Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کی گونج (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 437 - Naveed Masood Hashmi - talwar-jihad ki gonj

جہاد کی گونج

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 437)

 فیصل مسجد سے متصل علامہ اقبال آڈیٹوریم میں یونیورسٹیز اور کالجز کے طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ جاری تھا۔۔۔ تقریری مقابلے کا عنوان تھا۔۔۔’’جہاد: سورۂ اَنفال کی روشنی میں‘‘۔۔۔میں جب فیصل مسجد کراس کر کے اس کے پہلو میں واقع۔۔۔ اسلامیہ یونیورسٹی کے سامنے پہنچا تو آسمان کالے بادلوں سے ڈھک چکا تھا۔۔۔ اور ہلکی ہلکی پھوار نے موسم کی دلفریبیوں میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔۔۔ پارکنگ میں ہی ’’المرابطون شعبہ عصری‘‘ کے ایک ذمہ دار بھائی اُسامہ اِستقبال کیلئے موجود تھے۔۔۔ اُن کی راہنمائی میں ہم یونیورسٹی میں داخل ہو گئے۔۔۔ استفسار پر پتہ چلا کہ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ شروع ہو چکا ہے۔۔۔ علامہ اقبال آڈیٹوریم کے اسٹیج پر پہنچا تو۔۔۔ دن کے تقریبا ساڑھے 11بجے کا وقت ہو چلا تھا۔۔۔ اور ابھی تقریری مقابلہ میں شریک 5مقرر طلباء باقی تھے۔۔۔ مقرر طلباء کرام نے اپنی اپنی باری پر قرآن و حدیث، بالخصوص سورۃ الانفال کی روشنی میں جہادِ مقدس پر بڑی ہی پُر مغز اور مدلل تقریریں کیں، یونیورسٹیز اور کالجز کے طالب علم بھائیوں کے منہ سے قرآن و حدیث میں بیان کردہ خالص جہاد و قتال پر پُرمغز بیانات سن کر بہت مزہ آیا، یہی وجہ ہے جب اس خاکسار کو بیان کیلئے دعوت دی گئی۔۔۔ تو مجھے اپنے بیان میں المرابطوں شعبہ عصری کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ کہناپڑا۔۔۔ کہ آج جب کہ جہاد مقدس کے اس موضوع پر چاروں طرف سے گرد ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔۔۔ ’’جہاد وقتال‘‘ کو اگرچہ،مگرچہ اور چونکہ چنانچہ کی تاویلوں میں اُلجھانے کی کوششیں عروج پر پہنچی ہوئی تھیں۔۔۔ المرابطون شعبہ عصری کے ذمہ داروں نے اس موقع پر قرآن کی سورۃ الانفال کی روشنی میں مسئلہ جہاد وقتال کو ڈنکے کی چوٹ پر بیان کرنے کا جو فریضہ سر انجام دینا شروع کر رکھا ہے۔۔۔ اس پر نہ صرف یہ کہ وہ خراجِ تحسین بلکہ مبارک باد کے بھی مستحق ہیں۔۔۔

چودہ سو سالوں سے قرآن و حدیث کے بیان کردہ مسئلہ جہاد کو مٹانے یا جہادی آیات کی غلط تشریحات کرنے کیلئے روئے زمین کے ہر کافر اور منافق نے بہت کوششیں کیں، بڑا زور لگایا۔۔۔ لیکن الحمدﷲ مسئلہ جہاد و قتال اپنی اصل صورت اور اصل’’ہیئت‘‘ میں آج تک زندہ و جاوید چلا آرہا ہے۔۔۔ تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے ہر دور میں امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر جیسی شخصیات کو مسئلہ جہاد و قتال بیان کرنے کیلئے منتخب فرما لیا۔۔۔ جنہوں نے اپنی ساری زندگیاں۔۔۔ مسئلہ جہاد و قتال کو اس کی اصل روح کے مطابق بیان کرنے اور منوانے کی ٹھان لی،اور دوسری طرف مسئلہ جہاد و قتال کو مٹانے اور غلط انداز سے بیان کرنے کی جتنی مرتبہ بھی کوششیں ہوئیں یہ کوششیں کرنے والے نمک حراموں کو منہ کی کھانا پڑی۔۔۔پچھلے اَدوار کو چھوڑئیے صرف موجودہ زمانے کے حالیہ پندرہ سالوں پر ہی نگاہیں دوڑا لیجئے۔۔۔ تو یہ حقیقت بڑی واشگاف نظر آئے گی کہ ان 15سالوں میں ساری دنیاکے کافر، منافق، یہود و نصاریٰ اور ہنود مل کر۔۔۔ جہاد و قتال کے خلاف زور لگاتے رہے۔۔۔ لیکن ان کی ساری محنت اَکارت چلی گئی۔۔۔ اور پاکستان کے مسلمان آج بھی جہاد مقدس اور اس کی ادائیگی کرنے والے مجاہدین سے محبت کرتے ہیں۔۔۔

اس کی بنیادی وجہ بھی بڑی واضح ہے۔۔۔ جہاد چونکہ اﷲ کا حکم اور اسلام کا فریضہ ہے۔۔ اور مسئلہ جہاد و قتال کی حفاظت قرآن کرتا ہے۔۔ جب قرآن مقدس کی حفاظت ربِّ رحمان نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔۔۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومتوں یا گروہوں کی مخالفتوں کیوجہ سے جہاد مقدس کو ختم کر دیا جائے یا پھر بُرے انسانوں کے پروپیگنڈے سے جہاد بدنام ہو جائے؟ بلکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ جو جہاد کی مخالفت کرے گا وہ خود راندۂ درگاہ ہو جائے گا، جو جہاد کو بدنام کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔ وہ خود ذلیل و رسواء ہو جائے گا۔۔۔جو جہاد مقدس کے خلاف اپنی قلم، زبان، روپے، پیسے یا اسلحے کے زور پر پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔ اس کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہو جائیں گے۔۔۔

آج کے کالم کا چونکہ موضوع ہی جہاد ہے۔۔۔ اس لئے میرا دل چاہتا ہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی اس تقریر کا جواب دیکر قرض چکا دیا جائے کہ جو خواجہ آصف نے گذشتہ مہینے ساؤتھ ایشین سٹرٹیجک انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سیمینار سے کی تھی، ایک اسلامی آئین رکھنے والے ملک کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے یہ ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ہم نے افغانستان پر روسی قبضے کے بعد امریکی ڈالر اور سعودی ریال سے چودہ سو سال بعد دوبارہ جہاد’’ایجاد‘‘کیا(نعوذ باللہ)

وزیر دفاع کی اس تقریر سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ جہاد چودہ سو سال پہلے بھی ہو رہا تھا۔۔۔ ان سے کوئی پوچھے کہ جو جہاد چودو صدیاں قبل شروع ہوا تھا۔۔۔ اس جہاد کے بانی محمد کریمﷺ تھے،رسول کریمﷺ کے جہادی پرچم تلے کافروں سے جہاد کرنے والے روئے زمین کے افضل ترین انسان صحابہ کرامؓ تھے، جس جہاد کے بانی امام المجاہدین محمد کریمﷺ تھے۔۔۔ جو جہاد صحابہ کرامؓ نے کیا تھا۔۔۔ اس’’جہاد مقدس‘‘ کو ’’عبادت‘‘ کہا جاتا ہے۔۔ اور دین کی کوئی بھی عبادت چودہ صدیوں سے نہ کبھی ڈالروں کی محتاج رہی ہے اور نہ ہی پاؤنڈز یا ریالوں کی، سوویت یونین کے سرخ ریچھ سے جہادی میدانوں میں ٹکرانے والے مجاہدین نے تو افغان جہاد کو عبادت سمجھ کر کیا تھا۔۔۔ روس سے ٹکرا کر سولہ لاکھ مسلمانوں نے شہادتوں کے جام نوش فرمائے۔۔۔۔ ان مجاہدین اور شہیدوں میں سے تو کسی کو نہ ڈالر ملے اور نہ ہی ریال۔۔۔ البتہ اگر خواجہ آصف ہمت کریں تو جنرل(ر) حمید گل اور دیگر جرنیلوں سے انکوائری کر کے قوم کو بتائیں کہ امریکی ڈالر اور سعودی ریال۔۔۔ پاکستان میں کس کس نے کھائے؟

افغان جہاد کو ڈالروں یا ریالوں کیلئے لڑا جانے والا جہاد سمجھنے والے احمقوں کی جنت میں بستے ہیں۔۔۔ ان احمقوں سے کوئی پوچھے کہ اگر محض ڈالروں یا پاؤنڈز سے ہی سوویت یونین کو شکست دی جا سکتی تھی۔۔۔ تو امریکہ سوویت یونین سے خوف کیوں کھاتا رہا۔۔۔ جس سوویت یونین سے امریکی حکمرانوں کی ٹانگیں کاپنا کرتی تھیں، اس سوویت یونین کو مجاہدین نے بے پناہ قربانیوں اور ایمانی طاقت کے بل بوتے پر ایسی عبرتناک شکست دی کہ۔۔۔ سوویت یونین نام ہی دنیا کے نقشے سے مٹ گیا۔۔۔ ڈالر اور پاؤنڈز امریکہ اور نیٹو فورسز کے پاس بہت تھے اگر ڈالروں اور پاؤنڈز کے زور پر ہی جنگیں جیتی جا سکتیں تھیں تو پھر امریکہ اور نیٹو فورسز کے سورما افغانستان سے دم دبا کر بھاگنے کا فیصلہ کیوں کرتے؟ اگر سعودی عرب کے ریالوں میں اتنا ہی دم تھا۔۔۔ تو پھر سعودی عرب آج تک اپنی فوج تیار کیوں نہ کر سکا؟ پس دلائل کے وزن پر یہ بات ثابت ہوئی کہ طاقت ڈالروں، یا ریالوں میں نہیں۔۔۔ بلکہ اصل طاقت اللہ کے حکموں کی بجا آوری میں ہے۔۔۔ روس کے خلاف لڑنے والے افغان مجاہدین ہوں یا امریکہ اور نیٹو فورسز سے برسر پیکار ملا محمد عمر مجاہد کے طالبان۔۔۔ انہوں نے جہاد اللہ کا حکم اور نبی کریمﷺ کا اسوہ حسنہ سمجھ کر شروع کیا تھا، تمام تر انسانی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود۔۔۔ ان مجاہدین کے اخلاص نیت اور قربانیوں کے جذبے کو دیکھتے ہوئے۔۔۔ پروردگار عالم نے اپنی نصرت کاملہ سے پہلے سوویت یونین کے خلاف اور پھر امریکہ اور نیٹو فورسز کے خلاف ان کی نصرت اور مدد فرمائی۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً 22سال قبل سوویت یونین کو شکست ہوئی۔۔۔ اور آج امریکہ اور نیٹو فورسز اپنے ماتھوں پر شکست کا داغ سجائے افغانستان سے بھاگنے کی منصوبہ بندی مکمل کر چکے ہیں، ڈالر، پاؤنڈز اور ریال خواجہ آصف جیسے حکمرانوں کی مجبوری رہے ہیں۔۔۔ لیکن’’مجاہدین‘‘ ضمیر فروشی کر کے ڈالر یا پاؤنڈ کمانے پر کل بھی لعنت بھیجتے تھے اور آج بھی لعنت بھیجتے ہیں۔۔۔ خواجہ آصف حکمرانوں والی صفات مجاہدین افغانستان میں ڈھونڈنے کی کوششیں کریں گے تو انہیں مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔

شرم آنی چاہئے ان لوگوں کو کہ جو کہتے ہیں کہ’’جہاد‘‘ ’’ایجاد‘‘ کیا تھا کیا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ یا جہاد کبھی کوئی اپنی طرف سے بھلا’’ایجاد‘‘ بھی کر سکتا ہے۔۔۔ آسمان سے نازل کردہ رب کی عبادتوں کو۔۔۔ (نعوذباللہ) بندوںکی’’ایجاد‘‘ قرار دینے والے جاہلوں کے دلوں کو امریکی ڈالروں نے ایسا زنگ آلود کر دیا ہے۔۔۔ کہ انہیں اب عبادات خداوندی کے بارے میں الفاظ بولنے کی بھی تمیز نہیں رہی۔۔۔

کیا خواجہ آصف جیسے وزیر۔۔۔ رسوائے زمانہ پرویز مشرف سے زیادہ دولت مند، طاقتور اور یہودو نصاریٰ کی آنکھوں کے تارے بن سکتے ہیں؟ ’’جہاد مقدس‘‘ اور’’مجاہدین حق‘‘ کی مخالفت اور دشمنی نے۔۔۔ اسے بھی نہ گھر کا چھوڑا اور نہ گھاٹ کا، شہداء افغانستان، صرف پاکستان یا کشمیر کے مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے محسن ہیں۔۔۔

شہداء افغانستان کے مقدس خون کا مذاق اڑانے والے۔۔۔ نہ اسلام کے خیر خواہ ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اس ملک اور قوم کے۔۔۔

اسلام آباد کی فیصل مسجد سے متصل علامہ اقبال آڈیٹوریم میں’’جہاد: سورہ الانفال کی روشنی میں‘‘ تقریری مقابلہ جاری تھا۔۔۔ اس پروگرام میں شریک طلباء سے۔۔۔ میرے پرانے دوست مجاہد اسلام مفتی اویس خان کشمیری نے بھی بڑا پُرمغز خطاب کیا، جب کہ شہید لال مسجد مولانا مقصود احمد شہید کی تصویر مفتی محمد منصور احمد نے بڑے رقت آمیز انداز میں دعا کروا کر اس کا اختتام کیا۔۔۔ سچی بات ہے کہ المرابطون شعبہ عصری کے ذمہ داران، علی بھائی، طیب بھائی، اسامہ بھائی، عنایت اللہ بھائی اور ان کے دیگر معاون ساتھیوں نے جس محنت اورلگن سے اس خوبصور ت محفل کو سجایا۔۔۔ اس پر وہ سب کے سب مبارک باد کے مستحق ہیں۔۔۔

 اللہ ہم کا سب کا حامی و ناصر ہو(آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor