Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

چھاپوں کے بعد دو مختلف روئیے؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 509 - Naveed Masood Hashmi - Chapon k do rawiye

چھاپوں کے بعد دو مختلف روئیے؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 509)

چونکہ موضوعات بہت سے ہیں۔۔۔ اس لئے آج کے قلم تلوار میں کئی خبریں زیربحث رہیں گی۔۔۔ سب سے پہلے تو قوم کو مبارک ہو۔۔۔ کہ کرپشن، لوٹ مار اور دہشت گردی میں ملوث بڑے بڑے’’بت‘‘ قانون کے شکنجے میں آتے جارہے ہیں۔۔۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے۔۔۔ فرنٹ مین۔۔۔ ڈاکٹر عاصم کی ’’تحفظ پاکستان ایکٹ‘‘ کے تحت گرفتاری۔۔۔ قوم کیلئے خوش کن خبر سے کم نہیں، ’’تحفظ پاکستان ایکٹ‘‘ تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر بنایا تھا۔۔۔ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کا خیال تھا کہ شاید اس ایکٹ کا اطلاق مذہبی طبقے، دینی مدارس اور جہادی حلقوں پر ہی ہوتا ہے۔۔۔لیکن بھلا ہو سپہ سالار اعلیٰ جنرل راحیل شریف کا کہ جنہوں نے پاکستان سے دہشت گردی اورکرپشن کا بیج ختم کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔۔۔

قانون کا ہاتھ جب ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کے۔۔۔ گریبانوں تک پہنچا۔۔۔ تو نہ صرف یہ کہ۔۔۔ ایم کیو ایم کی چیخیں نکل گئیں۔۔ بلکہ کراچی میں بھی بہت حد تک حالات نارمل اور پر سکون ہوتے چلے گئے۔۔۔ سینکڑوں رینجرز کے جوانوں نے ایم کیو ایم سے وابستہ’’را‘‘ کے دہشت گردوں کو گرفتار کر نے کا جو کارنامہ سرانجام دیا ہے۔۔۔ وہ قابل ستائش ہے۔۔۔لندن میں پناہ گزین پیر چیخے، بہت کھڑ کھڑائے۔۔۔ پاک فوج کے جرنیلوں کے خلاف ہرزہ سرائیاں کر کے۔۔۔ انہوں نے اک نئی تاریخ رقم کی۔۔۔ مگر شاباش ہے جنرل راحیل شریف کیلئے۔۔۔ کہ وہ نہ غصے میں آئے اور نہ بدمزہ ہوئے۔۔۔ بلکہ انہوں نے اپنی توجہ صرف کراچی ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے امن و امان کو یقینی بنانے پر مرکوز رکھی۔۔۔۔

اب جب ہاتھ پڑا ہے۔۔۔ کرپشن کے سب سے بڑے’’بت خانے‘‘ یعنی پیپلز پارٹی کے’’بتوں‘‘ پر، تو۔۔۔ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ’’ اگر زرداری کو گرفتار کیا گیا۔۔۔ تو جنگ ہو گی‘‘۔۔۔ اور موہنجودوڑو کے میوزیم کے قابل۔۔۔ قدیمی وزیر اعلیٰ سائیں قائم علی شاہ فرماتے ہیں کہ ’’کوئی ریاست ہے یا جنگل کا قانون۔۔۔۔ وزیراعظم سے کہہ دیا سندھ پر حملہ کیوں کیا؟‘‘ یہ تو ہو گئی بات۔۔۔ دوسیکولر شدت پسند نام نہاد سیاسی پارٹیوں کے اصل چہروں اور ان کے صبر اور برداشت کی۔۔۔

اب آتے ہیں مذہبی حلقوں۔۔۔ پر ٹوٹ پڑنے والی افتاد کی طرف۔۔۔ ’’تحفظ پاکستان ایکٹ‘‘ ہی کے تحت۔۔۔ وفاق المدارس کے تحت کام کرنے والے۔۔۔ دینی مدارس پر بھی چھاپے مارے گئے ۔۔۔ صوبہ پنجاب کے تقریباً تمام شہروں میںموجود اکثر چھوٹے بڑے۔۔۔دینی مدارس اور مساجد پر۔۔۔ بالکل اچانک چھاپے مارے گئے۔۔۔ بعض شہروں میں چھاپوں کے دوران۔۔۔ دینی طلباء اور علماء پر تشدد اور ان کے ساتھ غیر مناسب اور توہین آمیز سلوک کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔۔۔ اسلام آباد، فیصل مسجد کے قریب واقع جامعہ حقانیہ پر رات ایک بجے کے لگ بھک اس خوفناک انداز میں چھاپہ۔۔۔ مارا گیا کہ۔۔۔ پولیس مسجد میں جوتوں سمیت گھس گئی۔۔۔مدرسے کے دروازے توڑ ڈالے گئے اور مہتمم مدرسہ قاری احسان اللہ کے مفتی بیٹے اور ان کے مدرسے کے ایک استاد کو اور مہمان کو گرفتار کر لیا گیا۔۔۔ دو دن تک۔۔۔ سارا میڈیا چیختا رہا کہ۔۔۔۔اس مدرسے سے گرفتار کئے جانے والے افراد کا تعلق۔۔۔ پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل شجاع خانزادہ کے گھر پر ہونے والی۔۔۔ دہشت گردی کے واقعہ سے ہے۔۔۔ مگر دو دن کے بعد۔۔۔۔ یہ ساری خبریں اس وقت جھوٹی ثابت ہوئیں کہ۔۔۔ جب سیکورٹی اداروں نے مدرسہ سے گرفتارکئے جانے والے۔۔۔ دونوں علماء کو بے گناہ قرار دیکر۔۔۔ چھوڑ دیا۔۔۔

جبکہ گرفتار مہمان طالب علم کے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ اس کے پاس سیکورٹی اداروں کا کارڈ موجود تھا۔۔۔غرضیکہ۔۔۔ یہ تو صرف ایک واقعہ ہے۔۔۔ اس قسم کے سینکڑوں واقعات ثبوت کے طور پر پیش کئے جا سکتے ہیں۔۔۔

روالپنڈی سے بہاولپور، رحیم یارخان اور صادق آباد۔۔۔ سینکڑوں مدارس اور مساجد میں۔۔۔ خوفناک اندازمیں چھاپے مارنے۔۔۔ کے باوجود۔۔۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو یہ بات تسلیم کرنا پڑی کہ۔۔۔ کسی مدرسے سے اسلحہ تو درکنار چھری بھی برآمد نہیں کی جا سکی۔۔۔ اگر کسی مدرسے سے کسی استاد یا طالب علم کو گرفتار کیا گیا۔۔۔ میڈیا نے تو انہیں دہشت گرد مشہور کر دیا۔۔۔ مگر سیکورٹی اداروں نے۔۔۔ چند دن بعد ہی اسے بے گناہ قرار دیکر رہا کردیا۔۔۔ ہاں البتہ خوف و ہراس پھیلانے کی خوب کوشش کی گئی۔۔۔ جہادی تنظیموں سمیت دیگر مذہبی تنظیموں کے دفاتر اور ان سے منسلک مراکز اور اداروں پر بھی۔۔۔چھاپے مارے گئے۔۔۔ اور ان کے مراکز، دفاتر اور مدارس کی بڑے ہی بے رحمانہ طریقے سے تلاشیاں بھی لیں گئیں، مگر اس سب ظلم وستم کے باوجود۔۔۔ دینی مدارس کی قیادت ہو۔۔۔ یا مذہبی حلقوں کی قیادت۔۔۔ کسی نے بھی۔۔۔ نہ توحکومت کو کھلی جنگ کی دھمکی دی۔۔۔ نہ ریاست کو جنگل سے تشبیہ دی۔۔۔ اور نہ ہی سی،ٹی،ڈی، سی اور دیگر فورسز کے مدارس پر چھاپوں کو دین پر حملے قرار دیکر۔۔۔ اپنے لوگوں کو برانگیختہ کرنے کی کوشش کی۔۔۔

بلکہ اس خاکسار کی۔۔۔ چھاپوں سے متاثرہ علماء کرام اور دینی قائدین سے ملاقاتیں ہوئیں تو۔۔۔ انہیں حیرت انگیز طور پر یہ کہتے ہوئے سنا۔۔۔ کہ پاکستان چونکہ دہشت گردی کا شکار ہے۔۔۔ اس لئے ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ۔۔۔ وہ سیکورٹی اہلکاروں سے تعاون کرے۔۔۔

مدارس پر چھاپوں۔۔۔ مساجد کی توہین، بے گناہ مذہبی کارکنوں کی گرفتاری اور میڈیا پر مدارس اوردینی تنظیموں کے خلاف۔۔۔ چلنے والی کمپیئن پر۔۔۔ وہ افسوس زدہ اور دل گرفتہ ضرور تھے۔۔۔ مگر پاکستان کی سالمیت اور سلامتی کے حوالے سے نہایت پرعزم بھی۔۔۔

یہاں تک کہ گزشتہ بدھ کی صبح یہ خاکسار اپنے دیگر ساتھیوں۔۔۔محمد صفدر کھوکھر اور مولانا عبدالحفیظ قادری کے ساتھ۔۔۔ بہاولپور کے ایک بڑے دینی مدرسے جامعہ الصابر میں گیا۔۔۔ تو مدرسہ کے مہتمم مولانا طلحہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔۔۔ ملاقات کے دوران جب انڈیا کی طرف سے پاکستان کی سرحدات کی خلاف ورزی۔۔۔ اور بے گناہ پاکستانی شہریوں کی۔۔۔ شہادت کا موضوع چھڑا۔۔۔ تو مہتمم مدرسہ نے کہا کہ۔۔۔۔بھارت لاتوں کا بھوت ہے۔۔۔ جو باتوں سے کبھی قابو نہیں آئے گا۔۔۔ اور اگر پاک فوج نے بھارت کو سبق سکھانے کیلئے۔۔۔ جہاد کا آغازکیا۔۔۔ تو ہم سب اس جہاد میں برابر کے شریک ہوں گے۔۔۔ ان کا کہنا تھا کہ دینی مدارس اور جہادی قیادت نے۔۔۔ تو حکومت کو خود کہا ہے کہ۔۔۔ وہ ہمارے مدارس، مراکز اور اداروں کو چیک کرے۔۔۔ دینی مدارس اور دہشت گردی دو متضاد چیزیں ہیں۔۔۔لیکن چیک کرنے کے بہانے مساجد کی توہین کرنا۔۔۔ دینی طلباء، اساتذہ اور علماء کی توہین کرنا۔۔۔ کسی طور پر نہ مناسب ہے اور نہ اس کی اجازت دی جا سکتی ہے۔۔۔

سیکولر شدت پسند سیاسی جماعتوں اور مذہبی طبقے کے قائدین کے دومختلف روئیے سامنے آئے ہیں۔۔۔ یعنی پیپلز پارٹی ہو یا ایم کیو ایم والے۔۔۔ یہ مدارس و مساجد، جہادی ودینی حلقوں پر پڑنے والے چھاپوں پر۔۔۔ تو خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں۔۔۔اور کہتے ہیں کہ۔۔۔ ان مدرسوں اور مولویوں کا علاج ہی یہی ہے۔۔۔۔لیکن جب رینجرز پیپلز پارٹی یا ایم کیو ایم میں گھسے ہوئے کرپٹ اور دہشت گردی میں ملوث لوگوں پر ہاتھ ڈالنا چاہے تو یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں۔۔۔ کے ساتھ’’جنگ‘‘ کے اعلانات کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔۔۔۔

سیکولر شدت پسند ایم کیو ایم کے سارے نظریات، خیالات اور آئیڈیالوجی کی۔۔۔ تو اُس وقت ایسی کی تیسی پھر گئی کہ۔۔۔ جب علماء کی اس سب نے بڑی مخالف جماعت کو۔۔۔ جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کو’’ثالث‘‘ کے طور پر تسلیم کرنا پڑا۔۔۔

میراسلام پہنچے۔۔۔ مفتی نظام الدین شامزیؒ، مفتی محمد جمیل خانؒ، مولانا یوسف لدھیانویؒ، ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ اور مولانا مفتی عبدالسمیع شہید کی ارواح مقدسہ تک۔۔۔یہ وہ پاکباز ہستیاں تھیں۔۔۔جو امریکہ کی سونپی ہوئی۔۔۔ سیکولر شدت پسندی کی دہشت وو حشت کا نشانہ بنیں۔۔۔

ان سب شہیدوں نے پاکستان کا نام۔۔۔ اقوام عالم میں سربلند کیا۔۔۔ اسلام اور پاکستان کی محبت سے سرشار یہ عظیم شخصیات تو جنت میں مکیں ہو گئیں۔۔۔ مگر مجھے سیکولر لادینیت کے بتوں سے یہ سوال کرنے کا حق تو ہے کہ کہاں جہاد دشمنی کا عروج ، کراچی میں علماء کے خون کی ندیاں۔۔۔ مدارس و مساجد کے مہتممین اور علماء و خطباء کی لسٹیں ترتیب دینا۔۔۔

دینی مدارس اور جہادیوں کے خلاف۔۔۔ امریکہ و برطانیہ کو اپنی خدمات پیش کرنا۔۔۔ قادیانیوں کی کھلی اور بلاجواز حمایت کرنا۔۔۔ اور کہاں جمعیت کے قائد مولانا فضل الرحمن کی’’ثالثی‘‘ قبول کرنا؟۔۔۔

 کہاں نفرتوں کا وہ عروج؟۔۔۔ اور کہاں مفاد پرستانہ۔۔۔ذلت و خواری کی یہ انتہاء۔۔۔

بے شک حق اور باطل کو ایک نہ ایک دن جدا جدا ہونا ہی ہوتا ہے۔۔۔ اس حوالے سے اس خاکسار کے پاس معلومات کا خزانہ ہے۔۔۔ مگر کالم طویل ہونے کے ڈر سے یہاں لکھا نہیں جا سکتا۔۔۔

بہرحال پاک فوج۔۔۔۔ اور دیگر مقتدر انصاف پسند قوتوں کو یہ بات پیش نظر رکھنا چاہئے کہ۔۔۔ تحفظ پاکستان ایکٹ کے تحت ہونے والی۔۔۔ حکومتی کارروائیوں کے بعد دو طرح کے روئیے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔۔۔ مذہبی طبقے کی طرف سے۔۔۔ صبر،برداشت،تحمل۔۔۔ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قسم کا ہر ممکن تعاون۔۔۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے۔۔۔ اہلکاروں کی زیادتیوں کے باوجود۔۔۔ تحمل و برداشت کے مظاہرے۔۔۔

جبکہ سیکولر شدت پسند حلقوں کی طرف سے۔۔۔ حکومت کو دھمکیاں، آصف علی زرادری نے۔۔۔ کھل کر پاک فوج اور اس کے جرنیلوں کو دھمکیاں دیں۔۔۔۔الطاف حسین نے ایک مرتبہ نہیں۔۔۔ متعدد بار پاک فوج، آئی ایس آئی اور اس کے جرنیلوں کے خلاف۔۔۔ دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا، یہاں تک کہ بھارت اور’’را‘‘ سے مدد تک طلب کی۔۔۔

اپوزیشن لیڈر نے۔۔۔ کھلی جنگ کی دھمکی دے ڈالی۔۔۔ جبکہ قائم علی شاہ نے تحفظ پاکستان ایکٹ کے تحت گرفتار کئے جانے والے ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری سندھ پر حملے سے تعبیر کیا۔۔۔ابھی تو تحفظ پاکستان ایکٹ کا شکنجہ۔۔۔ دیگر کرپٹ افراد کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔۔۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟۔۔۔

فیصلہ آپ کیجئے کہ آئین اور قانون کے سامنے سر تسلیم خم کر کے پاکستان کو مضبوط بنانے والا حلقہ کون سا ہے، مذہبی لوگ یا سیکولر شدت پسند؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor