Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الف ب، الف ن (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 508 - Naveed Masood Hashmi - Alif Bay Alif Noon

الف ب، الف ن

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 508)

تعلیمی میدان میں پاکستان ترقی کی منازل … طے کرتے کرتے اس مقام تک … جاپہنچا ہے کہ … اب ہر طرف پڑھے لکھوں کی جل تھل نظرآرہی ہے … جامعہ کراچی میں جب پروفیسروں اور لیکچرارز کی کمی واقع ہوئی… تو وہاں کے ایک طالبعلم اور ایک طالبہ نے بدنام زمانہ ماڈل ایان علی کو … لیکچر دینے کے لئے … مدعو کرلیا … مبارک ہو … کہ اب بچے الف ‘ ب ‘ پ… سے ترقی کرکے … الف ‘ یہ ‘ الف ‘ ن تک … پہنچ گئے ہیں۔

جامعہ کراچی عصری علوم کا ایک مستند ترین ادارہ ہے … جس پر اس ملک اور قوم کے کروڑوں روپے … خرچ ہوتے ہیں … جامعہ کراچی … علم کی وہ عظیم یونیورسٹی ہے کہ … جہاں پڑھ کر نکلنے والے بچوں اور بچیوں نے ملک اور قوم کی باگ ڈور سنبھالنا ہوتی ہے … حیرت ہے ہزار بار حیرت ہے کہ … منی لانڈرنگ کیس کی ملزمہ … بدنام زمانہ ایان علی جامعہ کی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر … نہ صرف یہ کہ لیکچر دینے میں کامیاب ہوئیں بلکہ وہ … گھوڑوں جیسے ’’معصوم‘‘ طالبعلموں کے شانہ بشانہ … تصویری سیشن میں بھی ملوث پائی گئیں۔

کیا کہنے … کراچی یونیورسٹی کی قسمت کے ؟ شکر ہے کہ کراچی یونیورسٹی کے در ودیوار … ’’الف ‘ بے ‘ الف ‘ ن’’ کا لیکچر سن کر جھوم نہیں اُٹھے … ورنہ پھر کہا جاتا کہ زلزلہ آگیا … کراچی یونیورسٹی کے درو دیوار پر زلزلہ بپا ہوا یا نہیں؟ اس کو تو چھوڑیئے … لیکن ہماری قوم کے طلباء و طالبات … کی اخلاقیات اور نظریات پر جو زلزلہ طاری ہوچکا ہے … ایان علی نامی ملزمہ کا کراچی یونیورسٹی … میں دیا جانے والا لیکچر اس کا زندہ ثبوت ہے۔

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

دینی مدارس پر تو چھاپے مارے جارہے ہیں … قرآن و حدیث اور فقہ کے علوم سیکھنے … والے طلباء کو تو تنگ کیا جارہا ہے … مگر عصری یونیورسٹیوں میں ایان علی جیسی ’’علم‘‘ کی شمعیں اپنے لیکچر سے … روشن خیالی کی ’’روشنی‘‘ پھیلا رہی ہیں … عدالت کے ’’انصاف‘‘ کی آنکھوں کو خیرہ کرکے …ضمانت کا پروانہ حاصل کرنے والی …’’ملزمہ‘‘ کو ابھی تک این جی اوز کی طرف سے … ’’تعلیم کی دیوی‘‘… ’’علم کی شمع‘‘ اور پاکستانی طالبات کے لئے ’’رول ماڈل‘‘… قرار کیوں نہ دیا گیا … اس پر بہرحال احتجاج ہونا چاہیے۔

عصری تعلیم گاہوں کو … انتہا پسندی سے پاک کرنے کا ایک سنہری نسخہ یہ بھی ہے کہ جیسے … ایان علی نے کراچی یونیورسٹی میں لیکچر دینے کا اعزاز حاصل کیا … بلکہ یونیورسٹی کو اعزاز بخشا … بالکل اسی طرح … پنجاب یونیورسٹی میں ’’پروفیسر میرا‘‘ کے لیکچر رکھنے چاہئیں … اگر ہوسکے تو لمز یونیورسٹی میں ریما یا صائمہ کو …ممکن ہو تو اسلام آباد میں واقع اسلامی یونیورسٹی میں عتیقہ اوڈھو اور ڈی جے بٹ کو لیکچر دینے کیلئے بلوا لینا چاہیے… ان عفت مآب خواتین کے لیکچرز دینے سے طالبعلموں کو دو فوائد حاصل ہوسکتے ہیں … پہلے نمبر پر طلباء و طالبات کا پڑھائی میں … دل لگنا شروع ہو جائے گا … اور ان کے دماغ روشن خیالی سے بھرے رہیں گے … اور دوسرے نمبر پر ان کی آنکھوں کی کمزوری بھی دور ہو جایا کرے گی۔

قارئین کو اگر یاد ہو تو … کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں واقع اسلامی یونیورسٹی میں … ایک سٹال لگاکر … اس پر اسرائیلی پرچم اور اسرائیلی وزیر اعظم کی تصویر سجا کر … مسلمانوں کے سب سے بڑا دشمن ملک … کو خراج تحسین پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی … اسلامک یونیورسٹی میں اسرائیلی سٹال لگانے والوں کے ساتھ … یونیورسٹی انتظامیہ نے کیا کیا؟ … اس کی آج تک کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوسکی۔

آج کل اسلامک یونیورسٹی کے بعض افراد اور قادیانیت کے حوالے سے … ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والی سب سے مستند جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت … کے علماء کے درمیان بعض تشویش ناک خبریں … گردش کر رہی ہیں … جس کا یونیورسٹی انتظامیہ کو نوٹس لے کر … عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تشویش کو دور کرنا نہ صرف ضروری … بلکہ لازمی ہے … امریکہ ،برطانیہ، اقوام متحدہ سے لے کر … پاکستان کے حکمرانوں تک … ہر کوئی … ڈنڈہ ا ٹھا کر دینی مدارس … کی اصلاح پر تو تلا بیٹھا ہے… حالانکہ دینی مدارس پر … حکومت یا سیاست دانوں کا ایک دھیلا پیسہ خرچ نہیں ہوتا … بلکہ دینی مدارس مخیرحضرات کے چندے سے چلتے ہیں … لیکن جن عصری … تعلیم گاہوں پر … اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خزانے سے اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں … ان کی اصلاح کرنا کس کی ذمہ داری بنتی ہے؟

دینی مدارس کے بارے میں تو یہ تنقید کی جاتی ہے … کہ وہاں سے پڑھ کر نکلنے والے صرف مولوی بنتے ہیں ‘ یا صرف حافظ یا قاری بنتے ہیں … اوروہ اتنہا پسند ہوتے ہیں۔

لیکن عصری تعلیمی اداروں سے پڑھ کر نکلنے والے ‘ حافظ ‘ قاری یا مولوی تو نہیں ہوتے … بلکہ وہاں سے تو کلرک بن کر نکلتے ہیں … جرنیل پیدا ہوتے ہیں … عصری تعلیم گاہوں سے تو ڈاکٹر بن کر نکلتے ہیں … پھر وہ شدت پسند کیوں ہوتے ہیں؟

دینی مدارس سے پڑھ کر نکلنے والے اسلامی شعائر، اسلامی احکامات کے حوالے سے شدت پسند ہوتے ہوںگے … لیکن کالجوں اور یونیورسٹیوں سے پڑھ کر کلرک بننے والے تو … رشوت لینے میں شدت پسند ہوتے ہیں … عوام کی کئی کئی سال تک فائلیں دبانے میں … شدت پسند ہوتے ہیں … ڈاکٹرز لمبی لمبی فیسیں وصول کرنے … اور مہنگی ترین دوائیاں لکھنے میں شدت پسند ہوتے ہیں … عدالتیں ہوں یا تھانے … ’’انصاف‘‘ کو جس شدت سے وہاں لہولہان کیا جاتا ہے … اسے دیکھ کر تو ’’شدت پسندی‘‘ بھی کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہو جاتی ہوگی۔

کرپشن کے قطب مینار بننے والے … سب کے سب آخر آکسفورڈ ‘ کیمبرج یا ایچی سن ہی کے فارغ التحصیل کیوں ہوتے ہیں…؟ کیا کبھی آپریشن ضرب عضب عصری تعلیم گاہوں کے ’’حسن‘‘ گہنانے والوں کی طرف بھی بڑھے گا؟ کیا آپریشن ضرب عضب … یونیورسٹیز، کالجز اور انگلش سکولوں کے کروڑوں طلباء کو سیکولر لادینیت کے جہنم میں دھکیلنے والوں … کو بھی قابو کرے گا؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor