑا کہ۔۔۔ جس نے سینکڑوں بے گناہ مسلمان نوجوانوں کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کر کے۔۔۔ڈالرکمائے۔۔۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھی۔۔۔ فروخت کر نے سے دریغ نہ کیا۔۔۔ مگر ملا محمد عمر کو تاریخ قیامت تک سلام پیش کرتی رہے گی کہ۔۔۔ جنہوں نے اپنی سلطنت اور اقتدار قربان کردیا۔۔۔ مگر ایک غریب الدیار مہمان اسامہ بن لادن شہیدؒ کو امریکہ کے۔۔۔ حوالے کرنا گوارہ نہ کیا۔۔۔ وہ ایک ایسے خوف خدا والے حکمران تھے۔۔۔ کہ افغانستان سمیت دنیا کے کسی بنک میں نہ ان کا کوئی اکاؤنٹ تھا۔۔۔ اور نہ ہی انہوں نے وراثت میں۔۔۔ کوئی جائیداد یا روپیہ۔۔۔ پیسہ چھوڑا۔۔۔۔ انہیں مظلوم مسلمانوں سے۔۔۔بڑی محبت تھی۔۔۔ 1999ء کا سورج جب غروب ہو رہا تھا۔۔۔ تو قندھار ایئر پورٹ پر ہندوستانی طیارے سے نکل کر۔۔۔ چند مظلوم مسلمان۔۔۔ افغانستان کی آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے تھے۔۔۔ یہ امیر المؤمنین کی ہی۔۔۔ فراست تھی کہ۔۔۔ ان کے طالبان نے۔۔۔ سانپ بھی کچل ڈالا۔۔۔ مگر لاٹھی بھی نہ ٹوٹنے دی۔۔۔

امریکہ نے اپنے شیطان۔۔۔اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پرحملہ کیا۔۔۔ تو ملا محمد عمر اپنے طالبان کے ہمراہ۔۔۔ خطرناک اسلحے سے لیس۔۔۔بپھرے ہوئے شیطانوں سے ٹکرا گئے۔۔۔ 13سال تک حالات نے۔۔۔۔ بہت سے پلٹے کھائے۔۔۔ بہت سے رخ چینج کئے۔۔۔ مگر ملا محمد عمر نے شریعتِ مطہرہ کا دامن چھوڑنا گوارا نہ کیا۔۔۔ انہوںنے اپنے پورے جہاد کی بنیاد شریعتِ مطہرہ پر رکھی۔۔۔ امریکہ اور نیٹو کے درجنوں ممالک کی شیطانی افواج کو رسوا کن۔۔۔ شکست سے دوچار کر کے۔۔۔ بھی اس نے عاجزی اور انکساری کی چادر کو اوڑھے رکھا۔۔۔

 وہ فاتح اعظم بن کر بھی۔۔۔ مفرور نہ ہوا۔۔۔ بلکہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کا جذبہ پہلے سے دوچند ہوگیا۔۔۔ بیس سالوں تک۔۔۔ دنیا کے فرعونوں۔۔۔۔ کے سینے پر مونگ دَلنے والا۔۔۔ فاتح اعظم،امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد۔۔۔۔ بالآخر قبر کے پاتال میں اُتر گئے۔۔۔

عمر ثالث۔۔۔ ملا محمد عمر کے کارنامے اس وقت انسانوں کو سمجھ آئیں گے۔۔ جب وہ سیکولر لادینیت اور امریکی غلامی کے بتوں کو توڑنے میں کامیاب ہوں گے۔۔۔ آج ان کی جدائی پر ۔۔۔ ہم رو رہے ہیں۔۔۔ پھر پوری انسانیت روئے گی۔۔۔۔ مجھے قندھار کا بوریا نشین امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد یاد آتا رہے گا۔۔۔۔ ان کی للہیت، تقویٰ اورطہارت۔۔۔ اسلام اور مسلمانوں سے محبت کی وجہ سے۔۔۔ امریکہ اور اس کے شیطان اتحادی بھی۔۔۔ ملامحمد عمر کو۔۔۔ یاد رکھیں گے۔۔۔ مگر اس کی جہادی یلغار اور کاری ضربوں کی وجہ سے۔۔۔ کفریہ طاقتیں اورشیطانی خرکار۔۔۔ ملامحمد عمر کی وفات پر خوشیاں نہ منائیں۔۔۔

بے شک ملا محمد عمر چلا گیا۔۔۔مگرملا محمد عمر کا پروردگار تو زندہ و قائم ہے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor